22/05/2026
حضرت ابو ذر غفاری (علیہ ألسلام)
« میں لوگوں میں سب سے زیادہ امیر و غنی شخص ہوں »
ابو بصیر کہتے ہیں کہ میں نے مولانا صادقؐ آل محمد ؐ صلوات ﷲ علیھم اجمعین کو فرماتے ہوئے سنا کہ آنحضور ؐ نے فرمایا ،
عثمان بن عفان نے ابو ذر کی طرف اپنے دو غلاموں کو بھیجا ، اور انہیں دو سو دینار تھما دیے. اور ان سے کہا کہ ابو ذر کے پاس جاو اور ان سے کہو کہ عثمان تمہیں سلام کہتا ہے، اور تم سے یہ کہتا ہے کہ ، یہ دو سو دینار ہیں ، اور جو کچھ تم پر (مالی مشکلات کے باعث) گزرا ہے، اس کے عوض ان دو سو درہموں سے معاونت حاصل کر لو.
وہ غلام جب ابو ذر کے پاس آئے تو ابو ذر نے ان سے کہا ، کیا مسلمانوں میں سے کسی اور کو بھی وہ کچھ ملا ہے جو تم مجھے دینے آئے ہو؟ انہوں نے کہا ، نہیں !
ابو ذر نے ان سے کہا ، جبکہ میں تو مسلمانوں میں سے ہی ایک شخص ہوں، اور جس شئے (مشکلات) کا مجھے سامنا ہے، انہی مشکلات کا مسلمانوں کو بھی سامنا ہے. غلاموں نے ابو ذر سے کہا کہ ، عثمان کہتا ہے کہ اللہ کی قسم میں نے اس مال کو مالِ حرام سے خلط نہیں کیا ہے، اور جو کچھ تمہیں بھیجا ہے ، وہ حلال مال میں سے ہی ہے.
ابو ذر نے جواباً کہا ، مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے، میں نے اس حال میں صبح کی ہے کہ میں لوگوں میں سب سے زیادہ امیر و غنی ہوں.
عثمان کے غلاموں نے کہا ، اللہ آپ کو معاف فرمائے اور آپ کو سلامت رکھے ، ہم تو آپ کے گھر میں ، تھوڑا یا زیادہ کچھ بھی نہیں دیکھ پا رہے ، جس متعلق آپ بات کر رہے ہیں، ابو ذر نے کہا ، ہاں یہ جو لحاف تم دیکھ رہے ہو اس کے نیچے محض جو کی روٹی ہے جو پرانی ہو چکی ہے، اب تم ہی بتاو کہ میں ان دیناروں کا کیا کروں گا ؟
ہرگز نہیں اللہ کی قسم، یہاں تک کہ اللہ جان لے کہ میں تھوڑے یا زیادہ میں سے کسی شئے پر بھی قادر نہیں ہوں،
اور میں نے اس حال میں صبح کی کہ ، میں غنی تھا ، علی بن ابی طالب صلوات ﷲ علیھما کی ولایت کے ساتھ، اور آپؐ کی عترتؐ کی ولایت کے ساتھ، جو ہادی ؐ و مہدی ؐ ہیں ، اور راضی ؐ و مرضی ؐ ، وہی کہ جنؐ کے متعلق اللہ عز وجل نے فرمایا کہ ،
وہ لوگ جو حق کیساتھ ہدایت کرنے والے ہیں اور اسی حق کیساتھ عدل کرنے والے ہیں. (سوره اعراف، آیت ١٨١)
اور اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ، کسی بوڑھے کیلیے یہ بات انتہائی قبیح ہے کہ وہ جھوٹ بولنے والا ہو ، پس یہ مال عثمان کو واپس لوٹا دو اور اسے کہہ دو کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اس کے علاوہ جو کچھ بھی عثمان کے پاس ہے مجھے اس کی ضرورت بھی نہ ہے، یہاں تک کہ میں اپنے رب سے ملاقات کر لوں ، اور میرا رب حاکم و فیصلہ کرنے والا بن جائے اس معاملے کے متعلق جو میرے اور عثمان کے مابین ہے .
مسند أبي بصير، ج ١، أبي بصير، ص ٢٨٣ , ٢٨٤