مؤسسة الإمام العصر ع النجف الاشرف

  • Home
  • Iraq
  • Najaf
  • مؤسسة الإمام العصر ع النجف الاشرف

مؤسسة الإمام العصر ع النجف الاشرف rajabhussain786110 .com

وَ اِذۡ یَرۡفَعُ اِبۡرٰہٖمُ الۡقَوَاعِدَ مِنَ الۡبَیۡتِ وَ اِسۡمٰعِیۡلُ ؕ رَبَّنَا تَقَبَّلۡ مِنَّا ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ الس...
16/06/2026

وَ اِذۡ یَرۡفَعُ اِبۡرٰہٖمُ الۡقَوَاعِدَ مِنَ الۡبَیۡتِ وَ اِسۡمٰعِیۡلُ ؕ رَبَّنَا تَقَبَّلۡ مِنَّا ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ﴿۱۲۷﴾۱۲۷۔اور ( وہ وقت یاد کرو) جب ابراہیم و اسماعیل اس گھر کی بنیادیں اٹھا رہے تھے،(دعا کر رہے تھے کہ) اے ہمارے رب! ہم سے (یہ عمل) قبول فرما، یقیناً تو خوب سننے والا، جاننے والا ہے۔
تفسیر آیات
خانہ کعبہ کی تعمیر اور اس کے دو عظیم معماروں کا تذکرہ ہے۔ چند مربع میٹر کے ایک گھر کی نہیں بلکہ ایک تاریخ کی تعمیر کا ذکر ہے۔ پتھروں کی ایک دیوار کی نہیں،بلکہ ایک ابدی و سرمدی امت کی بنیاد رکھنے کا بیان ہے۔ اس گھر اور اس کی دیواروں کو وہی اہمیت حاصل ہے،جو اس امت اور اس کی تاریخ کو حاصل ہے۔

قرآنی تعبیر کے مطابق حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے۔ اس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ اس کی بنیادیں پہلے سے موجود تھیں۔ حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام تو صرف اس کی تعمیر نو کر رہے تھے۔ دوسرے قرآنی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ کعبہ اس سے پہلے بیت کے نام سے موجود تھا۔ حضرت ابراہیم (ع) نے بارگاہ الٰہی میں عرض کی تھی:

رَبَّنَاۤ اِنِّیۡۤ اَسۡکَنۡتُ مِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ بِوَادٍ غَیۡرِ ذِیۡ زَرۡعٍ عِنۡدَ بَیۡتِکَ الۡمُحَرَّمِ {۱۴ ابراہیم : ۳۷}میرے رب میں نے اپنی اولاد کو ایک بنجر وادی میں تیرے محترم گھر کے قریب بسایا ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم(ع) جس وقت حضرت اسماعیل(ع) کو عالم طفولیت میں سر زمین مکہ میں بسا رہے تھے اس وقت کعبہ بعنوان بیت موجود تھا۔

بیت اللہ (کعبہ): دنیا میں عبادت کی خاطر تعمیر ہونے والا پہلا گھر تھا، جسے حضرت آدم علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا اور گردش زمانہ سے اس عمارت کے آثار ہی باقی رہ گئے تھے۔حضرت ابراہیم (ع) اپنے وطن سے ہجرت فرما کر فلسطین آئے تو اللہ تعا لیٰ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے فرزند اسماعیل (ع) اور ان کی والدہ ہاجرہ کو لے کر بلاد عرب کی طرف ہجرت کریں۔ چنانچہ حضرت ابراہیم(ع) مکہ تشریف لائے اور جب حضرت اسماعیل(ع) جوان ہو گئے تو ان کی مدد سے حضرت خلیل اللہ (ع) نے خانہ کعبہ کو از سر نو تعمیرکیا۔ کعبہ، حضرت ابراہیم (ع) کی تعمیرکردہ شکل میں ایک مدت تک باقی رہا۔ بعد میں عمالقہ نے اس کی تعمیر نو کی۔ ان کے بعد قبیلہ جرہم نے از سر نو اسے تعمیر کیا۔

ہجرت سے دو صدی قبل رسول اکرم (ص ) کے اجداد میں سے قصیٰ بن کلاب نے کعبہ کی تعمیرنو کی اور اس کے پہلو میں دار الندوۃ تعمیر کیا۔

حضور (ص) کی بعثت سے تقریبا پانچ سال قبل ایک سیلاب سے کعبہ کی عمارت منہدم ہو گئی۔ عرب قبائل نے تعمیر سے متعلقہ امور آپس میں تقسیم کر لیے، لیکن حجر اسود کو دوبارہ نصب کرتے وقت ان کے درمیان اختلاف پیدا ہو گیا۔ ہر قبیلہ یہ شرف خود حاصل کرنا چاہتا تھا۔ آخرکار فیصلہ یہ ہوا کہ ۳۵ سالہ محمد بن عبد اللہ (ص) کو ثالث بنایا جائے۔ آپ (ص) نے اپنی فہم و فراست کی بنیاد پر فیصلہ فرمایاکہ حجر اسود کو ایک چادر میں رکھا جائے اور تمام قبائل مل کر اسے اٹھائیں۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ جب حجر اسود دیوار کے قریب لایا گیا تو آپ (ص) نے اپنے دست مبارک سے اٹھا کر اسے نصب فرما دیا۔

عبد اللہ بن زبیر نے جب مکہ پر حکومت قائم کی تو یزیدیوں نے کعبہ پر منجنیق سے حملہ کیا اور اسے منہدم کر دیا۔ اس حملے میں غلاف کعبہ بھی جل گیا۔

کعبہ کی قدامت ایک ناقابل انکار حقیقت ہے۔ زمانہ قدیم سے یہ گھر بَیۡتٌ اللّٰہ ہی کے نام سے مشہور تھا۔ عبرانی زبان میں اسے بیت ایل (بَیۡتٌ اللّٰہ) کہتے تھے۔ غیر عرب اقوام اسی قدامت کی بنیاد پر اس کی عظمت کی قائل تھیں۔ ہندو اس عقیدے کی بنیاد پر اس کا احترام کرتے تھے کہ جب سیفا اپنی زوجہ کے ساتھ حجاز گئے تھے تو ان کی روح حجر اسود میں حلول کر گئی تھی۔

کلدانی کعبہ کو سات بڑے مقدس گھروں میں شمار کرتے تھے۔

اہل فارس کا عقیدہ تھا کہ ہرمز کی روح اس میں حلول کر گئی ہے۔ اس لیے وہ بھی اسے محترم سمجھتے تھے۔

یہودی اس بنیاد پر کعبہ کا احترام کرتے تھے کہ اسے حضرت ابراہیم (ع) نے تعمیر کیا تھا۔ چنانچہ انہوں نے کعبہ میں ابراہیم وا سماعیل علیہما السلام کے مجسمے نصب کر رکھے تھے۔

تمام عرب قومیں کسی نہ کسی عقیدے کی بنیاد پر کعبہ کو محترم سمجھتی تھیں۔ ہر قوم یاقبیلے نے اس میں بت نصب کر رکھے تھے، جن کی تعداد تین سو ساٹھ تھی۔ {دائرۃ المعارف قرن عشرین ۸ : ۱۴۶}

فتح مکہ کے موقع پر، حضرت ابراہیم (ع) بت شکن اور حضرت اسماعیل (ع) کی ذریت میں سے ہی ان کے دو وارثوں حضرت محمد(ص) و علی (ع) نے بت شکنی کے فرض منصبی پر عمل کر تے ہوئے خانہ کعبہ کو ان تمام بتوں سے پاک کیا۔

اہم نکات
۱۔ قرآن اپنی امت کو کعبہ کی تاریخ بتا رہا ہے۔

۲۔ دعائے ابراہیم(ع) میں دین اسلام کی تاریخی سند پیش کی جا رہی ہے کہ حضرت محمد (ص) کی رسالت دعائے ابراہیم (ع) کے عین مطابق ہے۔

۳۔ کعبہ کی اہمیت اس کی توحیدی مرکزیت کی وجہ سے ہے۔

۴۔ کعبہ حضرت ابراہیم (ع) سے پہلے بھی مرکز توحید رہ چکا تھا۔

۵۔ اعمال کی قدر وقیمت ان کے ہدف اور ان کی قبولیت پر موقوف ہے۔

الکوثر فی تفسیر القرآن: جلد 1، صفحہ 403

وَ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہٖمُ رَبِّ اجۡعَلۡ ہٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارۡزُقۡ اَہۡلَہٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنۡ اٰمَنَ مِنۡہُمۡ ...
16/06/2026

وَ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہٖمُ رَبِّ اجۡعَلۡ ہٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارۡزُقۡ اَہۡلَہٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنۡ اٰمَنَ مِنۡہُمۡ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ قَالَ وَ مَنۡ کَفَرَ فَاُمَتِّعُہٗ قَلِیۡلًا ثُمَّ اَضۡطَرُّہٗۤ اِلٰی عَذَابِ النَّارِ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ﴿۱۲۶﴾۱۲۶۔ اور (وہ وقت یاد رکھو) جب ابراہیم نے دعا کی: اے رب! اسے امن کا شہر بنا دے اور اس کے باشندوں میں سے جو اللہ اور روز قیامت پر ایمان لائیں انہیں ثمرات میں سے رزق عنایت فرما، ارشاد ہوا : جو کفر اختیار کریں گے انہیں بھی کچھ دن(دنیا کی) لذتوں سے بہرہ مند ہونے کی مہلت دوں گا، پھر انہیں عذاب جہنم کی طرف دھکیل دوں گا اور وہ بدترین ٹھکانا ہے۔
تشریح کلمات
اضطر:(ض ر ر) کسی ناپسندیدہ بات پر مجبور کرنا۔
تفسیر آیات
وَ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہٖمُ رَبِّ اجۡعَلۡ ہٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارۡزُقۡ اَہۡلَہٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ۔۔۔۔ شہر مکہ اور مؤمنین مکہ کے لیے دعائے خلیل کے دو حصے ہیں: ۱۔ امن ۲۔ پھلوں کی فراوانی۔

مکہ جس علاقے میں واقع ہے، وہاں نہ تو امن تھا اور نہ ہی کوئی ذریعہ معاش۔ اس کی دلیل یہ ہے :

۱۔ علاقے میں امن و آشتی کے فقدان کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّا جَعَلۡنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنۡ حَوۡلِہِمۡ۔۔۔ {۲۹ عنکبوت: ۶۷}کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ایک پر امن حرم بنا دیا ہے جب کہ لوگ ان کے گرد و نواح سے اچک لیے جاتے تھے۔
۲۔ علاقے میں زراعت کے فقدان کا تذکرہ خود حضرت ابراہیم (ع) کی زبانی سنتے ہیں:

رَبَّنَاۤ اِنِّیۡۤ اَسۡکَنۡتُ مِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ بِوَادٍ غَیۡرِ ذِیۡ زَرۡعٍ عِنۡدَ بَیۡتِکَ الۡمُحَرَّمِ۔۔۔ {۱۴ ابراھیم: ۳۷}اے ہمارے پروردگار ! میں نے اپنی اولاد میں سے بعض کو تیرے محترم گھر کے نزدیک ایک بنجر وادی میں بسایا۔
یہ علاقہ آج بھی زرخیزی و زراعت سے محروم ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا بارگاہ الہٰی میں قبول ہوئی۔ اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد کو اس پرخطر علاقے میں امن فراہم کیا، جہاں لوٹ مار اور قتل و غارتگری ایک رسم بن چکی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ہر قسم کے فساد و انتشار اور بدامنی کو ممنوع قرار دیا اور داخلی و بیرونی خطرات سے امن و امان کی ضمانت فراہم کی۔

داخلی امن کے لیے حرم کی حدود میں داخل ہونے والے شخص کو ہر قسم کی اذیت اور نقصان سے محفوظ قرار دیا بلکہ ان حدود میں بسنے والے جانوروں تک کو اذیت پہنچانا بھی ممنوع قرار دیا۔

بیرونی خطرات سے بچانے کے لیے حج و زیارت کے چار مہینوں میں لڑائی و خونریزی کو حرام قرار دیا۔ دعائے خلیل علیہ السلام کی قبولیت کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے :

فَلۡیَعۡبُدُوۡا رَبَّ ہٰذَا الۡبَیۡتِ الَّذِیۡۤ اَطۡعَمَہُمۡ مِّنۡ جُوۡعٍ ۬ۙ وَّ اٰمَنَہُمۡ مِّنۡ خَوۡفٍ {۱۰۶ قریش : ۳۔ ۴}انہیں چاہیے کہ وہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے انہیں بھوک میں کھانا کھلایا اور خوف سے انہیں امن دیا۔
نیز ارشاد ہوا:

اَوَ لَمۡ نُمَکِّنۡ لَّہُمۡ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجۡبٰۤی اِلَیۡہِ ثَمَرٰتُ کُلِّ شَیۡءٍ۔۔{۲۸ قصص : ۵۷}کیا ہم نے ایک پر امن حرم ان کے اختیار میں نہیں رکھا جس کی طرف ہر چیز کے ثمرات کھنچے چلے آتے ہیں ؟
مَنۡ اٰمَنَ مِنۡہُمۡ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ خلیل(ع) کی دعا اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والوں کے لیے مخصوص تھی، تاہم اللہ تعالیٰ اپنی رحیمانہ روش کے تحت سب کو روزی دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کفار کو دنیا کی چند روزہ زندگی میں ڈھیل دیتا ہے، جب کہ کفر و ایمان کا حقیقی امتیاز بروز آخرت ہی معلوم ہو گا۔ اسی لیے ارشاد فرمایا: وَ مَنۡ کَفَرَ فَاُمَتِّعُہٗ قَلِیۡلًا۔۔۔۔ جو لوگ کفر اختیار کریں گے، انہیں بھی کچھ دن دنیا کی لذتوں سے بہرہ مند ہونے کی مہلت دوں گا۔

مومن و کافر کے لیے رزق کی فراوانی دعائے خلیل (ع) کی برکات میں سے ایک ہے۔ اس میں اہل مکہ کو کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ چنانچہ اگر وہ عہد خلیل (ع) پر قائم نہ رہیں اور نمرودوں کے دامن میں پناہ لے لیں اور مغرب و مشرق کے استعماری بتوں کی پرستش کریں تو طاغوت شکن خلیل (ع) کی دعا آخرت میں انہیں کوئی فائدہ نہیں دے گی، ہر چند کہ وہ دنیا کے ثمرات سے بہرہ مند ہوتے رہیں گے۔

اہم نکات
۱۔ مؤمنین کے لیے امن و امان اورمعاشی خوشحالی انبیاء کی ترجیحات میں شامل رہی ہے۔

۲۔ کفار اگرچہ دنیا کی عارضی خوشحالی سے بہرہ مند ہوں گے، لیکن آخرت کے حقیقی اور دائمی امن و آسائش سے محروم رہیں گے۔

۳۔ مکہ کو خدا نے جائے امن بنایا ہے۔

الکوثر فی تفسیر القرآن: جلد 1، صفحہ 401

16/06/2026
15/06/2026

بریکنگ نیوز
پاکستان
اور عراق میں
ماہ محرم الحرام کا چاند نظر نہیں آیا
یکم مُحرّم الحَرام 17 جون بروز بدھ ہوگی،
یوم عاشور 26 جون بروز جمعہ کو ہوگا

15/06/2026

🚨🇵🇰 بریکنگ نیوز
ماہ محرم الحرام کا چاند نظر نہیں آیا
اسلام آباد/ لاہور پاکستان میں مُحرّم الحَرام کا چاند نظر نہیں آیا، یکم مُحرّم الحَرام 17 جون بروز بدھ ہوگی، یوم عاشور 26 جون بروز جمعہ کو ہوگا
۔رویت ہلال کمیٹی پاکستان

"امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کا غمِ محرم"امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:كَانَ أَبِي إِذَا دَخَلَ شَهْرُ الْمُحَرَّمِ لَا...
15/06/2026

"امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کا غمِ محرم"

امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:

كَانَ أَبِي إِذَا دَخَلَ شَهْرُ الْمُحَرَّمِ لَا يُرَى ضَاحِكا وَكَانَتِ الْكَآبَةُ تَغْلِبُ عَلَيْهِ حَتَّى تَمْضِيَ مِنْهُ عَشْرَةُ أَيَّام۔

"جب محرم کا مہینہ داخل ہوتا تو میرے والدِ گرامی (امام موسیٰ کاظم علیہ السلام) کبھی ہنستے ہوئے دکھائی نہیں دیتے تھے، اور دس دن گزرنے تک ان پر حزن و ملال (غم و اندوہ) طاری رہتا تھا۔"
(حوالہ: وسائل الشیعہ)

توضیح المسائلموضوع خمس
15/06/2026

توضیح المسائل
موضوع خمس

Address

جديدة رابعة قرب ساحة المظفر
Najaf

Telephone

009647711712945

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when مؤسسة الإمام العصر ع النجف الاشرف posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to مؤسسة الإمام العصر ع النجف الاشرف:

Share