09/06/2026
🔹 `20 ذی الحجہ خروج ابراہیم بن مالک اشتر`ؓ
📜جن دنوں جناب مختار ثقفی رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ قاتلانِ امام حُسین علیہ السّلام سے خونِ امام علیہ السّلام کا انتقام لے رہے تھے تو انہی دنوں میں جناب ابراہیم بن مالک اشتر نے بارہ یا بیس ہزار کا لشکر تیار کیا اور ابنِ زیاد سےجنگ کیلئے کوفہ سے نکلے۔
◻️جناب مختار ثقفی نےبھی اس لشکر میں شرکت کی۔ابراہیم کا لشکر نہر خازر کیساتھ چلتا ہوا پانچ فرسخ طے کر کے موصل کے قریب پہنچا اور اسی مقام کو اپنے لئے بطورِ لشکر گاہ مقرر کیا۔ جس شب کی صبح جنگ ہونی تھی ابراہیم اس شب نہ سو سکا اور ساری رات ان الفاظ کا اپنے لشکر کے سامنے تکرار کرتا رہے:
📃"اے لوگو! تم دین خداوندی کے ناصر ہو اور امام امیرالمؤمنین علی مرتضیٰ علیہ الصلاۃ والسّلام کے محب ہو۔ یہ عبیداللّٰه ابنِ زیاد پسر مرجانہ ہے۔ حسین علیہ السّلام کا قاتل ہے۔ یہ وہ ہے جس نے فرزند زہراء سلام اللّٰه علیہا تک ایک گھونٹ پانی نہ جانے دیا حالانکہ اُنکے چھوٹے چھوٹے بچے `اَلعَطَش اَلعَطَش` کی آوازیں دے رہے تھے اور یہ وہ ہے جس نے فرزند رسول (صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلّم) کے راستے پر رکاوٹیں کھڑی کیں۔ آخرکار انہیں گھیر لیا گیا اور آپ علیہ السّلام کو تشنہ لب شہید کر دیا گیا اور اُنکے اہل وعیال کو کنیزوں کیطرح اونٹوں پر سوار کرکے شام لے گئے۔ قسم بخدا! فرعون کے طرفداروں نے بنی اسرائیل کیساتھ ایسا سلوک نہ کیا جسطرح ان لوگوں نے ذریت پیغمبر صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلّم کیساتھ کیا۔"😭
📍`جنگ کا آغاز ہوا اور بالآخر روز عاشور 67 ھجری کو ابنِ زیاد کا سرقلم کیا گیا اور جناب مختار ثقفی کو پیش کیا گیا۔`