14/04/2026
اہلِ سنت جو ہمیشہ ہم سے کہتے ہیں کہ ہم اہلِ بیت کے تابع ہیں، ہم ان سے کہتے ہیں کہ اگر آپ واقعی اہلِ بیت کے تابع ہیں تو دینِ اسلام میں پچاس سے زیادہ حلال و حرام، عبادات، احکام اور عقائد کے مسائل موجود ہیں، لہٰذا روایات کی تعداد ہزار سے زیادہ ہونی چاہیے۔ جبکہ آپ کے علماء کہتے ہیں کہ امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالبؑ سے صرف پچاس صحیح روایات موجود ہیں، حالانکہ شیعوں کے پاس امیرالمؤمنینؑ سے ہزاروں صحیح روایات موجود ہیں۔ ہمارے پاس تو صرف کتبِ اربعہ میں ہی 26 ہزار احادیث ہیں۔ دراصل ہمارے مذہب کی بنیاد ہی امیرالمؤمنینؑ کے عقائد اور روایات پر ہے، اس لیے ہم کہتے ہیں کہ حقیقی معنوں میں اہلِ بیت کے تابع ہم ہیں، نہ کہ آپ جو صرف نعرہ لگاتے ہیں۔
ابن حزم لکھتے ہیں:
فَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمْ يَعِشْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا سَنَتَيْنِ وَسِتَّةَ أَشْهُرٍ، وَلَمْ يُفَارِقِ الْمَدِينَةَ إِلَّا حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا، وَلَمْ يَحْتَجِ النَّاسُ إِلَى مَا عِنْدَهُ مِنَ الرِّوَايَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِأَنَّ كُلَّ مَنْ حَوَالَيْهِ أَدْرَكُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلَى ذَلِكَ كُلِّهِ فَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةُ حَدِيثٍ وَاثْنَانِ وَأَرْبَعُونَ حَدِيثًا مُسْنَدَةً، وَلَمْ يُرْوَ عَنْ عَلِيٍّ إِلَّا خَمْسُ مِائَةٍ وَسِتَّةٌ وَثَمَانُونَ حَدِيثًا مُسْنَدَةً، يَصِحُّ مِنْهَا نَحْوُ خَمْسِينَ، وَقَدْ عَاشَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزِيدَ مِنْ ثَلَاثِينَ سَنَةً، وَكَثُرَ لِقَاءُ النَّاسِ إِيَّاهُ، وَحَاجَتُهُمْ إِلَى مَا عِنْدَهُ، لِذَهَابِ جُمْهُورِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، وَكَثُرَ سَمَاعُ أَهْلِ الْآفَاقِ مِنْهُ، مَرَّةً بِصِفِّينَ، وَأَعْوَامًا بِالْكُوفَةِ، وَمَرَّةً بِالْبَصْرَةِ وَالْمَدِينَةِ۔
________________________________________
📗 اردو ترجمہ:
پس بے شک حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے بعد صرف دو سال اور چھ ماہ زندہ رہے، اور انہوں نے مدینہ سے باہر صرف حج یا عمرہ کے لیے ہی سفر کیا۔
لوگوں کو رسول اللہ ﷺ سے روایت کرنے کے لیے ان کے پاس موجود علم کی زیادہ ضرورت پیش نہیں آئی، کیونکہ ان کے اردگرد موجود سب لوگ خود نبی کریم ﷺ کو پا چکے تھے۔
اس سب کے باوجود نبی کریم ﷺ سے ان کے ذریعے ایک سو بیالیس (142) مسند احادیث مروی ہیں۔
اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پانچ سو چھیاسی (586) مسند احادیث مروی ہیں، جن میں سے تقریباً پچاس صحیح ہیں۔
حالانکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے بعد تیس سال سے زیادہ زندہ رہے، اور لوگوں کی ان سے ملاقات بھی زیادہ رہی، اور لوگوں کو ان کے علم کی ضرورت بھی زیادہ تھی، کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بڑی تعداد دنیا سے جا چکی تھی۔
اور دور دراز علاقوں کے لوگوں نے بھی ان سے بہت زیادہ سنا—کبھی صفین میں، کئی سال کوفہ میں، اور کبھی بصرہ اور مدینہ میں۔
اسکین کی طباعت:
الكتاب: الفصل في الملل والأهواء والنحل
المؤلف: أبو محمد علي بن أحمد بن سعيد بن حزم الأندلسي القرطبي الظاهري (ت ٤٥٦هـ)
الناشر: دارالجيل – بيروت,الطبعة الثانية 1416ه-1996م ,ج 4 ص 108
مکتبہ شاملہ لائبریری :
الكتاب: الفصل في الملل والأهواء والنحل
المؤلف: أبو محمد علي بن أحمد بن سعيد بن حزم الأندلسي القرطبي الظاهري (ت ٤٥٦هـ)
الناشر: مكتبة الخانجي – القاهرة,ج 4 ص 108
https://shamela.ws/book/6521/555
اس کا مطلب یہ ہے کہ امیرالمؤمنینؑ کی 500 روایات سب کی سب ضعیف ہیں!!
بخاری بھی کہتے ہیں:
٣٧٠٧ - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ ﵁ قَالَ: «اقْضُوا كَمَا كُنْتُمْ تَقْضُونَ، فَإِنِّي أَكْرَهُ الِاخْتِلَافَ، حَتَّى يَكُونَ لِلنَّاسِ جَمَاعَةٌ، أَوْ أَمُوتَُ كَمَا مَاتَ أَصْحَابِي».
فَكَانَ ابْنُ سِيرِينَ يَرَى: أَنَّ عَامَّةَ مَا يُرْوَى عَلَى عَلِيٍّ الْكَذِبُ.
یعنی: ابن سیرین کی رائے یہ ہے کہ حضرت علی بن ابی طالبؑ سے جو اکثر احادیث روایت کی جاتی ہیں وہ جھوٹی ہیں۔
الكتاب: صحيح البخاري
المؤلف: أبو عبد الله، محمد بن إسماعيل بن إبراهيم بن المغيرة ابن بردزبه البخاري الجعفي
تحقيق: جماعة من العلماء
الطبعة: السلطانية، بالمطبعة الكبرى الأميرية، ببولاق مصر، ١٣١١ هـ، بأمر السلطان عبد الحميد الثاني
ثم صَوّرها بعنايته: د. محمد زهير الناصر، وطبعها الطبعة الأولى ١٤٢٢ هـ لدى دار طوق النجاة - بيروت، مع إثراء الهوامش بترقيم الأحاديث لمحمد فؤاد عبد الباقي، والإحالة لبعض المراجع المهمة,ج 5 ص 19
https://shamela.ws/book/1681/5636