Shia Faith

Shia Faith We provide solutions to religious differences.
.org

✅ اہلِ بیت علیہم السلام سے دشمنی کا نتیجہ 🔥 جہنم کی آگ ہے 🔥ابن حبان، جو ایک سنی عالم ہیں، روایت کرتے ہیں:🔹 أخْبَرَنَا ال...
14/06/2026

✅ اہلِ بیت علیہم السلام سے دشمنی کا نتیجہ 🔥 جہنم کی آگ ہے 🔥
ابن حبان، جو ایک سنی عالم ہیں، روایت کرتے ہیں:
🔹 أخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ یَزِیدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَیْمُ بْنُ حَیَّانَ، عَنْ أَبِی الْمُتَوَکِّلِ النَّاجِیِّ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: "وَالَّذِی
نَفْسِی بِیَدِهِ، لَا یُبْغِضُنَا أَهْلَ الْبَیْتِ رَجُلٌ إِلَّا أَدْخَلَهُ الله النار"
🔻 حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو شخص ہم اہلِ بیت سے بغض اور دشمنی رکھے گا، اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں داخل کرے گا۔"
شعیب الارنؤوط اس روایت کی سند کے بارے میں لکھتے ہیں:
👈 إسناده حسن (اس کی سند حسن ہے)۔
📚 صحیح ابن حبان، جلد 15، صفحہ 435، مطبوعہ مؤسسۃ الرسالہ
⁉️ پھر ان خلفاء اور بعض صحابہ، جیسے عائشہ اور معاویہ، جنہوں نے اہلِ بیتؑ سے جنگ کی یا ان سے دشمنی کی، اور عمر و ابوبکر جن کے بارے میں یہ عقیدہ رکھا جاتا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی بیٹی حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کو شہید کیا، ان کا اس صحیح حدیث کی روشنی میں کیا حکم ہے؟"

حدیث غدیر وہ مشہور و معروف اور متواتر حدیث ہے جس کا انکار ممکن نہیں۔اس حدیث کے متعلق ابن شاهين (ت ٣٨٥هـ) لکھتا ہے:وَقَدْ...
04/06/2026

حدیث غدیر وہ مشہور و معروف اور متواتر حدیث ہے جس کا انکار ممکن نہیں۔
اس حدیث کے متعلق ابن شاهين (ت ٣٨٥هـ) لکھتا ہے:
وَقَدْ رَوَى حَدِيثَ غَدِيرِ خُمٍّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُ مِائَةِ نَفْسٍ، وَفِيهِمُ الْعَشَرَةُ، وَهُوَ حَدِيثٌ ثَابِتٌ، لَا أَعْرِفُ لَهُ عِلَّةً. تَفَرَّدَ عَلِيٌّ بِهَذِهِ الْفَضِيلَةِ، لَمْ يَشْرَكْهُ فِيهَا أَحَدٌ.
حديث غدیر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تقریباً سو صحابہ نے روایت کیا ہے جن میں عشرہ( مبشرہ) بھی شامل ہیں ،وہ ایسی ثابت حدیث ہے جس میں کسی بھی قسم کی علت نہیں پائی جاتی، اس فضیلت میں علی (علیہ السلام )منفرد ہیں اس میں کوئی آپ کا شریک نہیں ہے ۔
[الكتاب: شرح مذاهب أهل السنة ومعرفة شرائع الدين والتمسك بالسنن
المؤلف: أبو حفص عمر بن أحمد بن عثمان بن أحمد بن محمد بن أيوب بن أزداذ البغدادي المعروف بـ ابن شاهين (ت ٣٨٥هـ)
المحقق: عادل بن محمد
الناشر: مؤسسة قرطبة للنشر والتوزيع
الطبعة: الأولى، ١٤١٥هـ – ١٩٩٥م ،ص 103]
https://shamela.ws/book/13124/103

23/05/2026

صحابہ کرام کو گالیاں دینا بنی امیہ کی سنت. مغیرہ بن شعبہ کی مجلس میں صحابہ کو گالیاں دی جاتی تھیں

21/04/2026

اہلسنت کے کوئی امام فقہ میں حضرت علیؑ کی طرف رجوع نہیں کرتے - ابن تیمیہ

17/04/2026

مسلک اہلسنت میں آثار علیؑ ابن ابیطالب اور اہلبیتؑ کا مطالعہ کرنا منع ہے۔

مسلک اہلسنت میں امیرالمؤمنین حضرت علیؑ اور اہلبیتؑ سے متعلق آثار کا مطالعہ ممنوع ہےابن تیمیہ اور اس کے پیروکاروں نے اہلِ...
16/04/2026

مسلک اہلسنت میں امیرالمؤمنین حضرت علیؑ اور اہلبیتؑ سے متعلق آثار کا مطالعہ ممنوع ہے

ابن تیمیہ اور اس کے پیروکاروں نے اہلِ بیتؑ، خصوصاً امیرالمؤمنین حضرت علیؑ پر ظلم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ حضرت علیؑ نے عائشہ کے خلاف جنگ کی تھی۔ اسی بنا پر ابن تیمیہ نے امیرالمؤمنینؑ سے منسوب تمام روایات کو من گھڑت قرار دیا، اور اہلِ سنت کے چاروں فقہاء نے بھی اہلِ بیتؑ سے کنارہ کشی اختیار کی۔

کیونکہ حضرت علیؑ کی روایات، خطبات اور خطوط عائشہ اور معاویہ کے خلاف دلائل فراہم کرتے ہیں اور ان لوگوں کی سیرت کو بے نقاب کرتے ہیں جنہوں نے رسولِ اسلامؐ کے بعد دین کو اس کے اصل راستے سے ہٹا دیا۔ اسی وجہ سے یہ لوگ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ سے نفرت کرتے ہیں، ان سے براءت کا اعلان کرتے ہیں، اور یہاں تک فتویٰ دیتے ہیں کہ حضرت علیؑ کی روایات، خطوط، خطبات اور فیصلوں کو پڑھنا حرام ہے، اسی طرح امام سجادؑ کی توحیدی روایات کو بھی پڑھنا حرام قرار دیتے ہیں:

وہابی عالم حسن آل سلمان نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے "کتب حذر منها العلماء” (وہ کتابیں جن سے علماء نے خبردار کیا ہے)۔ اس میں ان کتابوں کا ذکر کیا گیا ہے جنہیں اہلِ سنت کو نہیں پڑھنا چاہیے، اور بعض کتابوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہیں پڑھنا شراب پینے کی طرح حرام ہے۔ ان میں "نہج البلاغہ” (جو امیرالمؤمنینؑ کے اقوال پر مشتمل ہے) اور "صحیفہ سجادیہ” (جو امام سجادؑ کی دعاؤں پر مشتمل ہے) سمیت اہلِ بیتؑ سے متعلق دیگر آثار بھی شامل ہیں، جن کے مطالعہ کو حرام قرار دیا گیا ہے۔

⁉️ یہ کیسی پیروی ہے کہ آپ نے امیرالمؤمنین حضرت علیؑ سے متعلق آثار کے مطالعہ کو ہی ممنوع قرار دے دیا ہے؟
Visit: www.shiafaith.org

اہلسنت اہلبیتؑ کے پیروکار نہیں ہیں:ابنِ تیمیہ، امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی کتب اور روایات کے بارے میں اہلِ سنت ...
15/04/2026

اہلسنت اہلبیتؑ کے پیروکار نہیں ہیں:
ابنِ تیمیہ، امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی کتب اور روایات کے بارے میں اہلِ سنت کے مذہب میں کہتا ہے:
اوّل یہ کہ اہلِ سنت کے علماء میں سے کسی نے بھی ان (روایات) کو قبول نہیں کیا۔
دوم یہ کہ اگر حضرت علی سے کوئی روایت، نقل یا کتاب منسوب بھی ہو تو وہ یا تو منسوخ ہو چکی ہے اور ختم ہو گئی ہے، یا اس کی نقل میں غلطی ہوئی ہے۔
لہٰذا اہلِ سنت کے کسی بھی فقیہ یا عالم نے دین اور روایت کو حضرت علی سے نہیں لیا؛ نہ امام ابو حنیفہ، نہ امام شافعی، نہ امام مالک، نہ امام احمد بن حنبل۔
🔹 مزید یہ کہ حضرت علی سے ایک کتاب منقول ہے جس میں ایسے مطالب ہیں جنہیں کسی بھی عالم نے قبول نہیں کیا، مثلاً:
“پچیس اونٹوں میں پانچ بکریاں واجب ہیں”، جبکہ یہ ان متواتر نصوص کے خلاف ہے جو نبی ﷺ سے منقول ہیں۔
👉 اسی وجہ سے جو کچھ حضرت علی سے روایت کیا گیا ہے، یا تو منسوخ ہے یا اس کی نقل میں غلطی ہوئی ہے۔👈
📚 (ترجمہ مختصر: منهاج السنة، ابن تیمیہ، ص 864)
🔸 ابنِ تیمیہ ایک اور جگہ کہتا ہے:
رافضی کہتے ہیں کہ فقہاء فقہ کے معاملے میں حضرت علی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
👉 اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ کھلا جھوٹ ہے؛ چاروں ائمہ فقہ اور دیگر فقہاء میں سے کوئی بھی اپنے فقہ میں ان کی طرف رجوع نہیں کرتا۔👈
📚 (ترجمہ مختصر: منهاج السنة، ابن تیمیہ، ص 813)
________________________________________
👆 ابنِ تیمیہ صراحت سے کہتا ہے کہ حضرت علی بن ابی طالبؓ کی روایات یا تو غلط ہیں، یا سنت و قرآن اور دیگر صحابہ کے اقوال کے خلاف ہیں، یا منسوخ ہو چکی ہیں۔
لہٰذا اہلِ سنت کی کتب میں ان کی کوئی معتبر روایت موجود نہیں، اور اس نے تمام ائمہ اہلِ سنت کے نام لے کر بیان کیا کہ انہوں نے اہلِ بیت سے کچھ نہیں لیا اور انہیں چھوڑ دیا۔
درحقیقت اہلِ سنت نے اہلِ بیت کے مذہب کو ترک کر دیا ہے۔

________________________________________
↙️ شاہ عبدالعزیز دہلوی کہتے ہیں:
حدیثِ ثقلین کے مطابق جو شخص دین اہلِ بیت کے علاوہ کسی اور سے لے، وہ گمراہ ہے اور اس کا مذہب باطل ہے۔
https://shiafaith.org/%d9%85%d8%b3%d9%84%da%a9-%d8%a7%db%81%d9%84%d8%b3%d9%86%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ad%d8%b6%d8%b1%d8%aa-%d8%b9%d9%84%db%8c%d8%91-%d8%b3%db%92-%d8%b5%d8%b1%d9%81-%d8%b5%d8%b1%d9%81-%d9%be%da%86%d8%a7/

اہلِ سنت جو ہمیشہ ہم سے کہتے ہیں کہ ہم اہلِ بیت کے تابع ہیں، ہم ان سے کہتے ہیں کہ اگر آپ واقعی اہلِ بیت کے تابع ہیں تو د...
14/04/2026

اہلِ سنت جو ہمیشہ ہم سے کہتے ہیں کہ ہم اہلِ بیت کے تابع ہیں، ہم ان سے کہتے ہیں کہ اگر آپ واقعی اہلِ بیت کے تابع ہیں تو دینِ اسلام میں پچاس سے زیادہ حلال و حرام، عبادات، احکام اور عقائد کے مسائل موجود ہیں، لہٰذا روایات کی تعداد ہزار سے زیادہ ہونی چاہیے۔ جبکہ آپ کے علماء کہتے ہیں کہ امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالبؑ سے صرف پچاس صحیح روایات موجود ہیں، حالانکہ شیعوں کے پاس امیرالمؤمنینؑ سے ہزاروں صحیح روایات موجود ہیں۔ ہمارے پاس تو صرف کتبِ اربعہ میں ہی 26 ہزار احادیث ہیں۔ دراصل ہمارے مذہب کی بنیاد ہی امیرالمؤمنینؑ کے عقائد اور روایات پر ہے، اس لیے ہم کہتے ہیں کہ حقیقی معنوں میں اہلِ بیت کے تابع ہم ہیں، نہ کہ آپ جو صرف نعرہ لگاتے ہیں۔
ابن حزم لکھتے ہیں:

فَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمْ يَعِشْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا سَنَتَيْنِ وَسِتَّةَ أَشْهُرٍ، وَلَمْ يُفَارِقِ الْمَدِينَةَ إِلَّا حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا، وَلَمْ يَحْتَجِ النَّاسُ إِلَى مَا عِنْدَهُ مِنَ الرِّوَايَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِأَنَّ كُلَّ مَنْ حَوَالَيْهِ أَدْرَكُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلَى ذَلِكَ كُلِّهِ فَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةُ حَدِيثٍ وَاثْنَانِ وَأَرْبَعُونَ حَدِيثًا مُسْنَدَةً، وَلَمْ يُرْوَ عَنْ عَلِيٍّ إِلَّا خَمْسُ مِائَةٍ وَسِتَّةٌ وَثَمَانُونَ حَدِيثًا مُسْنَدَةً، يَصِحُّ مِنْهَا نَحْوُ خَمْسِينَ، وَقَدْ عَاشَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزِيدَ مِنْ ثَلَاثِينَ سَنَةً، وَكَثُرَ لِقَاءُ النَّاسِ إِيَّاهُ، وَحَاجَتُهُمْ إِلَى مَا عِنْدَهُ، لِذَهَابِ جُمْهُورِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، وَكَثُرَ سَمَاعُ أَهْلِ الْآفَاقِ مِنْهُ، مَرَّةً بِصِفِّينَ، وَأَعْوَامًا بِالْكُوفَةِ، وَمَرَّةً بِالْبَصْرَةِ وَالْمَدِينَةِ۔
________________________________________
📗 اردو ترجمہ:
پس بے شک حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے بعد صرف دو سال اور چھ ماہ زندہ رہے، اور انہوں نے مدینہ سے باہر صرف حج یا عمرہ کے لیے ہی سفر کیا۔
لوگوں کو رسول اللہ ﷺ سے روایت کرنے کے لیے ان کے پاس موجود علم کی زیادہ ضرورت پیش نہیں آئی، کیونکہ ان کے اردگرد موجود سب لوگ خود نبی کریم ﷺ کو پا چکے تھے۔
اس سب کے باوجود نبی کریم ﷺ سے ان کے ذریعے ایک سو بیالیس (142) مسند احادیث مروی ہیں۔
اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پانچ سو چھیاسی (586) مسند احادیث مروی ہیں، جن میں سے تقریباً پچاس صحیح ہیں۔
حالانکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے بعد تیس سال سے زیادہ زندہ رہے، اور لوگوں کی ان سے ملاقات بھی زیادہ رہی، اور لوگوں کو ان کے علم کی ضرورت بھی زیادہ تھی، کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بڑی تعداد دنیا سے جا چکی تھی۔
اور دور دراز علاقوں کے لوگوں نے بھی ان سے بہت زیادہ سنا—کبھی صفین میں، کئی سال کوفہ میں، اور کبھی بصرہ اور مدینہ میں۔
اسکین کی طباعت:
الكتاب: الفصل في الملل والأهواء والنحل
المؤلف: أبو محمد علي بن أحمد بن سعيد بن حزم الأندلسي القرطبي الظاهري (ت ٤٥٦هـ)
الناشر: دارالجيل – بيروت,الطبعة الثانية 1416ه-1996م ,ج 4 ص 108

مکتبہ شاملہ لائبریری :
الكتاب: الفصل في الملل والأهواء والنحل
المؤلف: أبو محمد علي بن أحمد بن سعيد بن حزم الأندلسي القرطبي الظاهري (ت ٤٥٦هـ)
الناشر: مكتبة الخانجي – القاهرة,ج 4 ص 108
https://shamela.ws/book/6521/555

اس کا مطلب یہ ہے کہ امیرالمؤمنینؑ کی 500 روایات سب کی سب ضعیف ہیں!!
بخاری بھی کہتے ہیں:
٣٧٠٧ - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ ﵁ قَالَ: «اقْضُوا كَمَا كُنْتُمْ تَقْضُونَ، فَإِنِّي أَكْرَهُ الِاخْتِلَافَ، حَتَّى يَكُونَ لِلنَّاسِ جَمَاعَةٌ، أَوْ أَمُوتَُ كَمَا مَاتَ أَصْحَابِي».
فَكَانَ ابْنُ سِيرِينَ يَرَى: أَنَّ عَامَّةَ مَا يُرْوَى عَلَى عَلِيٍّ الْكَذِبُ.
یعنی: ابن سیرین کی رائے یہ ہے کہ حضرت علی بن ابی طالبؑ سے جو اکثر احادیث روایت کی جاتی ہیں وہ جھوٹی ہیں۔

الكتاب: صحيح البخاري
المؤلف: أبو عبد الله، محمد بن إسماعيل بن إبراهيم بن المغيرة ابن بردزبه البخاري الجعفي
تحقيق: جماعة من العلماء
الطبعة: السلطانية، بالمطبعة الكبرى الأميرية، ببولاق مصر، ١٣١١ هـ، بأمر السلطان عبد الحميد الثاني
ثم صَوّرها بعنايته: د. محمد زهير الناصر، وطبعها الطبعة الأولى ١٤٢٢ هـ لدى دار طوق النجاة - بيروت، مع إثراء الهوامش بترقيم الأحاديث لمحمد فؤاد عبد الباقي، والإحالة لبعض المراجع المهمة,ج 5 ص 19
https://shamela.ws/book/1681/5636

Address

ولاية اميرالمؤمنين علي بن ابي طالب
Najaf
54001

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shia Faith posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Shia Faith:

Share