The story of Islam by all school of thoughts

The story of Islam by all school of thoughts This Page relates to views of scholars from different school of thoughts and religions to unite all

سوال یہ نہیں کہ جب سب نے بیعت کر لی تو حسین نے کیوں نہیں کی؟ سوال یہ ہے کہ جب حسین نے بیعت نہیں کی تو دوسروں نے کیسی کرل...
20/04/2025

سوال یہ نہیں کہ جب سب نے بیعت کر لی تو حسین نے کیوں نہیں کی؟ سوال یہ ہے کہ جب حسین نے بیعت نہیں کی تو دوسروں نے کیسی کرلی؟

دیو بندی عالم دین، بانی جماعت اسلامی ، مولانا مودودی

22/03/2025

اگر حضرت علی علیہ صلواۃ و السلام کی شہادت کو سمجھنے کی کوشش کریں تو انسان دھنگ رہ جاتا ھے .

امام حضرت علی ابنِ ابی طالب علیہ السلام کی شہادت بقولِ مشہور یوم جُمعہ کو ہوئی جو ایّام کا سردار ہے۔
ماہِ رمَضان میں ہوئی جو مہینوں کا سردار ھے۔
ماہِ رمضان کے آخری عشرہ میں ہوئی جو رمضان کے عشروں کا سردار ہے۔
اکیسویں شب ہوئی جو نہ صرف طاق رات بلکہ ممکنہ طور پر لیلتہ القدر ہے جو ہزار مہینے سے بہتر ہے۔
ایسی مسجد میں ضربت لگی جو حرم الہی اور مسجد نبوی کے بعد سب سے افضل مسجد ھے جہاں کم از کم چوبیس انبیا و رسل کے مصلے ہیں۔
ضربتِ جو باعثِ شہادت بنی وہ حالتِ نماز میں ہوئی جو تمام اعمالِ عبادت میں سب سے افضل ھے۔
نمازِ فجر میں ہوئی جس کا قُرآن میں خصوصی ذکر ہے کہ یہ نماز نفس پر بھاری ھے۔
ضربت حالتِ سجدہ میں لگی جو نماز کے تمام ارکان میں سب سے افضل ھے۔
بعدِ ضربت پہلا جُملہ جو آپ علیہ السلام نے ادا فرمایا "ربِّ کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہوگیا"۔

اللّہ اللّہ نجانے یہ اُس کا کیسا عبد تھا کہ جس کی ایک شہادت کو اللّہ نے اس قدر اعزازات سے نواز دیا کہ اسکی مثال ملنا مُشکل ھے۔

کسے را میسر نہ شُد ایں سعادت
بہ کعبہ ولادت، بہ مسجد شہادت

06/12/2024

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا؛

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، جنہیں "سیدہ النساء العالمین" یعنی تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار قرار دیا گیا، اسلام کی تاریخ کی سب سے عظیم خواتین میں سے ایک ہیں۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لخت جگر، حضرت خدیجہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا کی بیٹی اور حضرت علی علیہ السلام کی زوجہ محترمہ تھیں۔ ان کی شخصیت، فضائل، علم، اور تقویٰ اسلامی تاریخ میں ایک مثال ہیں، جو نہ صرف خواتین بلکہ مردوں کے لیے بھی مشعل راہ ہیں۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ایسے گھرانے میں پیدا ہوئیں جو فضیلت اور تقویٰ کا اعلیٰ ترین معیار تھا۔ ان کے والد حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمت العالمین اور خاتم النبیین ہیں، جبکہ ان کی والدہ حضرت خدیجہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا، وہ عظیم خاتون ہیں جو رئیسہ عرب کہلاتی تھیں لیکن اسلام کی راہ میں اپنی تمام دولت نبی کریم صلعم کے سامنے ڈھیر کردی انہوں نے اسلام کے ابتدائی دنوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر طرح سے مدد کی اور تمام ازواج مطہرات کی نسبت سب سے زیادہ عرصہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی رفاقت میں گزارا

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شادی حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے ہوئی، جو اسلام کے پہلے نوجوان مسلمان، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد بھائی، اور ان کے وفادار صحابی تھے۔ یہ رشتہ دنیا اور آخرت میں ایک عظیم مثال ہے، جس میں محبت، وفا، قربانی، اور ایمان کی بلندی کو ظاہر کیا گیا۔

علم اور تقویٰ

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا علمی مرتبے میں تمام خواتین سے کہیں آگے تھیں۔ ان کی دانش اور حکمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں "امّ ابیہا" یعنی اپنے والد کی ماں کہا، جس کا مطلب ہے کہ وہ نبی اکرم کے لیے نہایت محبت اور احترام کا مرکز تھیں۔

ان کی تقویٰ اور عبادت کا یہ عالم تھا کہ راتوں کو اللہ کے حضور قیام کرتیں اور دن کے وقت اسلام کے لیے اپنے فرائض انجام دیتی تھیں۔ ان کا ہر عمل قرآن پاک اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق ہوتا تھا، اور یہی وجہ ہے کہ ان کی زندگی تمام مومنوں کے لیے ایک مشعل راہ ہے۔

قرآن مجید میں سورہ آل عمران کی آیت نمبر 61 میں واقعہ مباہلہ کا ذکر ہے، جو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت اور ان کے خاندان کے مقام کو واضح کرتا ہے۔ اس واقعہ میں نجران کے عیسائیوں کے ساتھ ایک مکالمہ ہوا، جہاں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کو قبول کرنے سے انکار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا:

> "پھر جو شخص تم سے اس بارے میں جھگڑے، اس علم کے آجانے کے بعد، تو کہہ دو کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تمہارے بیٹوں کو، اور اپنی عورتوں کو بلائیں اور تمہاری عورتوں کو، اور اپنی جانوں کو بلائیں اور تمہاری جانوں کو، پھر ہم سب التجا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجیں۔" (سورہ آل عمران، آیت 61)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کے تحت حضرت علی علیہ السلام، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، اور ان کے دونوں بیٹوں، امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کو میدان مباہلہ میں ساتھ لے گئے اور کہا کہ یہ میرے اہل بیت ہیں۔ یہ واقعہ نہ صرف حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ ان کے پورے خاندان کو اللہ کے نزدیک پسندیدہ ترین ثابت کرتا ہے۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ایک مثالی بیوی، ماں، اور بیٹی تھیں۔ انہوں نے اپنی زندگی میں تمام مشکلات کو صبر، شکر اور استقامت کے ساتھ برداشت کیا۔ ان کے اخلاق اور کردار کی گواہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا متفقہ فرمان ہے

> "فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے۔ جس نے اسے ناراض کیا، اس نے مجھے ناراض کیا۔"

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے اسلام کی سربلندی کے لیے بے شمار قربانیاں دیں۔ وہ اپنے والد کے ساتھ ہر مشکل وقت میں کھڑی رہیں اور اسلام کے دشمنوں کی سختیوں کے باوجود کبھی ہمت نہ ہاری۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ اسلام کے لیے محبت، وفاداری، اور قربانی کا نمونہ تھا۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا یوم وصال

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا وصال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے کچھ ماہ بعد ہوا۔ ان کی وفات اسلامی تاریخ کا ایک المناک واقعہ ہے، جس پر ہر دل غمزدہ ہوتا ہے۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی حیات طیبہ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایمان، اخلاق، اور صبر کے ساتھ ہر آزمائش کا سامنا کیا جا سکتا ہے۔ ان کی شخصیت ہر مسلمان کے لیے مشعل راہ ہے اور ان کا ذکر قیامت تک جاری رہے گا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین 🤲

01/12/2024

حجاج بن یوسف حافظ قرآن تھا وہ تہجد کی ایک رکعت میں 10 سپاروں کی تلاوت کرتا تھا ، باجماعت نماز پڑھاتا تھا اور شراب و زنا سے دور بھاگتا تھا لیکن انتہائی ظالم تھا جب اس کی موت آئی تو انتہائی عبرتناک موت آئی

حضرت سعید بن جبیر جو کے ایک تابعی بزرگ تھے ایک دن ممبر پر بیٹھے ھوۓ یہ الفاظ ادا کیے کہ "حجاج ایک ظالم شخص ھے"
ادھر جب حجاج کو پتہ چلا کہ آپ میرے بارے میں ایسا گمان کرتے ھیں تو آپ کو دربار میں بلا لیا اور پوچھا۔
کیا تم نے میرے بارے میں ایسی باتیں بولی ھیں؟؟ تو آپ نے فرمایا ھاں, بالکل تو ایک ظالم شخص ھے۔ یہ سن کر حجاج کا رنگ غصے سے سرخ ھو گیا اور آپ کے قتل کے احکامات جاری کر دیے۔ جب آپ کو قتل کیلیے دربار سے باہر لے کر جانے لگے تو آپ مسکرا دیے۔
حجاج کو ناگوار گزرا اس نے پوچھا کیوں مسکراتے ھو تو آپ نے جواب دیا تیری بےوقوفی پر اور جو اللہ تجھے ڈھیل دے رھا ھے اس پر مسکراتا ھوں۔
حجاج نے پھر حکم دیا کہ اسے میرے سامنے زبح کر دو، جب خنجر گلے پر رکھا گیا تو آپ نے اپنا رخ قبلہ کی طرف کیا اور یہ جملہ فرمایا:
اے اللہ میرے چہرہ تیری طرف ھے تیری رضا پر راضی ھوں یہ حجاج نہ موت کا مالک ھے نہ زندگی کا۔
جب حجاج نے یہ سنا تو بولا اسکا رخ قبلہ کی طرف سے پھیر دو۔ جب قبلہ سے رخ پھیرا تو آپ نے فرمایا: یااللہ رخ جدھر بھی ھو تو ھر جگہ موجود ھے. مشرق مغرب ھر طرف تیری حکمرانی ھے۔ میری دعا ھے کہ میرا قتل اسکا آخری ظلم ھو، میرے بعد اسے کسی پر مسلط نہ فرمانا۔
جب آپکی زبان سے یہ جملہ ادا ھوا اسکے ساتھ ھی آپکو قتل کر دیا گیا اور اتنا خون نکلا کہ دربار تر ھو گیا۔ ایک سمجھدار بندہ بولا کہ اتنا خون تب نکلتا ھے جب کوی خوشی خوشی مسکراتا ھوا اللہ کی رضا پر راضی ھو جاتا ھے۔
حجاج بن یوسف کے نام سے سب واقف ہیں، حجاج کو عبد الملک نے مکہ، مدینہ طائف اور یمن کا نائب مقرر کیا تھا اور اپنے بھائی بشر کی موت کے بعد اسے عراق بھیج دیا جہاں سے وہ کوفہ میں داخل ہوا، ان علاقوں میں بیس سال تک حجاج کا عمل دخل رہا اس نے کوفے میں بیٹھ کر زبردست فتوحات حاصل کیں۔
اس کے دور میں مسلمان مجاہدین، چین تک پہنچ گئے تھے، حجاج بن یوسف نے ہی قران پاک پر اعراب لگوائے، الله تعالی نے اسے بڑی فصاحت و بلاغت اور شجاعت سے نوازا تھا حجاج حافظ قران تھا. شراب نوشی اور بدکاری سے بچتا تھا. وہ جہاد کا دھنی اور فتوحات کا حریص تھا. مگر اسکی تمام اچھائیوں پر اسکی ایک برائی نے پردہ ڈال دیا تھا اور وہ برائی کیا تھی ؟ "ظلم "
حجاج بہت ظالم تھا، اس نے اپنی زندگی میں ایک خوں خوار درندے کا روپ دھار رکھا تھا. وہ خود الله کے بندوں، اولیاء اور علما کے خوں سے ہولی کھیل رہا تھا. حجاج نے ایک لاکھ بیس ہزار انسانوں کو قتل کیا ہے اس کے جیل خانوں میں ایک ایک دن میں اسی اسی ہزار قیدی ایک وقت میں ہوتے جن میں سے تیس ہزار عورتیں تھیں. اس نے جو آخری قتل کیا وہ عظیم تابعی اور زاہد و پارسا انسان حضرت سعید بن جبیر رضی الله عنہ کا قتل تھا۔
انہیں قتل کرنے کے بعد حجاج پر وحشت سوار ہو گئی تھی، وہ نفسیاتی مریض بن گیا تھا، حجاج جب بھی سوتا، حضرت سعید بن جبیر اس کے خواب میں ا کر اسکا دامن پکڑ کر کہتے کہ اے دشمن خدا تو نے مجھے کیوں قتل کیا، میں نے تیرا کیا بگاڑا تھا؟ جواب میں حجاج کہتا کہ مجھے اور سعید کو کیا ہو گیا ہے۔۔؟
اس کے ساتھ حجاج کو وہ بیماری لگ گئی زمہریری کہا جاتا ہے ،اس میں سخت سردی کلیجے سے اٹھ کر سارے جسم پر چھا جاتی تھی ،وہ کانپتا تھا ،آگ سے بھری انگیٹھیاں اس کے پاس لائی جاتی تھیں اور اس قدر قریب رکھ دی جاتی تھیں کہ اسکی کھال جل جاتی تھی مگر اسے احساس نہیں ہوتا تھا، حکیموں کو دکھانے پر انہوں نے بتایا کہ پیٹ میں سرطان ہے ،ایک طبیب نے گوشت کا ٹکڑا لیا اور اسے دھاگے کے ساتھ باندھ کر حجاج کے حلق میں اتار دیا۔
تھوڑی دیر بعد دھاگے کو کھینچا تو اس گوشت کے ٹکڑے کے ساتھ بہت عجیب نسل کے کیڑے چمٹے ھوۓ تھے اور اتنی بدبو تھی جو پورے ایک مربع میل کے فاصلے پر پھیل گی۔ درباری اٹھ کر بھاگ گۓ حکیم بھی بھاگنے لگا، حجاج بولا تو کدھر جاتا ھے علاج تو کر۔۔ حکیم بولا تیری بیماری زمینی نہیں آسمانی ھے۔ اللہ سے پناہ مانگ حجاج، جب مادی تدبیروں سے مایوس ہو گیا تو اس نے حضرت حسن بصری رحمتہ الله علیہ کو بلوایا اور انسے دعا کی درخواست کی۔
وہ حجاج کی حالت دیکھ کر رو پڑے اور فرمانے لگے میں نے تجھے منع کیا تھا کہ نیک بندوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرنا، ان پر ظلم نہ کرنا ،مگر تو باز نہ آیا …آج حجاج عبرت کا سبب بنا ہوا تھا. وہ اندر ،باہر سے جل رہا تھا ،وہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ چکا تھا. حضرت بن جبیر رضی الله تعالی عنہ کی وفات کے چالیس دن بعد ہی حجاج کی بھی موت ہو گئی تھی۔
جب دیکھا کہ بچنے کا امکان نہیں تو قریبی عزیزوں کو بلایا جو بڑی کراہت کے ساتھ حجاج کے پاس آۓ۔ وہ بولا میں مر جاوں تو جنازہ رات کو پڑھانا اور صبح ھو تو میری قبر کا نشان بھی مٹا دینا کیوں کہ لوگ مجھے مرنے کے بعد قبر میں بھی نہی چھوڑیں گے۔ اگلے دن حجاج کا پیٹ پھٹ گیا اور اسکی موت واقع ھوی۔
اللہ ظالم کی رسی دراز ضرور کرتا ھے لیکن جب ظالم سے حساب لیتا ھے تو، فرشتے بھی خشیت الہی سے کانپتے ھیں، عرش ھل جاتا ھے۔
اللہ ظالموں کے ظلم سے ھم سب کو محفوظ رکھے. آمین یا رب العالمین 🤲

14/11/2024
05/08/2024
14/07/2024

آپ نے نوٹ کیا ہو گا کہ اس سال اہلسنت علماء کرام,اس بات پر گفتگو کرتے نظر آئے ہیں کہ ماضی میں ہمارے سنیوں کو غمِ اہلبیت ع سے دور رکھنے کے لئے دوسرے کاموں میں مصروف رکھنے کی کوشش کی گئی تھی۔
آج اہلسنت علماء خود یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر دس محرم کو ہی قبرستان جانے کی فضیلت کیوں ہے۔
سرمہ لگانے اور نئے لباس پہننے کی تاکید کیوں ہے۔
وہ عام سنی کو سمجھا رہے ہیں کہ یہ باتیں صرف آلِ محمد ع کے غم سے دور رکھنے کے لئے خرافات ایجاد کی گئیں۔
ایسا نہیں ہے کہ یہ بدعات نئی داخل ہوئی ہیں بلکہ یہ صدیوں سے جاری تھیں مگر اب سوشل میڈیا کے ذریعے ان تک سوال پہنچائے گئے۔
ان کو احساس دلانے کی کوشش کی گئی۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آپ کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ آپ میں یہ خامی ہے یا آپ کی عادت سے کسی کی دل آزاری ہوتی ہے لیکن اس کا ذکر کرنے سے وہ بدلاؤ لانے کی کوشش کرتا ہے۔
یہی انسان کی فطرت کا مثبت پہلو ہوتا ہے۔
آج اہلسنت کو احساس ہو رہا ہے کہ وہ جانے انجانے میں ناصبیت کے آلہ کار بنے رہے۔
کم علمی میں نبی کریم ص کو دکھ پہنچتا رہا۔
اب معاملات بدل رہے ہیں۔
اب واقعی دو مذہب بنتے نظر آ رہے ہیں۔
حسینی اور یزیدی۔
مفتی فضل ہمدرد سنی ہو کر حسینیت کا طرفدار نظر آئے گا۔
جواد نقوی شیعہ ہو کر یزیدیت کو شاد کر رہا ہے۔
لبادے بینقاب ہو رہے ہیں لہذا حسینیت کا زیادہ سے زیادہ پرچار کریں۔
خود احتسابی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔
لوگ اعتراف کر رہے ہیں کہ ہمارے بزرگ مجالس میں شریک ہوتے تھے۔
نیاز اور سبیل کا انتظام کیا کرتے تھے پھر یہ اچانک کیا ہوا کہ ہم اپنے بزرگوں کے عمل کے ہی خلاف ہو گئے جبکہ وہ ہم سے زیادہ دین سمجھتے تھے۔
پروپیگینڈے کا علم اور دلیل کے ساتھ دفاع کریں اور سوال اٹھائیں تاکہ ان کا جواب ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ حر بن جائیں۔

ساجد اقبال
Sajid Iqbal

13/07/2024
29/06/2024

Address

Karbala'

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The story of Islam by all school of thoughts posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share