مرکز الرصد العقائدی-اردو

مرکز الرصد العقائدی-اردو مرکز الدلیل العقائدی مذھب اھل البیت علیہم السلام کی صحیح ترجمانی اور حقائق کو بیان کیا جاتا ہے

https://alrasd11.blogspot.com/2023/09/blog-post_44.html
29/01/2024

https://alrasd11.blogspot.com/2023/09/blog-post_44.html

رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ صرف مبلغ ہیں ۔ سوال سیکولر محقق ف*ج فودة: کہتا ہے۔ کہ قران مجید میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ کا کام صرف تبلیغ دین ت

عنوان ۔عبس و تولی کی تفسیر ۔ سوال ۔ السلام علیکم و رحمة اللہ ۔ عبس و تولی کی تفسیر کیا ہے ؟ اور یہ ایت کس کے حق میں نازل...
01/10/2023

عنوان ۔
عبس و تولی کی تفسیر ۔
سوال ۔
السلام علیکم و رحمة اللہ ۔
عبس و تولی کی تفسیر کیا ہے ؟ اور یہ ایت کس کے حق میں نازل ہوئی ؟
الجواب ۔
و علیکم السلام و رحمة اللہ ۔ ہمارے علماء و مفسرین کا اجماع ہے کہ اس آیت کے مخاطب رسول اکرم صلی اللہ علیہ و الہ نہیں ہیں ۔
جیسا کہ اہلسنت کے علماء کا خیال ہے ۔ بلکہ اس آیت سے مراد کوئی اور شخص ہے ۔ جو رسول اکرم کے ساتھ بیٹھا تھا جب ابن ام مکتوم نابینا، نے رسول اکرم سے گفتگو کرنا چاہی تو اس شخص نے اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا ۔ تو اس وقت یہ ایت نازل ہوئی ۔
الشیخ الطبرسی نے مجمع البیان ج 10 ص 438 پر سید علم الھدی سے ان کی کتاب التنزیہ ص 118 سے نقل کیا ہے ۔ کہ آیت کا ظاہر اس پر دلالت نہیں کرتا کہ اس سے مراد رسول اکرم ہوں ۔ اور نہ یہ رسول اکرم کو خطاب ہے ۔ بلکہ یہ ایک خبر ہے جس میں مخبر عنہ کے بارے معلوم نہیں ہے ۔
بلکہ اس آیت میں ایسا شاہد اور قرینہ موجود ہے جو دلالت کرتا ہے کہ اس سے مراد رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ کا غیر ہے ۔
کیونکہ اس میں عبوس کی صفت بیان ہوئی ہے جس سے رسول اکرم متصف نہیں ہو سکتے ۔ اور نہ ہی ایسی وصف قران مجید میں آپ کے لئے ذکر ہوئی ہے ۔ اور نہ آپ کے دشمنوں سے ایسی کوئی خبر ملی ہے ۔
اور پھر اس آیت میں یہ صفت بیان ہوئی ہے کہ وہ امیروں کے لئے تواضع کرتا ہے اور فقیروں سے دور رہتا ہے ۔ یہ رسول اکرم کے اخلاق اور ان کی سیرت کے متشابہ نہیں ہے ۔
کہا گیا ہے کہ یہ سورة، اصحاب النبی میں سے ایک آدمی کی بارے نازل ہوئی جس سے مذکور فعل صادر ہوا۔
اگر اس آدمی کی تشخیص میں شک کریں تو ہمیں اس بات میں شک نہیں ہونا چاہئے کہ اس سے مراد رسول اکرم نہیں ہیں ۔
اس کے علاوہ بہت ساری آیات ہیں جو اہلسنت کے اس موقف کو رد کرتی ہیں ۔ جیسے اللہ فرماتا ہے ۔ ( وبالمومنین رووف رحیم ) ۔( انک لعلی خلق عظیم ) ۔( واخفض جناحک لمن اتبعک من المومنین ۔ ) ( ولقد کان فی رسول اللہ اسوة حسنة۔ )
اس کے علاوہ بہت سارے اہلسنت کے علماء نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ آیت عبس و تولی سے مراد رسول اکرم صلی اللہ علیہ و الہ ہیں ۔ کیونکہ یہ رسول اکرم کے اوصاف میں سے نہیں ہے ۔
المفسر الکبیر فخر الدین الرازی نے اپنی کتاب عصمة الانبیاء ص 137 ۔
القاضی عیاض الیحصبی نے اپنی کتاب الشفاء بتعریف حقوق المصطفی ۔ج 2 ص 161 ۔
الزرکشی نے اپنی کتاب البرھان فی علوم القران ج 2 ص 242 ۔
الصالحی الشامی نے اپنی کتاب سبل الھدی والرشاد ج 11 ص 474 پر ذکر کیا ہے ۔

24/09/2023

نص کے مقابل اجتہاد

https://alrasd11.blogspot.com/2023/09/blog-post_13.html
13/09/2023

https://alrasd11.blogspot.com/2023/09/blog-post_13.html

رسول اکرم محمد (صلى الله عليه وآله) تمام مخلوق سے افضل ہیں۔ کیا کسی کا یہ عقیدہ ہے کہ امام مھدی (عليه السلام) رسول اکرم (صلى الله عليه وآله وسلم)

https://alrasd11.blogspot.com/2023/09/blog-post_12.html
12/09/2023

https://alrasd11.blogspot.com/2023/09/blog-post_12.html

امام حسین علیہ السلام کی لاش کی پامالی ۔ سوال السلام علیکم و رحمةاللہ ۔ جب امام حسین علیہ السلام کے جسم نازنین پر گھوڑے دوڑائے گئے تو آپ زندہ تھے

https://alrasd11.blogspot.com/2023/09/blog-post_6.html
06/09/2023

https://alrasd11.blogspot.com/2023/09/blog-post_6.html

سوال السلام علیکم و رحمة اللہ ۔ امام حسین علیہ السلام یزید کے خلاف اکیلے کیوں نکلے ۔ اور اپنے پیروکاروں اور اتباع کو اس انقلاب کا حکم کیوں ...

عنوان ۔ ابتدائی انسان اور بندر سوال ۔ السلام علیکم و رحمة اللہ ۔ کیا ابتدائی انسان بندر تھا ؟ الجواب ۔  و علیکم السلام و...
06/09/2023

عنوان ۔
ابتدائی انسان اور بندر
سوال ۔
السلام علیکم و رحمة اللہ ۔ کیا ابتدائی انسان بندر تھا ؟
الجواب ۔
و علیکم السلام و رحمة اللہ ۔ انسان اور بندر کے درمیان اشتراک کا فرض کرنا انسان میں تطور اور ارتقاء کے نظریہ کا سبب بنا ہے ۔
اس نظریہ کی ابتداء بریطانیہ کے عالم تشارلز ڈاروین نے کی ۔ اس کی کتاب( اصل الانواع سے ) جو 1859 عیسوی میں چاپ ہوئی جو کہ بیالوجی کے علم کے تطور کی اساس بنی ۔اس نظریہ کی وجہ سے زندہ کائنات میں کچھ تغیرات کی تفسیر کرنے میں مدد ملی ہے ۔ لیکن یہ نظریہ اس کائنات کی اصل اور اساس کی تفسیر کرنے سے عاجز ہے ۔

کیونکہ اس ںظریہ میں فرض کیا گیا ہے کہ اس کائنات کی ابتداء ایک خلیہ سے ہوئی ۔ لیکن خود اس خلیہ کی پیدائش اور ابتداء و نشونما کی تفسیر بیان نہین کرتا ۔اور جو کچھ بھی اس کی تفسیرات کی گئیں ہین وہ صرف اور صرف فرضیات اور اندازے ہیں ان پر کوئی علمی برھان اور دلیل قائم نہین ہے ۔
مثال کے طور پہ سویسری عالم ارینیوس کہتا ہے کہ اس کائنات کا ایک ہی خلیہ ہے ۔ جس کا مصدر ایک جوھر ہے جو کائنات کی فضاء میں ازل سے موجود ہے ۔ جو بعد میں زمین کی طرف سرکتا گیا ۔ اور پھر اچانک اس میں تطور اور ارتقاء نمودار ہوا ۔ اور حیوانات و انسان اور نباتات اچانک خلق ہوئین اور تطور کے طریقہ سے یہ کائنات وجود میں ائی ۔

دوسری تفسیر لارنست ھیکل نے پیش کی وہ کہتا ہے کہ کائنات جمادات سے تطور پذیر ہوئی ۔ یعنی ماضی کے ایک وقت میں سب کچھ بے جان تھا اور پھر اس میں جان پیدا ہوئی ۔ پھر یہ خود بخود پروٹین مین تبدیل ہوئین ۔ پھر اچانک صبغیات کی طرف تبدیل ہوئی ۔ اور پھر اچانک یہ کائنات ایک خلیہ بنی جس سے حیوانات اور نباتات میں خود بخود تبدیل ہو گئی ۔
واضح ہے کہ یہ سب ایسے فرضیات اور اندازے ہین جن پر کوئی علمی شواھد اور دلیل نہین ہے ۔ اور نہ ہی کوئی علمی تجربہ موجود ہے ۔
اور بعض نے جو اس نظریہ کے ضمن میں کہا ہے کہ انواع میں تبدیلی اور انقلاب ممکن ہے ۔یعنی ایک نوع دوسری نوع میں تبدیل ہو سکتی ہے ۔ تو یہ واضح طور پہ غلط اور غیر ممکن ہے ۔ کیونکہ چڑیا کبھی بھی بلی نہین بن سکتی ۔ اور ممکن نہیں ہے کہ مچھلی گھوڑا بن جائے اور بندر انسان بن جائے ۔ کوئی ایک بھی شاہد نہین ہے جو اس بات پر دلالت کرئے کہ ایک نوع( مچھلی) مثلا دوسری نوع( گھوڑا) مین تبدیل ہو گئی ہو ۔چڑیا کی چونچ تبدیل ہو سکتی ہے لیکن وہ پھر بھی چڑیا رہے گی ۔ مچھلیاں مختلف اشکال مین پائی جائین گی لیکن پھر بھی وہ مچھلیاں ہی رہین گی ۔
اور اسی طرح ممکن ہے کہ انسان کا رنگ اور حجم قد کاٹھ تبدیل ہو جائے لیکن وہ انسانیت کے دائرے ہی نہین نکل سکتا اس کی وہی نوع انسان ہی رہے گی ۔
لذا یہ خرافات کہ انسان اور بندر کا ایک ہی جد ہے یا وہ دونوں چچازاد بھائی ہے ۔ صرف فکری انحراف اور بے تکی بات ہے جس پر کوئی علمی دلیل یا شاھد موجود نہیں ہے ۔

اس نظریہ کو اس زندہ کائنات کی نشو ونما کی کیفیت کے اعتبار سے تو قبول کرنا ممکن ہو سکتا ہے لیکن اصل حیات کے اعتبار سے قبول نہیں کیا جا سکتا ۔ ( کہ اس دنیا مین پہلی زندگی اسی طریقہ سے شروع ہوئی )
جیسا کہ انواع کے تطور اور ارتقاء میں بھی یہ نظریہ قابل قبول نہین ہے ۔لذا اس کائنات کی زندگی کی ابتداء کے متعلق دینی تفسیر سے تنازل نہیں کیا جا سکتا کہ اللہ تعالی نے اپنے ارادے سے اس دنیا میں زندگی کو رواں دوان کیا ۔ اللہ نے انسان کو خلق فرمایا اور باقی مخلوقات کو بھی خلق کیا ۔
اور یہ دینی تفسیر منطقی ہے اور عقل بھی اسے قبول کرتا ہے کیونکہ زندگی فراغ ( فارغ شیئ سے ) سے نہیں ا سکتی ۔ بلکہ ایک کامل مصدر جس مین کوئی نقص اور احتیاج نہ ہو ۔کا ہونا لازمی ہے ۔

اس دینی نظریہ سے ایک فرضی نظریہ کی وجہ سے تنازل کرنا صحیح نہین ہے جس فرضی نظریہ کی تفسیر یہ ہے کہ انسان کی ابتداء ایک خلیہ سے ہوئی جو کروڑوں سال پانی میں رہا ۔جس کے بارے یہ معلوم نہین ہے کہ وہ کہاں سے ایا ۔اور اس کو زندگی کہاں سے ملی ۔ ؟ اور ایک مردہ مادہ کیسے باقی چیزوں کو زندگی عطا کر سکتا ہے ۔ ؟ بلکہ خود یہ مادہ کہاں سے آیا ؟
لذا انسان اور بندر کے درمیان اشتراک کو ثابت کرنے کے لئے اس نطریہ پہ اعتماد نہیں کیا جا سکتا ۔ اور جو کچھ اس کے متعلق کہا گیا ہے وہ صرف فرض اور اندازہ ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ہے ۔
اور اس کائنات میں تشابہ یعنی ایک دوسرے کے ساتھ شباہت رکھنا ) ایک حقیقت ہے اور یہ بہت ساری مخلوقات مین پایا جاتا ہے ۔ لیکن اس کا اصل زندگی کی ابتداء سے کوئی تعلق نہین ہے ۔

اور نہ ہی یہ کسی ایک اصل سے کاشف ہے ۔ اس کائنات کی صفات اس کائنات کی تصنیف کرنے میں تو مددگار ہو سکتی ہین ۔ لیکن اس کی اصل کی معرفت نہیں دے سکتی کہ یہ کائنات کیسے وجود میں ائی ۔

سب سے بڑا علمی اشکال جو اس نظریہ( انسان اور بندر کے درمیان اشراک ) پر کیا گیا ہے وہ درمیانی حلقہ اور بندر سے انسان بننے کے درمیان کی مخلوق کے بارے ہے ۔ کہ وہ کہاں غائب ہے ۔ کیونکہ اصل یعنی بندر تو موجود ہے ۔ اور اس کی اخری شکل انسان بھی موجود ہے ۔ لیکن درمیانی تغیرات اور تحول والی مخلوق کہاں ہے )
کیونکہ ڈارون کے نظریہ کے مطابق تبدیلی اور انقلاب تدریجی اور نہایت آہستہ سے ہو رہا ہے اور اخر میں ایک نوع دوسری نوع میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔ اور اس کی تصدیق کے لئے لازمی ہے کہ درمیانی مخلوق یا اس کی حالت کو تلاش کیا جائے ۔ اور اس کو تلاش کرنے میں جدید علوم بھی عاجز ہیں ۔
تمام اثار قدیمہ کی کھدائی اور عظیم ھیکل پر علمی تجربات کے باجود انسان اور بندر کے درمیان افتراق اور ان دونوں کی درمیانی مخلوق اور حالت کا پتہ نہین چل سکا ۔
ابھی ماضی قریب میں ایک تحقیق میں انسان کا ایک عظیم ھیکل دریافت ہوا ہے جس کو آردی کا نام دیا گیا ہے ۔ جو کہ 4۔4 میلون ( تقریبا ساڑھے چالیس لاکھ ) سال پہلے اس دنیا مین زندہ رہا ہے ۔ جس پر تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ انسان اپنے ان اجداد سے مختلف نہین ہے جو شمبانزی( بندر کی ایک قسم ہے ) کے مشابہ تھے ۔امریکی میزگزین ساینس نے 47 مضمون نشر کئے ہیں جو کہ علم اثار کے متعلق تحقیق تھی ۔ اور سب سے پہلی تحقیق 1994 مین نشر ہوئی ۔ محققین نے کہا ہے کہ انسان اور بندر کے درمیان جو حالت مفقود ہے یعنی دونوں کا مشترک جد ان دونوں سے مختلف تھا ۔ جیسے انسان میں اس موجودہ حالت تک تطور ہوا ویسے ہی بندر میں بھی تطور ہوا ۔ اور علماء کہتے ہیں کہ ممکن ہے کہ آردی اج کے انسان کا قدیم ترین جد ہو ۔ لیکن وہ درمیانی اور مفقود حالت نہین ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ انسان اور بندر کے درمیان( اصل مشترک ایک جد ) کے بارے جو کچھ کہا گیا ہے وہ صرف ایک فرضی کہانی ہے جس پر کوئی علمی دلیل نہین ہے ۔ لذا اس کائنات کی ابتداء کے متعلق دینی نظریہ اور تفسیر سے ان فرضیات اور تخیلات کی وجہ سے تنازل نہیں کیا جا سکتا ۔
السید الطباطبائی اپنی تفسیر المیزان میں کہتے ہیں کہ انسان کی موجودہ نوع کسی اور حیوانی نوع سے ماخوذ نہیں ہے جس کو طبیعت نے دوسری نوع میں تحویل کر دیا ہو ۔ بلکہ یہ ایک نوع ہے جس کو اللہ تعالی نے خود ایجاد کیا ہے ۔
یہاں سب سے پہلے زمین و اسمان تھے جہاں انسان نہیں تھا پھر اللہ نے دو میاں بیوی خلق فرمائے جس سے انسان کا سلسلہ شروع ہوا اور اس موجودہ انسان کی نسل کا تعلق بھی اسی میاں بیوی جناب ادم اور حواء سے ہے ۔
اور علماء طبیعت نے جو نظریہ فرض کیا ہے کہ انواع دوسری انواع میں تبدیل اور تحویل ہو جاتی ہیں جیسے بندر انسان بن گیا اور مچھلی کچھ اور بن گئی تو یہ صرف فرضی اور تخیلاتی تظریہ ہے اس پر کوئی دلیل اور علمی سند نہیں ہے ۔ المیزان فی تفسیر القران ج 1 ص 64 ۔

عنوان ۔ اھلبیت علیہم السلام کی اسیری ۔ سوال ۔ السلام علیکم و رحمة اللہ ۔ کیا اھلبیت علیہم السلام واقعی اسیر ہوئے ہیں ؟ ا...
04/09/2023

عنوان ۔
اھلبیت علیہم السلام کی اسیری ۔
سوال ۔
السلام علیکم و رحمة اللہ ۔ کیا اھلبیت علیہم السلام واقعی اسیر ہوئے ہیں ؟
الجواب ۔
وعلیکم السلام و رحمة اللہ ۔ اھلبیت علیہم السلام کی اسیری کا واقعہ تاریخ کے صحیح ترین اور مشہور واقعات میں سے ہے ۔ بہت ساری کتابوں میں اس کا ذکر ہوا ہے اور بہت سارے مصنفین نے اپنی کتابوں میں اس کو لکھا ہے ۔اور کسی نے اس کا انکار بھی نہیں کیا ۔
اس واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ سنہ 61 ہجری میں کربلاء کے واقعہ کے بعد عمربن سعد کی طرف سے انعام کے لالچ میں اھلبیت علیہم السلام کو کوفہ کی طرف قیدی بنا کر لے جایا گیا ۔ پہلے اس قافلہ کو عبیداللہ بن زیاد کے دربار میں پیش کیا گیا اور پھر ان کو شام کی طرف یزید کے ہاں بھیج دیا گیا ۔
جب یہ قافلہ شام پہنچا تو اہل شام نے خوشی اور سرور کا اظہار کیا ۔ اور جب ان کو یزید کے پاس لے جایا گیا تو اس نے طعنہ دیا اور انتہائی خوشی اور شماتت کا اظہار کیا ۔
لیکن تھوڑی ہی دیر میں انقلاب برپا ہوا اور امام سجاد علیہ السلام نے خطبہ دیا اور لوگوں کو حقائق سے اگاہ فرمایا ۔
اور یزید نے اس قافلہ کو اپنے قصر کے قریب ایک خرابہ میں ٹھرایا ۔
اور جب یزید نے دیکھا کہ ان کے شام میں ٹھرنے کی وجہ سے اس کی حکومت کے امور مستقر نہیں رہ سکتے تو اس نے اس قافلہ کو مدینہ کی طرف روانہ کر دیا ۔
کتاب رحلة السبی اور کتاب مع الرکب الحسینی کا مراجعہ کریں ۔
اور باقی مصادر جن میں اس واقعہ کی گفصیل موجود ہے ان میں سے کچھ یہ ہیں ۔
1 ۔
الاخبار الطوال للدینوری ص 259 ۔ البدایہ و النہایہ ج 8 ص 212 ۔
2 ۔
انساب الاشراف للبلاذری ج 3 ص 411 ۔ العقد الفرید ابن عبد ربہ ج 4 ص 360 ۔
3 ۔
مقاتل الطالبیین ص 79 ۔ اللھوف للسید ابن طاووس ص 86 ۔
4 ۔
تاریخ الامم و الملوک ج 4 ص 353 ۔
5 ۔
الارشاد للشیخ المفید ج 2 ص 26
6 ۔
الامامة و السیاسة لابن قتیبہ الدینوری ج 2 ص 8 ۔
7 ۔
شرح الاخبار ج 3 ص 198 ۔ للقاضی النعمان المغربی ۔
8 ۔
سیر اعلام النبلاء ج 3 ص 303 للذھبی ۔
9 ۔
تاریخ مدینہ دمشق لابن عساکر ج 54 ص 226 ۔
10 ۔
کمال الدین للشیخ الصدوق ص 546 ۔
11۔
مقاتل الطالبیین ص 79 ۔
12 ۔
الامالی للشیخ الصدوق ص 229 ۔
13 ۔
الاحتجاج للطبرسی ج 2 ص 27 ۔
14 ۔
مقتل الحسین للخوارزمی ج 2 ص 105 ۔
مثیر الاحزان لابن نما الحلی ص 67 ۔
اللھوف للسید ابن طاووس ص 88 ۔

عنوان ۔ ائمة اطہار علیہم السلام کی تعداد ۔ سوال ۔ السلام علیکم و رحمة اللہ ۔ اللہ تعالی نے ائمہ اطہار کی تعداد صرف بارہ ...
29/08/2023

عنوان ۔
ائمة اطہار علیہم السلام کی تعداد ۔
سوال ۔
السلام علیکم و رحمة اللہ ۔ اللہ تعالی نے ائمہ اطہار کی تعداد صرف بارہ کیوں رکھی ۔ نہ اس سے کم ہیں اور نہ زیادہ ؟

الجواب :
وعلیکم السلام و رحمة اللہ ۔ اللہ تعالی نے مہینوں کی تعداد بارہ کیوں رکھی ہے ۔اللہ اپنی کتاب میں فرماتا ہے
(إنّ عدّة الشهور عند الله اثنا عشر شهراً في كتاب الله ۔ کتاب خدا میں مہینوں کی تعداد اللہ کے نزدیک یقینا بارہ مہینے ہے ) التوبة، 36 ؟
اللہ تعالی نے بنی اسرائیل میں بارہ نقیب کیوں قرار دئے ہیں ۔
(وبعثنا منهم اثني عشرَ نقيباً اور اللہ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ہم نے ان میں سے بارہ نقیبوں کا تقرر کیا ) المائدة، 12 ؟
اللہ تعالی نے قرآن مجید میں بارہ کے عدد پر ترکیز کیوں کی ۔ اللہ فرماتا ہے
(فانفجرت منه اثنتا عشرةَ عينا ۔ پس (پتھر پر عصا مارنے کے نتیجے میں) اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے ) البقرة،٦٠ ، (وقطّعناهم اثنتي عشرةَ أسباطاً اور ہم نے بنی اسرائیل کو بارہ قبیلوں میں تقسیم کر کے جدا جدا جماعتیں بنائیں ) الأعراف ، ١٦٠ ؟
اور اللہ نے نمازیں پانچ کیوں رکھی ہین ۔ اور صبح کی دو ۔ ظہر کی چار اور مغرب کی تین کیوں رکھیں ۔ ؟
اور اللہ نے ماہ رمضان کے روزے پورا مہینہ کیوں قرار دیا ۔اور زندگی میں حج صرف ایک بار کیوں واجب قرار دیا ۔
؟
ان سوالوں کے جواب ہمیں معلوم نہیں ہین لذا یہ اس سوال کا نقضی جواب ہے ۔

لیکن اس کے جواب میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ اللہ کی حکمت ہے کہ اسلامی رسالت کے لئے کم از کم دو سو سال کی ضرورت ہے تاکہ اس کے قوانین کا نفاذ ہو سکے ۔
اور اھلبیت علیہم السلام کے ہاں اسلامی تشریع کا زمانہ سنة 329هـ تک ہے ۔جو کہ الإمام المهدي عليه السلام کی غیبت کبری کا زمانہ ہے ۔اور اس مدت میں بارہ ائمہ اطہار نے زندگی گزاری ۔اور اسلام کی تبلیغ میں اپنے اپنے دور کو ادا کیا ۔ اور انہوں نے اس زمانے میں روایات اور معارف الدین کے ساتھ تعامل کے قوانین بیان کئے ۔ اور یہ مدت بارہ ائمہ کی طرف محتاج تھی تاکہ دین کا بیان مکمل ہو سکے ۔اور اس کی تطبیق امام زمان علیہ السلام کے ظہور کے بغیر ممکن نہیں ہے اور حکم واقعی کے بیان اور دولت عدل کے قیام کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔
اگر بارہ سے عدد کم ہو جاتا تو یہ بیان میں نقص ہوتا ۔ اور اگر ان کا عدد زیادہ ہوتا تو یہ میزان میں خلل ا جاتا ۔اور یہ اللہ کی حکمت کے خلاف ہوتا ۔کیونکہ اللہ نے ائمہ اطہار کو لوگوں کے لئے امتحان اور ایمان کا معیار قرار دیا ہے ۔

Address

Karbala'
56000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when مرکز الرصد العقائدی-اردو posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share