ندیم سلطان پوری

ندیم سلطان پوری محمدی سنی حنفی قادری رضوی نعت گوشاعر۔Muhmmadi Sunni Hanafi Qadir Razavi Naatgo Shaer

01/02/2026
01/02/2026
03/01/2026

بزم سجی ہے مولا علی کی
دھوم مچی ہے مولا علی کی

بعد عتیق و فاروق و عثماں
ذات بڑی ہے مولا علی کی

ندیم سلطان پوری

09/09/2025

*ابيات في مدح النبي صلي الله عليه و آله و سلم بمناسبة مولده الشريف* ١٤٤٧(ھ)

*طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَیُنَا*
غيبت منه الظلام

*وجب الشکر علینا*
ما بقي الدهرالقيام

*من ثنيات الوداعِ*
طلع البدر التمام

جاء فينا مقتدانا
وانعمتنا الاقتسام

مصطفیٰ محبوب ربی
ارسل الخلق الامام

وجهه بدر منير
نورت منه الظلام

وانتهي المجد عليك
كل عقل مستهام

عبدك العاصي نديم
مابقي عنده كلام

*نديم القادري السلطان فورى الهندي*

خوشی میں ڈوبا ہوا ہے جہاں مبارک ہوہے خوشبوؤں سے معطر سماں مبارک ہو تمام   اہلِ   سنن   کو   ہماری  جانب سے ولادتِ  شہِ  ...
04/09/2025

خوشی میں ڈوبا ہوا ہے جہاں مبارک ہو
ہے خوشبوؤں سے معطر سماں مبارک ہو

تمام اہلِ سنن کو ہماری جانب سے
ولادتِ شہِ کون و مکاں مبارک ہو

*ندیم سلطان پوری*

ख़ुशी में डूबा हुआ है जहां मुबारक हो
है खुशबुओं से मुअत्तर समां मुबारक हो
तमाम अहले सुनन को हमारी जानिब से
विलादते शहे कौन ओ मकॉ मुबारक हो

*नदीम सुल्तानपुरी*

*تضمین بر کلام الامام*(*صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا*)*از۔ندیم سلطان پوری* جن و انسان و ملک کرتے ہیں چرچا نور ک...
04/09/2025

*تضمین بر کلام الامام*

(*صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا*)

*از۔ندیم سلطان پوری*

جن و انسان و ملک کرتے ہیں چرچا نور کا
مدحتِ سرکار سے ہے لمحہ لمحہ نور کا
خلقتِ کونین کے لب پر ہے نغمہ نور کا
*صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا*
*صدقہ لینے نور کا آیا ہے تارا نور کا*

تیرے قدموں سے لگے جو ہے وہ ذرہ نور کا
تیرے لب سے جو بھی نکلے ہے وہ جملہ نور کا
تیرے گیسو سے جو ٹپکے ہے وہ قطرہ نور کا
*تیری نسلِ پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا*
*تو ہے عینِ نور تیرا سب گھرانہ نور کا*

چاند مکے کی زمیں پر ایک نکلا نور کا
ہر طرف کونین میں پھیلا اجالا نور کا
پڑھ رہے ہیں سب کے سب خطبہ نرالا نور کا
*باغِ طیبہ میں سہانا پھول پھولا نور کا*
*مست بو ہیں بلبلیں پڑھتی ہیں کلمہ نور کا*

تیرے در سے ہر گھڑی بہتا ہے دریا نور کا
سائلوں کے واسطے بٹتا ہے ٹکڑا نور کا
ہر زباں پر رات دن رہتا ہے نعرہ نور کا
*میں گدا تو بادشاہ بھر دے پیالہ نور کا*
*نور دن دونا ترا دے ڈال صدقہ نور کا*

آمدِ سرکار سے چھایا ہے جلوہ نور کا
بت گرے ہیں منہ کے بل ہے بول بالا نور کا
وجد میں کعبہ ہے اور ماحول سارا نور کا
*بارھویں کے چاند کا مجرا ہے سجدہ نور کا*
*بارہ برجوں سے جھکا ایک اک ستارہ نور کا*

یا رسول اللہ عطا ہو ایک خامہ نور کا
میں رقم اس سے کروں یوں مدح نامہ نور کا
تو سراپا نور ہے اور تیرا جامہ نور کا
*تاج والے دیکھ کر تیرا عمامہ نور کا*
*سر جھکاتے ہیں الٰہی بول بالا نور کا*

مظہرِ مولا جدھر انگلی اٹھاتے مہد میں
خلق کے آقا جدھر انگلی اٹھاتے مہد میں
سیدِ والا جدھر انگلی اٹھاتے مہد میں
*چاند جھک جاتا جدھر انگلی اٹھاتے مہد میں*
*کیا ہی چلتا تھا اشاروں پر کھلونا نور کا*

قدسیوں کا صف بہ صف ہے آنا جانا نور کا
ہر گھڑی دربار میں رہتا ہے میلہ نور کا
اللہ اللہ کس قدر بہتا ہے دھارا نور کا
*جو گدا دیکھو لیے جاتا ہے توڑا نور کا*
*نور کی سرکار ہے کیا اس میں توڑا نور کا*

پھول کہتے ہیں جنھیں اپنا شہِ کون و مکاں
دونوں ٹھہرے سیدانِ نوجوانانِ جناں
ہے حدیثِ سیدِ کونین کا واضح بیاں
*صاف شکلِ پاک ہے دونوں کے ملنے سے عیاں*
*خَطِّ تَوْ اَم میں لکھا ہے یہ دو ورقہ نور کا*

اے ندیم ان کی ثنا اللہ کو منظور ہے
جو ثنائے مصطفیٰ کرتا ہے وہ مشہور ہے
خانۂ قلب و جگر بھی نور سے معمور ہے
*اے رضا یہ احمد نوری کا فیضِ نور ہے*
*ہوگئی میری غزل بڑھ کر قصیدہ نور کا*

04/09/2025

*یہ جشن ہے پندرہ سو سالہ*

نورِ حق دنیا میں آیا یہ جشن ہے پندرہ سو سالہ
سب کے لب پر ہے یہی نعرہ یہ جشن ہے پندرہ سو سالہ

حور و غلماں جن و انساں گلشن گلشن کلیا کلیاں
نغمہ زن ہے ذرہ ذرہ یہ جشن ہے پندرہ سو سالہ

روز دوشنبہ صبحِ صادق آئے نبیوں کے سردار
سجدے میں ہے محراب کعبہ یہ جشن پندرہ سو سالہ

اب دور سبھی کا غم ہوگا اونچا دیں کا پرچم ہوگا
سب پائیں گے جنت کا مژدہ یہ جشن ہے پندرہ سو سالہ

خوش حالی اب گھر گھر ہوگی ان کی رحمت سب پر ہوگی
مظلوم ہو یا کوئی بیوہ یہ جشن ہے پندرہ سو سالہ

ارشادِ خدا سے مشرق،مغرب میں اور کعبے کی چھت پر
جبریل نے گاڑا ہے جھنڈا یہ جشن ہے پندرہ سو سالہ

احسن،اجمل عادت ان کی کامل،اکمل سیرت ان کی
مخلوق میں ہیں سب سے اعلیٰ یہ جشن ہے پندرہ سو سالہ

معراج انھی کو حاصل ہے اور حسن انھی کا کامل ہے
کونین میں ہے جن کا شہرہ یہ جشن ہے پندرہ سو سالہ

جن کا صدقہ کھاتے ہیں سب ٹھہرے ہیں وہی محبوب رب
بس کیجے ندیم ان کا چرچا یہ جشن ہے پندرہ سو سالہ

*ندیم سلطان پوری*

*بارہ ربیع النور کی نسبت سے امام الکلام کے بارہ اشعار پر تضمین**ازـــــ ندیم سلطان پوری*چارسو ہے دہر میں شہرت رسول اللہ ...
01/09/2025

*بارہ ربیع النور کی نسبت سے امام الکلام کے بارہ اشعار پر تضمین*

*ازـــــ ندیم سلطان پوری*

چارسو ہے دہر میں شہرت رسول اللہ کی
بلبل سدرہ کریں خدمت رسول اللہ کی
واہ واہ کیا خوب ہے عظمت رسول اللہ کی
*عرشِ حق ہے مسندِ رفعت رسول اللہ کی*
*دیکھنی ہے حشر میں عزت رسول اللہ کی*

نصب ہیں فرشِ زمیں تا عرش خیمے نور کے
جس طرف بھی دیکھیے چھاے ہیں جلوے نور کے
فضل مولا سے سجے ہیں لب پہ چرچے نور کے
*قبر میں لہرائیں گے تا حشر چشمے نور کے*
*جلوہ فرما ہوگی جب طلعت رسول اللہ کی*

شاہ دیں اعلی نسب ہیں شاہِ دیں اعلی حسب
وہ ہوے ناراض تو پھر ہوگیا ناراض رب
بڑھ گیے ظلم و ستم اور شر کشی میں حد سے جب
*کافروں پر تیغِ والا سے گری برقِ غضب*
*ابرآسا چھا گئی ہیبت رسول اللہ کی*

قاسم نعمت لقب اللہ سے ان کو ملا
ان کے لبہاے مبارک پر نہیں ہے حرفِ لا
تا ابد ان کی عطاؤں کا چلے گا سلسلہ
*لاَ وَ رَبِّ العرش جس کو جو ملا ان سے ملا*
*بٹتی ہے کونین میں نعمت رسول اللہ کی*

ان کے در سے سائلوں کو صدقہ جو جاری ہوا
زندگی بھر کے لیے کھانے کو وہ کافی ہوا
جس سے وہ راضی ہوے اس سے خدا راضی ہوا
*وہ جہنم میں گیا جو ان سے مستغنی ہوا*
*ہے خلیل اللہ کو حاجت رسول اللہ کی*

فرش تا عرشِ بریں ہے عظمت و رفعت کی دھاک
وصف جتنے ہیں سبھی عیبِ تناہی سے ہیں پاک
ذکر ان کا کیجیے یوں ہوں عدو سب جل کے خاک
*سورج الٹے پاؤں پلٹے چاند اشارے سے ہو چاک*
*اندھے نجدی دیکھ لے قدرت رسول اللہ کی*

وہ عمل کس کام کا شرعاً جو نا منظور ہو
تیرہ دل ہوجائے پیشانی سدا بے نور ہو
تیری نظروں میں اگر مختارکل مجبور ہو
*تجھ سے اور جنت سے کیا مطلب وہابی دور ہو*
*ہم رسول اللہ کے جنت رسول اللہ کی*

فضلِ ربِّ دوجہاں سے دل میں ہے ایماں کا نور
عشقِ محبوبِ خداے پاک سے ہے سینہ چور
اس لیے صبح و مسا ہے دائمی حاصل سرور
*اہل سنت کا ہے بیڑا پار اصحابِ حضور*
*نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی*

آپ آئے دہر میں ایماں ملا مولا ملا
پانچ وقتوں کی نمازوں کا حسیں تحفہ ملا
روزۂ رمضاں ملا اور خلد کا مژدہ ملا
*خاک ہو کے عشق میں آرام سے سونا ملا*
*جان کی اکسیر ہے الفت رسول اللہ کی*

دفترِ اعمال میں جو ہیں خطا کاروں کے جرم
قابلِ بخشش نہیں گرچہ گنہگاروں کے جرم
کھلنے والے ہیں جہنم کے سزاواروں کے جرم
*یارب اک ساعت میں دھل جائیں سیہ کاروں کے جرم*
*جوش میں آجائے اب رحمت رسول اللہ کی*

دست و پا و گیسوئے خم دار یکتائے حضور
محورِ شیریں سخن دندان و لبہائے حضور
بحرِ عرفانِ خداے پاک صہبائے حضور
*ہے گلِ باغِ قدس رخسارِ زیبائے حضور*
*سروِ گلزارِ قِدم قامت رسول اللہ کی*

اے ندیم ان کے کرم کا تذکرہ ہے دور دور
جن کی آمد سے جہانِ ظلم کا ٹوٹا غرور
دور ظلمت ہوگئی سب کو ملا علم و شعور
*اے رضا خود صاحبِ قرآں ہے مداحِ حضور*
*تجھ سے کب ممکن ہے پھر مدحت رسول اللہ کی*

*بارہ ربیع النور کی نسبت سے امام الکلام کے بارہ اشعار پر تضمین**از۔ندیم سلطان پوری* رحمت و نور  والا ہمارا نبی ظلمتوں می...
31/08/2025

*بارہ ربیع النور کی نسبت سے امام الکلام کے بارہ اشعار پر تضمین*

*از۔ندیم سلطان پوری*

رحمت و نور والا ہمارا نبی
ظلمتوں میں اجالا ہمارا نبی
ہر جہت سے نرالا ہمارا نبی
*"سب سے اولی و اعلی ہمارا نبی*
*سب سے بالا و والا ہمارا نبی"*

ہم غریبوں کا آقا ہمارا نبی
ہم فقیروں کا داتا ہمارا نبی
ہم اسیروں کا ماوا ہمارا نبی
*"اپنے مولی کا پیارا ہمارا نبی*
*دونوں عالم کا دولھا ہمارا نبی"*

ہادئ جن و انسان و جملہ سبل
خاتم الانبیا یعنی مولاے کل
رحمت دوجہاں باغِ وحدت کے گل
*"خلق سے اولیا اولیا سے رسل*
*اور رسولوں سے اعلیٰ ہمارا نبی"*

آپ مؤمن ہیں ہر در پہ مت جائیے
شاہ کے در سے دامن کو بھر لائیے
فخر سے ساری دنیا کو بتلائیے
*"کون دیتا ہے دینے کو منھ چاہیے"*
*دینا والا ہے سچا ہمارا نبی"*

مثلِ گل انبیا جملہ مہکا کیے
اگلے پچھلے سبھی ان کا چرچا کیے
اور چمن میں عنادل سے چہکا کیے
*"سب چمک والے اجلوں میں چمکا کیے*
*اندھے شیشوں میں چمکا ہمارا نبی"*

جس کی چوکھٹ کے دربان ہیں جبرئیل
جس سا کوئی نہیں ہے جہاں میں عدیل
فخرِ کل انبیا و دعاے خلیل
*"جس کی دو بوند ہیں کوثر و سلسبیل"*
*"ہے وہ رحمت کا دریا ہمارا نبی"*

خلق میں سب سے اعلی سمجھیے جسے
حسن میں سب سے یکتا سمجھیے جسے
دہر میں سب سے بالا سمجھیے جسے
*"سارے اونچوں میں اونچا سمجھیے جسے*
*ہے اس اونچے سے اونچا ہمارا نبی"*

بھائی بھائی ہے آپس میں ہر آدمی
درس اسلام دیتا ہے سب کو یہی
اعلیٰ حضرت نے یہ بات اونچی لکھی
*"جیسے سب کا خدا ایک ہے ویسے ہی*
*اِن کا اُن کا تمھارا ہمارا نبی"*

جس کی نظروں میں یکساں ہیں یوم اور غد
جس کی ہر بات قرآں سے ہے مستند
جس کی عظمت سے حیراں ہیں اہلِ خرد
*"جس نے مردہ دلوں کو دی عمرِ ابد*
*ہے وہ جانِ مسیحا ہمارا نبی"*

فرش تا عرش چرچا ہے جس کا وہ ہے
رتبہ نبیوں میں اعلی ہے جس کا وہ ہے
دم بہ دم ذکر اونچا ہے جس کا وہ ہے
*"لا مکاں تک اجالا ہے جس کا وہ ہے*
*ہر مکاں کا اجالا ہمارا نبی"*

مشک و عنبر کی بھینی مہک کی قسم
نجم و شمس و قمر کی چمک کی قسم
رخِ شاہ دیں کی دمک کی قسم
*"حسن کھاتا ہے جس کے نمک کی قسم*
*وہ ملیحِ دل آرا ہمارا نبی"*

اے ندیم ان کی توصیف کیجے کہ ہے
جام عشق و محبت کا پیجے کہ ہے
ہر گھڑی چین کی سانس لیجے کہ ہے
*"غمزدوں کو رضا مژدہ دیجے کہ ہے*
*بے کسوں کا سہارا ہمارا نبی"*

जश्ने मीलादे आक़ा मनाओ हुक्मे मौला है बिदअत नहीं है उन कि आमद  पे झंडे लगाओ हुकमे मौला है बिदअत नहीं है मैंने कुरआन पढ़ क...
29/08/2025

जश्ने मीलादे आक़ा मनाओ हुक्मे मौला है बिदअत नहीं है
उन कि आमद पे झंडे लगाओ हुकमे मौला है बिदअत नहीं है

मैंने कुरआन पढ़ कर ये समझा साफ़ मतलब है *फलयफ्रहू* का
फ़ज़ले मौला पे खुशियां मनाओ हुक्मे मौला है बिदअत नहीं है

*नदीम सुल्तानपुरी*

Address

Sultanpur

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ندیم سلطان پوری posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to ندیم سلطان پوری:

Share