Allama Syed Mohammad Qasim Shah Bukhari

Allama Syed Mohammad Qasim Shah Bukhari Page is dedicated for propagation of the views regarding Islamic and Sufi teachings of Allama Syed Mohammad Qasim Shah Bukhari (ra).

07/04/2026
اعلیٰ حضرتؒ کی اعلیٰ ظرفیتحریر: سیّد آصف رضا (ناربل) اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ (۱۸۵۶ء-۱۹۲...
20/08/2025

اعلیٰ حضرتؒ کی اعلیٰ ظرفی

تحریر: سیّد آصف رضا (ناربل)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ (۱۸۵۶ء-۱۹۲۱ء) بریلی شریف اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔آپ رحمۃ اللہ علیہ بیک وقت مفسر، محدّث، نعت گو شاعر اور علوم نقلیہ و عقلیہ کے ماہر عالم دین تھے۔ آپؒ نے کثرت سے فقہی مسائل اور عقائد و اعمال کی اصلاح کے لئے عربی، فارسی اور اردو زبانوں میں کتابیں تصنیف فرمائیں۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ریاضی اور فلکیات کے علاوہ سائینس کے دیگر کئی موضوعات پر اپنا نکتہ نظر پیش کیا۔آپ رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور تصانیف میں ترجمہ قرآن ”کنز الایمان“، 33 جلدوں پر مشتمل ”العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ“ (فتاویٰ رضویہ) اور نعتیہ کلام کا مجموعہ ”حدائق بخشش“ شامل ہیں۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے بریلی شریف میں ”منظر اسلام“ کے نام سے ایک جامعہ قائم فرمائی۔آپ رحمۃ اللہ علیہ کی وفات ۲۵صفر المظفّر ۱۳۴۰ھ کو ہوئی۔

مولانا سید ابو الاعلیٰ مووودی صاحب (المتوفیٰ: 1979ء) ایک خط کے جواب میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ ان الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں:
”مولانا احمد رضا خان صاحبؒ کے علم و فضل کا میرے دل میں بڑا احترام ہے۔ فی الواقع وہ علوم دینی پر بڑی وسیع نظر رکھتے تھے اور ان کی اس فضیلت کا اعتراف ان لوگوں کو بھی ہے جو اُن سے اختلاف رکھتے ہیں۔“
مکاتیبِ سید ابوالاعلیٰ مودودی، حصّہ اوّل، مرتبہ: عاصم نعمانی، ۲۰۱۳ء، صفحہ:۲۴۰)

اعلیٰ حضرت فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ ملک العلماء حضرت علامہ ظفر الدّین بہاری رحمۃ اللہ علیہ (المتوفیٰ: 1962ء) فرماتے ہیں :
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو کسی نے گالیوں سے بھرا خط لکھا۔ میں نے چند سطریں پڑھ کر اس کو علٰحیدہ رکھ دیا۔ عرض کیا کہ کسی و***ی نے اپنی شرارت کا ثبوت دیا ہے۔ ایک مرید نے اس خط کو اُٹھالیا اور پڑھنے لگے۔ خط پڑھ کر ان کو بہت رنج پہنچا، اس وقت تو خاموش رہے لیکن جب اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ مغرب کی نماز کے بعد مکان تشریف لے جانے تو حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو روک کر عرض کی:
”اس وقت جو خط میں نے پڑھا، کسی بد تمیز نے نہایت ہی کمینہ پن کو راہ دی ہے، اس میں گالیاں لکھ کر بھیجی ہیں، میری رائے ہے کہ ان پر مقدّمہ کیا جائے اور قرار واقعی سزا دلوائی جائے تاکہ دوسروں کے لئے ذریعہ عبرت و نصیحت ہو ورنہ دوسروں کو بھی ایسی جرأت ہوگی۔“
اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ یہ سن کر اندرتشریف لے گئے اور دس پندرہ خطوط دست مبارک میں لئے باہر تشریف لائے اور فرمایا: ”ان کو پڑھیے۔“
ہم لوگوں کو خیال ہوا کہ شاید اسی قسم کی گالی نامے ہوں گے جن کے پڑھوانے سے یہ مقصود ہوگا کہ اس قسم کے خط کوئی نئی بات نہیں بلکہ زمانے سے آرہے ہیں، میں اس کا عادی ہوں۔ مگر خط پڑھتے جاتے تھے اور ان صاحب کا چہرہ خوشی سے دمکتا جاتا تھا۔ آخر جب سب خط پڑھ چکے تو اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے فرمایا:
”پہلے ان تعریف کا پل باندھنے والوں کو انعام و اکرام، جاگیر و عطیات سے مالامال کر دیجئیے پھر گالی دینے والوں کو سزا دلوانے کی فکر کیجیے۔“

ان صاحب نے اپنی مجبوری و معذوری ظاہر کی اور کہا (........ چاہتا تو میں بھی ہوں کہ ان کو اتنا انعام و اکرام دے دوں ......) مگر یہ میری وسعت سے باہر ہے۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ”جب آپ مخلص کو نفع نہیں پہنچا سکتے تو مخالف کو نقصان بھی نہ پہنچائیے۔“
(حیاتِ اعلیٰ حضرتؒ، علامہ محمد ناصر الدّین ناصر ، صفحہ:384)

اے کاش! دورِ حاضر کے واعظین اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی اعلیٰ ظرفی کے اس واقعہ سے سبق حاصل کرتے اور بُرائی کا جواب بُرائی سے دینے کے بجائے وسعتِ قلبی کا مظاہرہ کرتے......!!

اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ والہانہ عقیدت رکھنے والے کچھ نام نہاد "عالم" اور "مفتی" اپنی "بد زبانی" اور "بدکلامی" کی وجہ سے اپنا ثانی نہیں رکھتے اور اس طرح وہ "فکرِ رضا" کو عوام تک پہنچانے میں سدّ راہ بنتے ہیں۔ کیا فکر رضا کے لیے کام کرنے والے علماء کرام اس جانب توجہ فرمائیں گے؟

انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
******

حضرت شیخ سیّد عبد القادر جیلانی رضي اللّٰه عنهتحریر: سیّد آصف رَضا (ناربل)حضرت محبوبِ سبحانی پیرانِ پیر محی الدّین شیخ س...
15/10/2024

حضرت شیخ سیّد عبد القادر جیلانی رضي اللّٰه عنه

تحریر: سیّد آصف رَضا (ناربل)

حضرت محبوبِ سبحانی پیرانِ پیر محی الدّین شیخ سیّد عبد القادر جیلانی رضي اللّٰه عنه (یکم رمضان ۴۷۰ھ ۔ ۱۱ ربیع الثانی ۵۶۱ھ) بمقام گیلان پیدا ہوئے۔……….. اُس دور میں (بغداد میں) مسلمانوں کی مذہبی حالت بھی ناگفتہ بہ تھی اور سیاسی حالات بھی مسلمانوں کے موافق نہیں تھے۔ علماء اپنا فرضِ منصبی بھول کر اور دعوت و اصلاح کو چھوڑ کر درباری مولوی بننے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ حکمران طبقہ بھی عیش پرستی کی ساری حدیں پار کر رہے تھے۔(الا ماشاء اللہ)۔......
آپؒ اہلِ بغداد کو خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”جناب رسول اللہ ﷺ کے دین کی دیواریں پے در پے گر رہی ہیں اور اس کی بنیادیں بکھری جاتی ہیں۔ اے باشندگانِ زمین! آو، اور جو گِر گیا ہے اس کو مضبوط کرلیں اور جو ڈھا گیاہے اس کو پھر دُرست کرلیں۔“
(سیرت مقدسہ سید الاولیاء شیخ سید عبد القادر جیلانی ؒ، صفحہ: 15)
امیر شریعت علامہ سید محمد قاسم شاہ بخاری صاحب رحمۃ اللہ علیہ216 صفحات پر مشتمل اپنی تصنیف ”سیرت مقدسہ سید الاولیاء حضرت شیخ سید عبد القادر جیلانیؒ“ میں تحریر فرماتے ہیں:
”حضرت شیخ سید عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ سے لوگوں نے پوچھا کہ آپؒ کو ”محی الدّین“ کیوں کہتے ہیں؟ آپؒ نے جواباً فرمایا: ۵۱۱ہجری میں، میں بیت المقدس کی سیر و سیاحت کرتا ہوا بغداد واپس آیا تو اس وقت میں نے ایک نہایت ہی کمزور، نحیف البدن اور زرد رو مریض کو دیکھا۔ اس نے مجھے سلام کیا اور کہا کہ مجھے اُٹھاکر بٹھا دو۔ میں سلام کا جواب دے کر اُسے اُٹھا کر بٹھا لیا تووہ فوراً موٹا، تازہ اور خوش ہو گیا۔ پھر اس نے میری طرف مخاطب ہو کر کہا: تم جانتے ہو میں کون ہو؟ میں نے کہا: نہیں! اُس نے کہا میں دینِ اسلام ہوں ، میں نہایت کمزور اور قریب المرگ ہو گیا تھا، اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہارے طفیل پھر تنومند اور سر نَو زندہ کیا۔“
(سیرت مقدسہ سید الاولیاء شیخ سید عبد القادر جیلانی ؒ، صفحہ: 33)
حضرت سيدنا غوثِ پاک رضی اللہ عنہ کے بلند کردار اور تقویٰ کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت علامہ بخاریؒ رقمطراز ہیں:
اللّٰه رب العزت کی عبادت و معرفت میں آپ رضی اللہ عنہ اتنے مست اور پیوست ہو چکے تھے کہ سلطان سنجر ملک شاہ نے ایک دن آپؒ کے نام ایک خصوصی پیغام بھیجا کہ جس میں آپؒ سے اپنے ملک میں آنے کی استدعا کی اور وعدہ کیا کہ اگر آپؒ میرے ملک میں آئیں گے تو نصف ملک کی بادشاہی آپؒ کو بخشش میں دوں گا۔
اے دُنیا کے طلبگارو! اے متاعِ دین بیچنے والو!! آو، اور دیکھو اس پیر کامل رضی اللہ عنہ نے سُلطان مذکور کو اس پیشکش کے جواب میں کیا فرمایا، پھر اس جواب پر غور کرو اور بتاو کیا تُو واقعتاً اس قابل ہے کہ تجھ کو قادریُ النسب یا قادریُ النسبت کہا جائے؟ ...... آہ! ......... مروی ہے کہ پیر کامل رضی اللہ عنہ نے اس درخواست کے جواب میں ملک شاہ سنجر کو ایک رُباعی فارسی زبان میں بھیجی ۔.............
چوں چتر شاہی رُخ بخستم سیاہ باد
درِ دِل بود اگر ہوس ملک سنجرم
زنگہ کہ یافتم خبر از ملکِ نیم شب
بہ نیم جَو نمی خرم ملک سنجرم
ترجمہ: اگر میرے دل میں ملک سنجر کی بادشاہی کی ہوس ہو تو تیرے تاج شاہی کی طرح میرا بخت بھی سیاہ ہو۔ جب سے مجھ پر آدھی رات کی عبادت و ریاضت کا راز اور مرتبہ کھُل گیا تو اس کے نصف دانہ جَو کے عوض میں بھی تجھ سے ملک سنجر کی بادشاہی خریدنے کے لئے تیار نہیں ہوں کیونکہ میری بادشاہی باقی ہے اور تیری شاہی فانی اور زوال پذیر ہے۔ وہ کون ہوگا جو بقاء کے عوض فنا خریدے؟“
(سیرت مقدسہ سید الاولیاء شیخ سید عبد القادر جیلانی ؒ، صفحہ: 34)
ہمارے جاہ طلب اور موقعہ پرست "لوگوں" اور اُن کی ہاں میں ہاں ملانے والے ”عالموں“ کے لئے درسِ عبرت ہے.........!!
*******

علماءِ دیوبند اگر کشمیر کی محافلِ میلاد دیکھتے....!!تحریر : سیّد آصف رضا (ناربل) امیر شریعت علامہ سید محمد قاسم شاہ بخار...
11/09/2024

علماءِ دیوبند اگر کشمیر کی محافلِ میلاد دیکھتے....!!
تحریر : سیّد آصف رضا (ناربل)
امیر شریعت علامہ سید محمد قاسم شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا شمار جموں و کشمیر کے اُن مایہ ناز علماء میں ہوتا ہے جن کے علم و فضل کا ہر کوئی قائل ہے۔ آپؒ نے جن اساتذہ سے اکتسابِ فیض کیا ہے اُن میں حضرت علامہ عبد الکبیر رینہ صاحب کشمیری (بمقامِ امرتسر) اور مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب دہلوی صاحب (بمقام دہلی) شامل ہیں۔ 14 سال تحصیل علم کے بعد واردِ کشمیر ہوئے۔ ..........
مولانا شوکت حسین کینگ صاحب نے آپ رحمۃ اللہ علیہ کی سیرت پر "سیرۃ البخاری" نامی 1300 صفحات پر مشتمل کتاب تالیف کی ہے.
اس کتاب میں آپ رقمطراز ہیں:
(علامہ بخاری صاحبؒ نے) فرمایا:
”بعض علماءِ دیوبند نے مجالسِ و میلاد النبی ﷺ کی جو مخالفت کی ہے اس کا ایک خاص سبب ہے۔ اگر جناب (مولانا اشرف علی) تھانوی صاحب اور باقی علماءِ دیوبنداُن مجالس و محافلِ میلاد کو دیکھتے جو ہم لوگ یہاں (کشمیر میں) منعقد کرتے ہیں تو سال بھر مجالسِ میلاد کا انعقاد کرتے رہتے۔“
(سیرۃ البخاریؒ؛ صفحہ ۴۲۳)
اے کاش! اِس بات کو دورِ حاضر کے مفتیان اور واعظین بھی سمجھنے کی کوشش کرتے تو مسلمانانِ کشمیر کے درمیان روز بروز دوریاں نہ بڑھتیں اور ہم یوں تقسیم در تقسیم نہ ہوتے!!!

علامہ تھانوی کا اعتکاف..... نسبت کی بناء پر! تحریر: سید آصف رَضا (ناربل)”1965ء میں حضرت امیر شریعت علامہ سید محمد قاسم ش...
03/09/2024

علامہ تھانوی کا اعتکاف..... نسبت کی بناء پر!

تحریر: سید آصف رَضا (ناربل)

”1965ء میں حضرت امیر شریعت علامہ سید محمد قاسم شاہ بخاریؒ (2000ء - 1910ء) سفرِ محمود پر روانہ ہوئے۔ جہاز میں گجرات کے عالم دین سے متعارف ہوئے۔ اُس عالم دین نے مکّہ معظمہ میں قائم مدرسہ صولتیہ کے مہتمم مولانا محمد سلیم صاحب کیرانوی مکی اور اُن کے رفقاء سے علامہ بخاریؒ کا تذکرہ کیاکہ مولانا کفایت اللہ دہلوی صاحب کے ایک کشمیری شاگرد حج پر آئے ہیں۔ مولانا کیرانوی نے علامہ بخاریؒ کو اپنے مدرسہ میں مدعو کیا اور آپؒ کا پُرتپاک استقبال کیا۔ حضرت قبلہ بخاری صاحبؒ نے فرمایا: کہ حضرت مولانا کیرانوی صاحب نے مجھے مسجد شریف مدرسہ صولتیہ کا وہ مقام دکھایا جہاں علامہ تھانوی صاحب نے کامل چھ مہینے اعتکاف کیا تھا محض اس وجہ سے کہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ نے اس مسجد میں قیام فرمایا تھا اور عبادت کی تھی۔.......... علامہ تھانوی صاحب کے متعلق علامہ بخاری صاحبؒ یہ انکشاف سن کر حیران ہوئے کہ مسجد شریف دراصل مسجدِ حرام کے جوار میں واقع ہے۔ لیکن محض نسبت کی وجہ سے علامہ تھانوی صاحب نے اس مقام کا انتخاب کیا۔“
حضرت علامہ بخاریؒ اس واقعہ پر یوں تبصرہ فرماتے ہیں:
”اس ایک واقعہ کے سُننے سے تصورِ شیخ، انوارِ شیخ، رابطہ مُرشد، نسبت، بیعت و ارادت وغیرہ سب مسائل ذہن میں آئے۔“
(سیرۃ البخاری، صفحہ 828)
گو کہ حضرت علامہ رحمہ اللہ کے تبصرہ کے بعد مذید کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں، لیکن ایک بات قابل توجہ ہے کہ اکابرین بزرگوں اور اپنے پیر و مرشد کے ساتھ نسبت کی بناء پر اشیاء اور اماکن کی تعظیم کرتے ہیں، جبکہ دور حاضر کے کچھ اپنے آپ کو عالم کہلوانے والے ایسی باتوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور اس طرح تصوف اور روحانیت (مادیت کے اس دور میں جس کی اشد ضرورت ہے) سے نسلِ نو کو متنفر کرتے ہیں۔
ہے نا لمحۂ فکریہ!

24/08/2024

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں "میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور یہ فرماتے سنا : (اے کعبہ!) تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے، تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کی جان ہے! مومن کے جان و مال کی حرمت الله کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے اور ہمیں مومن کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہیے"
ابن ماجہ، کتاب الفتن، رقم 3932
طبرانی، مسند الشامین، رقم 1568
منذری، الترغيب والترهيب، رقم 3679

19/08/2024

کبھی تنہائی کوہ و دمن عشق
کبھی سوز و سرور و انجمن عشق
کبھی سرمایہ محراب و منبر
کبھی مولا علیؑ خیبر شکن عشق!

28/07/2024

تبلیغ بے اثرکیوں؟

تحریر: سیّد آصف رضا (ناربل)

علمائے کرام دین کے پیشوا اور قوم کے مقتدا ہوتے ہیں جو عامۃ المسلمین کو اللہ کے دین کے ساتھ جوڑنے کا کام کرتے ہیں۔ خود بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات پر عمل کرتے ہیں اور دوسروںتک بھی دین پہنچانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔حکیمانہ انداز اپناتے ہوئے لوگوں کو صراطِ مستقیم پر چلنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ قرآن مقدّس میں علماء کرام کی شان اس طرح بیان فرمائی گئی ہے:
اِنَّمَا يَخْشَی اﷲَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا ط (الفاطر، 35/ 28)
”بس اﷲ کے بندوں میں سے اس سے وہی ڈرتے ہیں جو (ان حقائق کا بصیرت کے ساتھ) علم رکھنے والے ہیں۔“
اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں علامہ پیر کرم شاہ صاحب ازہری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:
”............سیدنا علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کا یہ ارشاد گرامی آب زر سے لکھنے کے قابل ہے : ” ان الفقیہ حق الفقیہ من لم یقنط النّاس من رحمۃ اللّٰہ ولم یرخص لہم فی معاصی اللّٰہ تعالیٰ ولم یؤمنہم من عذاب اللّٰہ تعالیٰ ولم یدع القرآن رغبتہ عنہ الی غیرہ “۔ ترجمہ : یعنی صحیح معنوں میں فقیہہ اور عالم وہ ہے جو لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ کرے اور خدا کی نافرمانی پر انھیں جری نہ کرے۔ خدا کے عذاب سے انھیں بےخوف نہ کر دے اور قرآن کے بغیر اسے کوئی چیز اپنی طرف راغب نہ کرسکے۔ (قرطبی)“ (تفسیر ضیاء القرآن، ج۴، ص ۱۵۵)
دورِ حاضر میں اکثر مساجد میں ایسے مبلغین تبلیغ کا فریضہ انجام دے رہے ہیں جن کا کام صرف یہ رہ گیا ہے کہ کس طرح اختلافی مسائل کو اجاگر کرکے مسلمانوں کی وحدت کو پارہ پارہ کیا جائے۔ مگراس کے باوجود علماء کرام اور مبلغین کی ایک حوصلہ افزاء تعداد ایسی بھی ہے جو اتحاد و اتفاق کا درس دے رہے ہیں اور جو حقیقی معنوں میں ملّت کا درد اپنے قلوب میں سمیٹے ہوئے ہیں۔ کشمیر کی بات کریں تو یہاں ہر محلے میں کسی نہ کسی مکتبہ فکر کی ترجمان اور زیر انتظام ایک جامع مسجد ضرور ملے گی جہاں سے مسلمانوں کو قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ٹی وی ، ریڈیو ، اخبارات اور سوشل میڈیا پر بھی تعلیماتِ اسلام کی نشر و اشاعت کا کام کیا جا رہاہے۔ .......... اُمید کی جانے چاہے تھی کہ اس تبلیغ کا خاطر خواہ نتیجہ نکلے اور مسلمان دین کی طرف زیادہ سے زیادہ راغب ہوں اور مذہبی اجتماعات و تقریبات میں شرکت کرنے والوں اور نہ کرنے والوں میں واضح فرق ہو۔ لیکن، ارد گرد کے ماحول پر نظر ڈالیں تو مایوسی ہوتی ہے کہ ....نمازیوں سے زیادہ تعداد بے نمازیوں کی ہے، ایمانداروں سے زیادہ ہمارا سابقہ بے ایمانوں کے ساتھ پڑتا ہے۔ کام چوری، رشوت، ڈرگس وغیرہ عام سی بات ہو رہی ہے۔
واعظین ہمیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری پر ملنے والے اُخروی کامیابی کی بشارتیں سناتے ہیں اور نافرمانی کرنے پر وعیدیں بھی گوش گزار کرتے ہیں لیکن پھر بھی اس سب کا اثر دلوں پر نہیں ہوتا اور جو کچھ سُنا ،مسجد یا مجلس سے باہر نکلنے سے پہلے ہی پوری امانتداری کے ساتھ وہی پر چھوڑ دیتے ہیں۔یعنی جس بے حسی کے عالم میں اندر آئے تھے اسی بےحسی میں واپس بھی جاتے ہیں۔ (الاماشاء اللہ)
ایسے میں باشعور انسان سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ مبلغین کی تبلیغ بے اثر کیوں ہو گئی ہے؟ امیر شریعت علامہ سید محمد قاسم شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ اس سوال کا جواب اپنے انداز میں اس طرح دیتے ہیں جو ہم سب کے لئے عمومًا اور ہمارے مبلغین اور واعظین کے لئے خصوصًا قابل غور ہے:
”...... اس سوال کا جواب ہمارے پاس یہ ہے کہ حقیقت میں عامۃُ النّاس کے دلوں پر وہ تبلیغ اثر ڈالتی ہے جو حرص ، طمع ، مکر، فریب، ریا اور اقتدار کی ہوسوں سے پاک ہواور اس میں اپنی شہرت و عظمت کا بھی خیال نہ ہو، بلکہ تبلیغِ دین صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی اور خلوصِ نیت سے کی جائے، اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر ایک فرض سمجھ کر انجام دیا جائے۔ اس طریقہ کی تبلیغ سلفِ صالحین کیا کرتے تھے، اب ایسے واعظین و مبلغین کہاں؟ و این من المشتاق عنقاءُ مغرب۔ لہٰذا ہم ....... مبلغین کرام سے با ادب عرض کرتے ہیں کہ للہ اس طرح تبلیغِ دین فرمائیں کہ کم از کم عوام الناس کے قلوب پر اس کا کچھ اچھا اثر پڑے اور عامۃ المسلمین حق و باطل ، سچ و جھوٹ کے درمیان فرق کرنا جائیں۔ ورنہ موجودہ تبلیغ کا اثر چھلنی میں پانی لانے کے برابر ہے _________ اور اس وقت دینداروں اور بے دینوں، نیکوں اور بدوں میں حقیقی فرق دکھائی نہیں دیتا۔ یہ اور بات ہے کہ کچھ لوگ جہالت و نادانی کے سبب اپنے آپ کو حق پر جانیں، مگر جانگداز واقعات ضرور موجود ہیں ..... لیکن کیا کیجیے ؎
چوں از قومی یکے بیدانشی کرد
نہ کہ را منزلت ماند نہ مہ را“
(سعدیؒؔ)
ترجمہ: جب کسی قوم کا کوئی فرد کوئی غیر دانشمندانہ کام کرتا ہے تو اس قوم کا کوئی بھی چھوٹا ہو یا بڑا، (دوسروں کی نظروں میں) باعزت مقام حاصل نہیں کر سکتا۔
(اداریہ، ماہنامہ ”التبلیغ“ باپتِ جولائی ۱۹۶۴ء)

ہمارے بعض مبلغین (بلا لحاظِ مسلک و مکتبہ فکر) کچھ اس طرح سے منبروں سے تبلیغ کرتے ہیں جس سےتفرقہ پھیلاتا ہے اور مسلمانوں میں رنجشیں پیدا ہوتی ہیں۔ ایسے حالات میںہمارے اربابِ دانش کو بالغ نظری کا ثبوت دے کر مبلغین کو ایسی تبلیغ سے روکنا چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ اعتدال پسند علماء کو سامنے آنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ وقت رہتے اس تفرقہ بازی کی بیخ کُنی ہو سکے۔

شاید کہ اُتر جائے تیرے دل میں میری بات

Address

Srinagar
190001

Telephone

+919796525191

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Allama Syed Mohammad Qasim Shah Bukhari posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Allama Syed Mohammad Qasim Shah Bukhari:

Share