26/08/2026
*صد بار مبارک!
*اے سپوتِ دیوبند، اے فخرِ کشمیر، حافظِ بخاری شریف*
بسم اللہ الرحمن الرحیم
چند روز قبل عزیزم حضرت مولانا مفتی محمد ارشاد صاحب قاسمی حفظہ اللہ تعالیٰ، استاذِ *محترم،نے عزیزم حضرت مولانا مفتی شوکت احمد قاسمی شوپیانی حفظہ اللہ تعالیٰ*
کا بحیثیت حافظِ بخاری شریف ایسا ایمان افروز اور چشم کشا تعارف کرایا کہ میں حیرت و مسرت کے عالم میں انہیں دیکھتا رہا، دونوں حضرات کی گفتگو ہمہ تن گوش ہو کر سنتا رہا، اور بے اختیار میری زبان پر یہ کلمات جاری تھے:
الحمد للہ، ما شاء اللہ، اللہ اکبر۔
*اور دل ہی دل میں یہی گنگناتا رہا:
"چشمِ بد دور، چشمِ بد دور!"*
جب اس پر بھی دل کو تسلی نہ ہوئی تو میں نے فوراً مفتی محمد ارشاد صاحب سے فون پر رابطہ کیا، پھر اپنے رفیقِ دیرینہ، *محترم حضرت مولانا مفتی الحاج مظفر حسین قاسمی* مخدومی حفظہ اللہ تعالیٰ، شیخ الحدیث دارالعلوم سوپور، کو مبارکباد پیش کی اور اپنے قلبی جذبات کا اظہار کیا۔
اسی مختصر تعارف کے دوران بے اختیار میرے قلم سے حضرت* مولانا مفتی شوکت احمد قاسمی صاحب کے لیے "فخرِ کشمیر" کا لقب نکلا۔ اللہ تعالیٰ اس لقب کی لاج رکھے، انہیں صحیح بخاری کا مکمل دور اور اس کی تکمیل نصیب فرمائے، اور ان کی اس عظیم سعادت کو قبولیت و دوام عطا فرمائے۔ آمین۔
یہ خبر میرے لیے انتہائی باعثِ مسرت تھی، بلکہ ایسی خوشی پر خوش ہونا بھی چاہیے، کیونکہ یہ محض ایک شخص کی کامیابی نہیں بلکہ علمِ حدیث، علمائے کرام اور پورے کشمیر کے لیے اعزاز کی بات ہے۔
*ادھر عزیزم مولانا مفتی عادل مصطفیٰ قاسمی شوپیانی(مہتمم دارالسلام چھوٹی پورہ شوپیان)* نے اسی موضوع پر ایک علمی، تحقیقی، مختصر مگر جامع مضمون تحریر فرمایا، جسے میں نے نہایت پسند کیا اور مختلف علمی گروپس اور متعدد اہلِ علم، علماء و فضلاء کی خدمت میں بھی ارسال کیا۔
بعد ازاں عزیزم کا تقاضا تھا کہ میں بھی اس موضوع پر چند سطور لکھوں، تو لیجیے، حاضر ہے۔
*صحیح بخاری کا مکمل نام:*
"الجامع الصحیح المسند من حدیث رسول اللہ ﷺ وسننہ وأیامہ"
ہے۔
اس کتابِ مستطاب کی ترتیب و تدوین میں حضرت امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ایسی بے مثال ریاضت اور احتیاط فرمائی جس کی نظیر تاریخِ علم میں کم ہی ملتی ہے۔
منقول ہے کہ جب آپ کسی حدیث کو اپنی کتاب میں درج کرنے کا ارادہ فرماتے تو پہلے غسل کرتے، پھر دو رکعت نماز بنیتِ استخارہ ادا فرماتے، اس کے بعد جب سند اور متن کے بارے میں کامل اطمینان حاصل ہوتا، تب اسے کتاب میں درج فرماتے۔ پوری کتاب کی تدوین میں یہی اہتمام جاری رہا۔
اسی غیر معمولی احتیاط کے پیشِ نظر بعض اہلِ علم نے یہاں تک فرمایا:
"کان البخاری فی جمعہ تلقی من المصطفی مااکتسبہ"
حضرت امام بخاری رحمہ اللہ سے اس مبارک کتاب کو براہِ راست تقریباً نوے ہزار (90,000) علماء نے سنا، پڑھا اور روایت کیا۔
صحیح بخاری کی تصنیف میں تقریباً سولہ (16) سال صرف ہوئے۔ آپ نے تقریباً تئیس (23) سال کی عمر میں اس عظیم کام کا آغاز فرمایا۔ اس کتاب کے بڑے حصے کو بیت اللہ شریف کے سامنے، مسجد الحرام میں، اور مسجد نبوی کے قریب، روضۂ اطہر اور منبرِ رسول ﷺ کے قرب میں مرتب فرمایا۔ سبحان اللہ!
حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کے پاس تقریباً چھ لاکھ (600,000) احادیث محفوظ تھیں، جن میں سے انتخاب کر کے صرف 9,082 احادیث کو اس عظیم کتاب میں شامل فرمایا۔
صحیح بخاری ہمارے تمام بڑے دینی اداروں میں علمِ حدیث کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ عربی، فارسی، اردو اور دنیا کی متعدد زبانوں میں اس کے تراجم، شروح، تعلیقات اور حواشی پر بلا مبالغہ سینکڑوں کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔
حفاظِ بخاری کا تذکرہ ہماری علمی تاریخ میں بھی محفوظ ہے۔
حضرت مولانا عبدالحئی صاحب، سابق ناظم ندوۃ العلماء، نے اپنی کتاب "یادِ ایام" میں حضرت مولانا عبدالملک عباسی رحمہ اللہ کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ صحیح بخاری کے لفظاً و معناً حافظ تھے اور بخاری شریف کا درس بھی زبانی دیا کرتے تھے، یعنی قرآنِ کریم کے حافظ ہونے کے ساتھ ساتھ صحیح بخاری کے سند و متن اور معانی و مفاہیم پر بھی مکمل عبور رکھتے تھے، حتیٰ کہ بغیر کتاب دیکھے اس کا درس دیتے تھے۔
اسی طرح مولانا محمد حنیف گنگوہی رحمہ اللہ نے اپنی مستند کتاب "ظفر المحصلین باحوال المصنفین" میں امام الہند حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ کے خاص شاگرد حضرت مولانا ابو سعید ظہور الحق رحمہ اللہ کے بارے میں نقل کیا ہے کہ وہ صحیح بخاری، صحیح مسلم کے علاوہ حصن حصین کےبھی حافظ تھے۔ اس کا ذکر مولانا عبدالغنی الندوی رحمہ اللہ نے اپنے ایک مقالے میں بھی کیا ہے جو ماہنامہ "معارف" (مئی 1929ء) میں شائع ہوا تھا۔
چند روز قبل عزیزم حضرت مولانا مفتی شوکت احمد قاسمی صاحب کے متعلق یہ نہایت ایمان افروز، مسرت انگیز اور باعثِ فخر خبر ملی کہ وہ بھی صحیح بخاری کے حافظ بننے کی سعادت سے سرفراز ہونے والے ہیں۔ چند اجزاء کی تکمیل باقی ہے، اس کے بعد وہ مکمل دور بھی کریں گے۔
یہ عظیم سعادت یقیناً خود مفتی صاحب کے لیے، ان کے والدین کے لیے، ان کے پورے خاندان کے لیے، ان کے اساتذۂ کرام کے لیے، ان تمام اداروں کے لیے جہاں انہوں نے تعلیم حاصل کی، اور پورے ضلع شوپیان بلکہ کشمیر کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔
وہ ایک فاضلِ دیوبند ہیں، اس لیے پوری قاسمی برادری کے لیے بالخصوص یہ سعادت صد بار مبارک ہے۔
الحمد للہ! ہم سب کی طرف سے اس سپوتِ دیوبند، اس فرزندِ کشمیر، اس فخرِ ملت اور اس فخرِ کشمیر کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ انہیں علم، عمل، اخلاص، قبولیت، عافیت اور مزید علمی و دینی خدمات کی توفیق عطا فرمائے، صحیح بخاری کی تکمیل کو شرفِ قبولیت بخشے، اور انہیں امت کے لیے باعثِ خیر و برکت بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کا دینی بھائی
*(حضرت مولانا ومفتی الحاج )سید محمد اسحاق* نازکی قاسمی نازکی صاحب *
غفر اللہ لہ ولوالدیہ وللمسلمین