Kashmiri Ulama / کشمیری علماء

Kashmiri Ulama / کشمیری علماء Asalamu alikum...we are working to deliver you best quality bayanat of renowed Scholars of the World
(1)

*Only a few seats are left.* Online Arabic language course for males, Batch 14. Limited seats. For registration, contact...
17/04/2026

*Only a few seats are left.* Online Arabic language course for males, Batch 14. Limited seats. For registration, contact 6005687752 via WhatsApp.

08/04/2026
اپنے بھائیوں اور بہنوں کے نام چند ضروری گزارشات۱: رمضان کے بقیہ ایامرمضان کے یہ آخری ایام دراصل انسان کے لیے ایک فیصلہ ک...
19/03/2026

اپنے بھائیوں اور بہنوں کے نام چند ضروری گزارشات

۱: رمضان کے بقیہ ایام
رمضان کے یہ آخری ایام دراصل انسان کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ وہ لمحے ہیں جن میں بندہ اگر چاہے تو اپنے ماضی کی ساری کوتاہیوں پر ندامت کے آنسو بہا کر اپنے رب سے ایسا تعلق قائم کر سکتا ہے جو اس کی پوری زندگی کا رخ بدل دے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم نے رمضان کو بھی ایک معمول بنا لیا ہے کچھ عبادات، کچھ معمولات، اور پھر دل کی دنیا جوں کی توں۔ یہ طرزِ عمل درحقیقت خود فریبی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ توبہ صرف زبان کے الفاظ کا نام نہیں، بلکہ یہ دل کے ٹوٹنے، گناہ سے نفرت پیدا ہونے اور آئندہ کے لیے پختہ ارادے کا نام ہے۔ اگر انسان گناہ کرتا رہے اور ساتھ ساتھ "استغفار" بھی پڑھتا رہے، تو یہ توبہ نہیں بلکہ اپنے نفس کو دھوکہ دینا ہے۔آج کے دور میں گناہ کی صورتیں نہایت باریک اور پوشیدہ ہو گئی ہیں۔ موبائل فون، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ نے گناہ کو انسان کے ہاتھ میں دے دیا ہے۔ اب نہ کوئی دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے، نہ کسی محفل میں جانا پڑتا ہے، بلکہ تنہائی میں بیٹھ کر انسان ایسے ایسے گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہے جن کا تصور بھی پہلے مشکل تھا۔ اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ان گناہوں کو معمولی سمجھ لیا گیا ہے۔حالانکہ تنہائی کا گناہ انسان کے باطن کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ یہ وہ زہر ہے جو آہستہ آہستہ دل سے حیا، خوفِ خدا اور ندامت کی کیفیت کو ختم کر دیتا ہے۔ اس لیے اس مرحلے پر سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ انسان اپنے آپ سے سچا محاسبہ کرے اپنی نگاہوں کا، اپنے وقت کا، اپنے موبائل کے استعمال کا، اپنی تنہائیوں کا۔ اور جو چیز اسے اللہ سے دور کر رہی ہو، اسے کاٹ کر پھینک دے، چاہے وہ کتنی ہی محبوب کیوں نہ ہو۔ یہی حقیقی توبہ ہے، اور یہی رمضان کا حاصل ہے۔

۲: رمضان کے بعد کی زندگی
رمضان کا اصل امتحان اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔ یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ جو تبدیلی رمضان میں پیدا ہوئی، کیا وہ باقی رہتی ہے یا چند دنوں میں ختم ہو جاتی ہے۔ اگر عبادات کا ذوق، گناہوں سے نفرت، اور اللہ کی طرف رجوع رمضان کے بعد باقی نہ رہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ رمضان نے ہمیں چھوا تو ضرور، لیکن بدلا نہیں۔دین میں اصل چیز استقامت ہے، نہ کہ وقتی جوش۔ لیکن اس استقامت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ انسان کا ماحول ہوتا ہے۔ خصوصاً عصری علوم سے وابستہ طلبہ و طالبات ایک ایسے ماحول میں رہتے ہیں جہاں بے پردگی، اختلاط، آزاد خیالی اور دین سے بے اعتنائی کو معمول بلکہ خوبی سمجھا جاتا ہے۔یہاں ایک بہت بڑا مغالطہ پایا جاتا ہے کہ "یہ سب تو تعلیم کا حصہ ہے" یا "یہ مجبوری ہے"۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بہت سی چیزیں مجبوری نہیں بلکہ آہستہ آہستہ اختیار کی گئی سہولتیں ہیں، جنہیں انسان نے خود اپنے لیے جائز سمجھ لیا ہے۔اختلاط اسی کی ایک واضح مثال ہے۔ ابتدا میں یہ صرف رسمی گفتگو ہوتی ہے، پھر مانوسیت پیدا ہوتی ہے، پھر دلوں میں میلان پیدا ہوتا ہے، اور پھر وہی تعلقات ایسے مرحلے میں داخل ہو جاتے ہیں جہاں سے واپسی مشکل ہو جاتی ہے۔ یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوتا بلکہ تدریج کے ساتھ ہوتا ہے، اور یہی اس کا سب سے بڑا فتنہ ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ انسان ابتدا ہی سے حدود قائم کرے، اپنے دائرے کو پہچانے، اور ایسے ماحول میں بھی اپنے دین کی حفاظت کو مقدم رکھے۔ جو شخص اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے کچھ چیزوں سے پیچھے ہٹ جاتا ہے، حقیقت میں وہی کامیاب ہے، نہ کہ وہ جو ہر چیز میں شامل ہو کر خود کو "ماڈرن" ثابت کرتا ہے۔

۳: صحبت، رہنمائی اور سوشل میڈیا کا فکری فتنہ
انسان کی اصلاح کا ایک بنیادی ذریعہ صحبت ہے، لیکن اس دور میں اس کا مفہوم بری طرح مسخ ہو چکا ہے۔ سوشل میڈیا نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں ہر شخص بول رہا ہے، ہر شخص سمجھا رہا ہے، اور ہر شخص خود کو رہنما کے طور پر پیش کر رہا ہے۔عام آدمی کے لیے یہ پہچاننا مشکل ہو گیا ہے کہ کون صحیح ہے اور کون غلط۔ خوبصورت اندازِ بیان، جذباتی لہجہ، اور دلکش گفتگو یہ سب سچائی کی دلیل نہیں ہوتے، بلکہ بعض اوقات یہی چیزیں گمراہی کو زیادہ پرکشش بنا دیتی ہیں۔یہ ایک بڑی غلط فہمی ہے کہ ویڈیوز دیکھ لینا یا بیانات سن لینا ہی صحبت ہے۔ حقیقی صحبت وہ ہے جس میں انسان کسی مستند، متبعِ سنت اور صاحبِ علم شخص سے جڑتا ہے، اس کے سامنے اپنے مسائل رکھتا ہے، اور اس کی نگرانی میں اپنی اصلاح کرتا ہے۔سوشل میڈیا کا ایک اور بڑا فتنہ یہ ہے کہ اس نے انسان کو "خود ساختہ عالم" بنا دیا ہے۔ ہر شخص چند ویڈیوز دیکھ کر خود کو صاحبِ رائے سمجھنے لگتا ہے، اور پھر دین کے مسائل میں بھی اپنی رائے دینا شروع کر دیتا ہے۔ یہ رویہ نہایت خطرناک ہے اور انسان کو گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔لہٰذا ضروری ہے کہ دین کے معاملے میں احتیاط برتی جائے، مستند اہلِ علم سے رجوع کیا جائے، اور ہر سنی سنائی بات کو قبول نہ کیا جائے۔

۴: دینی تعلیم:ضرورت، حدود اور خواتین کے حوالے سے ایک بڑی غلط فہمی
دین کا بنیادی علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے، لیکن اس باب میں بھی توازن کا فقدان پیدا ہو چکا ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو دین کے بنیادی علم سے بھی غافل ہیں، اور دوسری طرف ایسے رجحانات فروغ پا رہے ہیں جن میں ہر شخص، بالخصوص خواتین، کے لیے اعلیٰ درجے کی تخصص کو ضروری بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔خصوصاً خواتین کے حوالے سے "عالمہ بننے" کا ایک رجحان اس انداز سے پیش کیا جا رہا ہے کہ گویا یہی دین کا تقاضا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ شریعت نے خواتین سے جس چیز کا مطالبہ کیا ہے وہ واضح ہے: اپنے دین کے ضروری مسائل سیکھنا، اپنی عبادات قرآن کو درست کرنا، اپنے اخلاق و کردار کی اصلاح کرنا، اور اپنی زندگی کو شریعت کے مطابق ڈھالنا۔ اس سے آگے بڑھ کر ایسے میدانوں میں داخل ہونا جہاں اختلاط، نمائش یا دیگر فتنوں کا اندیشہ ہو، یہ احتیاط کے خلاف ہے، چاہے اسے کتنا ہی خوبصورت عنوان کیوں نہ دیا جائے۔اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان تمام بنیادی دینی ضروریات کو سیکھنے کے لیے پیچیدہ راستوں کی ضرورت نہیں۔ ہمارے اکابر نے اس کام کو نہایت جامع اور محفوظ انداز میں پہلے ہی انجام دے دیا ہے۔ چنانچہ حضرت والا مولانا تھانوی رحمہ اللہ کی تصنیف "بہشتی زیور" ایک ایسا مکمل نصاب ہے جو خواتین کے لیے عقائد، عبادات، معاملات اور اخلاق ہر پہلو سے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔لہٰذا غیر ضروری پیچیدگیوں میں پڑنے کے بجائے اسی طرح کے مستند، آزمودہ اور محفوظ ذرائع سے وابستگی اختیار کرنا زیادہ مناسب اور زیادہ نافع ہے۔

۵: آن لائن تعلیم سہولت کے پردے میں پوشیدہ خطرات
آن لائن تعلیم بظاہر ایک سہولت ہے، لیکن اس کے ساتھ جو فتنہ جڑا ہوا ہے، اس کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔آج آن لائن پلیٹ فارمز پر تعلیم کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے، اس میں بہت سی ایسی چیزیں شامل ہو چکی ہیں جو شریعت کے مزاج کے خلاف ہیں۔ مرد و خواتین کا ایک ہی کلاس میں ہونا، کیمروں کا آن ہونا، غیر ضروری گفتگو، نجی پیغامات، اور بے تکلفی یہ سب ایسے امور ہیں جو آہستہ آہستہ انسان کے دل کے ساتھ ساتھ دین و ایمان کو خراب کرتے ہیں۔یہ ایک سنگین غلط فہمی ہے کہ چونکہ یہ سب کچھ اسکرین کے ذریعے ہو رہا ہے، اس لیے اس میں کوئی حرج نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ شریعت کے اصول ہر جگہ یکساں ہیں، اور اسکرین کا پردہ، شرعی پردہ نہیں ہوتا۔لہٰذا اس میدان میں سخت احتیاط کی ضرورت ہے۔ مرد حضرات مرد اساتذہ سے ہی تعلیم حاصل کریں، خواتین خواتین اساتذہ سے ہی پڑھیں، غیر ضروری گفتگو سے مکمل اجتناب کیا جائے، اور ہر اس صورت سے بچا جائے جس میں فتنہ کا اندیشہ ہو۔ یہی احتیاط ایمان کی حفاظت ہے۔

۶: وقت، صلاحیتیں اور نیت کامیابی کا اصل معیار
عصری علوم کے طلبہ کو اللہ تعالیٰ نے جو آسانی، مواقع اور وسائل عطا کیے ہیں، وہ ایک عظیم امانت ہیں۔ لیکن افسوس کہ ان کا بڑا حصہ سوشل میڈیا، فضولیات اور بے مقصد مشاغل میں ضائع ہو رہا ہے۔یہ ایک خطرناک غفلت ہے کہ وقت کو معمولی سمجھا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ وقت ہی زندگی ہے، اور جو وقت کو ضائع کرتا ہے وہ اپنی زندگی کو ضائع کرتا ہے۔لہٰذا اپنے وقت کی قدر کریں، اسے منظم کریں، اور اپنی صلاحیتوں کو مفید کاموں میں لگائیں۔اور سب سے بڑھ کر اپنی نیت کی اصلاح کریں۔ اگر تعلیم کا مقصد صرف دنیاوی کامیابی ہے تو یہ ادھورا ہدف ہے، لیکن اگر اس کے ساتھ اللہ کی رضا، اپنی اصلاح اور امت کی خدمت شامل ہو جائے تو یہی تعلیم عبادت بن جاتی ہے اور انسان کی دنیا و آخرت دونوں سنور جاتی ہیں۔

آخر میں یہی عرض ہے کہ رمضان کی یہ کیفیت ایک عارضی جذبہ نہ بنے، بلکہ اسے اپنی پوری زندگی کا رخ بدلنے کا ذریعہ بنایا جائے۔ یہی حقیقی کامیابی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کے ظاہری و باطنی فتنوں سے محفوظ رکھے، صحیح سمجھ، اخلاص اور عمل کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمارے اعمال کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آمین۔

بندہ ندیم اشرف کشمیری
بارہ مولہ ، کشمیر
۲۶ رمضان المبارک ۱۴۴۶

تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات ❤️
18/02/2026

تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات ❤️

سدِّ ذرائع اصل ہے، خارجی اختلاط جواز کو مستلزم نہیںشریعتِ مطہرہ کا مسلم اور قطعی مزاج یہ ہے کہ وہ اپنے احکام کو خارجی حا...
14/02/2026

سدِّ ذرائع اصل ہے، خارجی اختلاط جواز کو مستلزم نہیں

شریعتِ مطہرہ کا مسلم اور قطعی مزاج یہ ہے کہ وہ اپنے احکام کو خارجی حالات و فسادات کے تابع نہیں کرتی بلکہ خارجی خرابیوں کو احکامِ شرعیہ کے تابع بناتی ہے؛ اسی لیے قرآن کریم نے عورت کے باب میں سب سے پہلے اصلِ استقرار کو بیان کرتے ہوئے صاف حکم دیا: ﴿وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ﴾ یعنی قرارِ بیت ہی اصل ہے اور خروج محض بقدرِ ضرورت و حاجت رخصت کے درجہ میں ہے، اور نبی کریم ﷺ کے ارشاد وبيوتهن خير لهن نے اس حقیقت کو مزید مؤکد کر دیا کہ عورت کے حق میں اس کا گھر ہی زیادہ باعثِ صیانت، عافیت اور اجر ہے، پس جس شریعت نے بنیاد ہی احتیاط، ستر اور سدِّ فتنہ پر رکھی ہو اس کے متعلق یہ گمان کرنا کہ معاشرتی بے راہ روی بڑھ جانے سے وہ اپنے حفاظتی احکام کو خود منسوخ کر دے گی، صریح غلط فہمی ہے؛ کیونکہ فقہاء نے اصولاً لکھا ما أدى إلى الحرام فهو حرام کہ جو چیز حرام تک پہنچانے کا ذریعہ بنے وہ بھی ممنوع ہے، اور اختلاطِ مرد و زن نگاہوں کے فساد، دلوں کی کجی اور عبادت کے خشوع کے زوال کا سبب ہے، لہٰذا اس کے اسباب کا سد کرنا ہی عینِ حکمت ہے، پھر قواعدِ کلیہ میں الضرر يزال اور درء المفاسد مقدم على جلب المصالح جیسے اصول منصوص ہیں جن کی رو سے ضرر کو دور کیا جاتا ہے اور فساد کے دفعیہ کو مصلحت کے حصول پر مقدم رکھا جاتا ہے، اس لیے اگر کسی کام میں بظاہر کوئی فائدہ نظر آئے مگر اس کے ساتھ فتنہ و اختلاط کا قوی اندیشہ ہو تو شریعت اس فائدہ کو چھوڑ کر فتنہ کے سد کو ترجیح دیتی ہے؛ مزید برآں کسی منکر کا عام ہو جانا اس کے جواز کی دلیل نہیں بنتا، ورنہ سود، جھوٹ اور بے پردگی سب معاشرتی رواج کے سبب حلال قرار پائیں، جو ہرگز قابلِ قبول نہیں، لہٰذا یہ کہنا کہ چونکہ دفاتر اور بازاروں میں اختلاط ہو رہا ہے اس لیے مسجد میں بھی اجازت ہونی چاہیے، دراصل ایک فساد کو دوسرے فساد کا جواز بنانا ہے، حالانکہ عقل و شرع دونوں کا تقاضا یہ ہے کہ جہاں خرابی ہو اسے کم کیا جائے نہ کہ مقدس مقامات تک پھیلا دیا جائے، اور مسجد تو بطریقِ اولیٰ مقامِ تقدیس و طہارت ہے جہاں لہسن کی بو تک سے روکا گیا اور دنیاوی مشاغل محدود کیے گئے، تو وہاں اختلاط جیسے بڑے فتنہ کو کیسے گوارا کیا جا سکتا ہے؛ پھر بعض لوگ یہ کہہ کر ایک اور راستہ نکالتے ہیں کہ مساجد کے اندر عورتوں کے لیے الگ اور مخصوص جگہ بنا دی جائے، گویا مسئلہ حل ہو گیا، حالانکہ یہ تجویز بھی اصولِ شریعت کے خلاف ہے، کیونکہ سوال یہ نہیں کہ جگہ الگ ہے یا مشترک، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ جس کے لیے شریعت نے گھر کو مرکزِ عبادت و تربیت بنایا ہو اسے بلا ضرورت گھر سے نکالنے کی حاجت ہی کیا ہے؟ علاج یہ نہیں کہ مسجد کے اندر نئی جگہیں بنائی جائیں بلکہ علاج یہ ہے کہ گھروں کے اندر دینی ماحول، تعلیم، ذکر و عبادت اور اصلاح کا نظام قائم کیا جائے؛ جن حضرات کو خواتین کی دینی تربیت کی واقعی فکر ہے وہ ان کے گھروں کو علم و عبادت کا مرکز بنائیں، نہ کہ انہیں گھروں سے نکال کر باہر کے ماحول میں لانے کی تدبیریں سوچیں، کیونکہ اخراج بذاتِ خود اس اصلِ شرعی کے خلاف ہے جس کی بنیاد ہی وقرن في بيوتكن پر رکھی گئی ہے؛ یہی وجہ ہے کہ فقہِ حنفی میں فتنہ کے زمانے میں عورتوں کے مسجد جانے کو ممنوع کہا گیا، اور جب پہلے ادوار میں محض احتمالِ فتنہ پر یہ حکم تھا تو آج جبکہ اسبابِ فتنہ کئی گنا بڑھ چکے ہیں، حکم کی شدت بدرجۂ اولیٰ ثابت ہوتی ہے نہ کہ اس کی تخفیف، اس لیے خارجی خرابی نہ کبھی دلیل جواز تھی، نہ ہے اور نہ ہو سکتی ہے، بلکہ احکام شرعیہ کی پابندی ہی معاشرے کی اصلاح اور فتنہ کے سد کا واحد راستہ ہے۔

بندہ ندیم اشرف کشمیری ، حال مظفر نگر
۲۲ شعبان المعظم ۱۴۴۷

Address

Srinagar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kashmiri Ulama / کشمیری علماء posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share