05/07/2025
سیاحتِ کی ایک جھلک
بدھ کے روز "المجمع العِلمی" کے رفقائے نے ایک غیر متوقع سیاحتی مہم کا ارادہ کیا۔ یہ فیصلہ فوری نوعیت کا تھا، مگر دلوں کی یکجہتی اور شوقِ سفر کی شدت نے اسے ممکن بنا دیا۔ طے پایا کہ یہ سیر اگلے ہی دن یعنی جمعرات، 3 جولائی کو علی الصبح عمل میں لائی جائے۔
جمعرات کی صبح، ہم اہل "المجمع"، فتح کدل کے قریب اکٹھا ہوئے۔ اس قافلے میں حضرت سمیر صاحب کی عدم موجودگی ایک خفیف سی کمی تھی، مگر مجموعی ہم آہنگی نے اس خلا کو پر کر دیا۔ خدمت کا بار ڈاکٹر امتیاز قیوم صاحب نے اپنی رضاکارانہ طبیعت کے تحت اپنے کاندھوں پر لے لیا۔🥰
تقریباً آٹھ بجے دو گاڑیوں پر مشتمل یہ قافلہ، جس کی کوئی متعین منزل نہ تھی، روانہ ہوا۔ ایک گاڑی استادِ محترم ڈاکٹر شکیل احمد شفائی صاحب حفظہ اللہ کی تھی، جو تازہ خرید کی گئی تھی، اور دوسری ڈاکٹر امتیاز صاحب کی۔ استاد محترم کی گاڑی چونکہ نو خرید تھی، لہٰذا اُسے نہایت احتیاط اور نزاکت سے چلایا جا رہا تھا۔😃
میں، جو سفری متلی( motion sickness) کی قدیم آزمائش میں مبتلا ہوں، بغیر کسی تکلف کے فوراً اگلی نشست پر قابض ہو گیا، کہ نہ صرف جسمانی راحت کا حصول ہو، بلکہ علمی استفادہ بھی بے حجاب نصیب ہو۔😎😎
90 فٹ کی شاہراہ کو عبور کر کے ہم گاندربل کی سرزمین میں داخل ہوئے اور تھوڑی دیر بعد "وائل کدل" کے قریب سندھ ندی کے کنارے پر قیام کیا۔ وہاں فطرت کے دامن میں ایک مختصر مگر روح پرور نشست منعقد ہوئی، جس میں حضرت تھانوی رحمہ اللہ کی ملفوظات سے استفادہ کیا۔ یہ مجلس گویا دل کی زنگ خوردہ سطح پر ایک روحانی جلاء تھی۔🥰
مجلس کے بعد تیراکی کا اہتمام کیا گیا، جس میں راقم اور برادر عادل پیش پیش رہے۔ تھوڑی ہی دیر میں یونس صاحب نے بھی ہمت باندھ لی اور دیگر رفقاء جن میں استاد محترم، ڈاکٹر امتیاز صاحب، عاصم رسول صاحب اور ماجد کرمانی شامل تھے، نے بھی پانی میں پاؤں ڈبو کر شرکت کی علامت پیش کی۔😂
اس کے بعد قافلہ "مامَر" کی جانب روانہ ہوا، جو کنگن سے کچھ ہی فاصلے پر دریائے سندھ کے قریب واقع ہے۔ یہاں ظہرانے کے طور پر ڈاکٹر امتیاز صاحب کی لائی ہوئی پُر لطف بریانی تناول کی ۔۔۔۔ پھر وہیں مناظر فطرت کے زیر سایہ باجماعت نمازِ ظہر ادا کی ، اور اس کے فوراً بعد تازہ تلی ہوئی ٹراؤٹ مچھلی بھی ضیافتِ شکم کا حصہ بنی۔
اس کے بعد ہم "مانسبل جھیل" کی جانب روانہ ہوئے جو واپسی کی راہ پر واقع تھی۔ یہاں مقامی سیاحوں کی خاصی بھیڑ تھی۔ جھیل کے کنارے قائم پارک میں کچھ دیر قیام کیا اور اس کے مناظر سے محظوظ ہوتے ہوئے "نون چائے" سے دل و دماغ کو فرحت بخشی۔
بعد ازاں ہم "جروکا مغل گارڈن" کی سیر کو نکلے، جو مغلیہ فنِ تعمیر کا ایک دلکش شاہکار ہے۔ جھیل، پہاڑ، درخت اور گلزار… سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کا آئینہ دار تھا۔ وہیں عصر کی نماز ادا کی گئی۔ عادل صاحب کے چہرے کی بشاشت سے صاف ظاہر تھا کہ یہ مقام ان کے دل کو بار بار کھینچ لاتا ہے۔😂😂😂
آخر کار، واپسی کی راہ گاندربل کے راستے لی گئی، اور وہاں ایک جامع مسجد میں نمازِ مغرب ادا کی۔ نماز کے بعد "لعل بازار" میں مشہور "مٹکہ کلفی" سے ضیافت کا آخری باب بند ہوا۔الحمدللہ
عشاء کے قریب ہم سب بخیر و عافیت اپنے گھروں کو لوٹے، دلوں میں ان لمحوں کی مہک اور روح میں اس دن کی لطافت لیے ہوئے۔
راقم:
ضمیر فاروق خان
حبہ کدل، سرینگر