Path of light Roshni ki Raah

Path of light Roshni ki Raah من الظلمات إلى النور

20/05/2026

I got over 10 reactions on one of my posts last week! Thanks everyone for your support! 🎉

غفلت سے بیداری تک“کردار، شعور، موت اور روحانیت کے باطنی سفر پر ایک فکری تحریر”از...۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابنِ میرآبہم...
20/05/2026

غفلت سے بیداری تک
“کردار، شعور، موت اور روحانیت کے باطنی سفر پر ایک فکری تحریر”

از...۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابنِ میرآب

ہم اس دنیا میں ایک کردار بن کر آئے ہیں
جیسے کسی فلم میں ہیرو، ولن، محبوب، باپ، بیٹا یا دوست اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
ویسے ہی ہم بھی رشتوں، ناموں اور احساسات کے لباس پہن کر اس اسٹیج پر اُترتے ہیں۔
مگر آہستہ آہستہ ہم اس عارضی کہانی کو حقیقت سمجھنے لگتے ہیں۔
ہم کردار کو اپنی اصل پہچان مان بیٹھتے ہیں۔
پھر جب زندگی کا آخری منظر قریب آتا ہے…
جب موت پردہ گرانے لگتی ہے…
تب کہیں جا کر احساس ہوتا ہے کہ یہ سب ایک عارضی فلم تھی…اور میں صرف ایک کردار تھا۔
نہ میں کسی کا ہمیشہ کے لیے باپ تھا، نہ بیٹا، نہ محبوب،
نہ شوہر، نہ دوست…
یہ سب کردار تھے، جو وقت کے اسٹیج پر مجھے ادا کرنے تھے۔ اصل میں، میں ان سب نسبتوں سے کہیں زیادہ گہرا اور اَن دیکھا تھا۔
میں نہ باپ تھا، نہ بیٹا، نہ محبوب، نہ دوست…
میں تو بس ایک شاہد تھا…ایک خاموش Observer…
جو یہ سب ہوتا ہوا دیکھ رہا تھا۔
زندگی کے پردے پر کردار بدلتے رہے، رشتے بنتے رہے، ٹوٹتے رہے، جذبات آتے رہے، گزرتے رہے…
اور میں ہر منظر کو حقیقت سمجھتا رہا۔
میں عارضی کو مستقل سمجھ بیٹھا تھا۔
سایوں کو اپنی حقیقت مان لیا تھا۔
حالانکہ وقت کی ہوا نے آخر بتا دیا کہ
یہ سب لمحاتی تھا…ایک خواب کی طرح…
اصل میں، میں وہ نہیں تھا جو دنیا مجھے کہتی رہی،
بلکہ وہ تھا جو خاموشی سے سب کچھ دیکھ رہا تھا۔
اصل زندگی وہ نہیں جو صرف کرداروں کے ہجوم میں گزر جائے…
اصل زندگی وہ ہے جو اپنے ہونے سے آگاہ ہو۔
جو اپنے ہر خیال، ہر عمل، ہر سانس کو شعور کی آنکھ سے دیکھ رہی ہو۔ جو بیدار ہو…جو حاضر ہو…جو خود کو جاننے کے سفر میں زندہ ہو۔ورنہ انسان اکثر ایک سراب میں جیتا رہتا ہے۔کبھی باپ بن کر،کبھی محبوب،
کبھی کامیابی،کبھی ناکامی کا کردار ادا کرتے کرتے
وہ کردار ہی کو اپنی حقیقت سمجھ بیٹھتا ہے۔
حالانکہ یہ سب عارضی لباس ہیں۔
اصل وجود وہ ہے جو ان سب کو ہوتا ہوا دیکھ رہا ہے۔
اور جو اس سرابِ کردار سے جاگ جائے…
جو اپنی غفلت سے بیدار ہو جائے…
صوفیا کی زبان میں وہی “بیدار” ہے…وہی awakened ہے…وہی آگاہ روح ہے۔
روحانیت شاید یہی ہے…کہ انسان اپنے ہونے سے آگاہ ہو جائے۔ اپنی ذات، اپنی ہستی، اپنے شعور سے بیدار ہو جائے۔ وہ زندگی کو بھی دیکھے اور موت کو بھی سمجھے۔
موت کیا ہے؟
شاید صرف اس کردار کا اختتام جو ہمیں وقتی طور پر دیا گیا تھا۔ جسم کا پردہ گر جانا…وقت کی فلم کا ختم ہو جانا…
مگر جو انسان آگاہ ہو جائے، جو اپنے اصل شعور کو پہچان لے، اُس کے لیے موت بھی ایک تجربہ بن جاتی ہے۔
وہ موت کو بھی آتے جاتے دیکھتا ہے۔
کیونکہ وہ جان لیتا ہے موت جسم کو آتی ہے،
اُس شاہد کو نہیں جو خاموشی سے سب کچھ دیکھ رہا تھا۔
“میں یہ کردار نہیں…میں وہ شعور ہوںجو کردار کے پیچھے موجود ہے۔”
صوفیا شاید اسی لیے کہتے ہیں
“موت سے پہلے مر جاؤ۔”یعنی اپنے جھوٹے تعارف،
اپنے عارضی کردار، اپنی انا اور اس سراب سے آزاد ہو جاؤ…اور اپنے اصل وجود سے آگاہ ہو جاؤ۔ یہی بیداری ہے، یہی عرفان ہے، یہی ایک صوفی، سنت اور روحانیت کا درس ہے۔
پتہ ہے ہم میں اور ایک صوفی یا سنت میں کیا فرق ہوتا ہے؟
وہ مرنے سے پہلے مرنا سیکھ چکا ہوتا ہے۔
وہ اس عارضی سراب کو سراب جانتا ہے۔
وہ اس فلم… یعنی زندگی سے آگاہ ہوتا ہے۔
وہ جاگا ہوا ہوتا ہے۔ بیدار۔ حاضر۔
جبکہ ہم اکثر
خیالوں، خواہشوں، خوفوں اور خوابوں میں گم رہتے ہیں۔
ہم عارضی چیزوں کو مستقل حقیقت سمجھ لیتے ہیں۔
کبھی نام میں کھو جاتے ہیں، کبھی رشتوں میں، کبھی انا میں، کبھی خواہشات میں…
اور اسی غفلت کو زندگی سمجھ بیٹھتے ہیں۔
پھر جب موت قریب آتی ہے جب فلم کا اختتام ہونے لگتا ہے تو انسان گھبرا جاتا ہے۔ پریشان، پشیمان اور مایوس ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اُس نے کبھی خود کو جانا ہی نہیں تھا۔
وہ کردار کو ہی اپنی اصل سمجھتا رہا۔
مگر صوفی جانتا ہے
کہ جو آتا اور جاتا ہے وہ حقیقتِ کامل نہیں۔
حقیقت وہ شعور ہے جو ہر منظر کو خاموشی سے دیکھ رہا ہے۔
اسی لیے بیدار انسان کے لیے زندگی بھی ایک تجربہ ہے
اور موت بھی۔
کیونکہ وہ جان چکا ہوتا ہے کہ اصل سفر اندر کی آگہی کا ہے۔

12/05/2026

gaflat se bedaari tak ka safar

11/05/2026

ہم اکثر وہ نہیں ہوتے جو ہیں،
ہم وہ ہوتے ہیں جو بننا پڑتا ہے۔
لیکن جو انسان
اپنی اصل سے کٹ جائے
وہ جتنا بھی مقبول ہو
اتنا ہی خالی ہوتا ہے







16/12/2025
15/07/2025

چار یارِ با صفا ؓوہ ہیں شہیدے با رضا
ایمان کو اپنے نہ گوا
اندر کی دویئ کوکر دفا
ابنِ میرآب

Address

Zakura Hazratbal Srinagar
Srinagar
190006

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Path of light Roshni ki Raah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share