26/04/2023
رمضان المبارک کی الوداعی تقریب پر زیارت شیخ العالم پر ہزاروں افراد کی شرکت،
باہمی اخوت،رحمدلی اور خدمت خلق اولیاء و صوفیاء کرام کاحقیقی مشن (علامہ حامی )
بڈگام/ 21 اپریل :آج رمضان المبارک کے آخری جمعہ کی تقریب سعید کے موقع پر زیارت شیخ العالم واقع دریگام بڈگام میں وادی کے اطراف سے جمع شدہ ہزاروں فرزندانِ توحید نے شرکت کی ۔ اس موقع پر کاروان اسلامی کے امیر شیخ غلام رسول حامی نے بطور مہمان خصوصی زائرین کو خطاب کرتے ہوئے دین اسلام سے اخذ شدہ مختلف گوشوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے قرآن کریم کی آیات و سیرت رسول ﷺکے احوال کی شرح کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ عقیدہ توحید و رسالت ﷺ کے دروس صادقہ میں سے انسانی قدر، باہمی ہمدردی اور مخلوق خدا کی خدمت سرفہرست ہیں۔ یہی وجہ ہے رسالت مآبﷺ کے وارثین حق یعنی علماء کرام ، اولیاء عظام اور صوفیاء باصفا بشمول شیخ نور الدین نورانی ریشی کشمیری نے اپنی حیات دنیوی کا بیشتر حصہ تشہیر شریعت کے ساتھ ساتھ مخلوق خدا کی خدمت، رہنمائی، دستگیری اور تعاون میں صرف کیا ہے۔ یہی سبب ہے کہ صدیاں بیت جانے کے باوجود آج بھی لوگوں کے قلوب میں ان اولیاء و صوفیاء کرام کی محبت و عقیدت شہ رگ کی طرح ہم وقت پیوستہ ہے اور لوگ ان اولیاء کاملین کے درباروں اور خانقاہوں سے وابستہ ہیں۔ علامہ نے اس بات پر شدید افسوس کا اظہار کیا کہ اولیاء اور صوفیاء کرام کے اسی مقدس مشن کو آگے بڑھانے میں موجود دور میں علماء حق کو بیسوں مشکلات و مصائب سے ہر روز گزرنا پڑتا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے حال ہی میں رویت ہلال کے مسئلہ پر علماء کرام پر بلا وجہ طعن وتشنیع کو قابل صد افسوس قرار دیا۔ علامہ موصوف نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ علماء حق ہی ہمیشہ غالب آتے ہیں اور علماء، اولیاء اور صوفیاء کے اعدا شدید پستی کا شکار ہوتے' ہیں۔
علامہ حامی نے دوران وعظ سماج میں پھیلی ہوئی منشیات اور شراب( liquor )کی تباہ کاریوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ملت کو ہمہ تن اور مذہبی و مسلکی منافرت سے بالاتر ہوکر اس ناسور کا سدباب کرنا چاہیے جس میں لاکھوں نوجوان مبتلا ہوچکے ہیں۔انہوں نے اس ضمن میں بچوں کی صحیح تربیت اور نوجوانوں کا اولیاء کرام کی تعلیمات سے وابستہ ہونے پر شدید زور دیا۔ علامہ حامی نے تقریب کے آخر میں تمام انسانیت کی سلامتی کی خصوصی دعا فرمائی اور ساتھ ساتھ عالم اسلام کو عید الفطر کی مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے لوگوں کو عید سادگی سے منانے اور غرباء و نادار لوگوں کی ضروریات کا خیال رکھنے کی تلقین فرمائی۔