19/09/2023
تفسیر - تسہیل البیان فی تفسیر القرآن:
یعنی آج تو انسان یہ پوچھتا ہے كہ قیامت آئے گی كب؟ لیكن جب قیامت فی الواقع آجائے گی تو اس وقت اس سے بچ جانے كی اور بھاگ كھڑا ہونے كی صورت سوچے گا، دوسروں سے پوچھے گا مگر اس میں اسے سخت ناكامی ہوگی نہ كوئی فرار كا راستہ ملے گا اور نہ پناہ كی جگہ اور انسان اس بات پر مجبور ہوگا كہ سیدھا اپنے پروردگار كے حضور پیش ہو جائے
جیسا كہ سورۃ شوریٰ (47) میں ہے:
🔹 ﴿مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ﴾
تمہیں اس روز نہ تو کوئی پناہ کی جگہ ملے گی نہ چھپ کر انجان بن جانے کی
یعنی تمہارے لیے کوئی ایسی جگہ نہیں ہوگی، کہ جس میں تم چھپ کر انجان بن جاؤ اور پہچانے نہ جاسکو یا نظر میں نہ آسکو آج ہر شخص كو اس كے اگلے پچھلے، نئے پرانے، چھوٹے بڑے اعمال سے مطلع كیا جائے گا۔
Tafseer - Tasheel al Bayana fi Tafseer ul Quran
That is, today man asks when will the Day of Judgment come? But when the Day of Resurrection actually comes, then he will think of escaping from it and running away. He will ask others, but he will fail miserably, neither will he find any way of escape, nor any place of refuge, And man will be forced to appear directly before his Lord
As in Surah Shura (47):
🔹 ﴿مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ﴾
No refuge will you have that day, nor for you will there be any denial.
That is, there will be no such place for you, in which you hide and become unknown and not be recognized or not seen.
Today every person will be informed about his next previous, new old, small big deeds.