02/05/2023
تمام اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ خلفاء راشدینؓ میں چوتھے خلیفہ حضرت علیؓ ہیں، حضرت معاویہؓ نے انکی خلافت کو تسلیم نہ کیا، لیکن اس میں اہل سنت کا محتاط موقوف یہی رہا ہے کہ ان مشاجرات میں حضرت معاویہؓ کو بُرابھلا کہنے کی بجائے اسے یوں کہا جائے کہ ان میں اولیٰ بالحق حضرت علیؓ تھے، یعنی نیت دونوں کی درست تھی، منزل دونوں کی حق تھی، حضرت علیؓ حق کے زیادہ قریب تھے، دوسری طرف 'باطل' کا لفظ لانے سے احتیاط کی جائے، اسے خلاف اولٰی کہنے سے بات واضح ہوجاتی ہے۔ آپ کے لیے یہ اولیٰ بالحق کے تعبیر خود لسان رسالتﷺ سے ثابت ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت معاویہؓ بھی حق پر تھے۔
حضرت ابو سعید الخدریؓ ( 25ھ) بیان کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا :
” میری امت (سیاسیطور پر) دو حصوں میں بٹ جائے گی، ان دونوں کے درمیان ایک تیسرا فرقہ نکلے گا، اس تیسرے فرقۂ مارقہ کے قتل کے درپے جو ان دو جماعتوں میں سے نکلے گا اپنے اختلاف میں حق کے زیادہ قریب ہوگا “
(صحیح مسلم،جلد2،حدیثنمبر6508)
دیکھئے! حضورﷺ نے حضرت معاویہؓ کے حامیوں کو باطل پر کہنے کے بجائے حضرت علیؓ کو اولیٰ بالحق فرمایا ہے، یعنی اصولاً دونوں حق پر ہونگے؛ لیکن ان میں سے ایک زیادہ حق پر ہوگا اور ظاہر ہے کہ وہ حضرت علیؓ تھے جو خوارج سے لڑے۔
خود حضرت علیؓ نے بھی کبھی حضرت معاویہؓ کو گمراہ یا باطل پر نہیں کہا ؛ بلکہ اپنا ہم عقیدہ قرار دیا، حضرت علیؓ نے ارشاد فرمایا :
” ہمارے اختلاف کی ابتدا تھی ہم اہل شام آپس میں ٹکرا گئے اور ظاہر ہے کہ ہم دونوں ایک خدا، ایک نبیؐ اور ایک دعوتِ اسلام پر جمع ہیں، ہم اللہ اور اسکے رسولﷺ پر ایمان لانے میں ان سے زیادہ نہیں اور وہ ہم سے زیادہ نہیں، ہم سب ایک ہیں، ماسوائے اس کے کہ خونِ عثمانؓ کے بارے میں ہم میں کچھ اختلاف ہوا اور ہم اس سےبریہیں“
(نہجالبلاغہ،جلد3،ص126)
علامہ ابن خلدونؒ لکھتے ہیں:
ان کا اختلاف اجتہادی تھا، گوکہ باہمی جنگوں میں حضرت علیؓ صواب پر تھے، لیکن حضرت معاویہؓ کی نیت بھی خیر ہی کی تھی۔
(تجلیات آفتاب،جلد1،ص44)