24/08/2026
نام کے مفتی حلالہ کی حرمت پر قرآن و سنت اور فہم سلف سے واضح دلائل موجود ہیں
قرآن مجید اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ پھر اگر وہ تیسری بار طلاق دے دے تو وہ عورت اس کے لیے حلال نہیں ہوگی جب تک کسی دوسرے شوہر سے نکاح نہ کر لے البقرۃ 230
اس آیت میں حقیقی نکاح مراد ہے نہ کہ چند دن یا چند گھنٹوں کے لیے کیا جانے والا مصنوعی حلالہ
حدیثِ نبوی ﷺ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ رسول اللہ ﷺ نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے دونوں پر لعنت فرمائی سنن ترمذی 1120 سنن ابی داود 2076
نبی ﷺ نے فرمایا
أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالتَّيْسِ الْمُسْتَعَارِ کیا میں تمہیں ادھار کے بکرے کے بارے میں نہ بتاؤں
صحابہؓ نے عرض کیا کیوں نہیں
آپ ﷺ نے فرمایا
هُوَ الْمُحَلِّلُ، لَعَنَ اللَّهُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ وہ حلالہ کرنے والا شخص ہے اللہ نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے دونوں پر لعنت فرمائی ہے سنن ابن ماجہ 1936
فہمِ سلف سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے تھے
میرے پاس حلالہ کرنے والا اور جس کے لیے حلالہ کیا گیا ہو لایا جائے تو میں دونوں کو سزا دوں گا مصنف عبدالرزاق
منہج سلف کے مطابق طے شدہ منصوبہ بند اور وقتی نکاح کے ذریعے عورت کو پہلے شوہر کےلیے حلال کرنا حرام ملعون اور شریعت کے ساتھ کھیل ہے البتہ اگر دوسرا نکاح حقیقی ہو اور بعد میں اتفاقاً ختم ہو جائے تو پھر عورت پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کر سکتی ہے