G M Attar Noumani Azami

G M Attar Noumani Azami DEEN KI BAATE ,

22/07/2026

سوشل میڈیا کے واٹس ایپ نٹ ورک سے مطلع ھوا
کہ18اور 19جولائی 2026ء بروز سنیچر اتوارکو بازار مسجد بہوری کدل میں ایک قرانی ورک شاپ کا انعقاد ھورہا ھے
خوشی ھوئی کہ قران کے سلسلے میں چند نفوس ایک جگہ غور و فکر کیلئے جمع ھورھے ھیں اس شہر ناپرساں میں قران کی تعلیمات اگرچہ کلیتا نایاب نھیں ھیں لیکن کم یاب ضرور ھیں خاکسار کچھ عرصے سے بہت بد دل ھوا ھوں کیونکہ سیاسی بازیگروں کے ساتھ ساتھ اب مذھبی سودا گروں کی کارستانیاں عروج پر ھیں
علم نام کی کوئی شئ نظر آتی نھیں خطباء کے بجائے مساجد میں گلوکارحضرات کا قبضہ ھے کوئی علم و عمل کی بات سننے میں آتی نھیں اس دو روزہ ورک شاپ میں شرکت کیلئے عزیزم عبد الماجد کرمانی صاحب کا بھی شدید اصرار تھا اور رجسٹریشن میں میرے فرزند محمد رفیع اور ماجد صاحب کا بڑا رول رہا
اور مساجد سے اسلام کے ٹھوس پیغمام کی توقع عبث ھے
خیر یہ میرے جذبات اور احساسات کی کسی قدر تفصیل تھی درد مند حضرات کو کچھ لمحات کا حصہ دار بنانا چاھتا ھوں توقع ھے کہ حقیر تبصرہ کو نذر بصارت کرکے ممنون فرمائیں 19تاریخ کو 4بجے عصر کو خاکسار بطرف سرینگر کچھ سامان راحت ساتھ لے کر عازم سفر ھوا ایک دو سواریوں کی وساطت سے بہوری کدل پہنچا مشہور آئس کریم کا چسکہ نصیب ھوا
اور بازار مسجد کے قدیم نام سے مشہورجدید تعمیر شدہ مسجد میں داخل ھوا جو 2024ء میں نذ آتش ھوئئ تھی مخیر حضرات کی کوششوں سے یہ مسجد تعمیر ھوئی ھے اور تکمیل کے مراحل سے گزر رھی ھے
دوسرے منزل پر شائقین قران موجود تھے
ڈاکٹر معید ظفر صاحب نے خیر و عافیت کے استفسار کے بعد میری راہنمائی کی اور اوپری منزل میں صف سامعین میں جگہ ملی ھمارے فاضل دوست ڈاکٹر نذیر احمد زرگر قران اور بائبل کے تقابل پر بصیرت افروز خطاب فرمارھے تھے انکی تقریر کے اختتام پر چائے نمکین کیلئے اعلان ھوا بڑے نظم و نسق کے ساتھ منزل زیریں میں چائے نوشی ھوئی اور ڈاکٹر نذیر احمد صاحب سے خوش گوار ملاقات ھوئی
پروگرام کا سلسلہ شروع ھوا
ڈاکٹر معید الظفر صاحب کو طے شدہ پروگرام کی روشنی میں مدعو کیا گیا انکے مقالے کا عنوان
"تفسیر میں حدیث کی اھمیت و کردار "
تھا ڈاکٹر صاحب نے سیر حاصل گفتگو کی
اور حدیث پر سہ طرفہ اعتراضات کا جائزہ لیا اور متجددین
MODERENISTS
FAMINISTS
اورREVISOINISTS ترمیم پسند
کی کمزوریوں کو طشت از بام کردیا کچھ جدید متجددین کا ذکر بطور خاص آیا آمنہ ودود اور اسماء برلاس مصر و امریکہ
مساوات نسواں FAMINISM
کی جوبڑی حامی ھیں
حدیث کی ااہمیت اور قران کے شرح و تفسیر میں اسکے کردار پر مفصل روشنی ڈالی گئی اور سنت کے حدیث میں محفوظ ھونے کا عندیہ بڑے یقین و اذعان اور دلائل قویہ سے دیا گیا
ھمارے فاضل دوست ڈاکٹر سہیل شوقین صاحب نے" تفسیر الین کا
"منہج
کے عنوان سے ایک پر مغز اور معلومات افزا تقریر نذر سامعین فرمائی ھردو جلالین کی مختصر سیرت پر ایک جامع گفتگو سننے کو ملی جلال الدین محلی رح اور جلال الدین سیوطی رح کے کارناموں اور مراحل حیات کا اختصارا ذکر آیا اور جلال الدین سیوطی رح کی ھمہ جہت شخصیت کا کھلے دل سے اعتراف سامعہ نواز ھوا
تفسیر مختصر ھونے کے باوجود کسی اعجاز سے کم نھیں
اسکی جامعیت متن قران سے قربت شان نزول صرف و نحو کا بیان اختلاف قرات کا ذکر احکام فقہیہ کا بیان سنت رسول بحثیت مآخذ دین اقوال سلف سے تفسیر علم الکلام کا استعمال جیسے ذیلی عنوانات پر مثالوں سے اس تفسیر کی خوبیاں واضح کی گئیں
اسرائیلئات کے اس تفسیر میں موجود ھونے کو خامیوں سے تعبیر کیا گیا
طے شدہ ترتیب کی قدرے تبدیلی کی صورت میں غازی نذیر احمد نقاش صاحب نے اپنے مقرر کردہ عنوان "قران مجید کی تفسیر میں
"جدیدیت پسند رجحانات
پر بہت اچھی گفتگو فرمائی
جدید تعلیم یافتہ لوگوں میں ڈاکٹر فضل الرحمن صاحب کا ذکر خصوصیت کے ساتھ آیا کہ وہ قران کو دور جدید سے ھم آھنگ کرنا چاھتے ھیں قران بذاته قران کا مفسر اور قران کے اولین مفسرین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و اصحاب پیغمبر رض ھیں لیکن فضل الرحمن جیسے متجددین اسکو جدیدیت کے سانچے میں ڈالنا چاھتے ھیں
Ontology اورepistimology
جیسی جدید اصطلاحات پر بھر پور تبصرہ کیا گیا
اور جدید تعلیم یافتہ اجتماع کو متجددین کے گمراہ کن افکار سے روشناس کیا گیا
اسی دوران عشائیہ سے بھی خاطر تواضع کی گئی
پروگرام کے آخر پر چند حفاظ قران کی تلاوت سے محظوظ ھوئے اور یہ جانکر خوشی محسوس ھوئی کہ یہ حفاظ کشمیر قران انٹسیچوٹ کے خدام کی کوششوں کا ثمرہ ھے
اسکے قریبا 12بجے آرام کرنے کا حکم ھوا اور سارے شرکاء مجلس محو خواب ھوئے صبح تین بجے تہجد کی اذان ھوئی اور بیشتر افراد نے نماز شب ادا کی اسی اثناء میں فجر کی اذان ھوئی اور اور سنت کی ادائیگی کے بعد فرض ادا ھوئے اور چھ بکر تیس منٹ تک سارے شرکاء مجلس محو خواب ھوئے چائے نوشی ھوئی اور دارالعلوم بلالیہ کے قابل استاد قاری جاوید صاحب نے علم تجوید و قرات کی عملی مشق سے شرکاء مجلس کو روشناس کیا اور قران کے اعجاز قرات اور ترتیل و تجوید سے پڑھنے کی اھمیت اور ضرورت واضح کی
اسکے بعد اشفاق احمد وانی صاحب ریسرچ اسکالر کشمیر یونیورشٹی نے ابن عاشور کی تفسیر التحریر و التنویر کے تفاسیر میں امتیاز پر روشنی ڈالی اس تفسیر میں موجود علمی فقہی لغوی بلاغی وغیرہ نکات پر سیر حاصل گفتگو کی بڑا پر مغز خطاب سننے کو ملا
اسکے بعد ڈاکٹر شکیل شفائی صاحب تشریف لائے اور چند منٹ کی استراحت کے بعد استادانہ مہارت اور 37سال کے طویل تجربے اور وسیع مطالعہ کی روشبی میں قران کے لغوی اور بلاغی اعجاز پر مفصل گفتگو کی اگرچہ موضوع تشنہ تکمیل ریا اور وقت کی تنگ دامنی آڑے آئی ورنہ بہت دلچسپ موضوع ھے اختتام تقریر پر ڈاکٹر صاحب کیساتھ ملاقات ھوئی اور ڈاکٹر طارق صاحب کے اصرار پر دفتر بزم میں جانا ھوا طراق صاحب افتراق امت اور فروعات کی جنگ سے بد دل نظر آئے اور اتحاد امت کے بڑے حامی ھیں
اسکے بعد ظہرانہ سے تواضع ھوئی اور بالائی منزل کا رخ کیا
شرکاء مجلس مفتی نذیر احمد قاسمی دامت برکاتھم کے کیلئے اپنی آنکھیں فرش راہ کئے ھوئے تھے نماز ھوئی اور مفتی صاحب کا شدید انتظار تھا مفتی صاحب تشریف لائے اور اور کرسی خطابت پر تشریف فرما ھوئے بلا کسی تاخیر کے اپنی خاکسارانہ طبیعت کے مطابق گفتگو شروع کی
ایسا لگتا تھا کہ درر و جواہر کا دریا رواں ھے
امام بجاری رح کی سیرت و خدمات حدیث پر سیر حاصل گفتگو کی اور تاریخ حدیث پر بھی بالاختصار بات کی
حسب طے شدہ موضوع مفتی صاحب نے بخاری شریف کے کتاب التفسیر کے منےخب ابواب پر تفصیل سے گفتگو کی اور امام بخاری رح کی قابلیت اور خدا داد صلاحیت کا ذکر جمیل کیا
خاکسار مفتی صاحب کے علم متواضع طبیعت اور دیگر خصائص سے واقف ھے لیکن جب وہ گفتگو فرمارھے تھے تو یونیورسٹیز اور کالجز کے اسکالرس اور مدرسے کے عالم ربانی کا فرق واضح طور پر نظر آیا
اور یہ بھی محسوس ھوا کہ مدرسے کا شیخ الحدیث زمانے کے سرد وگرم سے اور اسلام مخالف حرکات سے پوری طرح واقف ھوتا ھے اور اسکے علاج کا بھی ادراک رکھتا ھے
ڈیڑھ گھنٹے کے اس معلومات افزا اور روحانی اطمینان کے وقفے نیں مفتی صاحب نے علوم کے دریا طہا دئے اور شرکاء مجلس سراپا حیرت تھے کہ مدرسے کا آدمی اتنا ذی عل سبحان اللہ
ایک اور بات جو یہاں قابل ذکر ھے کہ مجلس کے شرکاء بیشتر اھلحدیث باصطلاح جدید اور مسجد بھی اھلحدیث کے زیر انتظام اور گفتگو ایک نامور حنفی عالم کی وہ بھی شرح حدیث
ایک اور خوش آئند امر یہ بھی تھا کہ امت کا اتحاد کا پہلو کتنا اہم ھے
اھلحدیث حضرات ایک حنفی سے درس حدیث سماعت کررھے تھے
یہ بزم توحید اھلحدیث کے مخیر حضرات کی فراخدلی اور اتحادانہ مزاج کا حسین نتیجہ ھے
ڈاکٹر طارق صاحب درس کے اختتام پر مفتی صاحب کے پاس آئے اور اجرائے سند حدیث کی درخواست کی جسکو مفتی صاحب نے بشاشت کے ساتھ قبول کیا اور سند حدیث کی اجتماعی اجازت دی
مفتی صاحب نے مولانا نصیر احمد خان اور مولانا عبد الحق اعظمی رح کی وساطت سے مولانا حسین احمد مدنی رح سے ھوتے ھوئے شیخ الہند کا ذکر کرتے ھوئے سلسلہ سند کو شاہ ولی اللہ دہلوی رح تک پہنچایا اور اسکے بعد امام بخاری رح تک اور امام بخاری رح سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس تک اتصال سند فرمایا مفتی صاحب نے امام العصر علامہ انور شاہ کشمیری رح اور ایک یمنی عالم کی وساطت سے بھی سلسلہ سند کی اجازت مرحمت فرمائی
آخر پر ڈاکٹع طارق صاحب نے ناصحانہ کلمات فرمائے اور نوجوان نسل کی ھدایت کیلئے دعاء کی اور بڑے خوش نظر آرھے تھے کہ اتحاد اور اس دین کو محفوظ رکھنے کا جذبہ نوجوانوں میں موجود ھے محفل برخواست ھوئی اور منتظمین نے شرخاء اور خادمین کا شکریہ ادا کیا
عزیزم عبد الماجد کرمانی صاحب راجوری کدل تک ساتھ تھے اور خاکسار چند شرکاء مجلس کے ساتھ جو شوپیاں کے تھے قنرواری تک آٹو میں عازم سفر ھوا
ایک فوست کی کار میں گھر تک پہنچا الحمد للہ علی کل حال
حسین لحات تھے

Address

Srinagar
190017

Telephone

+917006225508

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when G M Attar Noumani Azami posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to G M Attar Noumani Azami:

Shortcuts

Share