28/09/2026
خانقاہِ رضوانیہ نان پور اور خانقاہِ اشرفیہ کے باہمی تعلقات
خانقاہِ رضوانیہ نان پور شریف شریعت و طریقت، علم و معرفت اور روحانی فیوض و برکات کا ایک ایسا عظیم مرکز ہے جس کی تاریخ اکابرِ اہلِ سنت کی محبتوں، عقیدتوں اور روحانی نسبتوں سے مزین ہے۔
اس مقدس خانقاہ کو یہ شان و عظمت حاصل ہے کہ اس کی دہلیز پر اپنے وقت کے علم و فضل کے آفتاب و ماہتاب نے اپنی جبینِ نیاز خم کی ہیں اور خود کو یہاں کے روحانی فیوضات و برکات سے مالا مال کیا ہے۔
خانقاہِ رضوانیہ کے روابط مرکزِ اہلِ سنت بریلی شریف اور مرکزِ عقیدت کچھوچھہ مقدسہ سے نہایت قدیم، گہرے اور مستحکم رہے ہیں، اور اس روحانی و علمی تعلق کو استحکام بخشنے والی عظیم شخصیت صوفی باصفا گل گلزار رضوانیت حضرت علامہ مولانا غلام صابر حسین، المعروف حضور صابر ملت علیہ الرحمہ کی ہے، جو سرکار مفتیِ اعظم ہند علیہ الرحمہ کے شاگردِ رشید اور مریدِ باصفا تھے۔ آپ کی شخصیت علم و عمل، زہد و تقویٰ اور روحانی عظمت کا حسین امتزاج تھی۔ آپ کے روابط سرکار مجاہدِ ملت، سرکار شیخِ اعظم، سرکار فقیہِ اسلام، سرکار شیرِ نیپال اور سرکار شیرِ بہار جیسی عبقری شخصیات سے نہایت گہرے اور مخلصانہ تھے۔
حضور صابر ملت علیہ الرحمہ کی دعوتِ محبت اور خلوصِ عقیدت پر خانقاہِ رضوانیہ نان پور میں جن عظیم المرتبت اکابر و مشایخ کی تشریف آوری ہوئی ہے، ان کے اسمائے گرامی خانقاہ کی تاریخ کے روشن اوراق پر ہمیشہ جگمگاتے رہیں گے۔ جن میں نمایاں نام تاجدارِ کچھوچھہ حضرت سرکارِ کلاں سید مختار اشرف کچھوچھوی، حضور خواجہ مظفر حسین کچھوچھوی، سرکار شیخِ اعظم سید اظہار اشرف کچھوچھوی، حضور ریحانِ ملت علامہ ریحان رضا خان بریلوی، حضور مجاہد ملت اڑیسہ، حضور رئیس القلم علامہ ارشد القادری اور خطیبِ مشرق علامہ مشتاق احمد نظامی وغیرہم کا ہے، جن کی آمد نے خانقاہِ رضوانیہ کی روحانی عظمت اور علمی وقار کو مزید مستحکم کیا ہے۔ اتنا ہی نہیں، بلکہ تاج الشریعہ حضرت علامہ الحاج اختر رضا خان ازہری بریلوی علیہ الرحمہ کی تین مرتبہ بارگاہِ شاہِ رضواں نانپور شریف میں بغرض فاتحہ حاضری ہوئی ہے ۔ کسی خانقاہ کی تاریخ میں اکابرِ اہلِ سنت کی ایسی مسلسل آمد و رفت اس کے علمی و روحانی تشخص کو ایک امتیازی شان عطا کرتی ہے۔
سرکار شیخِ اعظم کا حضور صابر ملت علیہ الرحمہ کے بارے میں ایمان افروز قول
خانقاہِ رضوانیہ اور خانقاہِ اشرفیہ کے باہمی تعلقات کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے ایک نہایت ایمان افروز واقعہ نقل کرنا مناسب سمجھتا ہوں، جس کے راوی شاعرِ اسلام، حضرت الحاج مولانا مصلح الدین گوہر نانپوری ہیں۔
گوہر نانپوری صاحب کے بیان کے مطابق ایک مرتبہ کلکتہ، بنگال میں منعقدہ ’’جمالِ طیبہ کانفرنس‘‘ کے موقع پر سرکار شیخِ اعظم حضرت علامہ سید اظہار اشرف کچھوچھوی علیہ الرحمہ نے انہیں اپنے قریب بلایا اور دریافت فرمایا: ’’آپ کا گھر کہاں ہے؟‘‘ گوہر نانپوری صاحب نے جب اپنے وطن کا تعارف کرایا تو حضور شیخ اعظم نے فرمایا آپ حضرت صابر ملت علیہ الرحمہ کو جانتے ہیں؟ اس پر گوہر نانپوری صاحب نے عرض کیا: حضور! وہ ہمارے ماموں جان ہیں۔یہ سنتے ہی سرکار شیخِ اعظم نے بے ساختہ ارشاد فرمایا: "وہ ایک زندہ ولی ہیں! جو انہیں نہیں پہچان سکا، اس نے مجھ اظہار اشرف کو نہیں پہچانا۔" اللہ اکبر
یہ جملہ حضور صابر ملت علیہ الرحمہ کی روحانی عظمت و بلندی اور مقامِ معرفت پر دلیل بے نظیر ہے۔ اس قول سے یہ حقیقت بھی نمایاں ہوتی ہے کہ اکابرِ اہلِ سنت کے نزدیک روحانی عظمت کا معیار محض شہرت و ظاہری وجاہت نہیں، بلکہ باطنی صفائی، اخلاص، تقویٰ اور قربِ الٰہی ہے۔
خانقاہِ رضوانیہ نانپور اور خانقاہِ اشرفیہ کچھوچھہ کے مابین یہ تعلقات درحقیقت اسلاف کی محبتوں، روحانی نسبتوں اور دینی اخوت کی ایک ایسی حسین داستان ہے، جسے محفوظ رکھنا آنے والی نسلوں کی علمی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔ یہ تعلقات ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خانقاہیں صرف عبادت و ریاضت کے مراکز نہیں ہوتیں، بلکہ وہ محبت، اخلاص، اتحادِ امت اور دینی اقدار کی حفاظت کے بھی عظیم سرچشمے ہوتے ہیں۔ ان کے درمیان قائم گہرے روابط تاریخ کے ان روشن نقوش میں شامل ہیں جو اہلِ سنت کی علمی و روحانی میراث کو نسل در نسل منتقل کرتے آرہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ خانقاہِ رضوانیہ نان پور شریف اور خانقاہ رضویہ بریلی شریف و خانقاہِ اشرفیہ کچھوچھہ مقدسہ کے اس مبارک تعلق کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے، اکابرِ اہلِ سنت کے فیوض و برکات سے ہمیں مستفیض فرمائے اور ہمیں اپنے اسلاف کی محبت، عقیدت اور دینی خدمات کو اخلاص کے ساتھ آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
از: اسیر شاہِ رضواں: محمد شکیل نانپوری