Madni Masjid, Kusmi

Madni Masjid, Kusmi A beautiful Masjid in a small Village of Kusmi.

01/03/2025
25/03/2024
29/05/2023

🎯 علم نافع کا حصول

🖋 حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب دامت برکاتہم

————————————————

رسول اللہ ﷺجس وقت دنیا میں تشریف لائے، یہ دنیا ہر طرح کی برائیوں کی آماجگاہ تھی ، کوئی برائی نہ تھی جو عرب کے سماج میں نہ پائی جاتی ہو ، لوگوں کی جان محفوظ تھی نہ مال اور نہ عزت و آبرو ، بے حیائی کا یہ حال تھا کہ اور مواقع تو کجا ، کعبہ کا طواف بھی بے لباس کرتے تھے ، مرد بھی عورت بھی ، ظلم وجور کی کوئی حد نہ تھی اور سماج کے تمام فیصلے ’’ جس کی لاٹھی اس کی بھینس ‘‘ کے اُصول پر ہوا کرتے تھے ، مذہبی پہلو سے دیکھئے تو بد ترین شرک تھا ، جس میں عرب گرفتار تھے اور عرب سے لے کر چین تک پوری مشرقی دنیا علانیہ شرک میں مبتلا تھی، سلطنت ِروم کا مذہب گو عیسائیت تھا ؛ لیکن یہاں بھی توحید کے پردہ میں شرک ہی کی حکمرانی تھی اور ایک خدا کے بجائے تین افراد پر مشتمل خدا کا کنبہ تشکیل پا چکا تھا اور ان سب کی پرستش کی جاتی تھی ۔
ان حالات میں رسول اللہ ﷺپیدا ہوئے اور جب عمر مبارک چالیس سال ہوئی تو نبوت کا تاج گہربار سر مبارک پر رکھ دیا گیا ، بہ ظاہر یہ خیال ہوتا ہے کہ ان حالات میں جو پہلی وحی نازل ہوتی ، وہ اصلاحِ عقیدہ کے پہلو سے توحید کے اثبات اور شرک کے رد میں ہوتی ، یاانسانی نقطۂ نظر سے ایسی آیت ہوتی جس میں ظلم و جور سے منع کیا گیا ہو اور انسانی اُخوت وہمدردی اور محبت و مروت کی طرف دعوت دی گئی ہو ، یا سماجی اصلاح سے متعلق کوئی آیت ہوتی ، جس میں بے شرمی اور بے حیائی سے روکا گیا ہو ۔
آپ ﷺپر سب سے پہلے جو آیت نازل ہوئی ، اس میں ان میں سے کسی بات کا تذکرہ نہیں ؛ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
اِقْرَا بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ ، خَلَقَ الاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ ، اِقْرَا وَرَبُّـکَ الْاَ کْرَمُ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ، عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَالَمْ یَعْلَمْ ۔ (علق: ۱-۵)
اپنے رب کے نام سے پڑھ جو سب کا خالق ہے ، جس نے آدمی کو جمے ہوئے لہو سے بنایا ، پڑھ اور تیرا رب بڑا کریم ہے ، جس نے قلم سے علم سکھایا ، آدمی کو وہ سکھایا جو وہ نہ جانتا تھا ۔
یعنی سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تعلیم اور پڑھنے کی طرف متوجہ فرمایا ؛ اس لئے کہ علم کی مثال روشنی کی سی ہے ، اگر کسی تاریک کمرہ میں سانپ بھی ہو، بچھو بھی اور دوسرے تکلیف دہ کیڑے مکوڑے بھی ، آپ ان سب کو مارنے اور بھگانے کے لئے الگ الگ محنت کریں ، تووقت بھی زیادہ لگے گا اور شاید کامیابی بھی نہ ہو ؛ لیکن اگر آپ ایک چراغ جلا کر رکھ دیں ، توخود بخود یہ کیڑے مکوڑے اپنا بسیرا اُٹھالیں گے ؛ کیوں کہ تاریکی ہی ان کی پناہ گاہ ہے ، یہی کیفیت انسانی سماج میں علم کی ہے ، عقیدہ و عمل اور معاشرت و اخلاق کی تمام برائیاں جہالت کا نتیجہ ہیں ، جہالت کی تاریکی ہی میں یہ تمام مفاسد پرورش پاتے ہیں ، تعلیم کی روشنی جتنی پھیلے گی ، یہ بگاڑ بھی خود بہ خود دُور ہوتا جائے گا ، تعلیم کے بغیر سماج کی برائیو ںکو دُور کرنے کی مثال جڑوں کے بجائے ٹہنیوں اور پتوں پر پانی دینے کی ہے کہ اس سے وقتی فائدہ تو ہوسکتا ہے ؛ لیکن کسی دیر پا تبدیلی کی اُمید نہیں رکھی جاسکتی ۔
اسی لئے تعلیم کی بڑی اہمیت ہے ، ایسا نہیں ہے کہ اسلام نے صرف مذہبی تعلیم ہی کو اہمیت دی ہو ؛ بلکہ اسلام نے علم کی تقسیم علم نافع اور علم غیر نافع سے کی ہے ، جو علم انسان کو دینی یادنیوی اعتبار سے نفع پہنچائے اور ان کے مسائل کو حل کرے وہ علم نافع ہے اور جو علم انسانیت کے لئے ہلاکت اور مضرت کا سامان ہو وہ علم غیر نافع ہے، رسول اللہ ﷺ علم نافع کے لئے دُعاء کیا کرتے تھے اور جو علم نافع نہ ہو ، اس سے پناہ چاہتے تھے ، اس اُصول پر غور فرمایئے تو اکثر عصری علوم و فنون علم نافع کی فہرست میں آتے ہیں ، طب انسانی جسم کے لئے نفع بخش ہے، انجینئرنگ انسانی ضروریات کی تکمیل میں مفید ہے ، علم قانون میں انسان کی عزت و آبرو کی حفاظت ہے ، ادب و صحافت کے ذریعہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام ہوتا ہے ، جس پر سماج کی اخلاقی اور وحانی اقدار کا تحفظ موقوف ہے ، تجارت اور معاشیات سے متعلق علوم کا مقصد فرد اور سماج کی معاشی ضروریات کو پورا کرنا اور اس کے صرف کے جائز اور مناسب مواقع کی رہنمائی کرنا ہے ، جس کے مفید اور نافع ہونے سے کس کو انکار ہو سکتا ہے ؟ اس لئے یہ تمام علوم اسلام میں مطلوب ہیں اور ان کی حیثیت فرض کفایہ کی ہے ۔
اسلام نے کبھی علم و تحقیق سے عداوت نہیں رکھی ؛ بلکہ لوگوں کو کائنات کی مخفی حقیقتوں میں غور و فکر اور تدبر کی دعوت دی اور حکمت و دانائی کی ہر بات کو مؤمن کی متاعِ گم گشتہ قرار دیا ، علم کے اعتراف میں اپنے اور بے گانے کا فرق نہیں کیا ، حضورﷺنے اُمیہ بن صلت کے اشعار کی تعریف فرمائی ، جو زمانۂ جاہلیت کا شاعر تھا اور علم کی تحصیل میں بھی آپ ﷺنے کبھی دوست اوردشمن کا فرق نہیں کیا ، غزوۂ بدر میں جو لوگ قید ہو کر آئے ، ان کے بارے میں آپ ﷺنے یوں فرمایا کہ ان میں جو لوگ پڑھے لکھے ہوں ، وہ دس مسلمانوں کو پڑھنا لکھنا سکھا دیں ، یہی ان کا فدیۂ رہائی ہوگا ، ظاہر ہے کہ وہ دشمن تھے نہ کہ دوست اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ مشرک تھے ، علم دین تو ان سے حاصل ہو نہیں سکتا تھا ، اگر آپ ان سے تعلیمی فدیہ وصول کرنے کے بجائے مالی فدیہ ہی وصول کرنے پر اصرار کرتے تو معاشی نقطۂ نظر سے اہل مدینہ کے لئے یہ مناسب ہوتا ؛ کیوں کہ اس وقت مسلمان سخت غریب اور افلاس کی حالت میں تھے اور فاقہ کشی کے ساتھ گذر بسر عام تھی ؛ لیکن آپ ﷺنے ان حالات میں بھی تعلیم کو ترجیح دی ، یہ گویا اس بات کا سبق ہے کہ تعلیم کا حاصل کرنا بہر حال ضروری ہے ، چاہے اس کے لئے پیٹ کاٹنا پڑے ، یافاقے برداشت کرنے پڑیں ؛ لیکن بچوں کی تعلیم کو کسی قیمت پر نظر انداز نہ کیا جائے ۔
آج مسلمانوں کو یہی سمجھانے کی ضرورت ہے کہ وہ معمولی کھائیں ، معمولی کپڑے پہنیں ، عیش و عشرت کے دوسرے اسباب سے اپنے آپ کو بچائیں ، معاشی تنگی کو گوارا کریں؛ لیکن ہر قیمت پر اپنے بچوں کو تعلیم دلائیں ، ہمارے سماج کا کوئی بچہ ایسا نہ ہو جو تعلیم سے محروم رہے ، عام طور پر غریبو ںکی مدد اور تعاون کا مطلب یہ سمجھا جاتا ہے کہ وقتی طور پر کچھ پیسے دے دیئے جائیں ، کچھ کھانے پینے کی چیز مہیا کر دی جائے ، عید کا موقع ہو تو کپڑے دیئے جائیں ، ہم اسی کو بڑی خدمت سمجھتے ہیں ؛ حالاں کہ خدمت کا زیادہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ کسی شخص کے ساتھ ایسا طریقہ اختیار کیا جائے کہ اس کے لئے روزگار اور معاشی سطح کو مستقل طور پر اونچا اُٹھانے کی تدبیر ہو ، جیسے کوئی دوکان لگادی جائے ، کہیں ملازمت دلا دی جائے ، اس کی فضیلت زیادہ ہے اور رسول اللہ ﷺسے ایسی تدابیر کا اختیار کرنا ثابت ہے ، ایسی ہی تدابیر میں ایک یہ ہے کہ کوئی شخص اگر خود اپنے بچہ کو پڑھانے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو ، تو اس کے بچوں کو تعلیم دلادی جائے ، یہ صدقۂ جاریہ ہوگا اور اس بچہ کے ذریعہ خود اس کی ، اس کے والدین کی اورخاندان وسماج کی جو کچھ خدمت ہوگی ، یہ اس کے اجر میں شریک ہوگا ، یہ انسانی خدمت کا سب سے اہم اور مفید طریقہ ہے ، اگر کسی شخص کے دو بچے ہوں تو اس کو خیال کرنا چاہئے کہ گویا اس کے تین بچے ہیں اور وہ اپنے دو بچوں کے ساتھ اپنی قوم کے ایک اور بچہ کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری قبول کر لے ، یقیناً یہ بہت بڑی خدمت ہوگی اور اس طرح سماج کی بہت سی مشکلات حل ہوسکیں گی ، جب تک پورا سماج نہ بڑھے اور پوری قوم ترقی نہ کرے ، یقیناً ہماری ترقی اَدھوری اور ناتمام ہوگی ۔
عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ مسلمان بچوں کی ایک اچھی خاصی تعداد پرائمری کے بعد تعلیم کا سلسلہ منقطع کر دیتی ہے ، بہت سے طلبہ ہائی اسکول کی سطح پر تعلیم ترک کر دیتے ہیں اوراعلیٰ فنی تعلیم میں تو ہمارے بہت ہی کم بچے پہنچ پاتے ہیں ، یہ نہایت افسوس ناک بات ہے ، ترکِ تعلیم کی وجہ کبھی معاشی ہوتی ہے ، کبھی طالب علم کی پست ہمتی اور بہت سے گھروں میں والدین کی جہالت اور سر پرستو ں کی ناواقفیت ، ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان رہنما اوراہل دانش نئے تعلیمی سال کے آغاز کے موقع پر گاؤں گاؤں اور شہر کے مختلف محلوں میں چند پڑھے لکھے رضاکاروں کی ایک کمیٹی بنائیں ، جو سلسلۂ تعلیم منقطع کرنے والے بچوں اور ان کے سرپرستوں کے حالات کا جائزہ لیں ، اگر طالب علم پست ہمتی کا شکار ہو رہا ہے تو اس کے لئے کچھ کوچنگ کا انتظام کریں اور ان کی ہمت بڑھائیں ، اگر سرپرستوں کی غفلت اور ناسمجھی ہو تو ان کا شعور بیدار کریں اور جو مواقع گورنمنٹ کی طرف سے حاصل ہیں ، ان کوان سے استفادہ کی راہیں بتائیں اور جو بچے معاشی پسماندگی کی وجہ سے تعلیم سے محروم ہو رہے ہوں ، ان کی تعلیمی وسائل میں مدد کریں اور اہل خیر کو اس جانب متوجہ کریں، کسی کو کتابوں کی ضرورت ہو تو کتاب دلادیں ، کسی کو اسکولوں کی داخلہ فیس کا مسئلہ ہو تو اس میں تعاون کردیں ، اس طرح ہم تھوڑی سی کوشش اور فکر مندی کے ذریعہ بہت سے طلبہ کے سلسلۂ تعلیم کو جاری رکھ سکتے ہیں ۔
ایک اہم مسئلہ زبان کا بھی ہے ، اسلام کسی زبان کا مخالف نہیں ؛ بلکہ آپ ﷺنے فرمایا کہ تمام زبانیں اللہ ہی کی پیدا کی ہوئی ہیں ، خود آپ ﷺکے حکم سے حضرت زید بن ثابتؓ نے کئی زبانیں سیکھیں اور ان میں مہارت حاصل کی ؛ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی مضمون کی تعلیم کے لئے سب سے بہتر ذریعہ ’’ مادری زبان ‘‘ ہے ، اجنبی زبان میں طالب علم کو دوہری مصیبت پیش آتی ہے ، ایک زبان کو سمجھنے کی اور دوسرے اس مضمون کو اپنے گرفت میں لانے کی، مادری زبان ایک دشواری کو آسان کر دیتی ہے اور طالب علم کو اپنا ذہن اس مضمون کے سمجھنے پر مرکوز رکھنے کا موقع ملتا ہے ، اس لئے ہر سال اچھے رینک لانے والے اور مقابلاتی امتحان میں بہتر پوزیشن حاصل کرنے والے بچے وہ ہوتے ہیں ، جو مادری زبان کو ذریعہ تعلیم بناتے ہیں ، اس حقیقت کو تمام ماہرین تعلیم تسلیم کرتے ہیں ؛ بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ مادری زبان کی اہمیت کی طرف خود قرآن مجید میں بھی اشارہ ملتا ہے ؛ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ : ہم نے ہرقوم میں اس قوم کی زبان میں پیغمبر بھیجا ہے : وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّابِلِسَانِ قَوْمِہٖ (ابراہیم: ۴)
بدقسمتی سے مسلمان اُردو زبان کے بارے میں احساس کمتری کا شکار ہیں ، جو لوگ اُردو زبان کے تحفظ کی تحریک چلاتے ہیں ؛ بلکہ اُردو ہی کی روٹی کھاتے ہیں ، وہ خود بھی اپنے بچوں کے لئے اُردو ذریعہ تعلیم کو پسند نہیں کرتے ، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ حکومت اُردو اقامتی اسکول قائم کرتی ہے ؛ لیکن بچے دستیاب نہیں ہوتے ، یونیور سٹیوں میں اُردو کے شعبے ہیں ؛ لیکن طلبہ کے نہ ہونے کی وجہ سے اندیشہ ہے کہ وہ بند ہو جائیں ، یہ نہایت تکلیف دہ صورتِ حال ہے اور اس سلسلہ میں قومی سطح پر شعور کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے ، ورنہ آہستہ آہستہ ہم سے ہماری زبان بھی چھن جائے گی ۔
قوم سے صحیح محبت یہی ہے کہ ہم اپنی نسلوں کو تعلیم میں آگے بڑھائیں اور جس شرمناک تعلیمی پسماندگی سے ہم دو چار ہیں ، پوری قوم کو اس سے باہر نکالنے کی کوشش کریں ، مسلم جماعتیں ایک لائحۂ عمل مرتب کریں اور ایک محدود مدت کا پروگرام بنائیں کہ ہم اس مدت میں مکمل طور پر ناخواندگی کو مٹادیں گے اور ہمارے سماج کا کوئی لڑکا یا لڑکی ایسا نہ ہوگا جو تعلیم سے محروم ہو!

🎁 سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

عید مبارکEid Mubarakईद मुबारक
03/05/2022

عید مبارک
Eid Mubarak
ईद मुबारक

20/01/2022
17/07/2021

📚

◆ #قربانی کے آداب ◆

【1】: قربانی کے جانور کو چند روز پہلے پالنا افضل ہے۔

【2】:جانور کو آرام وپیار سے قربان گاہ تک لایا جائے،سختی کے ساتھ گھسیٹ کرنہ لے جایا جائے۔(بدائع الصنائع)

【3】:حضرت ابنِ سیرین رحمة اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو دیکھاکہ وہ بکری کو ذبح کرنے کے لیے پاؤں سے گھسیٹ کر لے جا رہاتھا،تو آپ نے فرمایا کہ ”تیرا ناس ہو ،اس بکری کو موت کی طرف اچھی طرح ہنکاوٴ“(مصنف عبد الرزاق)

【4】:حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے ذبح کئے جانے والے جانور پر رحم کیاتو اللہ تعالی قیامت کے دن اس پر رحم فرمائیں گے۔(المعجم الکبیر)

【5】:قربانی سے پہلے چھری کو خوب تیز کرلیا جائے۔(بدائع الصنائع)

【6】:جانور کے سامنے چھری تیزنہ کی جائے،بلکہ اس سے چھپاکر یا پہلے ہی سے تیز کی جائے،کیوں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم میں سے کوئی چھری تیز کرے تو وہ بکری کے سامنے تیز نہ کرے۔(مصنف عبد الرزاق)

【7】:ایک جانور کو دوسرے جانور کے سامنے ذبح نہ کیا جائے۔(بدائع )

【8】:ذبح کے بعد جب تک جانور پوری طرح ٹھنڈا نہ ہوجائے اس کو کاٹا یا کھال نہ اتاری جائے۔(جواہر الفقہ)

【9】: ذبح کا مسنون طریقہ۔
قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کا طریقہ احادیث میں موجود ہیں، انہیں ہدایات واحکام کی روشنی میں ہمیں مسنون طریقہ پر قربانی کے جانور ذبح کرنے کی کوشش کرنا چاہئے۔
جانورذبح کرنےکا مسنون طریقہ یہ ہے کہ اسے بائیں پہلو (کروٹ)پرقبلہ رخ لٹاکر’’بسم اللہ ، اللہ اکبر‘‘ کہتے ہوئےتیزدھار چھری سے اس طرح ذبح کریں کہ اس کی شہہ رگ، نرخرہ اورسانس کی نالی کٹ جائے، اس کے لئے تیز اور خوب دھاردار چھری استعمال کرنی چاہیے جیسا کہ حدیث میں ہے، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ اَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ص بِحَّدِ الشِّفَارِ وَاَنْ نُّوَارٰی عَنِ الْبَہَائِمِ وَقَالَ اِذَا ذَبَحَ اَحَدُکُمْ فَلْیُجْہِزْ(ابْنِ مَاجَةَ)۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے (جانور ذبح کرنے سے قبل) چھری تیز کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ کہ چھری کو جانور سے چھپایا جائے اور جب ذبح کرنا ہو تو جلدی جلدی ذبح کیا جائے۔
ذبح کے بعد جانور کے ٹھنڈا ہونے کا انتظار کیا جائے ، فورا صفائی کا عمل شروع کرکے مزید اضافی تکلیف نہیں دینی چاہیے۔

قربانی کرتے ہوئے یہ دو آیتیں پڑھیں:
إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ(الأنعام:79)۔
اور قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ(الأنعام: 162)۔
اور پھر یہ دُعا پڑھے
(’’اللّٰھم منک ولک‘‘)
اور پھر بسم الله،الله اکبرکہہ کر ذبح کریں۔

مسئلہ:قربانی کے جانور کو قبلہ رخ لٹانے کے بعد یاد ہوں تویہ دونوں آیات اور دعاء’’ اللّٰھم منک ولک‘‘پڑھنا بہتر و افضل ہےاور پھر بسم اللہ ،اللہ اکبر پڑھ کرقربانی کے جانور کو تیز دھار چھری سے ذبح کردیں۔ جانور ذبح کرنے کے بعد یہ دعا پڑھیں۔
اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّیْ کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ حَبِیْبِکَ مُحَمَّد وَخَلِیْلِکَ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْھمَا السَّلَامُ
ترجمہ:اے اللہ! اس قربانی کو مجھ سے قبول فرما، جیسے کہ آپ نے قبول کیا اپنے حبیب حضرت محمد ﷺسے اور اپنے خلیل حضرت ابراہیم علیہ وعلیٰ نبینا الصلوٰة والسلام سے۔

اگر قربانی کسی دوسرے کی طرف سے یا کئی افراد کی طرف سے کی جارہی ہوتو لفظ مِنِّیْ کے بجائے مِنْ کےبعد اس شخص کایا قربانی میں شریک تمام شرکاء کا نام لئے جائیں گے،مثلا من محمد یا من احمد و حامد و محمود، لیکن تمام شرکاء کے نام لینا ضروری نہیں ہے بلکہ نام لئے بغیر بھی قربانی درست ہےکیونکہ ان کا نام دل میں موجود ہوتا ہے۔

*اونٹ نحر کرنے کا طریقہ*
عرفہ بن حارث کندی کہتے ہیں، میں حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، ہدی کے اونٹ لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوالحسن( علی رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے ) کو بلاؤ، چنانچہ آپ کے پاس علی رضی اللہ عنہ کو بلا کر لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم برچھی کا نچلا سرا پکڑو ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کا سرا پکڑا پھر اونٹوں کو نحر کیا جب فارغ ہو گئے تو اپنے خچر پر سوار ہوئے اور علی کو اپنے پیچھے سوار کر لیا۔ (سنن ابو داؤد)
زیاد بن جبیر کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایک شخص کے پاس آئے جو اپنا اونٹ بٹھا کر نحر کر رہا تھا، عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اسے کھڑا کر اور باندھ دے، پھر نحر کر کہ یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
(صحیح بخاری)
صحیح مسلم کی روایت میں ہے! “اسے اٹھا کر کھڑی حالت میں گھٹنا باندھ کر ( نحر کرو یہی ) تمھا رے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے،(مسلم)۔ ابن جریج کہتے ہیں: نیز مجھے عبدالرحمٰن بن سابط نے مرسلاً خبر دی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام اونٹ کا بایاں پاؤں باندھ کر اور باقی پیروں پر کھڑا کر کے اسے نحر کرتے،(سنن ابو داؤد)۔ خلاصہ یہ کہ اونٹ کی قربانی کا سنت طریقہ یہ ہے کہ اسے اس طرح کھڑا کریں کہ اس کی اگلی بائیں ٹانگ کو ران کے ساتھ ملا کر باندھ دیں اور تین ٹانگوں پر کھڑا کر دیں، پھر تکبیر پڑھ کر اس کے سینے اور گردن کی جڑ کے درمیان والے گڑھے میں نیزہ، خنجر یا تیز دھار والا کوئی آلہ ماریں جس سے اس کی شہ رگ کٹ جائے۔

🎁 پیشکش: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سے جڑنے کے لئے اس نمبر پر اپنا نام اور مکمل پتہ ارسال کریں:

https://wa.me/+919834397200

24/06/2021

Address

Kushmi
Simri Bakhtiarpur
852127

Telephone

+919386702750

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Madni Masjid, Kusmi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share