T S A WACHI

T S A  WACHI Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from T S A WACHI, Religious organisation, Naghad, Shopian.

القرآن - سورۃ نمبر 81 التكوير Offical page
آیت نمبر 24

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا هُوَ عَلَى الۡغَيۡبِ بِضَنِيۡنٍ‌ۚ ۞

ترجمہ:
اور یہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں،

01/09/2024

Introduction of Idara Taqhiqaat Islami
Molana irshad hydari Shab DBA

31/08/2024

سورۂ فاتحہ کا تعارف

مقامِ نزول:

اکثر علماء کے نزدیک’’سورۂ فاتحہ ‘‘مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔امام مجاہد رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ ’’سورۂ فاتحہ‘‘ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے اور ایک قول یہ ہے: ’’سورۂ فاتحہ‘‘ دو مرتبہ نازل ہوئی ،ایک مرتبہ ’’مکہ مکرمہ‘‘ میں اور دوسری مرتبہ’’ مدینہ منورہ‘‘ میں نازل ہوئی ہے۔(خازن،تفسیرسورۃ الفاتحۃ، ۱ / ۱۲)

رکوع اور آیات کی تعداد:

اس سورت میں 1رکوع اور 7 آیتیں ہیں۔

سورۂ فاتحہ کے اسماء اور ان کی وجہ تسمیہ:

اس سورت کے متعددنام ہیں اور ناموں کا زیادہ ہونا ا س کی فضیلت اور شرف کی دلیل ہے،اس کے مشہور 15 نام یہ ہیں:

(1)…’’سورۂ فاتحہ‘‘ سے قرآن پاک کی تلاوت شروع کی جاتی ہے اوراسی سورت سے قرآن پاک لکھنے کی ابتداء کی جاتی ہے ا س لئے اسے ’’فَاتِحَۃُ الْکِتَابْ‘‘ یعنی کتاب کی ابتداء کرنے والی کہتے ہیں۔

(2)… اس سورت کی ابتداء’’اَلْحَمْدُ لِلّٰه‘‘ سے ہوئی ،اس مناسبت سے اسے ’’سُوْرَۃُ الْحَمدْ‘‘ یعنی وہ سورت جس میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی گئی ہے،کہتے ہیں۔

(3،4)…’’سورہ ٔفاتحہ‘‘ قرآن پاک کی اصل ہے ،اس بناء پر اسے ’’اُمُّ الْقُرْآنْ‘‘ اور ’’اُمُّ الْکِتَابْ‘‘ کہتے ہیں۔

(5)…یہ سورت نماز کی ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے یا یہ سورت دو مرتبہ نازل ہوئی ہے اس وجہ سے اسے ’’اَلسَّبْعُ الْمَثَانِیْ‘‘ یعنی بار بار پڑھی جانے والی یا ایک سے زائد مرتبہ نازل ہونے والی سات آیتیں ، کہا جاتا ہے۔

(6تا8)…دین کے بنیادی امور کا جامع ہونے کی وجہ سے سورۂ فاتحہ کو’’سُوْرَۃُ الْکَنزْ،سُوْرَۃُ الْوَافِیَہْ‘‘ اور ’’سُوْرَۃُ الْکَافِیَہْ‘‘ کہتے ہیں۔

(9،10)… ’’شفاء ‘‘ کا باعث ہونے کی وجہ سے اسے’’سُوْرَۃُ الشِّفَاءْ‘‘ اور ’’سُوْرَۃُ الشَّافِیَہْ‘‘کہتے ہیں۔

(11تا15)…’’دعا‘‘ پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اسے’’سُوْرَۃُ الدُّعَاءْ،سُوْرَۃُ تَعْلِیْمِ الْمَسْئَلَہْ، سُوْرَۃُالسُّوَالْ، سُوْرَۃُ الْمُنَاجَاۃْ‘‘اور’’سُوْرَۃُ التَّفْوِیْضْ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ (خازن، تفسیرسورۃ الفاتحۃ،۱ / ۱۲، مدارک،سورۃ فاتحۃ الکتاب،ص۱۰، روح المعانی،سورۃ فاتحۃ الکتاب،۱ / ۵۱، ملتقطاً)

سورۂ فاتحہ کے فضائل:

احادیث میں اس سورت کے بہت سے فضائل بیان کئے گئے ہیں ،ان میں سے4فضائل درج ذیل ہیں :

(1) …حضرت ابو سعید بن مُعلّٰی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، میں نماز پڑھ رہا تھا تو مجھے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بلایا لیکن میں نے جواب نہ دیا۔(جب نماز سے فارغ ہو کر بارگاہ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں حاضر ہوا تو)میں نے عرض کی:’’یارسول اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ، میں نماز پڑھ رہا تھا ۔تاجدار رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا:’’اِسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ ‘‘ اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں حاضر ہوجاؤ جب وہ تمہیں بلائیں۔(انفال: ۲۴)پھر ارشاد فرمایا:’’ کیا میں تمہیں تمہارے مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآن کریم کی سب سے عظیم سورت نہ سکھاؤں ؟پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا،جب ہم نے نکلنے کا ارادہ کیا تو میں نے عرض کی:یارسول اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ،آپ نے فرمایا تھا کہ میں ضرور تمہیں قرآن مجید کی سب سے عظمت والی سورت سکھاؤں گا۔ارشاد فرمایا: ’’وہ سورت ’’ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘‘ ہے ، یہی ’’سبع مثانی‘‘ اور ’’قرآن عظیم ‘‘ہے جو مجھے عطا فرمائی گئی۔ (بخاری، کتاب فضائل القراٰن، باب فاتحۃ الکتاب، ۳ / ۴۰۴، الحدیث:۵۰۰۶)

(2) … حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما فرماتے ہیں : ایک فرشتہ آسمان سے نازل ہوا اور اس نے سیدالمرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں سلام پیش کر کے عرض کی: یارسول اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کو اُن دو نوروں کی بشارت ہو جو آپ کے علاوہ اور کسی نبی کو عطا نہیں کئے گئے اوروہ دو نور یہ ہیں : (۱)’’سورۂ فاتحہ‘‘ (۲)’’سورۂ بقرہ‘‘ کی آخری آیتیں۔(مسلم،کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا، باب فضل الفاتحۃ۔۔۔الخ، ص۴۰۴، الحدیث: ۲۵۴(۸۰۶))

(3) … حضرت اُبی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے تورات اور انجیل میں ’’اُمُّ الْقُرْآنْ‘‘ کی مثل کوئی سورت نازل نہیں فرمائی۔‘‘(ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ (الحجر)، ۵ / ۸۷، الحدیث: ۳۱۳۶)

(4) …حضرت عبد الملک بن عُمَیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’ سورۂ فاتحہ ہر مرض کے لیے شفا ء ہے۔‘‘(شعب الایمان، التاسع عشر من شعب الایمان۔۔۔الخ، فصل فی فضائل السور والآیات، ۲ / ۴۵۰، الحدیث: ۲۳۷۰)

31/08/2024

I got 7 reactions and 4 replies on my recent top post! Thank you all for your continued support. I could not have done it without you. 🙏🤗🎉

30/08/2024

حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واقعہ
مولانا عبدالرشید داؤدی صاحب دامت برکاتہم العالیہ

30/08/2024

صحیح مسلم
کتاب: جمعہ کا بیان
باب: جمعہ کے دن کی فضیلت کے بیان میں
حدیث نمبر: 1976

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا

ترجمہ:
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عبدالرحمن اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بہترین دن جس میں سورج نکلتا ہے وہ جمعہ کا دن ہے اسی دن میں حضرت آدم (علیہ السلام) پیدا کئے گئے اور اسی دن میں ان کو جنت میں داخل کیا گیا اور اسی دن میں ان کو جنت سے نکالا گیا۔

29/08/2024

الٓمّٓ(1)ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ ﶈ فِیْهِ ۚۛ-هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَ(2)

ترجمۂ کنز الایمان

وہ بلند رتبہ کتاب (قرآن) کوئی شک کی جگہ نہیں اس میں ہدایت ہے ڈر والوں کو ۔

تفسیر صراط الجنان

{الٓمّٓ:}قرآن پاک کی 29سورتوں کے شروع میں اس طرح کے حروف ہیں ، انہیں ’’حروفِ مُقَطَّعَات‘‘کہتے ہیں ، ان کے بارے میں سب سے قوی قول یہ ہے کہ یہ حروف اللہ تعالیٰ کے راز ہیں اور متشابہات میں سے ہیں ، ان کی مراد اللہ تعالیٰ جانتاہے اور ہم ان کے حق ہونے پر ایمان لاتے ہیں۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱، ۱ / ۲۰، الاتقان فی علوم القرآن، النوع الثالث والاربعون، ۲ / ۳۰۸، ملتقطاً)

حروفِ مُقَطَّعَات کا علم اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو حاصل ہے یانہیں :

یہاں یہ بات یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو بھی حروف مقطعات کا علم عطا فرمایا ہے ،جیسا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :قاضی بیضاوی(رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ) ’’اَنْوَارُالتَّنْزِیلْ‘‘ میں سورتوں کے ابتدائیہ یعنی حروف مقطعات کے بارے میں فرماتے ہیں : ایک قول یہ ہے کہ یہ ایک راز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے ساتھ مخصوص فرمایا ہے۔تقریبا ًایسی ہی روایات خلفاء اربعہ اور دیگر صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے بھی(منقول) ہیں اور ممکن ہے کہ صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے یہ مراد لیا ہو کہ یہ حروف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے درمیان راز و نیاز ہیں اور یہ ایسے اسرار و رموز ہیں جنہیں دوسرے کو سمجھانامقصود نہیں۔اگر یہ راز حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو معلوم نہ ہو ں تو پھر غیر مفید کلام سے خطاب کرنا لازم آئے گا اور یہ بعید ہے۔(تفسیر بیضاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱، ۱ / ۹۳)

امام خفاجی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’(اَنْوَارُالتَّنْزِیلْ کے)بعض نسخوں میں ’’اِسْتَأْثَرَہُ اللہُ بِعِلْمِہٖ‘‘ ہے اور(اِسْتَأْثَرَہُ کی) ضمیر رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے لئے ہے اور ’’با‘‘ مقصور پر داخل ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو اپنے علم سے (خاص کرکے)معزز و مکرم فرمایایعنی مقطعات کاعلم صرف اللہ تعالیٰ اور ا س کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو حاصل ہے۔اس معنی کو اکثر سلف اور محققین نے پسند فرمایا ہے۔(عنایۃ القاضی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱، ۱ / ۱۷۸، مختصراً، انباء الحی، مطلب المتشابہات معلومۃ النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم، ص۵۲-۵۳)

علامہ محمود آلوسی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِِ فرماتے ہیں ’’ غالب گمان یہ ہے کہ حروف مقطعات مخفی علم اور سربستہ راز ہیں جن کے ادراک سے علماء عاجز ہیں جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا، اور خیالات اس تک پہنچنے سے قاصر ہیں اور اسی وجہ سے حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:ہر کتاب کے راز ہوتے ہیں اور قرآن مجید کے راز سورتوں کی ابتداء میں آنے والے حروف ہیں۔اورامام شعبی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : یہ حروف اللہ تعالیٰ کے اسرار ہیں تو ان کاکھوج نہ لگاؤ کیونکہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے بعد ان کی معرفت آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے علوم کے وارث اولیاء کرام کو ہے،انہیں اسی بارگاہ سے (ان اسرار کی) معرفت حاصل ہوتی ہے اور کبھی یہ حروف خود انہیں اپنا معنی بتا دیتے ہیں جیسے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے ہاتھوں میں کنکریوں نے تسبیح کے ذریعے کلام کیا اور گوہ اور ہرن حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ہم کلام ہوئے جیسا کہ ہمارے آباؤ اجداد یعنی اہلِ بیت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے یہ بات (حروف ِ مقطعات کا علم ہونا) صحت سے ثابت ہے بلکہ جب کوئی بندہ قرب ِ نوافل کے درخت کا پھل چنتا ہے تو وہ ان حروف کو اور اس کے علاوہ کے علم کو اللہ تعالیٰ کے علم کے ذریعے جان لیتا ہے۔اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ اگر ان کا کوئی مفہوم نہ ہو تو ان کے ساتھ خطاب مہمل خطاب کی طرح ہو گا۔‘‘یہ بات ہی مہمل ہے اگرچہ اسے کہنے والاکوئی بھی ہو کیونکہ اگر تمام لوگوں کو سمجھانا مقصود ہو تو یہ ہم تسلیم نہیں کرتے اور اگر صرف ان حروف کے مخاطب کو سمجھانا مقصود ہو اور وہ یہاں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ہیں تو اس میں کوئی مومن شک نہیں کر سکتا (کہ سرکار دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ان کا معنیٰ جانتے ہیں )اور اگر اس سے بعض لوگوں کو سمجھانا مقصود ہے تو اربابِ ذوق کو ان کی معرفت حاصل ہے اور وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ امتِ محمدیہ میں کثیر ہیں اور ہم جیسوں کا ان کی مراد نہ جاننا نقصان دہ نہیں کیونکہ ہم تو ان بہت سے افعال کی حکمت بھی نہیں جانتے جن کے ہم مکلف ہیں جیسے جمرات کی رمی کرنا صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا،رمل اور اضطباع وغیرہ اور ان جیسے احکام میں اطاعت کرنا سرِ تسلیم خم کرنے کی انتہا پر دلالت کرتا ہے۔(روح المعانی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱، ۱ / ۱۳۶-۱۳۷)

{لَا رَیْبَ: کوئی شک نہیں۔}آیت کے اس حصے میں قرآن مجید کا ایک وصف بیان کیاگیا کہ یہ ایسی بلند شان اور عظمت و شرف والی کتاب ہے جس میں کسی طرح کے شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ شک اس چیز میں ہوتا ہے جس کی حقانیت پر کوئی دلیل نہ ہو جبکہ قرآن پاک اپنی حقانیت کی ایسی واضح اور مضبوط دلیلیں رکھتا ہے جو ہر صاحب ِ انصاف اورعقلمند انسان کو اس بات کا یقین کرنے پر مجبور کردیتی ہیں کہ یہ کتاب حق ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہے ،تو جیسے کسی اندھے کے انکار سے سورج کا وجود مشکوک نہیں ہوتا ایسے ہی کسی بے عقل مخالف کے شک اور انکار کرنے سے یہ کتاب مشکوک نہیں ہوسکتی۔

{هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَ :ڈرنے والوں کے لئے ہدایت ہے۔} آیت کے اس حصے میں قرآن مجید کا ایک اور وصف بیان کیا گیا کہ یہ کتاب ان تمام لوگوں کو حق کی طرف ہدایت دیتی ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور جو لوگ نہیں ڈرتے ، انہیں قرآن پاک سے ہدایت حاصل نہیں ہوتی۔یاد رہے کہ قرآن پاک کی ہدایت و رہنمائی اگرچہ مومن اور کافر ہر شخص کے لیے عام ہے جیسا کہ سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 185 میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’هُدًى لِّلنَّاسِ‘‘ یعنی قرآن مجید تمام لوگوں کیلئے ہدایت ہے۔لیکن چونکہ قرآن مجید سے حقیقی نفع صرف متقی لوگ حاصل کرتے ہیں اس لیے یہاں ’’هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَ‘‘ یعنی ’’ متقین کیلئے ہدایت‘‘ فرمایا گیا۔( ابو سعود، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲، ۱ / ۳۲)

تقویٰ کا معنی:

تقویٰ کا معنی ہے:’’ نفس کو خوف کی چیز سے بچانا۔‘‘ اور شریعت کی اصطلاح میں تقویٰ کا معنی یہ ہے کہ نفس کو ہر اس کام سے بچانا جسے کرنے یا نہ کرنے سے کوئی شخص عذاب کا مستحق ہو جیسے کفر وشرک،کبیرہ گناہوں ، بے حیائی کے کاموں سے اپنے آپ کو بچانا،حرام چیزوں کو چھوڑ دینا اورفرائض کو ادا کرنا وغیرہ اوربزرگانِ دین نے یوں بھی فرمایا ہے کہ تقویٰ یہ ہے کہ تیراخدا تجھے وہاں نہ پائے جہاں اس نے منع فرمایا ہے۔ (مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲، ص۱۹، خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲، ۱ / ۲۲، ملتقطاً)

تقویٰ کے فضائل:

قرآن مجید اور احادیث میں تقویٰ حاصل کرنے اور متقی بننے کی ترغیب اور فضائل بکثرت بیان کئے گئے ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ‘‘ (اٰل عمران: ۱۰۲)

ترجمۂ کنزالعرفان:اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور ضرور تمہیں موت صرف اسلام کی حالت میں آئے۔

اور ارشاد فرمایا:

’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ(۷۰) یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا‘‘(احزاب: ۷۰-۷۱)

ترجمۂ کنزالعرفان:اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہاکرو۔ اللہ تمہارے اعمال تمہارے لیے سنواردے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے اس نے بڑی کامیابی پائی۔

حضرت عطیہ سعدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’کوئی بندہ اُس وقت تک متقین میں شمار نہیں ہو گا جب تک کہ وہ نقصان نہ دینے والی چیز کو کسی دوسری نقصان والی چیز کے ڈر سے نہ چھوڑ دے۔(یعنی کسی جائز چیز کے ارتکاب سے ممنوع چیز تک نہ پہنچ جائے۔ )(ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، ۱۹-باب ، ۴ / ۲۰۴-۲۰۵، الحدیث: ۲۴۵۹)

حضرت ابو سعید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’تمہارا رب عَزَّوَجَلَّ ایک ہے ، تمہارا باپ ایک ہے اور کسی عربی کوعجمی پر فضیلت نہیں ہے نہ عجمی کو عربی پر فضیلت ہے ، نہ گورے کو کالے پر فضیلت ہے ، نہ کالے کو گورے پر فضیلت ہے مگر صرف تقویٰ سے۔(معجم الاوسط، ۳ / ۳۲۹، الحدیث: ۴۷۴۹)

حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’تمہارا رَب عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:اس بات کا مستحق میں ہی ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور جو مجھ سے ڈرے گا تو میری شان یہ ہے کہ میں اسے بخش دوں۔ (دارمی، کتاب الرقاق، باب فی تقوی اللہ، ۲ / ۳۹۲، الحدیث: ۲۷۲۴)

تقویٰ کے مراتب:

علماء نے ’’تقویٰ ‘‘کے مختلف مراتب بیان فرمائے ہیں جیسے عام لوگوں کا تقویٰ ’’ایمان لا کر کفر سے بچنا‘‘ہے، متوسط لوگوں کا تقویٰ ’’احکامات کی پیروی کرنا‘‘ اور’’ ممنوعات سے رکنا ‘‘ہے اور خاص لوگوں کا تقویٰ ’’ہر ایسی چیز کو چھوڑ دینا ہے جو اللہ تعالیٰ سے غافل کرے۔‘‘( جمل ، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲، ۱ / ۱۷)

اوراعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنْ کے فرمان کے مطابق تقویٰ کی سات قسمیں ہیں : (۱) کفر سے بچنا۔ (۲) بدمذہبی سے بچنا۔ (۳) کبیرہ گناہ سے بچنا۔ (۴) صغیرہ گناہ سے بچنا۔(۵) شبہات سے پرہیز کرنا۔ (۶) نفسانی خواہشات سے بچنا۔ (۷) اللہ تعالیٰ سے دورلے جانے والی ہر چیز کی طرف توجہ کرنے سے بچنا، اور قرآن عظیم ان ساتوں مرتبوں کی طرف ہدایت دینے والا ہے ۔(خزائن العرفان، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲، ص۴، ملخصاً) اللہ تعالیٰ ہمیں متقی اور پرہیز گار بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین

28/08/2024

شہدائے کربلا کے حوالے سے مکمل بیان
محسن أہل سنت والجماعت مولانا عبدالرشید داؤدی صاحب دامت برکاتہم العالیہ

28/08/2024

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور
امام حسین علیہ السلام کی محبت
مولانا ارشاد حیدری صاحب

28/08/2024

حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں

Address

Naghad
Shopian
192303

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when T S A WACHI posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share