04/07/2026
حضرت سید حسین سمنانی رحمتہ اللّہ علیہ حضرت امیر کبیر رحمہ اللّہ کے چچازاد بھائ تھے اور حضرت امیر کبیر رحمتہ اللّہ کے حکم سے ۷۷۳ھ میں کشمیر تشریف لاۓ۔ آپ ایک بڑے اعلیٰ پایہ کے بزرگ عالم دین اور داعیِ اسلام تھے۔ اپ نے ساری زندگی حصولِ علم وعرفان درس و تدیس اور دعوت وتبلیغ میں گزاری۔ آپ پیر پنچال کے راستے سے کشمیر وارد ہوکر کولگام میں قیام پزیر ہوۓ اور یہاں کے حالات کا جائزہ لینے کے ساتھ خلاقِ خدا کی طرف رہنمائ کرتے رہے۔ اس دوران انہوں نے ارکانِ سلطنت بالخصص بادشاہِ وقت سلطان شہاب الدین سے تعلقات قائم کۓ۔ پھر انہوں نے حضرت امیر کبیر رحمتہ اللّہ کو یہاں کے حالات سے باخبر کیا جس کے نتیجہ میں حضرت امیر کبیر رحمتہ اللّہ۷۷۴ھ میں کشمیر تشریف لاۓ۔
آپ نے کشمیر کے مشہور ولی اللّہ اور داعی حق حضرت شیخ نورالدین رحمتہ اللّہ کے والدِ بزرگور سالارالدین کی تربیت کر کے اسے ایک پاکباز نیک سیرت اور حقیقی مسلمان بنایا۔ پھر ان کی شادی صدرہ بی بی سے کرائ اور اس شادی کے وقت وہ سارا گھرانہ حضرت کے ذریعہ مشرب بہ اسلام ہوگیا پھر جب صدرہ بی بی سے حضرت شیخ نورالدین رحمتہ اللّہ پیدا ہوۓ تو ان کا نام بھی آپ رحمتہ اللّہ ہی نے رکھا اور بعد میں حضرت شیخ نورالدین رحمتہ اللّہ نے آپ رحمتہ اللّہ سے فیض حاصل کیا۔
حضرت سید حسین سمنانی رحمتہ اللّہ آخری عمر تک یہیں سکونت پزیر رہے اور ۷۹۲ھ میں وفات پائ اور کولگام میں مدفوں ہوۓ۔