Darut Tahqiqat International

Darut Tahqiqat International Islamic Research organisation

تبصرہ بر ماہنامہ التحقیقاتاز : مولانا زاہد اکرم صاحب پیش کش: سوشل میڈیا ٹیم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ #التحقیقات #ماہنامہ #اسلام #دین #ق...
23/05/2026

تبصرہ بر ماہنامہ التحقیقات
از : مولانا زاہد اکرم صاحب
پیش کش: سوشل میڈیا ٹیم
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔

#التحقیقات
#ماہنامہ
#اسلام
#دین
#قرآن
#حدیث

ماہنامہ التحقیقات کو قریبا چار سال کا عرصہ تمام ہوا۔ دار التحقیقات کی مشاورتی ٹیم کے اہم رکن، حافظ و عالم و شاعر مولانا ...
22/05/2026

ماہنامہ التحقیقات کو قریبا چار سال کا عرصہ تمام ہوا۔ دار التحقیقات کی مشاورتی ٹیم کے اہم رکن، حافظ و عالم و شاعر مولانا تفسیر القادری احمدی (زاد علمہ و فضلہ) نے بصورتِ نظم خراجِ عقیدت پیش کیا۔ (تقبل اللہ تعالی منه) اللہ پاک ہر فرد و تنظیم کو، جو دینِ متین کا کام کر رہے ہیں؛ سرخ رو فرمائے۔ اخلاص و للہیت نصیب ہو۔ ہمیں ہر وہ شخص اور جماعت عزیز ہے؛ جو دین کا کام دینی انداز میں کر رہے ہیں۔


”غروبِ آفتابِ علم و ولایت“ تعزیت نامہ۔ جاری کردی: ماہنامہ التحقیقات
22/05/2026

”غروبِ آفتابِ علم و ولایت“
تعزیت نامہ۔
جاری کردی: ماہنامہ التحقیقات

فرمانِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ #احادیث #اسلام
22/05/2026

فرمانِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔
#احادیث
#اسلام

 #اسلام #قربانی #دین
21/05/2026

#اسلام
#قربانی
#دین

علم کی روشنی، فکر و فن کا فیض۔  ۔  ”ماہناموں کو پڑھنے کے فوائد“ اہلِ عرب کہتے ہیں: ”العلم زین لأھله وفضل و عنوان لکل الم...
20/05/2026

علم کی روشنی، فکر و فن کا فیض۔ ۔



”ماہناموں کو پڑھنے کے فوائد“

اہلِ عرب کہتے ہیں: ”العلم زین لأھله وفضل و عنوان لکل المحامد۔“(علم، اہلِ علم کی زینت اور جمیع اوصافِ حمیدہ اور فضائل جمیلہ کی اصل ہے) اگر بد عنوانیاں پھیلتی ہیں، یا فکری انتشار بڑھتا جا رہا ہو، خرابی گھر سے اٹھ رہی ہو یا معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہو؛ تو اس کی آ جا کر وجہ، علم سے دوری ہوگی یا علم پر عمل نہیں ہوگا۔ لہذا فکر کی ترقی اور اخلاق و عادات کی بہتری کے لیے اپنا تعلق علم سے جوڑنا نہایت ضروری ہے۔ اس کے بغیر انسان کی موت ہے۔ اور علم سے حیات۔ اِس آبِ حیات کو پانے کا ایک طریقہ مختلف دینی ماہناموں کا مطالعہ کرنا ہے۔ -ہر چیز میں اچھا انتخاب نہایت اہم ہے، پڑھیں انھی کو جن کے عقیدے قرآن و سنت کے مطابق ہوں- کیونکہ ¹ ایک ماہنامے میں بہت چن چن کر موضوعات کو منتخب کیا جاتا ہے۔ ² پھر لکھنے والے متعدد کتب سے استفادہ کرتے ہیں، ³ ایک قاری کو ایک ہی رسالے میں کئی ایک موضوعات پر سوچنے اور عمل کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ ⁴ اور ایسے اچھے اچھے مضامین کو پڑھنے سے ہر ماہ علم میں اضافہ ہوتا اور شعور کو تقویت ملتی ہے۔ یہی روز روز کی علم میں ترقی انسان میں وہ فکری اور اخلاقی شعور کی شمع بیدار کر دیتی ہے کہ بندہ حیران رہ جائے۔ کیونکہ علم خیالات کو دستک دے رہا ہوتا ہے، یہی خیالات کی درستی ذات کی درستی تک لے آتی ہے۔ کیونکہ یہ بات مسلّم ہے ” اإذا ساء فعل المرء ساءت ظنونه“ (جب بندے کے کام برے ہو جائیں تو اس کے خیالات بھی برے ہو جاتے ہیں) اور پھر کوئی ایک مختصر سی بات، ایک مضمون کا ٹکڑا اور کسی ایک کتاب کا حصہ انسان کو ترقیوں کی معراج تک پہنچانے کا سبب بن جاتا ہے حتی کہ بندہ سدھر جاتا ہے۔ اللہ پاک کا محبوب بن جاتا ہے۔ حقیقت ہے کہ فرد کے سنورنے سے معاشرہ سنورتا ہے۔ کیونکہ معاشرہ خلائی مخلوق سے عبارت تو ہے نہیں، بلکہ افراد ہی کے مجموعے کا نام ہے۔ اگر یہی افراد علم سے اپنا تعلق توڑ ڈالیں، اور دینی افکار کو کسی بھی طرح سے دل و دماغ میں جگہ نہ دیں تو وہ ایک انسان نما وحشی جانور سے بھی بد تر قرار پاتے ہیں۔ فلہذا اپنا تعلق کتب و رسائل سے جوڑیے۔ زمانہ جتنا بھی تیز تر ہو جائے؛ دینی علوم کے بغیر نا مکمل ہے۔ ماہنامہ التحقیقات جون 2026ء ذولحجۃ الحرام 1447ھ کا شمارہ آپ کے سامنے ہے۔ جس میں آپ جان سکیں گے: ”حج کے دینی و دنیاوی فوائد“ یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ اسلام ہمیں انسانی پستی سے عرشی بلندیوں تک لے جانے والا دین ہے۔ ہمارے اس پیارے اسلام میں جس بھی کام کا حکم دیا گیا ہے؛ اس کے فوائد و ثمرات حدِ شمار سے باہر ہیں۔ ہاں! ”رموزِ مملکت خویش خسرواں دانند۔“ (مملکت کء راز بادشاہ جانتے ہیں) تا ہم کسی کام کا فائدہ ہمیں بظاہر نظر آئے یا نہ آئے، اُس حکم کے پیچھے کی حکمتوں اور سر بستہ رازوں سے ہم اگاہ ہوں یا نہ ہوں؛ بغیر کسی تذبذب اور بلا چوں و چرا ہمارا اُس حکم کو مان لینا یہی اسلام ہے۔ یہی مسلمانی ہے۔ اس کے علاوہ آپ پڑھ سکیں گے: ”بے زبان جانوروں کی قربانی؛ ثواب کا کام کیسے۔“ یہ مضمون اس لیے بھی شاندار ہے کہ اس میں بد باطن، لا دین اور مذہب بیزار لوگوں کی طرف سے کیے جانے والے اسلامی احکامات پر طعن و تشنیع کی بابت کلام کیا گیا ہے۔ اور یاد رہے کہ ایسے لوگ پہلے اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے ہیں نہ اب کامیاب ہو سکیں گے ؎

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مُصطفویؐ سے شرارِ بُولہبی

البتہ اگر اپنا تعلق اللہ و رسول اور علمِ دین سے مضبوط نہیں ہوگا تو ایسے وار کسی کے لیے خطرۂ ایمان بن سکتے ہیں -الامان والحفیظ-

اسے پڑھیے اور اپنے علم میں اضافہ کیجیے۔ اور ہاں! اس سلسلۂ فروغِ علم کو اپنے تک محدود نہ کیجیے، کہ ماہنامہ پڑھا اور رکھ دیا؛ بلکہ اوروں کو بھی دعوتِ مطالعہ دیجیے؛ کہ کامل مومن وہ ہے جو اپنے لیے پسند کرے، وہی اپنے دوسرے مسلمان بھائی کے لیے پسند کرے۔

آپ کا خیر خواہ
ابو البیان القادری
21 مئی 2026ء

 #البقاء لله وحده  (رحمه الله تعالی)
10/05/2026

#البقاء لله وحده
(رحمه الله تعالی)

إنا لله إنا الیه راجعون
10/05/2026

إنا لله إنا الیه راجعون

”اردو کے ایک عظیم مصنّف“ کسی نے کہا تھا جہاں جہاں مَیں نہیں جا سکا، میری تحریر نے وہاں وہاں مجھے پہنچا دیا۔ یہی معاملہ م...
07/05/2026

”اردو کے ایک عظیم مصنّف“

کسی نے کہا تھا جہاں جہاں مَیں
نہیں جا سکا، میری تحریر نے وہاں وہاں مجھے پہنچا دیا۔ یہی معاملہ مفسر قرآن، حضرت ”مفتی ضیا احمد قادری، رضوی” صاحب (حفظہ اللہ) کا ہے۔

شاید 2022 یا 23 کی بات ہے۔ تب میں کراچی میں تھا۔ ایک الماری میں رکھی کتابیں دیکھ رہا تھا۔ اِسی دوران نظر ایک تفسیرِ قرآن پر پڑھی۔ نام دیکھا تو ”تفسیرِ ختمِ نبوت“۔ اردو میں ایک نئی تفسیر دیکھی۔ چوں کہ اردو میں بھی کئی ایک تفاسیر ہیں۔ جس شخص کی عربی کتابوں سے مناسبت ہو، وہ اردو تفاسیر کو بہت کم دیکھتا ہے۔ جب اِس تفسیر شریف کو کھولا، پڑھا تو اندازِ بیان ایسا تھا کہ بیان سے باہر۔ میں خوش بھی ہوا اور حیران بھی، کہ کیسا عظیم شخص ہے۔ اتنی پیاری تفسیر اردو میں لکھ ڈالی۔ اُسلوبِ تحریر ایسا کہ قاری ہر ہر صفحے بلکہ ہر ہر سطر سے اِس طرح مانوس ہو جائے کہ چھوڑنے کا دل نہ کرے۔ جس طرح بیٹا اپنی ماں سے اُنس رکھے، اور اُسے نہ چھوڑے۔ ایسی تفسیر بلا شبہ اردو زبان میں نہیں ہے۔ ہر ایک کی اردو مجھے اتنا مانوس بھی نہیں کرتی، بلکہ بسا اوقات مایوس کر دیتی ہے، حتی کہ اسے پڑھنا ترک کر دیتا ہوں۔ کیونکہ بندے کو دو چار سطریں پڑھ کر بھی اندازہ ہو جاتا ہے۔ لیکن حضرت مفتی صاحب کا معاملہ ایسا ہے کہ مجھے حسرت موہانی کا یہ شعر یاد آرہا ہے:

تجھ میں کچھ بات ہے ایسی، جو کسی میں نہ ملی
یوں تو اوروں سے بھی دل ہم نے لگا دیکھا ہے
دلِ بے تاب جو قابو میں نہیں ہے حسـرت
نگہِ شوق نے کیا جانیے کیا دیکھا ہے!

یہ کمال دیکھا، تو اِس شخص سے ملنے کا دل کیا۔ اہلِ عرب کا یہ محاورہ کہ ” یشمُ القلب، القلبَ“ (دل، دل کو سونگھتا ہے) پورا پورا یوں صادق آیا کہ ابھی کتاب و صاحبِ کتاب سے متعارف ہوئے ایک دو دن ہی گزرے تھے کہ اتفاق سے دار التحقیقات انٹرنیشنل کے گروپ سے مجھے یونیورسٹی کے ایک طالب علم کا پیغام آیا: ” یہ حضرت مفتی ضیا احمد قادری صاحب کا نمبر ہے، انھیں بھی دار التحقیقات میں شامل کریں۔“ ایسے لوگ تو گروپوں میں نہیں، در حقیقت دل میں سیو رکھنے کے ہوتے ہیں۔ مجھے اندر اندر بہت خوشی ہوئی کہ مفتی صاحب کی جان پہچان کو وقت نہیں گزرا کہ ان سے ملاقات کے اسباب پیدا ہو رہے ہیں۔ یہ ربط و ضبط کا سلسلہ تب سے شروع ہوا اور تا حال جاری ہے۔ آپ دامت فیوضھم نے اپنی کچھ کتابیں تحفے میں بھی وقتا فوقتا دیں۔ ہر کتاب کا اسلوب شان دار، جان دار اور ایک دم مزے دار کہ جو قاری کو اپنے لفظوں سے ہمتِ مومنانہ بیدار کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ اصل چیز ہی ہمت ہے۔ اسی لیے تو کہا گیا کہ” الھمة توقظ الأمه“ (ہمت امت کو بیدار کر دیتی ہے) ڈاکٹر اقبال نے اپنے لفظوں میں اسے یوں کہا؎

عصرِ ما مارا از ما بیگانہ کرد
از نگاہِ مصطفی بیگانہ کرد

اقبال جس ہمتِ مومنانہ، جس غیرتِ ایمانی، اور عقابی روح کی بیداری کے خواب دیکھتے تھے، بلا شبہ مفتی صاحب اُن کی تعبیر کر کے دکھا رہے ہیں۔ دن رات اپنے مشن پر جُٹے ہوئے ہیں۔ اور اُس کے آثار بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ (فلله الحمد علی ذالك) اللہ اور بھی برکت دے۔ مفتی صاحب کے متعلق پڑھنے، لکھنے والوں سے میں نے متعدد بار کہا ہے: یہ عجیب انسان ہیں۔ با کمال۔ یہ روحانی بندے ہیں۔ جس طرح کی لکھت کی اردو میں ضرورت ہے، بلا شبہ یہ اُس کو پورا کر رہے ہیں۔ اور یہ اردو زبان میں ایک بہترین خدمت ہے۔ لوگوں نے اپنے اپنے انداز سے اردو کی خدمت کی ہے، مگر دینی اعتبار سے یہ خدمت لا جواب و بے مثال خدمت ہے۔ اور ہاں! یہ محض لفاظی کے جوکھم سے ممکن بھی نہیں، مت کوئی سمجھے کہ یہ لفاظی کا کمال ہے، بلکہ مفتی صاحب کے دل میں رکھی اُس کشش کا اثر ہے، جسے غلبۂ دین کی جستجو، عشقِ رسول کی شمع اور نفاذِ نظامِ اسلام کی کڑھن سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ انھی فیوض و برکات سے، وہ وہ با کمال استدلالات اور اعجازِ قرآن کے پردوں میں چھپے ایسے ایسے معانی اِن کے قلم پر وارد ہوتے ہیں کہ عام شخص ہو یا خاص ہر ایک شَشدر رہ جاتا ہے۔

مفتی صاحب سے میری پہلی ملاقات لاہور میں ہوئی۔ پوچھا: آپ نے تفسیر کا آغاز کیوں کر کیا؟ فرمایا: میرے شیخِ مکرم (رحمہ اللہ تعالی) ایک دفعہ فجر کی نماز کے بعد میرے درسِ قرآن میں بیٹھے۔ تفسیر شریف کا درس ختم ہوا تو فرمانے لگے: ” میری زندگی گزر گئی، میرے بال سفید ہو گئے ہیں، لیکن آج تک ایسی تفسیر نہیں سنی۔“ اِسی حوصلہ افزائی نے مجھے تفسیرِ قرآن لکھنے پر آمادہ کیا۔ پہلے بھی تفسیرِ ختم نبوت، ناموسِ رسالت و ناموسِ صحابہ لکھ چکے ہیں۔

اور اب حضرت نے حال ہی میں ایک اور تفسیر شریف ” حبیب الرحمن “ کے نام سے لکھی ہے۔ مقدمے سے لے کر آخر تک کوئی بات ایسی نہیں کہ جسے ترک کیا جائے۔ بلکہ قاری کا ذوق کہہ رہا ہوتا ہے کہ؎

شکارِ مہ کہ تسخیرِ آفتاب کروں
کسے میں ترک کروں، کس کا انتخاب کروں؟!

مقدمہ بھی جان دار ہے اور اس کا ما بعد بھی شان دار۔ ایک تفسیر کا مطالعہ کرنے والا کئی ایک تفاسیر کا خلاصہ، اور کئی ایک معتبر کتب کے اقتباسات بھی پڑھ رہا ہوتا ہے۔

اِن کے متعلق میرے دل میں یہ بات ہے کہ، اردو کے قاری کو ہر وہ کتاب پڑھ لینی چاہیے، جس کے مؤلف مفتی ضیا احمد قادری صاحب ہوں۔ کیونکہ انھیں اللہ پاک نے وہ عظیم ملکہ بخشا ہے کہ یہ اگر ایک موضوع پر پانچ بار بھی لکھیں، بولیں تو ہر بار ایک نئے ڈھب اور جدا اسلوب سے لکھیں گے۔ یہ مہارت، عطیۂ خداوندی نہیں تو کیا ہے؟! بالفاظِ دیگر:

اندازِ بیاں رنگ بدل دیتا ہے
ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی نہیں ہے

مجھے اچھی طرح یاد ہے جب یہ تین سال پہلے کراچی بیانات کے دورے کے لیے آئے، ایک دکان پر میں بھی پہنچا، جہاں آپ نے درسِ قرآن شریف دیا، بعد از درس، حاضرین میں سے ایک شخص کہنے لگا، ہم کراچی کے لوگ اتنی دیر بیان میں نہیں بیٹھ سکتے، لیکن آپ کے بیان نے ہمیں بیٹھنے پر مجبور کر دیا ہے
(مفہوما) ۔ یہ وہی کشش ہے جس کا ذکر کیا۔ گھروں میں دینی ماحول چاہتے ہیں تو بھی یہی گزارش ہے کہ یہ جو لکھیں، جو بولیں، باذوق افراد اپنے ذوق کی پیاس بجھائیں اُن کی کتابوں کو پڑھ کر اور تقریروں کو سن کر۔ میرے بس میں ہو تو اُن کی جمیع کتب خرید کر، لوگوں میں تقسیم کر دوں، اسی طرح کئی ایک ایڈیشن آتے رہیں اور ختم ہوتے رہیں۔

سو میری آپ لوگوں سے یہ چند گزارشات ہیں:

¹ ان کی کتابوں کو خریدیں، خصوصا تفاسیرِ قرآن کو، اور اپنی اپنی مسجدوں میں اِس سے درس شروع کریں۔

² جو صاحبِ ثروت ہیں، وہ بڑی تعداد میں کتب خرید کر باذوق افراد تک پہنچائیں۔ ایسے مصنفین کا دست و بازو بنیں۔ آپ ان کی خدمت میں عرض کریں: آپ کتابیں لکھتے جائیں، چھپوانا، تقسیم کرنا ہمارا کام ہے۔

³ جو عربی، انگلش پر دسترس رکھتے ہوں، وہ اِن کی اجازت سے انگلش اور اردو میں کتابوں کو ترجمہ کریں۔ کیونکہ یہ دونوں عالمی زبانیں ہیں، اتنی اہم اہم تصانیف صرف پاک و ہند میں نہیں بلکہ عالَم بھر میں پڑھی، سمجھی جانی چاہیے۔

✍🏻ابو البیان القادری
7 مئی 2026ء (کوئٹہ)
(دار التحقیقات انٹرنیشنل)

  Mohammad Gulfam Raza Tahir Dar-Ul-Shifa
28/04/2026



Mohammad Gulfam Raza
Tahir Dar-Ul-Shifa

Address

Sambhal
244303

Telephone

+918868869786

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Darut Tahqiqat International posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share