16/03/2026
معتکفہ کا حالت اعتکاف میں شوہر سے بات کرنا
کیا فر ماتے ہین علمائے کرام ومفتیان شرع اسلام مسئلہ ذیل میں کہ
عورت حالت اعتکاف میں شوہر سے بات کر سکتی ہے یا نہیں؟؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں
بینوا مفصلا توجروا کثیرا
*السائل : محمد نجم الحسن جموں کشمیر*
الجــــــــــــــــــــــوابـــــــــــــــــــــــــ بعـــــــون المــــلــــک الــــوھــــــاب
*حالت اعتکاف میں عورت اپنے شوہر ہی سے نہیں بلکہ ضرورتاً اپنے محارم میں سے کسی سے بھی بات چیت کر سکتی ہے اور بلا ضرورت باتیں کرنا مکروہ ہے جیسا کہ فقیہ اعظم حضرت مفتی امجد علی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں؛؛* *معتکف اگر بہ نیت عبادت سکوت کرے یعنی چپ رہنے کو ثواب کی بات سمجھے تو مکروہ تحریمی ہے اور اگر چپ رہنا ثواب کی بات سمجھ کر نہ ہو تو حرج نہیں اور بری بات سے چپ تو یہ مکروہ نہیں بلکہ یہ تو اعلیٰ درجہ کی چیز ہے کیونکہ بری بات زبان سے نہ نکالنا واجب ہے اور جس میں نہ ثواب ہو نہ گناہ یعنی مباح بات بھی معتکف کو مکروہ ہے مگر بوقت ضرورت اور بے ضرورت مسجد میں مباح کلام نیکیوں کو ایسے کھاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو* 📚📚(بہار شریعت حصہ پنجم صفحہ 127) *لیکن یہ خیال رہے کہ عورت کو شوہر سے گفتگو کرتے وقت بوس وکنار میں مبتلاء ہو جانے اندیشہ ہو تو اسکو بات چیت کرنے سے مکمل اجتناب چاہیے کیونکہ بوس و کنار اس حالت میں ممنوع وگناہ ہے اور اگر انزال ہوگیا تو اعتکاف ہی فاسد ہوجائیگا جیسا کہ در مختار میں ہے📚📚و بطل بانزال بقبلة ولمس او تفخیذ ولو لم ینزل لم یبطل وان حرم الکل لعدم الحرج ➗➗➗اور اس حالت میں وطی کرنے سے بھی اعتکاف فاسد ہوجائیگا جسکی قضاء لازم ہوگی جیسا📚📚 رد المحتار میں ہے ان تکون الزوجة معتکفة فی مسجد بیتھا فیاتیھا فیہ زوجھا فیبطل اعتکافھا اھ* (جلد صفحہ 442) واللہ تعالٰی اعلم
*🖊️ کتبہ :أبو ثوبان محمد شمشاد القادری منظری غفرلہ*
خادم التدریس والافتاء الجامعة القادریہ رچھا ریلوے اسٹیشن بریلی شریف.
26 رمضان المبارک 1448
📲9️⃣4️⃣5️⃣8️⃣6️⃣1️⃣9️⃣5️⃣8️⃣2️⃣