knowledge of islam

knowledge of islam I am a Islamic scholar

*ایک ڈھکا ہوا برتن، اور صاف ستھرے گھر کا پورا فلسفہ* تحریر: محمد عثمان قاسمی متوطن رائے چوٹی موبائل نمبر:6302060622۹ اگس...
09/08/2026

*ایک ڈھکا ہوا برتن، اور صاف ستھرے گھر کا پورا فلسفہ*

تحریر: محمد عثمان قاسمی
متوطن رائے چوٹی
موبائل نمبر:6302060622
۹ اگست ۲۰۲۶ء | ۱۵ صفر ۱۴۴۸ھ

ہم اکثر نبی کریم ﷺ کی کسی ہدایت کو صرف ایک چھوٹے سے حکم کے طور پر پڑھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، حالاں کہ اس کے پیچھے ہماری پوری زندگی کے لیے ایک حکمت چھپی ہوتی ہے۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
*«غَطُّوا الإناءَ، وأوكوا السِّقاءَ»*
”برتن کو ڈھانک کر رکھو اور مشک کا منہ بند کرکے رکھو۔“(سنن ابن ماجہ)
یہ بظاہر ایک چھوٹی سی ہدایت ہے، لیکن اگر ہم اس پر ذرا غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تعلیم ہمارے روزمرہ گھریلو زندگی کے لیے بہت بڑی رہنمائی اپنے اندر رکھتی ہے۔
ہمیں صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ برتن ڈھکا ہوا ہے یا نہیں، بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ہمارا پورا گھر اس حکمت کے مطابق چل رہا ہے یا نہیں۔
*برتن ڈھانپنے کی حکمت کیا ہے؟*
کھانے کو ڈھانپنے کا مقصد یہ ہے کہ باہر کی کوئی مضر چیز اس میں نہ گرے، مکھیاں نہ بیٹھیں، گرد و غبار نہ پہنچے اور کھانا آلودہ ہونے سے محفوظ رہے۔
لیکن اگر ہم کھانے کا برتن تو ڈھانپ دیں اور گھر کے باقی ماحول کی صفائی کا خیال نہ رکھیں تو اس ہدایت کا مقصد بڑی حد تک فوت ہو جاتا ہے۔
*مثلاً* ہمارے گھروں میں کبھی تیل کی چھوٹی سی ڈبیا کھلی رہ جاتی ہے، سالن کھلا رہتا ہے، کسی ڈبے کا ڈھکن گم ہو جائے تو وہ چیز ہمیشہ کھلی پڑی رہتی ہے۔ کبھی صابن صابن دانی میں نہیں ہوتا بلکہ باتھ روم میں کہیں پڑا رہتا ہے اور اس پر گندگی کے چھینٹے بھی پڑتے رہتے ہیں۔
یہ سب معمولی باتیں محسوس ہوتی ہیں، لیکن حقیقت میں یہی چھوٹی چھوٹی بے احتیاطیاں گھر کے مجموعی ماحول کو غیر صاف اور غیر منظم بناتی ہیں۔
*صرف کھانا نہیں، دسترخوان بھی صاف ہونا چاہیے*
ہم کھانے کو ڈھانپنے کا اہتمام کرتے ہیں، لیکن جس جگہ کھانا رکھا جائے، اس کی صفائی کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔
دسترخوان صاف ہونا چاہیے۔ اس پر سالن کے داغ، پرانی چکنائی، بدبو یا دوسری گندگی نہیں ہونی چاہیے۔ کیونکہ اگر کوئی چیز پاک اور صاف بھی ہو، لیکن اسے گندے دسترخوان یا گندی جگہ پر رکھا جائے تو وہ آلودہ ہو سکتی ہے۔
*اسی طرح گھر کا صحن، نالیاں اور گھر کے آس پاس کا ماحول بھی صاف ہونا چاہیے* ۔
اگر نالیاں گندی ہوں، صحن میں کچرا پڑا ہو اور مکھیاں بھنبھناتی رہیں تو صرف کھانے کو ڈھانک دینے سے مقصد حاصل نہیں ہوگا۔
*
*دم پر لگائے جانے والے کپڑے کا بھی خیال رکھیے*
ہمارے گھروں میں کھانا پکنے کے بعد بعض اوقات دیگچی یا برتن کو کپڑے سے ڈھانپ کر دم دیا جاتا ہے۔ یہ کپڑا بھی صاف ہونا چاہیے۔
یہ نہیں ہونا چاہیے کہ جس کپڑے سے کبھی برتن صاف کیے، کبھی دیوار پونچھی، کبھی جالا صاف کیا، کبھی چولہا یا دوسری گندی جگہ صاف کی، اسی کپڑے کو کھانے کے برتن پر ڈال دیا جائے۔
ذرا غور کیجیے! کھانا گرم ہے، اس سے بھاپ نکل رہی ہے، اور یہی بھاپ اس گندے کپڑے سے ٹکرا رہی ہے۔ ظاہر ہے، اس کپڑے کی گندگی اور جراثیمی آلودگی کھانے تک پہنچنے کا امکان پیدا ہوگا۔
اس لیے کھانے کو ڈھانپنا بھی ہے اور صاف چیز سے ڈھانپنا بھی ہے۔

*برتن صرف خوبصورت نہیں، قابلِ صفائی بھی ہونا چاہیے*
نبوی ہدایت کا ایک اہم عملی پہلو یہ بھی ہے کہ ہم اپنے برتنوں کے انتخاب پر غور کریں۔
بعض برتن ظاہری طور پر بہت خوبصورت ہوتے ہیں، ان پر خوبصورت ڈیزائن، نقش و نگار اور ایسی ساخت ہوتی ہے کہ دیکھنے میں بہت اچھے لگتے ہیں؛ لیکن ان کے کونوں، درزوں اور پیچیدہ حصوں کو اچھی طرح صاف کرنا مشکل ہوتا ہے۔
ایسے برتن اگر صحیح طور پر صاف ہی نہ ہو سکیں تو ان کی خوبصورتی ہمارے لیے فائدے کے بجائے نقصان کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
جیسا کہ آج کل بچوں کے لیے کھانا لے جانے والے بعض پلاسٹک کے کیریئر اور بوتلیں بظاہر بہت خوبصورت اور attractive ہوتی ہیں۔ ان کے کئی الگ الگ boxes ہوتے ہیں، ڈیزائن بھی اچھا ہوتا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا انہیں اندر سے مکمل طور پر صاف کرنا بھی ممکن ہے؟
آپ حضرات میں سے جو لوگ سوشل میڈیا پر reels دیکھتے ہیں، ممکن ہے آپ نے بھی ایسی کوئی reel دیکھی ہو جس میں ایک شخص ایسے ہی پلاسٹک کے کیریئر کو کھول کر اس کی اندرونی تہوں اور جوڑوں کو دکھاتا ہے۔ بظاہر وہ کیریئر باہر سے بالکل صاف اور معمول کے مطابق نظر آتا ہے، لیکن جب اسے کھول کر اندر کی ساخت دیکھی گئی تو اس کے اندر کھانے کے ذرات، نمی، کچرا اور حتیٰ کہ چھوٹے کیڑے مکوڑے تک جمع نظر آئے۔
اس لیے برتن خریدتے وقت صرف یہ نہ دیکھیں کہ یہ خوبصورت ہے یا نہیں؟ بلکہ یہ بھی دیکھیں:
کیا اسے اچھی طرح صاف کیا جا سکتا ہے؟
*سادہ برتن کبھی کبھی زیادہ بہتر ہوتے ہیں*
ہمیں ہر چیز میں خوبصورتی اور جدید ڈیزائن کے پیچھے بھاگنے کی ضرورت نہیں۔
سادہ، مضبوط اور آسانی سے صاف ہونے والے اسٹیل کے برتن کئی مرتبہ زیادہ مفید ثابت ہوتے ہیں۔ پانی کی بوتل ہو یا کھانے کا ڈبہ، اگر اس کی ساخت ایسی ہے کہ اسے روزانہ اچھی طرح دھویا اور خشک کیا جا سکتا ہے تو یہ محض خوبصورتی سے زیادہ اہم بات ہے۔
اصل مقصد یہ ہے کہ برتن خوبصورت ہونے کے ساتھ صاف بھی رہ سکے۔
*کبھی اصل احتیاط یہ ہوتی ہے کہ ہم ایسی چیز ہی استعمال نہ کریں جو ہمارے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔*
آج کل گرم چائے، پانی، سالن اور دوسری گرم چیزیں پلاسٹک کی تھیلیوں یا ایسے پلاسٹک کے برتنوں میں لے جانے کا رواج بڑھ گیا ہے۔ خاص طور پر جب گرم کھانا یا مشروب کافی دیر تک ایسے مواد میں پڑا رہے تو اس کے بارے میں صحت کے ممکنہ اثرات پر احتیاط ضروری ہے۔
اس لیے صحت مند طرزِ زندگی کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم محفوظ اور مناسب برتن کا انتخاب کریں۔
نبوی ہدایت ہمیں ایک مکمل طرزِ زندگی سکھاتی ہے
”برتن ڈھانپ کر رکھو“ صرف ایک برتن کے ڈھکن کی بات نہیں۔
یہ ہمیں ایک پورا mindset سکھاتی ہے:
کھانا محفوظ رکھو،
برتن صاف رکھو،
دسترخوان صاف رکھو،
گھر کا صحن صاف رکھو،
نالیاں صاف رکھو،
صفائی کے کپڑے الگ اور صاف رکھو،
ایسے برتن استعمال کرو جنہیں اچھی طرح صاف کیا جا سکے،
اور ایسی چیزوں سے بھی بچو جو خود صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔
ایک ڈھکا ہوا برتن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ صحت اور صفائی صرف بڑی بڑی احتیاطوں کا نام نہیں؛ بلکہ زندگی کی چھوٹی چھوٹی چیزوں میں نظم اور احتیاط پیدا کرنے کا نام بھی ہے۔

Address

Rayachoti

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when knowledge of islam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share