knowledge of islam

Directions

knowledge of islam I am a Islamic scholar

*عظمتِ قرآن کے عنوان سے بختیار خان (چونا) مسجد، راۓچوٹی میں عظیم الشان اجلاس* از قلم: مولانا عثمان قاسمی رائے چوٹی17 ستم...
21/09/2026

*عظمتِ قرآن کے عنوان سے بختیار خان (چونا) مسجد، راۓچوٹی میں عظیم الشان اجلاس*
از قلم: مولانا عثمان قاسمی رائے چوٹی
17 ستمبر 2026ء، مطابق 5 ربیع الثانی 1448ھ، بختیار خان (چونا) مسجد، رائے چوٹی میں ’’ *عظمتِ قرآن* کے عنوان سے یہ بابرکت اجلاس جمعیۃ علماء ہند کے شعبہ دینی تعلیمی بورڈ کے تحت منعقد ہوا۔اس کا انعقاد بختیار خان (چونا) مسجد، رائے چوٹی کے زیرِ اہتمام کیا گیا۔یہ بابرکت اجتماع *حضرت مولانا رشید احمد صاحب قاسمی دامت برکاتہم* کے درسِ تفسیرِ قرآن کریم کی تیسری تکمیل کی مناسبت سے تھا۔
*حضرت مولانا رشید احمد صاحب قاسمی دامت برکاتہم* رائے چوٹی کے معروف عالمِ دین اور دینی تعلیمی بورڈ آندھرا پردیش کے جنرل سیکرٹری ہیں۔ ان کی زیرِ نگرانی درسِ قرآن کا یہ بابرکت سلسلہ جاری رہا اور تیسری مرتبہ تکمیل کی سعادت حاصل ہوئی۔ اس موقع پر منعقدہ اجلاس میں شہر و اطراف کے علاوہ دور دراز علاقوں سے بھی علماءِ کرام نے شرکت فرمائی، جس سے مجلس کی رونق، وقار اور علمی شان میں مزید اضافہ ہوا۔
اجلاس کی نظامت *حضرت اقدس مفتی رحیم اللہ خان صاحب دامت برکاتہم* ، نائب صدر جمعیۃ علماء آندھرا پردیش، نے نہایت سلیقے اور حسنِ ترتیب کے ساتھ فرمائی۔ اجلاس میں *حضرت اقدس ڈاکٹر قاضی عبدالماجد صاحب* ، صدر جمعیۃ علماء آندھرا پردیش، اور *حضرت مولانا عمر صاحب دامت برکاتہم* ، ناظمِ تنظیم جمعیۃ علماء، نے اپنے پرمغز، فکر انگیز اور ایمان افروز خطابات سے سامعین کو مستفید فرمایا۔
اس علمی و روحانی اجتماع میں جمعیۃ علماء کے دیگر ذمہ داران و کارکنان نے بھی بھرپور شرکت فرمائی۔ خصوصاً *حضرت مولانا حسین احمد صاحب معدنی* نائب صدر جمعیۃ علماء آندھرا پردیش، *حضرت مولانا رفیع صاحب انگول* نائب صدر جمعیۃ علماء آندھرا پردیش، اور *حافظ آصف صاحب* ناظمِ تنظیم جمعیۃ علماء آندھرا پردیش، کی شرکت بطورِ خاص قابلِ ذکر رہی۔
اس مجلس میں *حضرت مولانا رشید احمد صاحب قاسمی دامت برکاتہم* نے اپنے طویل تجربے کے چند اہم اور قابلِ توجہ پہلو بیان فرمائے۔ مہمانِ خصوصی *حضرت مولانا مفتی سلمان منصور پوری صاحب دامت برکاتہم العالیہ،* استادِ حدیث و فقہ دارالعلوم دیوبند، نے درسِ قرآن اور تفسیر کے حوالے سے نہایت قیمتی اصول اور رہنمائی پیش فرمائی۔ نیز *حضرت مفتی سید معصوم ثاقب صاحب دامت برکاتہم،* ناظم دارالعلوم امدادیہ رائے چوٹی، نے درسِ قرآن اور تفسیر کے سلسلے میں چند نہایت اہم اور قابلِ توجہ باتیں ارشاد فرمائیں ۔چونکہ اس مجلس میں شریک نہ ہونے والے بہت سے احباب بھی ان مفید باتوں سے استفادہ کرنا چاہیں گے، اس لیے مجلس میں بیان ہونے والے اہم نکات کو اپنی یادداشت کے مطابق اختصار کے ساتھ قلم بند کیا گیا تھا جس کو اب پیش کیا جا رہا ہے۔ الفاظ میں کمی بیشی ممکن ہے، تاہم حتی الامکان اصل مفہوم کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
*حضرت مولانا رشید احمد صاحب قاسمی دامت برکاتہم کے احساسات اور پیغام*
حضرت مولانا رشید احمد صاحب قاسمی دامت برکاتہم نے بتایا کہ انہوں نے اپنی 36 سالہ امامت کے دوران تین مرتبہ پورے قرآنِ کریم کا درس مکمل کیا ہے۔ مسجد میں امامت شروع کرنے کے ساتھ ہی درسِ تفسیر کا سلسلہ بھی شروع فرما دیا تھا۔ تیسری مرتبہ قرآنِ کریم کا درس تقریباً چودہ سال میں مکمل ہوا۔ جبکہ شروع کی دو تکمیل اس سے کم مدت میں انجام پائی تھیں۔ اس تکمیل ثالث کی تاخیر میں حضرت کی بڑھتی ہوئی مشغولیات کا بھی دخل رہا۔حضرت کا معمول یہ رہا کہ روزانہ فجر کے بعد درسِ تفسیر فرماتے ہیں۔ اس کے لیے عموماً عشاء کے بعد مطالعہ فرماتے ہیں۔ اگر کسی دن عشاء کے بعد مطالعہ کا موقع نہ مل سکے تو فجر سے پہلے اٹھ کر مطالعہ فرماتے ہیں۔حضرت نے فرمایا کہ اگر عشاء کے بعد اور فجر سے پہلے دونوں اوقات میں مطالعہ نہ ہوسکے تو اس دن درسِ تفسیر نہیں فرماتے۔آپ نے فرمایا کہ جب میں صبح کے وقت تفسیر کرتا ہوں تو قرآنِ پاک میرے سامنے ہوتا ہے۔رمضان المبارک میں بھی حضرت کا تفسیر کا معمول جاری رہتا ہے۔ اس دوران روزانہ ایک پارے کا خلاصہ بیان فرماتے ہیں۔ چونکہ پورے پارے کا خلاصہ پیش کرنا ہوتا ہے، اس لیے اس وقت قرآنِ کریم ہاتھ میں نہیں رکھتے۔حضرت نے اپنے اس طویل تجربے کا ایک اہم فائدہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ قرآنِ کریم کے مضامین مسلسل نظر سے گزرتے رہے، جس سے قرآنِ کریم کے ساتھ الحمدللہ ایک خاص تعلق پیدا ہوگیا۔حضرت نے فرمایا کہ میں سمجھتا ہوں کہ قرآنِ کریم کے ساتھ اس خاص تعلق ہی کی برکت ہے کہ الحمدللہ زندگی میں دن بدن برکتیں محسوس ہوتی گئیں۔ حضرت نے یہ بھی بتایا کہ ہر مرتبہ تفسیر کرتے ہوئے ایک ہی انداز سے وہی مضامین دہرانے کے بجائے نئے پہلو سامنے رکھنے کی کوشش کی۔ جو مضمون کسی جہت سے پہلے بیان نہیں ہوسکا، اگلی تکمیل میں اس پر گفتگو کی گئی۔اس طرح تین مرتبہ قرآنِ کریم کی تکمیل کے باوجود ہر مرتبہ نئے مضامین اور نئے پہلو سامنے آتے رہے۔حضرت مولانا رشید احمد صاحب کا مقصد صرف اپنی ذات تک درسِ قرآن کو محدود رکھنا نہیں تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ جو علماء مساجد میں امامت کی ذمہ داری انجام دے رہے ہیں، وہ بھی قرآنِ کریم کے درس کا سلسلہ شروع کریں۔اسی جذبے کے تحت حضرت نے متعدد علماء کو اس طرف متوجہ فرمایا۔ یہاں تک کہ بعض علماء کے نام بھی لکھوائے، تاکہ بعد میں ان سے رابطہ کرکے معلوم کیا جاسکے کہ انہوں نے درسِ قرآن کا آغاز کیا یا نہیں۔یہی جذبہ حضرت کے اس اجلاس کے انعقاد کے پس منظر میں بھی نمایاں تھا کہ علماء کے درمیان درسِ قرآن کا ذوق پیدا ہو اور قرآنِ کریم کی خدمت کا یہ سلسلہ مزید وسیع ہو۔
*مولانانے ایک نہایت قابلِ غور بات کی طرف بھی توجہ دلائی* کہ آج ہمارے علاقوں میں بعض لوگوں کے ذہن میں قرآنِ کریم کے بارے میں یہ تصور پیدا ہوگیا ہے کہ یہ محض برکت حاصل کرنے، گھر کے کاموں میں آسانی پیدا کرنے یا جنات و شیاطین سے حفاظت حاصل کرنے کی کتاب ہے۔ چنانچہ سورۂ یٰسین پڑھنے سے دن بھر کے کاموں میں برکت، سورۂ واقعہ پڑھنے سے روزی میں کشادگی، اور سورۂ بقرہ کی تلاوت سے گھر کو جنات و شیاطین سے محفوظ رکھنے کا تصور عام ہوتا جارہا ہے۔بلاشبہ قرآنِ کریم کی تلاوت میں برکت اور اس کے کلام میں خیر و عظمت ہے، لیکن قرآنِ کریم کے نزول کا اصل مقصد محض برکت حاصل کرنا نہیں، بلکہ اس سے ہدایت اور رہنمائی حاصل کرنا ہے۔قرآنِ کریم سراپا ہدایت ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان اس سے اپنی زندگی کے لیے رہنمائی حاصل کرے، اس کی تعلیمات کو سمجھے، انہیں اپنی زندگی کا عملی نمونہ بنائے اور اپنے معاملات و کردار کو قرآن کے مطابق ڈھالے۔اس لیے ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ لوگوں کو صرف قرآن کی تلاوت اور برکت تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ انہیں قرآن کو سمجھنے، اس سے رہنمائی لینے اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق بنانے کی طرف متوجہ کیا جائے۔ یہی قرآنِ کریم سے حقیقی تعلق ہے۔
*حضرت مولانا مفتی سلمان منصور پوری صاحب دامت برکاتہم کے تفسیری افادات*
مہمانِ خصوصی حضرت مولانا مفتی سلمان منصور پوری صاحب دامت برکاتہم العالیہ، استادِ حدیث و فقہ دارالعلوم دیوبند،نے مجلس میں شریک علماء کے سامنے درسِ قرآن اور تفسیر کے حوالے سے نہایت اہم اور بنیادی نکات بیان فرمائے۔
*ترجمہ میں زیادہ احتیاط کی ضرورت* :
حضرت نے فرمایا ’’ترجمہ مشکل ہے، تفسیر آسان ہے‘‘ اس سے حضرت نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ ترجمہ کرتے وقت الفاظ کے انتخاب میں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ ترجمہ کے الفاظ بہت نپے تلے اور درست ہونے چاہئیں۔حضرت نے یہ بھی فرمایا کہ تفسیر کرتے وقت سامنے صرف معری قرآن نہ ہو، بلکہ ترجمے والا قرآنِ کریم سامنے ہونا چاہیے۔ اور ترجمہ بھی اکابر علماء کا مستند ترجمہ ہو۔
*تفسیر میں بے احتیاطی سے بچنے کی ضرورت*
حضرت نے درمختار کے حوالے سے بیان فرمایا کہ تفسیر کو ان علوم میں شمار کیا گیا ہے جن میں ابھی مزید پختگی اور چھان بین کی ضرورت ہے۔تفسیر کی بعض کتابوں میں ایسی روایات اور اقوال بھی موجود ہیں جن کے بارے میں احتیاط کی ضرورت ہے۔ حضرت نے اس زمرے میں تفسیر قرطبی، روح البیان اور تفسیر رازی کا بھی ذکر فرمایا۔حضرت نے فرمایا کہ تفسیر کے دوران جو نئی اور چکنی چپڑی باتیں بعض اوقات سامنے آتی ہیں، وہ بسا اوقات انہی کتابوں سے لی جاتی ہیں۔تاہم حضرت نے یہ بھی فرمایا کہ ان سب باتوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کا کلام اپنی جگہ محفوظ ہے اور اسے کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔
*عوام کے لیے آسان اندازِ تفسیر*
حضرت نے فرمایا کہ درسِ تفسیر کے دوران دقیق اور کلامی بحثوں میں زیادہ نہیں پڑنا چاہیے۔ اگر کسی مسئلے میں متعدد اقوال ہوں اور وہ اقوال طلبہ کے لیے بھی سمجھنا مشکل ہوں تو عوام کے سامنے ایسی تفصیلات پیش کرکے انہیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہیے۔الفاظ اور تعبیرات آسان ہونی چاہئیں۔اسی سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشادہے:وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ
حضرت نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ یہ تو ایسی ہی ہے کہ آج کل نظامت کی کتابیں بھی تصنیف کرلی گئی ہیں اور موقع و محل کی رعایت کے بغیر ہر جگہ اور ہر کسی کیلئے وہی الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ آپ نے فرمایاقرآن میں احکام سے زیادہ نصیحتیںحضرت نے بیان فرمایا کہ قرآنِ کریم میں احکام و مسائل سے متعلق آیات تقریباً پانچ سو ہیں، جبکہ نصیحت اور ہدایت کے مضامین بے شمار ہیں۔اس لیے درسِ قرآن میں قرآن کے ہدایت اور نصیحت کے پہلو کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔
*آیاتِ متشابہات میں غیر ضروری تفصیل سے گریز*
حضرت نے فرمایا کہ آیاتِ متشابہات کی تفصیل میں زیادہ نہیں جانا چاہیے۔ جو بات شریعت نے واضح طور پر بیان کردی ہے،اور جو ہم کو ماننا ہے اسے بیان کیا جائے اور غیر ضروری بحث سے اجتناب کیا جائے۔
*تفسیر کا صحیح اور تدریجی طریقہ*
حضرت مفتی سلمان صاحب نے تفسیر کے لیے ایک تدریجی اور صحیح منہج بھی بیان فرمایا۔پہلا درجہ: تفسیر القرآن بالقرآن پہلے قرآنِ کریم کی تفسیر خود قرآنِ کریم سے کی جائے۔
اس کی مثال میں حضرت نے آیت:صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ پیش فرمائی، جس کی وضاحت دوسری آیت میں موجود ہے:وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ اسی طرح دوسری مثال یہ پیش فرمائی:الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَٰئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ یہاں ظلم سے کیا مراد ہے، اس کی وضاحت دوسری آیت میں موجود ہے:إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ.دوسرا درجہ: تفسیر القرآن بالحدیث دوسرے درجے میں احادیثِ مبارکہ سے قرآن کی تفسیر کی جائے۔اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرمایا:لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ یعنی قرآنِ کریم کی تشریح اور وضاحت کے لیے سنتِ مبارکہ کی طرف رجوع ضروری ہے۔مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا:وَلَٰكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَخاتم النبیین کی وضاحت خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی:أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي اسی طرح قرآنِ کریم میں نماز کے بارے میں فرمایا:أَقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ، وَاسْجُدُوانماز کی تفصیلات ہمیں احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتی ہیں۔لہٰذا احادیثِ نبویہ سے ہٹ کر اپنی طرف سے قرآن کے معنی اور مفاہیم گھڑنا درست نہیں۔تیسرا درجہ: تفسیر بالآثارتیسرے درجے میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے فہم اور تفسیری اقوال کو سامنے رکھا جائے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہ کے لیے قرآن کے علم کی دعا فرمائی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ دعا منقول ہے:اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَاس لیے حضرت عباس رضی اللہ عنہما اور ان کے شاگرد حضرت مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ کے تفسیری اقوال کو خاص اہمیت حاصل ہے۔اگر تفسیر میں مختلف اقوال ہوں تو انہی معتبر اقوال میں سے کسی ایک کو اختیار کیا جائے۔اپنی سوچ اور اپنی رائے سے قرآنِ کریم میں کوئی نیا مفہوم داخل نہیں کیا جاسکتا۔
*ہر شخص کے لیے تفسیر کرنا مناسب نہیں*
حضرت نے یہ بھی فرمایا کہ درسِ قرآن اور تفسیر ہر شخص کے بس کی بات نہیں۔ اس کے لیے خاص علمی استعداد اور قرآن و حدیث کو سمجھنے کی صلاحیت ضروری ہے۔جمعیۃ علماء میں جب درسِ قرآن کو عام کرنے کی بات سامنے آئی تو حضرت نے اس سلسلے میں توجہ دلائی کہ درسِ قرآن ہر شخص کے لیے نہیں ہے۔ یہ معمولی چیز نہیں کہ ہر شخص اپنی رائے سے قرآن کی تفسیر شروع کردے۔البتہ جن علماء میں علمی استعداد ہو اور جو قرآن و حدیث کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، وہ تفسیر کریں۔ ورنہ ہمارے اکابر علماء کی لکھی ہوئی معتبر اور آسان اردو تفاسیر سے استفادہ کیا جائے اور ان سے لوگوں کو قرآن کا مفہوم سمجھایا جائے۔
*تفسیر ابن کثیر کی خصوصیت*
حضرت نے تفسیر کے اسی صحیح منہج پر لکھی گئی ایک نہایت اہم کتاب تفسیر ابن کثیر کا ذکر فرمایا۔حضرت نے فرمایا کہ تفسیر ابن کثیر میں تقریباً 90 فیصد مواد اسی منہج کے مطابق ہے؛ یعنی قرآن کی تفسیر قرآن، پھر حدیث اور پھر آثارِ صحابہ کے ذریعے کی گئی ہے۔حضرت نے فرمایا کہ آیت کے نفسِ معنی اور اصل مفہوم کے اعتبار سے جو مواد تفسیر ابن کثیر میں ملتا ہے، وہ دوسری تفاسیر میں اس کثرت سے نہیں ملتا۔اس میں غیر ضروری صرفی، بلاغتی اور دوسری بحثیں زیادہ نہیں ہیں، بلکہ آیت کے اصل معنی اور مفہوم پر زیادہ توجہ دی گئی ہے۔
*روح المعانی سے استفادہ*
حضرت نے روح المعانی کا بھی ذکر فرمایا اور بتایا کہ اس میں تصوف کے مباحث زیادہ ہیں۔ تصوف کے موضوع پر یہ تفسیر اہم ہے، تاہم اس سے ہر شخص یکساں طور پر استفادہ نہیں کرسکتا۔ اس کے لیے علمی استعداد ضروری ہے۔
*بیان القرآن کی خصوصیت* :
حضرت نے بیان القرآن کا بھی ذکر فرمایا اور اسے حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی نہایت عمدہ تفسیر قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اس میں بہت چھان پھٹک کی گئی ہے اور مغزِ کلام پیش کیا گیا ہے۔حضرت نے درمختار کے حوالے سے مفسرین کی اس بات کا ذکر فرمایا کہ تفسیر ایسا علم ہے جس میں مزید چھان بین کی ضرورت ہے۔ حضرت نے فرمایا کہ اگر وہ حضرات بیان القرآن کو دیکھ لیتے تو شاید ایسی بات نہ کہتے۔کسی صاحبِ علم کے حوالے سے حضرت نے یہ بات بھی بیان فرمائی کہ جب مختلف تفاسیر کا مطالعہ کرنے کے بعد آخر میں بیان القرآن کو دیکھتا ہوں تو بہت سی مستند باتوں کا نچوڑ اور اچھا حل اس میں مل جاتا ہے۔
*قرآن کی خدمت میں اخلاص*
حضرت نے قرآنِ کریم کا ترجمہ اور تفسیر کرتے وقت نیت کی درستگی کی طرف بھی توجہ دلائی۔حضرت امام مسلم رحمہ اللہ کے حوالے سے ایک واقعہ بیان فرمایا کہ جب لوگوں نے ایسی کتاب لکھنے کی درخواست کی جس میں خاص شرائط کی پابندی ہو تو انہوں نے فرمایا کہ کام اگرچہ بڑا دشوار ہے، لیکن مجھے اس سے ضرور فائدہ ہوگا۔حضرت نے فرمایا کہ جب یہ احساس ہو کہ میرے اس کام سے مجھے بھی فائدہ ہوگا تو سامنے دس آدمی ہوں یا سو، آدمی کا انداز نہیں بدلتا اور نشاط بھی باقی رہتا ہے۔اس اخلاص کے ساتھ انسان یکسوئی کے ساتھ قرآنِ کریم کی خدمت کرسکتا ہے۔
*قرآنِ کریم سراپا ہدایت ہے*
حضرت نے فرمایا:إِنَّ هَٰذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُقرآنِ کریم انسان کو سیدھے اور درست راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔قرآن کو رہبر بنا لیا جائے تو انسان کو صحیح راستہ ملتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کی طرف پہنچ سکتا ہے۔اسی طرح قرآنِ کریم کی بشارت کا ذکر کرتے ہوئے یہ آیت پیش فرمائی:يُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا حَسَنًاحضرت نے فرمایا کہ قرآنِ کریم سے تعلق بڑی سعادت کی بات ہے۔اور روزانہ درسِ قرآن کا سلسلہ جاری رکھنے کو ہفتہ وار یا ماہانہ مجلس کے مقابلے میں زیادہ مفید قرار دیا۔
*حضرت مفتی سید معصوم ثاقب دامت برکاتہم کی اہم نصیحتیں*
اس مجلس میں حضرت مفتی معصوم ثاقب صاحب، ناظم دارالعلوم امدادیہ رائے چوٹی، نے درسِ قرآن اور تفسیر کے سلسلے میں چند نہایت اہم اور قابلِ توجہ باتیں ارشاد فرمائیں۔
*تفسیر میں معتبر ترجمے کی اہمیت*
حضرت نے فرمایا کہ تفسیرِ قرآن کرتے وقت ایک معتبر ترجمہ ضرور سامنے رکھنا چاہیے۔ اس سے آدمی موضوع اور اصل مفہوم سے ہٹنے سے محفوظ رہتا ہے۔ اگر ترجمہ سامنے نہ ہو تو بعض اوقات آدمی ایسی بات بیان کرنے لگتا ہے جو تفسیر کے اصل موضوع سے الگ ہو۔حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی رحمہ اللہ کے ترجمۂ قرآن کی اہمیت بیان کرتے ہوئے حضرت نے پہلے پارے کی آیت کے ایک ٹکڑے:بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ کی مثال دی اور فرمایا کہ شیخ الہند رحمہ اللہ نے اس کا ترجمہ "وہ جھوٹ کہتے تھے" کیا ہے۔"جھوٹ کہتے تھے" اور "جھوٹ بولتے تھے" کے استعمال میں بھی فرق ہے، اردو کا ذوق رکھنے والے اس کو جانتے ہیں۔چنانچہ جلالین میں يُكَذِّبُونَ اور يَكْذِبُونَ دونوں قراءتیں مذکور ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ترجمہ اور الفاظ کے انتخاب میں کس قدر احتیاط کی ضرورت ہے۔
*تفسیر میں وقت اور حالات کی رعایت*
فجر کے بعد درسِ قرآن کے سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے حضرت نے فرمایا کہ فضائلِ اعمال وغیرہ کا نظام ہو تو اسے بلاوجہ سختی سے باندھنے کی ضرورت نہیں۔ اگر حالات اور وقت میں تبدیلی کی گنجائش ہو تو وقت کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔خواہ مخواہ نزاع اور سختی کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔
*عوام کے سامنے تفسیر کا انداز*
حضرت نے خاص طور پر اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ عوام کے سامنے تفسیر کرتے ہوئے ایسی دقیق اور فنی باتیں بیان نہ کی جائیں جو ان کے فہم اور عقل سے بالاتر ہوں۔اسی سلسلے میں مسکرا کر ایک مثال بیان فرمائی کہ عوام کے سامنے تفسیر کرتے ہوئے ایسی بحث میں نہ پڑا جائے کہ فلاں آیت میں ضمیر کا مرجع کون ہے۔ مثلاً کسی نے عوام کے سامنے یہ بحث شروع کردی کہ ضمیر کا مرجع ابلیس کی طرف ہے۔کسی نے کہا: حضرت! ہم اب تک یہ سنتے آئے تھے کہ پورا قرآنِ کریم 23 سال میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔اب یہ مولانا کہہ رہے ہیں ’’ابلیس کی طرف ‘‘مقصد یہ تھا کہ عوام کو علوم و فنون کی پیچیدہ بحثوں میں الجھانے کے بجائے سیدھے اور آسان انداز میں آیت کا مفہوم سمجھایا جائے۔
*ابتدائی مرحلے میں اہلِ علم کی رہبری*
جو حضرات تفسیر کا سلسلہ شروع کرنا چاہتے ہوں اور ابھی ابتدائی مرحلے میں ہوں، ان کے لیے حضرت نے رہنمائی فرمائی کہ بڑے اور معتبر علماء کی رہبری اور نگرانی میں یہ کام کیا جائے۔اسی سلسلے میں رائے چوٹی و اطراف کے علماء کے لیے آپ نے چونا مسجد کے خطیب، بڑے عالم حضرت مولانا رشید احمد صاحب قاسمی رائے چوٹی سے رہنمائی لینے کی طرف بھی توجہ دلائی۔
*تفسیر کے لیے وقت کی پابندی اور وسعت*
کچھ علماء کی طرف سے تفسیر کے لیے دس منٹ کے وقت کی بات آئی تو حضرت نے فرمایا کہ پندرہ یا بیس منٹ بھی ہوجائیں تو کوئی حرج نہیں۔اسی موقع پر حضرت نے اپنے اکابر کی طرف منسوب ایک نہایت اہم بات بیان فرمائی۔ فرمایا کہ کبھی مقررہ وقت میں مضمون مکمل نہ ہو تو اس بات سے پریشان نہیں ہونا چاہیے کہ میں نے نتیجہ نہیں بتایا، یہ قید نہیں بتائی، کہیں لوگ گمراہ نہ ہوجائیں۔اس فکر کی وجہ سے بعض اوقات آدمی مقررہ وقت سے بہت زیادہ وقت لے لیتا ہے اور لوگوں کو شکایت کا موقع ملتا ہے۔اور اگر آدمی بات مکمل نہ کرسکے تو پھر وہ خود بھی اندر ہی اندر پریشان رہتا ہے کہ معلوم نہیں لوگوں نے کیا سمجھ لیا ہوگا، کہیں میری وجہ سے کوئی غلط فہمی تو پیدا نہیں ہوگئی۔حضرت نے فرمایا:"میں بھی پہلے اسی طرح سمجھتا تھا۔"پھر غالباً کسی بزرگ کے حوالے سے یہ بات ارشاد فرمائی کہ *قرآنِ کریم پورے تئیس سال میں نازل ہوا۔ جو کلام تئیس سال میں نازل ہوا، اسے کوئی شخص بیس، پچیس یا تیس منٹ میں کیسے مکمل بیان کرسکتا ہے؟اللہ تعالیٰ نے جس قدر وسعت عطا فرمائی ہے اور جو بات ذہن میں ڈال دی ہے، اسے بیان کردیں؛ باقی اللہ تعالیٰ خود اس کا انتظام فرمائیں گے* ۔لہٰذا وقت کے معاملے میں ضرورت سے زیادہ تشویش میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے کلام کی بات ہے، اللہ تعالیٰ خود اس کی حفاظت اور اثر کا انتظام فرمائیں گے۔
*قرآنِ کریم کا ادب و احترام*
حضرت نے اس طرف بھی توجہ دلائی کہ تفسیر کرتے وقت قرآنِ کریم کے ادب و احترام کا عملی مظاہرہ ہونا چاہیے۔کلامِ پاک کو جزدان میں رکھنا اور اپنے قول و عمل سے اس کی عظمت ظاہر کرنا بھی قرآن کی عزت و احترام کی ترغیب کا ذریعہ ہے۔
*اصلاح میں حکمت اور نرمی*
حضرت نے تفسیر کے اصل موضوع سے ہٹ کر چند نہایت اہم اصلاحی باتیں بھی ارشاد فرمائیں۔ فرمایا کہ کبھی عقائد بیان کریں، کبھی معاملات سمجھائیں، لیکن مخاطب کو اپنا مخالف سمجھ کر ٹیڑھی ترچھی باتیں نہ کریں۔جو رسم، رواج یا بدعت لوگوں میں جتنی مضبوط ہوچکی ہو، اسے ختم کرنے کے لیے اتنی ہی حکمت، نرمی اور آسان انداز کی ضرورت ہوتی ہے۔عالم قوم کے روحانی باپ کی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے اسے امت کے ساتھ شفقت، محبت اور خیرخواہی کا معاملہ کرتے ہوئے لوگوں کو سمجھانا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ ان تمام اکابر علماء کی ان قیمتی نصیحتوں کو ہمارے لیے نافع بنائے، ہمیں قرآنِ کریم کو صحیح طور پر سمجھنے، سمجھانے، اس کا ادب کرنے اور اس کی تعلیم کو حکمت و اخلاص کے ساتھ عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)

*ایک ڈھکا ہوا برتن، اور صاف ستھرے گھر کا پورا فلسفہ* تحریر: محمد عثمان قاسمی متوطن رائے چوٹی موبائل نمبر:6302060622۹ اگس...
09/08/2026

*ایک ڈھکا ہوا برتن، اور صاف ستھرے گھر کا پورا فلسفہ*

تحریر: محمد عثمان قاسمی
متوطن رائے چوٹی
موبائل نمبر:6302060622
۹ اگست ۲۰۲۶ء | ۱۵ صفر ۱۴۴۸ھ

ہم اکثر نبی کریم ﷺ کی کسی ہدایت کو صرف ایک چھوٹے سے حکم کے طور پر پڑھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، حالاں کہ اس کے پیچھے ہماری پوری زندگی کے لیے ایک حکمت چھپی ہوتی ہے۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
*«غَطُّوا الإناءَ، وأوكوا السِّقاءَ»*
”برتن کو ڈھانک کر رکھو اور مشک کا منہ بند کرکے رکھو۔“(سنن ابن ماجہ)
یہ بظاہر ایک چھوٹی سی ہدایت ہے، لیکن اگر ہم اس پر ذرا غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تعلیم ہمارے روزمرہ گھریلو زندگی کے لیے بہت بڑی رہنمائی اپنے اندر رکھتی ہے۔
ہمیں صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ برتن ڈھکا ہوا ہے یا نہیں، بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ہمارا پورا گھر اس حکمت کے مطابق چل رہا ہے یا نہیں۔
*برتن ڈھانپنے کی حکمت کیا ہے؟*
کھانے کو ڈھانپنے کا مقصد یہ ہے کہ باہر کی کوئی مضر چیز اس میں نہ گرے، مکھیاں نہ بیٹھیں، گرد و غبار نہ پہنچے اور کھانا آلودہ ہونے سے محفوظ رہے۔
لیکن اگر ہم کھانے کا برتن تو ڈھانپ دیں اور گھر کے باقی ماحول کی صفائی کا خیال نہ رکھیں تو اس ہدایت کا مقصد بڑی حد تک فوت ہو جاتا ہے۔
*مثلاً* ہمارے گھروں میں کبھی تیل کی چھوٹی سی ڈبیا کھلی رہ جاتی ہے، سالن کھلا رہتا ہے، کسی ڈبے کا ڈھکن گم ہو جائے تو وہ چیز ہمیشہ کھلی پڑی رہتی ہے۔ کبھی صابن صابن دانی میں نہیں ہوتا بلکہ باتھ روم میں کہیں پڑا رہتا ہے اور اس پر گندگی کے چھینٹے بھی پڑتے رہتے ہیں۔
یہ سب معمولی باتیں محسوس ہوتی ہیں، لیکن حقیقت میں یہی چھوٹی چھوٹی بے احتیاطیاں گھر کے مجموعی ماحول کو غیر صاف اور غیر منظم بناتی ہیں۔
*صرف کھانا نہیں، دسترخوان بھی صاف ہونا چاہیے*
ہم کھانے کو ڈھانپنے کا اہتمام کرتے ہیں، لیکن جس جگہ کھانا رکھا جائے، اس کی صفائی کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔
دسترخوان صاف ہونا چاہیے۔ اس پر سالن کے داغ، پرانی چکنائی، بدبو یا دوسری گندگی نہیں ہونی چاہیے۔ کیونکہ اگر کوئی چیز پاک اور صاف بھی ہو، لیکن اسے گندے دسترخوان یا گندی جگہ پر رکھا جائے تو وہ آلودہ ہو سکتی ہے۔
*اسی طرح گھر کا صحن، نالیاں اور گھر کے آس پاس کا ماحول بھی صاف ہونا چاہیے* ۔
اگر نالیاں گندی ہوں، صحن میں کچرا پڑا ہو اور مکھیاں بھنبھناتی رہیں تو صرف کھانے کو ڈھانک دینے سے مقصد حاصل نہیں ہوگا۔
*
*دم پر لگائے جانے والے کپڑے کا بھی خیال رکھیے*
ہمارے گھروں میں کھانا پکنے کے بعد بعض اوقات دیگچی یا برتن کو کپڑے سے ڈھانپ کر دم دیا جاتا ہے۔ یہ کپڑا بھی صاف ہونا چاہیے۔
یہ نہیں ہونا چاہیے کہ جس کپڑے سے کبھی برتن صاف کیے، کبھی دیوار پونچھی، کبھی جالا صاف کیا، کبھی چولہا یا دوسری گندی جگہ صاف کی، اسی کپڑے کو کھانے کے برتن پر ڈال دیا جائے۔
ذرا غور کیجیے! کھانا گرم ہے، اس سے بھاپ نکل رہی ہے، اور یہی بھاپ اس گندے کپڑے سے ٹکرا رہی ہے۔ ظاہر ہے، اس کپڑے کی گندگی اور جراثیمی آلودگی کھانے تک پہنچنے کا امکان پیدا ہوگا۔
اس لیے کھانے کو ڈھانپنا بھی ہے اور صاف چیز سے ڈھانپنا بھی ہے۔

*برتن صرف خوبصورت نہیں، قابلِ صفائی بھی ہونا چاہیے*
نبوی ہدایت کا ایک اہم عملی پہلو یہ بھی ہے کہ ہم اپنے برتنوں کے انتخاب پر غور کریں۔
بعض برتن ظاہری طور پر بہت خوبصورت ہوتے ہیں، ان پر خوبصورت ڈیزائن، نقش و نگار اور ایسی ساخت ہوتی ہے کہ دیکھنے میں بہت اچھے لگتے ہیں؛ لیکن ان کے کونوں، درزوں اور پیچیدہ حصوں کو اچھی طرح صاف کرنا مشکل ہوتا ہے۔
ایسے برتن اگر صحیح طور پر صاف ہی نہ ہو سکیں تو ان کی خوبصورتی ہمارے لیے فائدے کے بجائے نقصان کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
جیسا کہ آج کل بچوں کے لیے کھانا لے جانے والے بعض پلاسٹک کے کیریئر اور بوتلیں بظاہر بہت خوبصورت اور attractive ہوتی ہیں۔ ان کے کئی الگ الگ boxes ہوتے ہیں، ڈیزائن بھی اچھا ہوتا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا انہیں اندر سے مکمل طور پر صاف کرنا بھی ممکن ہے؟
آپ حضرات میں سے جو لوگ سوشل میڈیا پر reels دیکھتے ہیں، ممکن ہے آپ نے بھی ایسی کوئی reel دیکھی ہو جس میں ایک شخص ایسے ہی پلاسٹک کے کیریئر کو کھول کر اس کی اندرونی تہوں اور جوڑوں کو دکھاتا ہے۔ بظاہر وہ کیریئر باہر سے بالکل صاف اور معمول کے مطابق نظر آتا ہے، لیکن جب اسے کھول کر اندر کی ساخت دیکھی گئی تو اس کے اندر کھانے کے ذرات، نمی، کچرا اور حتیٰ کہ چھوٹے کیڑے مکوڑے تک جمع نظر آئے۔
اس لیے برتن خریدتے وقت صرف یہ نہ دیکھیں کہ یہ خوبصورت ہے یا نہیں؟ بلکہ یہ بھی دیکھیں:
کیا اسے اچھی طرح صاف کیا جا سکتا ہے؟
*سادہ برتن کبھی کبھی زیادہ بہتر ہوتے ہیں*
ہمیں ہر چیز میں خوبصورتی اور جدید ڈیزائن کے پیچھے بھاگنے کی ضرورت نہیں۔
سادہ، مضبوط اور آسانی سے صاف ہونے والے اسٹیل کے برتن کئی مرتبہ زیادہ مفید ثابت ہوتے ہیں۔ پانی کی بوتل ہو یا کھانے کا ڈبہ، اگر اس کی ساخت ایسی ہے کہ اسے روزانہ اچھی طرح دھویا اور خشک کیا جا سکتا ہے تو یہ محض خوبصورتی سے زیادہ اہم بات ہے۔
اصل مقصد یہ ہے کہ برتن خوبصورت ہونے کے ساتھ صاف بھی رہ سکے۔
*کبھی اصل احتیاط یہ ہوتی ہے کہ ہم ایسی چیز ہی استعمال نہ کریں جو ہمارے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔*
آج کل گرم چائے، پانی، سالن اور دوسری گرم چیزیں پلاسٹک کی تھیلیوں یا ایسے پلاسٹک کے برتنوں میں لے جانے کا رواج بڑھ گیا ہے۔ خاص طور پر جب گرم کھانا یا مشروب کافی دیر تک ایسے مواد میں پڑا رہے تو اس کے بارے میں صحت کے ممکنہ اثرات پر احتیاط ضروری ہے۔
اس لیے صحت مند طرزِ زندگی کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم محفوظ اور مناسب برتن کا انتخاب کریں۔
نبوی ہدایت ہمیں ایک مکمل طرزِ زندگی سکھاتی ہے
”برتن ڈھانپ کر رکھو“ صرف ایک برتن کے ڈھکن کی بات نہیں۔
یہ ہمیں ایک پورا mindset سکھاتی ہے:
کھانا محفوظ رکھو،
برتن صاف رکھو،
دسترخوان صاف رکھو،
گھر کا صحن صاف رکھو،
نالیاں صاف رکھو،
صفائی کے کپڑے الگ اور صاف رکھو،
ایسے برتن استعمال کرو جنہیں اچھی طرح صاف کیا جا سکے،
اور ایسی چیزوں سے بھی بچو جو خود صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔
ایک ڈھکا ہوا برتن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ صحت اور صفائی صرف بڑی بڑی احتیاطوں کا نام نہیں؛ بلکہ زندگی کی چھوٹی چھوٹی چیزوں میں نظم اور احتیاط پیدا کرنے کا نام بھی ہے۔

Address

Rayachoti

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when knowledge of islam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share