Muslims of Rajouri Poonch

Muslims of Rajouri Poonch Islam according to Quran & Authentic Hadiths 🤍

❣️
30/06/2023

❣️

18/05/2023

حقیقی سوشل ورک ۔ انجینئر نوید رحمہ اللہ ۔

04/05/2023

خود بدلتے نہیں، قرآن کو بدل دیتے ہیں | ڈاکٹر اسرار × مولانا اسحاق × ڈاکٹر غلام مرتضیٰ × خالد محمود عباسی

*خود بدلتے نہیں ، قرآں کو بدل دیتے ہیں*
*ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق*

اس دور کے مسلمان علماء میں قرآن کے صحیح مفہوم کو لوگوں تک پہنچانے کی توفیق نہیں ہے ۔ وہ اس قدر بے ہمت و کم حوصلہ ہیں کہ قرآن کا اصل مفہوم بتانے کے بجائے اس کے مطلب کو بدل کر اسی کے معانی اپنی مرضی کے مطابق تاویل کر کے لوگوں تک پہنچاتے ہیں یا یوں سمجھئے اپنے مفاد اور غرض کی خاطر بجائے خود بدلنے کے قرآن کے مفہوم کو بدل دیتے ہیں ۔ ان غلاموں کے طور طریقے دیکھےجائیں تو دل پر یہ اثر پڑتا ہے، گویا ان کے نزدیک قرآن حکیم اس وجہ سے ناقص و ناتمام ہو گیا کہ اس نے مسلمانوں کو غلامی کے طریقے نہ سکھاۓ۔ حالانکہ قرآن حکیم غلامی و محکومی نہیں، مسلمانوں کو تسخیر کائنات، حکمرانی اور فرماں روائی سکھانے کے لیے آیا تھا۔ ان لوگوں میں اپنی حالت بدلنے کی توفیق ہوتی تو غلامی سے نکل کر حکمرانی کے طورطریقے اختیار کرتے۔ انہوں نے قرآن سے محکومی اور غلامی کے لئیے جواز کی سندیں ڈھونڈ نکالیں اور اس کی حقیقت ہی بدل ڈالی۔

>----------------------------------------------

*کُھل گیا مصحفِ رخسارِ بُتانِ مغرب*
*ہوگئے شیخ بھی حاضر نئی تفسیر کے ساتھ*
(اکبر الہٰ آبادی)

یہ مغربی حسیناؤں کے رخسار کی کتاب کھل گئی ہے یعنی مغربی تہذیب کا حسن ظاہری اپنا یہ اثر دکھارہا ہے کہ اس دور کا شیخ بھی (شیخ = عالم دین، دینی رہنما) اس سے مرعوب ہو گیا ہے اور قرآن کریم کی نئی تفسیر لکھنے پر مجبور ہو گیا ہے ، یعنی قرآنی احکام کی مغربی انداز فکر کے مطابق تاویل کرنے لگا ہے۔

*احکام ترے حق ہیں مگر اپنے مفسّر*
*تاویل سے قُرآں کو بنا سکتے ہیں پاژند*
(حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ)

اللہ تعالی نے قرآن پاک کی شکل میں جو کچھ نازل کیا ہے وہ بالکل سچ ہے مگر قرآن کی تفسیر کرنے والوں نے اس کی ایسی ایسی تشریحات اور تاویلات کی ہیں کہ قرآن کو پاژند ( پاژند = آتش پرستوں کی مذہبی کتاب ’’اوستا‘‘ کی تشریح ”زند “ کہلاتی ہے اور زند کی تشریح ”پازند “۔ مراد ہے ایسی وضاحت یا تشر یح جو اصل سے بہت دور ہو) کا سا گورکھ دھندا بنا کر رکھ دیا ہے ۔ اس شعر میں اشارہ ان مفسرین قرآن کی طرف ہے جنہوں نے عجیب و غریب قسم کی تاویلات سے کام لیا ہے۔



05/04/2023

Character of Ulema e Soo - Islam Aur Ghuraba

*سورة التوبة - 34*
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ الۡاَحۡبَارِ وَ الرُّہۡبَانِ لَیَاۡکُلُوۡنَ اَمۡوَالَ النَّاسِ بِالۡبَاطِلِ وَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ یَکۡنِزُوۡنَ الذَّہَبَ وَ الۡفِضَّۃَ وَ لَا یُنۡفِقُوۡنَہَا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۙ فَبَشِّرۡہُمۡ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿ۙ۳۴﴾

"اے ایمان والو! بیشک ( اہلِ کتاب کے ) اکثر علماء اور درویش ، لوگوں کے مال ناحق ( طریقے سے ) کھاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں ( یعنی لوگوں کے مال سے اپنی تجوریاں بھرتے ہیں اور دینِ حق کی تقویت و اشاعت پر خرچ کئے جانے سے روکتے ہیں ) ، اور جو لوگ سونا اور چاندی کا ذخیرہ کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو انہیں دردناک عذاب کی خبر سنا دیں. "

آج بھی اگر آپ علمائے حق اور علمائے سو کے بارے میں معلوم کرنا چاہیں تو میرے نزدیک یہ آیت اس کے لیے ایک طرح کا لٹمس ٹیسٹ litmus test ہے۔ اگر کوئی مذہبی پیشوا یا عالم اپنے دینی کیرئیر کے نتیجے میں جائیدادبنا کر اور اپنے پیچھے دولت چھوڑ کرمرا ہو تو وہ بلاشک و شبہ علمائے سو میں سے ہے۔(ڈاکٹر اسرار احمد)

*تفہیم القرآن : سید ابو الاعلیٰ مودودی*

یعنی ظالم صرف یہی ستم نہیں کرتے کہ فتوے بیچتے ہیں، رشوتیں کھاتے ہیں، نذرانے لوٹتے ہیں، ایسے ایسے مذہبی ضابطے اور مراسم ایجاد کرتے ہیں جن سے لوگ اپنی نجات ان سے خریدیں اور ان کا مرنا جینا اور شادی و غم کچھ بھی ان کو کھلائے بغیر نہ ہو سکے اور وہ اپنی قسمتیں بنانے اور بگاڑنے کا ٹھیکہ دار ان کو سمجھ لیں۔ بلکہ مزید براں اپنی انہی اغراض کی خاطر یہ حضرات خلق خدا کو گمراہیوں کے چکر میں پھنسائے رکھتے ہیں اور جب کبھی کوئی دعوت حق اصلاح کے لیے اٹھتی ہے تو سب سے پہلے یہی اپنی عالمانہ فریب کاریوں اور مکاریوں کے حربے لے لے کر اس کا راستہ روکنے کھڑے ہوجاتے ہیں۔

*تفسیر مدنی : مولانا اسحاق مدنی*

قرآن پاک کی صداقتوں پہ قربان جائیں کہ { کَثِیْرًا مِّنَ الاَحْبَارِ وَالرُّہْبَانِ } " بہت سے عالم اور پیر " فرمایا ہے، یہ نہیں فرمایا کہ " سب ہی احبارو رہبان ایسے ہیں " بلکہ یہ فرمایا کہ " بہت سے احبارو رہبان ایسے ہیں "۔ اور امر واقع بھی یہی ہے کہ سب ایسے نہیں۔ بہت سے ایسے ہیں۔ جب بھی یہی تھا اور اب بھی یہی ہے۔ کل بھی یہی صورت تھی اور آج بھی یہی صورت ہے۔ وہاں بھی یہی حال تھا اور یہاں بھی یہی پوزیشن ہے۔ اور مزید یہ کہ ایسے بدعت پرستوں کی خود ساختہ عظمتوں کے لئے بڑے بڑے القاب و آداب بناوٹی قصوں کہانیوں، من گھڑت افسانوں، بےبنیاد کرامتوں اور بڑی بڑی عباؤں، قباؤں اور جبوں قبوں وغیرہ کے ایسے بھاری بھرکم اور رعب دار بوجھ عام لوگوں کے دل و دماغ پر ڈال دئے جاتے ہیں کہ سادہ لوح عوام ان کے نیچے سے سرک بھی نہیں نکال سکتے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ فرزندان شرک و بدعت ان آیات بینات کے بارے میں اپنے مریدان سادہ لوح کو بتاتے ہیں کہ یہ تو اہل کتاب کے پادریوں پنڈتوں وغیرہ کے بارے میں ہیں نہ کہ ہمارے بارے میں۔ ہمیں تو چھٹی ہے، جو چاہیں کریں۔ مگر کوئی ان سے یہ پوچھے کہ صاحب پھر { یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا } کے الفاظ سے اہل ایمان کو خطاب کیوں فرمایا گیا ہے ؟ اور پھر کیا عبرت و موعظت اور وعظ و تذکیر کے اعتبار کے بغیر یونہی قصہ گوئی اس کتاب ہدایت قرآن مجید کی عظمت شان کے لائق ہوسکتی ہے ؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔ پس حقیقت یہ ہے کہ اس میں اہل کتاب کے عالموں اور انکے پیروں اور پیشواؤں کا یہ حال بیان فرما کر دراصل مسلمانوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ یہ چیزیں جن کے مرتکب وہ لوگ ہوئے تمہارے اندر نہ آنے پائیں، تاکہ تم لوگ بھی اس انجام میں مبتلا نہ ہوجاؤ جس میں اس سے پہلے وہ لوگ اپنے کئے کرائے کے نتیجے میں مبتلاء ہوچکے ہیں۔ افسوس کہ اس کے باوجود اس امت میں ایسے پیر اور مولوی نہ صرف یہ کہ موجود ہیں اور اس جرم کے خود مرتکب ہو رہے ہیں بلکہ وہ اس کو جائز ثابت کرنے کے لئے الٹا اس ارشاد خدا وندی میں طرح طرح کی تاویلات سے کام لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اس حکم و ارشاد کے مخاطب و مامور ہی نہیں ہیں بلکہ یہ حکم تو اہل کتاب کے لئے ہے اور بس ۔ { فَاِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ } ۔ خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا ۔

>-------------------------------------------------------

*چہ ملائی چہ درویشی چہ سلطانی چہ دربانی*
*فروغ کار می جوید بہ سالوسی و زراقی*

کیا ملّا ، کیا درویش ، کیا سلطان ، کیا دربان، سب خوشامد اور منافقت سے کاروبار کو فروغ دے رہے ہیں ۔

*مکتب و ملا و اسرار کتاب*
*کور مادر زاد و نور آفتاب*

مکتب و ملّا اور قرآن پاک کے اسرار (کی مثال یوں ہے) جیسے مادر زاد اندھا اور آفتاب کی روشنی۔

*ہر یکی دانای قرآن و خبر*
*در شریعت کم سواد و کم نظر*

یہ سب قرآن و حدیث کے عالم ہونے کے دعویدار ہیں مگر شریعت سے بے بہرہ اور اس کے راز دیکھنے سے بے بصر۔

*عقل و نقل افتادہ در بند ہوس*
*منبرشان منبر کاک است و بس*

ان کی عقل و نقل ہوس کے بند میں بندھی ہوئی ہے، ان کا منبر صرف کاک ہے (وہ صرف پیٹ کے بندے ہیں)۔

*خود بدلتے نہیں ، قرآں کو بدل دیتے ہیں*
*ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق*

اس دور کے مسلمان علماء میں قرآن کے صحیح مفہوم کو لوگوں تک پہنچانے کی توفیق نہیں ہے ۔ وہ اس قدر بے ہمت و کم حوصلہ ہیں کہ قرآن کا اصل مفہوم بتانے کے بجائے اس کے مطلب کو بدل کر اسی کے معانی اپنی مرضی کے مطابق تاویل کر کے لوگوں تک پہنچاتے ہیں یا یوں سمجھئے اپنے مفاد اور غرض کی خاطر بجائے خود بدلنے کے قرآن کے مفہوم کو بدل دیتے ہیں ۔

*مرے کدو کو غنیمت سمجھ کہ بادہَ ناب*
*نہ مدرسے میں ہے باقی نہ خانقاہ میں ہے*

میں نے اپنے اشعار میں جو تعلیم دی ہے وہ نا تو تعلیمی اداروں میں ملے گی اور نا ہی مذہبی درسگاہوں میں ! لہذا اسی سے استفادہ کیا جائے تو مناسب ہے ۔

~علامہ محمد اقبال



05/04/2023


Chapter 27
Verses 82,83,85 & 88-90

Address

Punch

Telephone

+911962214078

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muslims of Rajouri Poonch posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share