16/08/2025
کیا کوئی جانتا ہے کہ “رحمت اللہ” اور “رحمةٌ الله” میں کیا فرق ہے؟
مجھے بھی پہلی بار پتا چلا�اللہ اس شخص کو جزاءَ خیرٍ دے جس نے مجھے یہ بھیجا
واقعہ کچھ یوں ہے کہ�ایک دن ایک پروفیسر لیکچر ہال میں داخل ہوا�لیکن پروجیکٹر خراب تھا تو کمرہ تبدیل کر دیا گیا
جب ایک طالب علم نئے کمرے میں داخل ہوا�تو اس نے بورڈ پر “رحمت اللہ” لکھا ہوا دیکھا�اسے لگا یہ ایک فاش املائی غلطی ہے�کیونکہ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ اسے “رحمةٌ الله” لکھا جانا چاہیے
پروفیسر نے سب طلباء سے سوال کیا�کیا کوئی بتا سکتا ہے “رحمت” اور “رحمةٌ” میں فرق کیا ہے؟
زیادہ تر طلباء نے کہا کہ یہ تو بس ہجے کی غلطی ہے!
تو پروفیسر نے وضاحت دی:
اگر لفظ “رحمت” ت کھلی ہو�تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ یہ ایسی رحمتٌ ہے جو پہلے رکی ہوئی تھی�لیکن اب اللہ نے اسے کھول دیا ہے�یعنی قبض کے بعد بسط
اور یہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک کے ساتھ ہی آتی ہے
مثال کے طور پر�جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی بیوی بہت بڑھاپے میں تھے�اولاد کی امید ختم ہو چکی تھی�تب اللہ کی طرف سے خوشخبری آئی
قرآن میں آتا ہے: قالوا أتعجبينَ من أمرِ اللهِ رحمتُ اللهِ وبركاتُهُ عليكم أهلَ البيتِ إنه حميدٌ مجيدٌ
یعنی وہ رحمتٌ جو بند ہونے کے بعد دوبارہ کھلی
ایسی ہی رحمتٌ حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا پر نازل ہوئی�جب انہوں نے بیٹے کے لیے دعا کی
ذِكرُ رحمتِ ربِّكَ عبدهُ زكريا
پھر آگے اللہ نے ان کو یحییٰ عطا فرمایا
اسی طرح اللہ فرماتا ہے
فانظرْ إلى آثارِ رحمتِ اللهِ كيفَ يحيي الأرضَ بعدَ موتِها
یعنی زمین مردہ ہو چکی تھی�پھر اللہ کی کھلی ہوئی رحمت سے زندہ ہو گئی�یعنی پھر سے زندگی مل گئی
یہ سب مثالیں “رحمت” والی ہیں�یعنی ت کھلی ہوئی�یعنی ایسی رحمتٌ جو دوبارہ جاری ہوئی�اللہ کی قدرت اور وسعت کو ظاہر کرتی ہے
لیکن جب “رحمةٌ” یعنی ت بند آتی ہے�تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ یہ رحمتٌ ابھی امید پر ہے�ابھی ملی نہیں�ابھی دعا مانگی جا رہی ہے
جیسے اللہ فرماتا ہے:
أمن هو قانتٌ آناءَ الليلِ ساجدًا وقائمًا يحذرُ الآخرةَ ويرجو رحمةَ ربهِ
یعنی وہ اللہ کی رحمةٍ کا امیدوار ہے�جو ابھی ملی نہیں�جو آخرت میں عطا کی جائے گی ان شاءَ الله
اسی طرح فرمایا:
فأما الذينَ آمنوا باللهِ واعتصموا بهِ فسيدخلهم في رحمةٍ منهُ وفضلٍ ويهديهم إليهِ صراطًا مستقيمًا
یعنی ان کو رحمةٌ نصیب ہو گی�یہ وعدہ ہے
تو فرق یہ ہے:
رحمت = ت کھلی ہوئی = وہ جو اللہ نے قبض کے بعد عطا کی�رحمةٌ = ت بند = وہ جس کی بندہ امید رکھتا ہے
اور آخر میں ایک دعا:
اے اللہ�ہمیں اپنی ہر دو رحمتوں میں شامل فرما�خواہ وہ بند ہو یا کھلی�ہمیشہ ہمارے شامل حال رہے
اے اللہ�ہمیں وہ علمَ عطا فرما جو ہمیں فائدہ دے�اور ہمیں وہ باتیں سکھا دے جو ہم نہیں جانتے