Maulana Mohammad Shamshad Rahmani Qasmi

Maulana Mohammad Shamshad Rahmani Qasmi Maulana Shamshad Rahmani Qasmi, Ustad Darul Uloom Waqf Deoband, Nayeb Ameer shariat, Imarat Sharia P

27/05/2026

قربانی ایک عظیم عبادت اور فلسفہ حیات
حضرت مولانا محمد شمشاد رحمانی قاسمی
استاذ دارالعلوم وقف دیوبند
و نائب امیر شریعت بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ۔

اسلامی تاریخ کا ہر واقعہ اپنے اندر روشن تاریخ اور سبق لئے ہوئے ہے اور ہر دور میں انسانی زندگی کی رہبری کرتا ہے۔ ہر سال عید الاضحیٰ اور قربانی آتی ہے اور مسلمانوں کو بھولا ہوا سبق یادلاتی اور جگاتی ہے۔ غور کریں تو ’قربانی‘ کی یہ تاریخ حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں ہابیل و قابیل سے شروع ہوتی ہے۔ روئے زمین پر یہ سب سے پہلی قربانی تھی ارشاد ربانی ہے: ”اور آپ اہل کتاب کو آدم کے دو بیٹوں کا واقعہ صحیح طور پر پڑھ کر سنا دیجئے، جب ان میں سے ہر ایک نے اللہ کے لیے کچھ نیاز پیش کی تو ان میں سے ایک کی نیاز قبول ہوگئی، اور دوسرے کی قبول نہیں کی گئی“۔ علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس آیت کے تحت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ ہابیل نے مینڈھے کی قربانی کی اور قابیل نے کھیت کی پیداوار میں سے کچھ غلہ صدقہ کر کے قربانی پیش کی، اُس زمانے کے دستور کے موافق آسمانی آگ نازل ہوئی اور ہابیل کے مینڈھے کو کھالیا، قابیل کی قربانی کو چھوڑ دیا۔
قرآن پاک میں قربانی کا فلسفہ سمجھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے بندوں سے کہا: ”ہم نے تمہارے لیے قربانی کے اُونٹوں کو عبادت الٰہی کی نشانی اور یادگار مقرر کیا ہے، ان میں تمہارے لیے اور بھی فائدے ہیں، سو تم اُن کو نحر کرتے وقت قطار میں کھڑا کر کے اُن پر اللہ کا نام لیا کرو اور پھر جب وہ اپنے پہلو پر گر پڑیں تو اُن کے گوشت میں سے تم خود بھی کھانا چاہو تو کھاؤ اور فقیر کو بھی کھلاؤ، خواہ وہ صبر سے بیٹھنے والا ہو یا سوال کرتا پھرتا ہو، جس طرح ہم نے ان جانوروں کی قربانی کا حال بیان کیا، اسی طرح اُن کو تمہارا تابع دار بنایا؛ تاکہ تم شکر بجالاؤ! اللہ تعالیٰ کے پاس ان قربانیوں کا گوشت اور خون ہرگز نہیں پہنچتا؛ بلکہ اس کے پاس تمہاری پرہیزگاری پہنچتی ہے، اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو تمہارے لیے اس طرح مسخر کر دیا ہے؛ تاکہ تم اس احسان پر اللہ تعالیٰ کی بڑائی کرو کہ اس نے تم کو قربانی کی صحیح راہ بتائی، اور اے پیغمبر! مخلصین کو خوش خبری سنا دیجئے“ (قرآن)۔
قدیم تاریخ پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ پہلے معبود کے نام پر انسانی جانوں کو قربان کرنے کا رواج تھا، آج بھی بعض وحشی قبائل بتوں پر انسانی جانیں بھینٹ چڑھا تے ہیں، جانے انجانے میں روز معبود کے نام پر انسانوں کی بلی چڑھائی جا رہی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل یعنی باپ کا جذبہ اور بیٹے کے صبر نے قربانی کی جو تاریخ رقم کی اس سے انسانی دنیا محو حیرت ہے، پروردگار کو دونوں کا کردار اتنا پسند آیا کہ انسانی قربانی کو جانوروں کی قربانی سے بدل دیا اور رہتی دنیا تک کے لئے اس کو یادگار بنادیا۔
دنیا بنانے والے کا ایک سسٹم اور نظام ہے، جس کے تحت سنسار چلتا ہے اور انسانوں کو رہبری ملتی ہے۔ انبیاء کا یکے بعد دیگر روئے زمین پر آنا اور جدوجہد کرنا اور بکھرے ہوئے گیسوؤں کو سنوارنا اسی نظام کا حصہ ہے۔ اللہ کے خلیل بھی اسی سسٹم کے تحت روئے زمین پر آئے، ان کی زندگی کا جائزہ لیا جائے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ دیگر نبیوں کی طرح ان کا دور بھی اہل ایمان اور حق پرستوں کے لیے سازگار نہیں تھا، توحید کے متوالے حضرت ابراہیم کا بتوں کو توڑنا اور ایمان ویقین کے ساتھ نار نمرود میں کود جانا اور پھر بیٹے کی قربانی کی آزمائش میں کھڑا اترنا؛ یہ وہ عوامل ہیں جو صرف قصے کہانی اور تاریخ کے ایک باب تک منحصر نہیں۔ یہ ایمان والوں کو جھنجھوڑتا ہے اور جگاتا ہے، چیخ چیخ کر کہتا ہے کہ ابتلاء و آزمائش ایمان کا لازمی عنصر ہے۔ جہاں ایمان ہوگا وہاں آزمائشوں کا طوفان ضرور آئے گا، امتحانات کے تھپیڑے پڑیں گے، ٹوٹ پھوٹ ہوگی، جان و مال، عزت و آبرو کی قربانیاں دینی ہوں گی۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ”کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ انہیں یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا کہ بس وہ یہ کہہ دیں ”ہم ایمان لے آئے، اور انہیں آزمایا نہ جائے؟ حالانکہ ہم نے ان سب کی آزمائش کی ہے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں“۔ (العنکبوت)
آپ نے اپنی مختصر سی زندگی میں دیکھا اور مشاہدہ کیا ہوگا، اگر نہیں تو بڑے بوڑھوں اور اہل علم سے سنا ہوگا کہ آزمائشوں سے آدمیت نکھرتی ہے، امتحانات سے کھرے اور کھوٹے کی پرکھ ہوتی ہے اور قربانی کی بھٹی سے انسان کندن بن کر نکلتا ہے اور پھر وہی انسان اس بلند مقام پر فائز ہو جاتا ہے کہ کوئی اس کو ڈرا دھمکا نہیں سکتا، سچائی کی راہ سے ڈگمگا نہیں سکتا، وہ آنکھ میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا ہے، اپنی توحید اور ایمان کی شرط پر سر اٹھا کر جیتا ہے، وہ رب کے علاوہ کسی کے سامنے جھکتا نہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر ہم سب کے آقا و مولیٰ نبی آخر الزماں جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک سبھی انبیاء کی زندگی اور تعلیمات آزمائشوں سے بھری پڑی ہیں۔ آپ نے دیکھا کہ سیدنا حضرتابراہیم علیہ السلام کی زندگی کن امتحانات سے گزری، بڑھاپے میں بیٹے کا ملنا، پھر قربانی کا حکم اور اسے اللہ کی راہ میں قربانی کے لیے پیش کر دینا: کتنی بڑی آزمائش تھی، کیسے باپ اور بیٹے نے آگ کا یہ دریا پار کیا اور دونوں جہاں میں سرخرو ہوئے۔
آج بھی ہو جو براہیم سا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا
علامہ اقبال کے بقول: مسلم اقوام تہذیب حاضر کی آگ کا ایندھن بن چکی ہیں۔ لیکن اگر یہ امت اپنے اندر حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسا ایمان پیدا کر لے تو اس آگ کو بھی گلزار بنایا جاسکتا ہے۔
ایمان و توحید کی زندگی گزارنی ہے تو آزمائش اور مصیبت ضرور آئے گی۔ بچہ ہو کہ بوڑھا، جوان ہو کہ ادھیڑ، مرد ہو کہ عورت ہر ایک کو کسی نہ کسی مرحلہ میں آزمائشی دور سے گزرنا ہوگا۔ یہ ابتلاء، آزمائش اور امتحان کبھی انفرادی ہوتی ہے تو کبھی اجتماعی، کبھی آزمائش دین کی بنیاد پر ہوتی ہے تو کبھی دنیوی اعتبار سے پرکھا جاتا ہے۔ اسلامی تاریخ کو پڑھیے تو معلوم ہوگا کہ مٹھی بھر مسلمانوں کے ساتھ کیا ہوا، وہ کس طرح ہر آزمائش میں پورے اترے، ہر مصیبت کا جواں مردی سے مقابلہ کیا، وہ ہمت و حوصلہ کے ساتھ آگے بڑھے تو پروردگار نے انہیں ہر میدان میں سرخرو کیا۔
ہندوستان میں ان دنوں مسلمانوں کو مختلف آزمائشوں کا سامنا ہے، کئی محاذوں پر الجھانے کی کوشش کی جارہی ہے، وہ گہری آزمائش سے دو چار ہیں۔ وقف ترمیمی بل کا معاملہ ہو، مدارس و مکاتب کا سروے ہو یا حجاب کا معاملہ، مسجد و مندر کا قضیہ ہو یا لو جہاد کا طوفان یا پھر یکساں سول کوڈ کی بات؛ مسلمان ایک منظم سازش کے تحت مختلف محاذوں پر الجھائے جارہے ہیں۔ ایک فتنہ ختم اور ٹھنڈا نہیں ہو پاتا کہ دوسرا فتنہ سر اٹھا لیتا ہے۔ ایسے میں اگر مسلمانوں نے آپا کھو دیا تو وہ پورے طور پر دشمنوں کے نرغے میں آجائیں گے۔ مسلمانوں کو ٹھنڈے دماغ اور خلوص نیت کے ساتھ ان سازشوں کو سمجھنا اور اس کا ریسرچ کرنا ہوگا اور پھر ایمانی فراست اور نئی حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔
اخیر میں ہم یہی کہنا چاہیں گے کہ مسلمان وسیع تر معنوں میں قربانی کے پیغام کو سمجھیں، اللہ سے مدد چاہیں، جذبہ خلیل اور صبر جمیل کا مظاہرہ کریں۔ مسلمان جس ملک میں رہتے ہیں، ان پر لازم ہے کہ وہاں کے قوانین کی پابندی کریں۔ اگر وہ قوانین ظالمانہ ہوں، دین و شریعت سے ٹکراتے ہوں تو انھیں حکمت عملی اور تدبر سے بدلنے کی کوشش کریں۔ جذبات میں آکر الٹی سیدھی حرکتیں نہ کریں، ورنہ بھڑکانے والے کامیاب ہو جائیں گے اور آپ مشکلات میں پھنس جائیں گے، اسوۂ نبوی ہمیں یہی سکھاتا ہے۔ موجودہ سلگتے ماحول میں قربانی کا پیغام یہ ہے کہ اگر آپ دکھ جھیل کر، زخم کھا کر اور تکلیف سہ کر حق کی پاسبانی کرتے رہے تو مورچہ بندی کے سامنے کسی کا بس نہ چلے گا۔ مسلمانوں کے لئے حکمت عملی، جرأت، منظم اقدام، پہلا اور کارگر ہتھیار ہے، جس کے سامنے باطل کے پاسباں نہ پہلے کبھی ٹھہرے ہیں نہ آج ٹھہر سکیں گے۔

26/08/2025

Address

Imarat Sharia
Patna
800002

Telephone

+919760281020

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Maulana Mohammad Shamshad Rahmani Qasmi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Maulana Mohammad Shamshad Rahmani Qasmi:

Share