24/02/2023
🌹آپ تمام کی خدمت میں ولادت باسعادت حضرت باب الحوائج, سقاء سکینہ, محافظِ اہل حرم, علمبردار لشکر امام حسین (ع), فرزند فاتح خیبر و خندق, قمر بنی ہاشم, ابن ساقی کوثر, ابن حامل اللواء الحمد, فداکار امام حسین (ع), عبد الصالح, حضرت اباالفضل عباس علیہ السلام کی مبارک باد پیش کرتا ہوں🌹
🌹مختصر سوانح حیات حضرت باب الحوائج اباالفضل عباس علیہ السلام🌹
🌹نام حضرت عباس علیہ السلام
🌹وجہ شہرت امام زادہ شہید کربلا واقعہ کربلا میں علمدار امام حسین (ع)
🌹کنیت ابو الفضل ابو القاسم
🌹القاب قمر بنی ہاشم باب الحوائج علمدار سقاء طیار شہید عبد صالح
🌹والد گرامی حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام
🌹والدہ گرامی حضرت ام البنین سلام اللہ علیہا
🌹تاریخ ولادت 4 شعبان سنہ26 ہجری
🌹جائے ولادت مدینہ منورہ
🌹تاریخ شہادت 10 محرم الحرام سنہ61 ہجری
🌹مدت حیات 34 سال
🌹سکوت مدینہ و کوفہ
🌹اولاد فضل و عبیدالله
🌹شریک حیات لبابہ دختر عبیدالله بن عباس
🌹جائے دفن کربلائے معلیٰ (عراق)
🌹حضرت عباس علمدار علیہ السلام امام علی علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ آپ کی والدہ کا نام ام البنین علیہ السلام تھا جن کا تعلق عرب کے ایک بہادر قبیلے سے تھا۔ حضرت عباس علیہ السلام اپنی بہادری اور شیر دلی کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے۔ اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ان کی وفاداری واقعہ کربلا کے بعد ایک ضرب
المثل بن گئی۔ وہ شہنشاہِ وفا کے طور پر مشہور ہیں۔
حضرت عباس علیہ السلام چار شعبان المعظم 26ھ کو پیدا ہوئے۔ انھوں نے اس وقت تک آنکھ نہیں کھولی جب تک ان کے بھائی امام حسین علیہ السلام نے انھیں اپنے ہاتھوں میں نہیں لیا۔ بچپن ہی سے انھیں امام حسین علیہ السلام کے ساتھ بہت محبت تھی۔ حضرت علی علیہ السلام نے اس عظیم الشان بچے کا نام عباسؑ رکھا۔ جنگ صفین حضرت علی علیہ السلام اور شام کے گورنر معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان مئی۔جولائی 657 ء میں ہوئی۔ اس جنگ میں حضرت عباس علیہ السلام نے حضرت علی علیہ السلام کا لباس پہنا اور بالکل اپنے والد علی علیہ السلام کے طرح زبردست جنگ کی حتیٰ کہ لوگوں نے ان کو علیؑ ہی سمجھا۔ جب علی علیہ السلام بھی میدان میں داخل ہوئے تو لوگ ششدر رہ گئے ۔ اس موقع پر علی علیہ السلام نے اپنے بیٹے عباس کا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ یہ عباسؑ ھیں اور یہ بنو ھاشم کے چاند ھیں۔ اسی وجہ سے حضرت عباس علیہ السلام کو قمرِ بنی ھاشم ؑ کہا جاتا ھے۔
واقعہ کربلا کے وقت حضرت عباس علیہ السلام کی عمر تقریباً 33 سال کی تھی۔ امام حسین علیہ السلام نے آپ کو لشکر حق کا علمبردار قراردیا۔ امام حسین علیہ السلام کے ساتھیوں کی تعداد 72 یازیادہ سے زیادہ سو افراد پر مشتمل تھی اور لشکر یزیدی کی تعداد تیس ہزارسے زیادہ تھی مگر حضرت عباس علیہ السلام کی ہیبت و دہشت لشکر ابن زياد پر چھائی ہوئی تھی ۔ کربلامیں کئی ایسے مواقع آئے جب عباس علیہ السلام جنگ کا رخ بدل سکتے تھے لیکن امام وقت نے انھیں لڑنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ اس جنگ کا مقصد دنیاوی لحاظ سے جیتنا نہیں تھا۔ امام جعفر صادق علیہ السلام حضرت ابوالفضل العباس ع کی عظمت و جلالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کرتے تھے : ”چچا عباس ع کامل بصیرت کے حامل تھے وہ بڑے ہی مدبر و دور اندیش تھے انہوں نے حق کی راہ میں بھائی کا ساتھ دیا اور جہاد میں مشغول رہے یہاں تک کہ درجۂ شہادت پرفائز ہوگئے آپ نےبڑ اہی کامیاب امتحان دیا اور بہترین عنوان سے اپناحق ادا کر گئے“ ۔
10 محرم کو امام حسین علیہ السلام نےان کو پیاسے بچوں خصوصاً اپنی چار سالہ بیٹی سکینہ بنت الحسین کے لئے پانی لانے کا حکم دیا مگر ان کو صرف نیزہ اور علم ساتھ رکھنے کا حکم دیا۔ اس کوشش میں انھوں نے اپنے دونوں ھاتھ کٹوا دیئے اور شہادت پائی۔ اس دوران ان کو پانی پینے کا بھی موقع ملا مگر تین دن کے بھوکے پیاسے شیر نے گوارا نہیں کیا کہ وہ تو پانی پی لیں اور خاندا نِ رسالت پیاسا رہے۔ شہادت کے بعد جیسے باقی شہداء کے ساتھ سلوک ھوا ویسے ہی حضرت ابوالفضل العباسؑ کے ساتھ ہوا۔ ان کا سر کاٹ کر نیزہ پر لگایا گیا اور جسمِ مبارک کو گھوڑوں کے سموں سے پامال کیا گیا۔ ان کا روضہ اقدس عراق کے شہر کربلا میں ہے جہاں پہلے ان کا جسم دفن کیا گیا اور بعد میں شام سے واپس لا کر ان کا سر دفنایا گیا۔ دریائے فرات جو ان کے روضے سے کچھ فاصلے پر تھا اب ان کی قبر مبارک کے اردگرد چکر لگاتا ہے۔
فقط والسلام
التماس دعا
🌹از طرف سید فیصل حسین فیداي 🌹