Sarkar E Patna Mission

Directions

Sarkar E Patna Mission Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Sarkar E Patna Mission, Religious organisation, NuruddinGanj, Patna.

Huzur Sarkar E Patna Hazrat Syedna Wa Shaykhna Wa Murshidna AlHajj Syed Shah Fida Hussain Baqi AlFaiyazi AlMunemi

Intekhab E Huzur Sarkar E Patna Hazrat Syedna Wa Shaykhna Wa Murshidna Syed Shah Munawwar Hussain Fidai AlBaqi AlFaiyazi AlMunemi

30/09/2026
28/09/2026
A Humble Request | ایک مؤدبانہ گزارش Assalamu Alaikum wa Rahmatullahi wa BarakatuhuWe have started a new page “Khanqahi ...
21/09/2026

A Humble Request | ایک مؤدبانہ گزارش

Assalamu Alaikum wa Rahmatullahi wa Barakatuhu

We have started a new page “Khanqahi Rang” dedicated to sharing the teachings, sayings and valuable guidance of our respected Buzurgan-e-Deen, along with content related to Khanqahi traditions, spirituality and Islaah. Insha’Allah, once we build a good community of followers, we will begin our Podcast & Interview Series, featuring meaningful conversations and valuable insights from respected personalities and elders.

ہم نے “Khanqahi Rang” کے نام سے ایک نیا پیج شروع کیا ہے، جس کا مقصد بزرگانِ دین کی تعلیمات و اقوال، خانقاہی روایات، روحانیت اور اصلاحی موضوعات سے متعلق مفید مواد آپ تک پہنچانا ہے۔ ان شاء اللہ، جب پیج پر ایک اچھی تعداد میں Followers مکمل ہو جائیں گے تو Podcast اور Interview Series کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔ آپ تمام دوستوں اور گروپ ممبران سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ ہمارے پیج کو Like & Follow ضرور کریں اور اس پیغام کو اپنے دوستوں تک بھی پہنچائیں۔

Your Like, Follow & Share will help us take this initiative forward. 🤍

Khanqahi Rang
Preserving the Khanqahi Heritage • Sharing the Wisdom of the Elders • Inspiring the Next Generation

Khanqahi Rang explores Sufi wisdom, spirituality, Khanqahi traditions, and the guidance of elders through podcasts, interviews, and meaningful conversations preserving heritage, inspiring reflection, and connecting generations.

Original and A.I. Generated view of Holy Shrine Sarkar-E-Patna Qadasirraho
19/09/2026

Original and A.I. Generated view of Holy Shrine Sarkar-E-Patna Qadasirraho

حضور خرم ملت حضرت علامہ سید شاہ محمد خرم حسین منوری الباقری الحسینی حفظہ اللہ کا بہترین مضمون سلسلہ ابوالعلائیہ کا فیضان...
17/09/2026

حضور خرم ملت حضرت علامہ سید شاہ محمد خرم حسین منوری الباقری الحسینی حفظہ اللہ کا بہترین مضمون سلسلہ ابوالعلائیہ کا فیضان اور برصغیر کی خانقاہی روایت الحمدللہ پیپر میں شائع ہو گیا ہے





سلسلۂ ابوالعلائیہ کا فیضان اور برصغیر کی خانقاہی روایتاز سید محمد خرم حسین منوری الباقری الحسینیسلسلۂ ابوالعلائیہ برصغ...
14/09/2026

سلسلۂ ابوالعلائیہ کا فیضان اور برصغیر کی خانقاہی روایت

از سید محمد خرم حسین منوری الباقری الحسینی

سلسلۂ ابوالعلائیہ برصغیر کی روحانی تاریخ کا وہ تابندہ باب ہے جس کے اوراق پر ذکر و فکر معرفت و محبت تزکیۂ نفس اصلاحِ باطن اور خدمتِ خلق کی ایسی روشن نقوش ثبت ہیں جن کی ضیا آج بھی اہلِ دل کے لیے سرمایۂ ہدایت اور اہلِ نظر کے لیے دعوتِ مطالعہ ہے یہ نسبت محض ایک سلسلۂ طریقت کی اصطلاحی شناخت نہیں بلکہ ایک زندہ روحانی مزاج ایک مخصوص ذوقِ معرفت اور ایک ایسی فیضان بخش روایت کا نام ہے جس نے ہندوستان کی خانقاہی تہذیب کو اپنے اثرات سے نہ صرف متاثر کیا بلکہ متعدد روحانی خانوادوں اور خانقاہی مراکز کے باطن میں اپنے نقوش کو اس طرح پیوست کیا کہ اس کے اثرات کو نظر انداز کرکے برصغیر خصوصاً سرزمینِ بہار کی خانقاہی تاریخ کا مکمل ادراک ممکن نہیں رہتا سرزمینِ بہار کو اللہ تعالیٰ نے ازل ہی سے اولیائے کرام صوفیائے عظام اور اہلِ نسبت کے ان فیوض و برکات کے لیے منتخب فرمایا جنہوں نے اس خطے کو محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے ذکر و فکر اور معرفت و سلوک کی ایک زندہ سرزمین بنا دیا یہاں کی خانقاہوں نے صدیوں تک علم و عرفان کے چراغ روشن کیے اور ان چراغوں سے نہ جانے کتنے دلوں نے روشنی حاصل کی انہی تابندہ روحانی نسبتوں میں سلسلۂ ابوالعلائیہ کو ایک منفرد مقام حاصل ہے جس کا فیضان ایک خانقاہ کی حدود سے نکل کر دوسری خانقاہ تک ایک خانوادے سے دوسرے خانوادے تک اور ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتا رہا
حضرت سیدنا اکبر داناپوری قدس سرہٗ نے اسی روحانی نسبت سے اپنی والہانہ وابستگی اور قلبی واردات کو ان اشعار میں بیان فرمایا
ابوالعلائی ہے اپنا مشرب
یہی ہے اکبرؔ ہمارا مذہب
ازل کے دن سے ہمارے دل پر
لکھا ہوا نام ابوالعلا ہے
یہ چند اشعار محض شعری اظہار نہیں بلکہ اس نسبت کے ساتھ ایک صاحبِ دل کی قلبی وابستگی اور روحانی کیفیت کی ترجمانی ہیں کیونکہ اہلِ معرفت کے نزدیک نسبت صرف نام کا تعلق نہیں ہوتی بلکہ نسبت وہ حقیقت ہے جو دل کے اندر ایک خاص کیفیت پیدا کرتی ہے ذکر کو ذوق عطا کرتی ہے اور سلوک کے سفر کو منزل کی طرف گامزن کرتی ہے سلسلۂ ابوالعلائیہ نے ہندوستان کی سرزمین پر جس شان و شوکت اور وسعت کے ساتھ اپنی شناخت قائم کی اس کی ایک اہم خصوصیت یہ رہی کہ اس کا فیضان کسی ایک طریقت کسی ایک خاندان یا کسی ایک خانقاہ تک محدود نہیں رہا بلکہ مختلف سلاسلِ تصوف سے وابستہ اہلِ دل نے اس کے فیض سے استفادہ کیا قادری خانوادوں میں بھی اس کی جھلک دکھائی دی چشتی مراکز میں بھی اس کے اثرات ظاہر ہوئے فردوسی نسبت رکھنے والے بزرگوں نے بھی اس سے فیض پایا اور دوسرے روحانی خانوادوں میں بھی اس کی خوشبو محسوس کی گئی یہی وہ مقام ہے جہاں سلسلۂ ابوالعلائیہ کی روحانی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے کیونکہ حقیقی فیضان اپنی تاثیر کے لیے ظاہری حدود کا محتاج نہیں ہوتا وہ دل کی آمادگی دیکھتا ہے اور جہاں دل میں طلب پیدا ہوتی ہے وہاں نسبت اپنا راستہ خود بنا لیتی ہے قرآنِ کریم میں ارشادِ ربانی ہے فَٱذْكُرُونِىٓ أَذْكُرْكُمْ یعنی تم میرا ذکر کرو میں تمہیں یاد کروں گا یہی ذکرِ الٰہی وہ اصل سرچشمہ ہے جس سے تمام سلاسلِ طریقت کے فیوض و برکات جاری ہوتے ہیں اور اولیائے کرام نے اسی ذکر کو دلوں کی زندگی باطن کی پاکیزگی اور معرفت کی راہ کا وسیلہ بنایا سلسلۂ ابوالعلائیہ کی روحانی روایت بھی اسی ذکر و فکر محبت و معرفت اور اصلاح و تربیت کی بنیاد پر آگے بڑھی اور مختلف اہلِ دل اس کے فیضان سے اپنے باطن کو منور کرتے رہے حضرت سیدنا امیر ابوالعلا احراری قدس سرہٗ کی روحانی جدوجہد اور آپ کی نسبت سے جاری ہونے والے فیضان نے ہندوستان کے روحانی ماحول میں ایک ایسا اثر پیدا کیا جسے بعد کے ادوار میں مختلف بزرگوں اور خانقاہی خانوادوں نے اپنے اپنے ذوق کے مطابق آگے بڑھایا اس فیضان کو حضرت مخدوم شاہ محمد منعم پاک باز قدس سرہٗ کی نسبتوں نے مزید جِلا عطا کی حضرت کی روحانی تربیت ذکر و فکر محبت و خدمت اور سلوک و معرفت کی روایت نے ابوالعلائی رنگ کو اہلِ محبت کے دلوں میں اس انداز سے راسخ کیا کہ یہ نسبت ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہی اور اس کے فیوض و برکات نے مختلف خانقاہی مراکز کو اپنی آغوش میں لیا یہی روحانی تسلسل ہمیں حضرت سیدنا شاہ محمد فرہاد قدس سرہٗ کے نواسہ حضرت سیدنا رکن الدین عشق قدس سرہٗ کی شخصیت میں بھی دکھائی دیتا ہے جنہوں نے حضرت مخدوم محمد منعم پاک باز قدس سرہٗ سے اکتسابِ فیض کیا اس طرح نسبتوں کا یہ سلسلہ محض ناموں کی ایک کڑی نہیں بلکہ روحانی تربیت اور فیضانِ معرفت کی وہ زنجیر بن جاتا ہے جس کی ایک کڑی دوسری کڑی سے جڑ کر ایک وسیع خانقاہی روایت کو وجود بخشتی ہے بہار کی خانقاہی تاریخ میں سلسلۂ ابوالعلائیہ کے فیضان کی ایک دل آویز خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس نے ایسے روحانی خانوادوں کو بھی متاثر کیا جن کی اپنی موروثی نسبتیں صدیوں سے قائم تھیں اور جنہیں کسی نئی روحانی شناخت کی حاجت نہ تھی مگر اہلِ دل کا معاملہ ضرورت سے نہیں بلکہ محبت سے ہوتا ہے جہاں دل کسی نسبت میں نور اور ذوق محسوس کرتا ہے وہاں وہ نسبت اختیار کرنا اپنے لیے باعثِ سعادت سمجھتا ہے اسی حقیقت کی ایک نمایاں مثال اعلیٰ حضرت سیدنا قمرالدین حسن منعمی قدس سرہٗ کی ذاتِ گرامی ہے آپ کا خانوادہ اپنی اصل میں قادری نسبت کا حامل ایک ممتاز روحانی خاندان تھا مگر ابوالعلائی فیضان کی کشش نے اس خانوادے کے روحانی مزاج میں ایک ایسی کیفیت پیدا کی جس نے آگے چل کر منعمیہ ابوالعلائیہ فیضان کو ایک نمایاں شناخت عطا کی مجدد سلسلہ ابوالعلائیہ منعمیہ اعلیٰ حضرت منعمی قدس سرہٗ نے اس فیضان سے جس قدر استفادہ فرمایا اس کے اثرات ان کی روحانی زندگی اور ان سے وابستہ خانوادوں میں نمایاں ہوئے اور متعدد اہلِ محبت نے آپ کی نسبت سے اس روحانی ذوق کو اختیار کیا آپ کے فیضان کی وسعت کا اندازہ اس امر سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ آپ کے معاصرین میں ایسے بزرگ بھی تھے جو عمر علم اور روحانی مقام کے اعتبار سے بلند مرتبہ رکھتے تھے مگر انہوں نے بھی آپ کی بارگاہ سے اکتسابِ فیض کو اپنے لیے باعثِ سعادت سمجھا یہی حقیقت کسی نسبت کی روحانی قوت کا سب سے روشن ثبوت ہوتی ہے کہ اہلِ کمال بھی جہاں فیض کی خوشبو محسوس کرتے ہیں وہاں ادب کے ساتھ حاضر ہوجاتے ہیں اسی روحانی وسعت کی ایک اور روشن مثال خانقاہِ معظم بہار شریف ہے جو حضرت سلطان المشائخ مخدومِ جہاں شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری قدس سرہٗ کی عظیم روحانی میراث کی امین ہے اس خانوادے کی اپنی روحانی عظمت اور فردوسی نسبت اپنی جگہ مسلم تھی لیکن اسی خانوادے کے عظیم چشم و چراغ حضرت شاہ امین الدین احمد فردوسی قدس سرہٗ نے بھی سلسلۂ ابوالعلائیہ کے فیضان سے استفادہ فرمایا اور آپ کی روحانی شخصیت نے اس نسبت کے فیضان کو ایک وسیع دائرے میں پہنچایا بڑے بڑے روحانی خانوادوں کے افراد نے آپ کی بارگاہ سے وابستگی اختیار کی اور خلافت و اجازت سے سرفراز ہوئے یہی وہ مقام ہے جہاں سلسلۂ ابوالعلائیہ کے فیضان کی اصل روح سامنے آتی ہے کہ یہ نسبت اپنے ماننے والوں کو محض ایک نام نہیں دیتی بلکہ ان کے اندر ایک خاص روحانی ذوق پیدا کرتی ہے ذکر کو کیفیت عطا کرتی ہے محبت کو گہرائی بخشتی ہے اور سلوک کو مقصدیت عطا کرتی ہے اسی لیے اہلِ ذوق نے اس کیفیت کو ابوالعلائی ذائقہ سے تعبیر کیا ہے اور یہ ذائقہ کسی ظاہری وصف کا نام نہیں بلکہ ایک باطنی کیفیت ہے جسے وہی محسوس کرسکتا ہے جس کے دل کو اس نسبت کی خوشبو نصیب ہوئی ہو مخدومِ جہاں قدس سرہٗ کی مسندِ فیض سے وابستہ بزرگوں کے تذکرے میں حضرت سیدنا مظفر بلخی قدس سرہٗ کا ذکر بھی نہایت اہم ہے آپ کے بارے میں مشہور قول ہے "تن مظفر جان شرف الدین" آپ کی اولاد میں حضرت شاہ محمد تقی بلخی قدس سرہٗ اور انکے صاحبزادہ حضرت شاہ علیم الدین بلخی جو بہت مشہور بلخی بزرگ تھے اور جناب حضور کے معاصرین تھے شاہ تقی محمد بلخی قدس سرہٗ سیدنا حضرت سیدنا حسن رضا رائے پورا قدس سرہٗ کے داماد بھی تھے تو ان کے گھرانے میں فردوسیت کی قدیم روحانی نسبت موجود تھی مگر اس کے باوجود ابوالعلائی فیضان سے استفادہ کا تعلق اس بات کی دلیل ہے کہ روحانی فیض اپنی تاثیر میں کسی ایک سلسلے کی دیواروں میں محصور نہیں ہوتا بلکہ اہلِ دل جہاں سے نور حاصل کرتے ہیں اسے اپنے سفرِ باطن کا سرمایہ بناتے ہیں اسی فیضان کی ایک جھلک ہمارے ننھیالی اجداد کی روحانی روایت میں بھی دکھائی دیتی ہے ہمارے نانا حضور منور ملت سید شاہ منور حسین فدائی قدس سرہٗ کے جدِ امجد حضرت فیاض العالم سیدنا سید غلام حسین ابوالفیاض قدس سرہٗ آبائی طور پر سلسلۂ قادریہ سے وابستہ تھے لیکن ابوالعلائی ذوق کے فیضان نے ان کے روحانی مزاج پر ایسا اثر ڈالا کہ ابوالعلائی نسبت نے ان کے خانوادے میں ایک نمایاں مقام حاصل کرلیا اور یہ رنگ بعد کی نسلوں میں بھی اپنی خوشبو کے ساتھ منتقل ہوتا رہا بہار کے قدیم چشتی خانوادوں کے تذکرے میں حضور خواجۂ بہار حضرت سیدنا سرکار عطا حسین فانی باقری الحسینی کا نام بھی قابلِ ذکر ہے آپ کا خانوادہ اپنی اصل میں ایک قدیم اور ممتاز چشتی خانوادہ تھا مگر ابوالعلائی فیضان کی کشش نے یہاں بھی اپنی جلوہ گری دکھائی اور چشتی نسبت کے ساتھ ابوالعلائی ذوق کی آمیزش نے ایک منفرد روحانی کیفیت پیدا کی جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ سلاسلِ طریقت کے درمیان حقیقی روحانی تعلق منافرت یا تصادم کا نہیں بلکہ فیض اور استفادہ کا تعلق ہے اسی طرح حضرت خواجہ مودود چشتی قدس سرہٗ کی نسبت سے وابستہ عظیم چشتی روایت میں بھی ابوالعلائی فیضان کی جھلک دکھائی دیتی ہے اور خانقاہِ چشتیہ شیخ پورہ کے اکابر نے بھی اس نسبت سے استفادہ کیا اس طرح چشتی سلسلے کی قدیم روحانی روایت اور ابوالعلائی فیضان کے درمیان ایک ایسا تعلق قائم ہوا جو برصغیر کی مشترکہ خانقاہی تہذیب کی وسعت کو نمایاں کرتا ہے حضرت صوفی منیری قدس سرہٗ کی روحانی روایت میں بھی حضرت ولایت علی ہمدانی قدس سرہٗ کی نسبتوں کے ذریعے سلسلۂ ابوالعلائیہ کے فیضان سے استفادہ کا ذکر ملتا ہے اور یہ تمام مثالیں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ ابوالعلائی فیضان نے مختلف روحانی خانوادوں کے درمیان محبت اور استفادہ کے دروازے کھولے اور ایک ایسی روحانی فضا پیدا کی جس میں مختلف نسبتیں اپنی اپنی شناخت کے ساتھ قائم رہتے ہوئے ایک دوسرے کے فیض سے بہرہ مند ہوتی رہیں یہاں یہ بات سمجھنا بھی ضروری ہے کہ سلاسلِ طریقت کی کثرت روحانی حقیقت کی کثرت نہیں ہوتی اصل حقیقت ایک ہی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت اس کی رضا کی طلب اور رسولِ اکرم ﷺ کی محبت و اتباع ہے مختلف سلاسل اسی حقیقت تک پہنچنے کے مختلف تربیتی مناہج ہیں اس لیے کسی ایک سلسلے کے فیضان کو دوسرے سلسلے کے مقابل قرار دینا اہلِ معرفت کے ذوق سے بعید ہے بلکہ اولیائے کرام کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اہلِ اللہ نے جہاں کہیں خیر اور فیض پایا اسے قبول کیا اور اپنی روحانی زندگی میں اس سے فائدہ اٹھایا اسی لیے سلسلۂ ابوالعلائیہ کے فیضان کو بھی محض ایک مخصوص سلسلے کی توسیع کے طور پر دیکھنا اس کی تاریخی اور روحانی حقیقت کو محدود کرنا ہوگا یہ دراصل ایک ایسی فیضان بخش روایت ہے جس نے خانقاہی زندگی میں ذکر کو حرارت محبت کو لطافت علم کو وسعت اور خدمت کو روح عطا کی اور جس کی وجہ سے مختلف روحانی خانوادے ایک دوسرے کے قریب آئے سرزمینِ بہار کی خانقاہی تہذیب میں اس فیضان کی اہمیت اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ یہاں صدیوں سے مختلف سلاسلِ تصوف نے اپنے اپنے مراکز قائم کیے اور ان تمام روحانی مراکز کے درمیان باہمی استفادہ کی ایک ایسی روایت قائم رہی جس نے بہار کو برصغیر کی اہم روحانی سرزمینوں میں ممتاز مقام عطا کیا سلسلۂ ابوالعلائیہ اسی وسیع خانقاہی روایت کا ایک روشن اور مؤثر باب ہے جس کے نقوش آج بھی متعدد خانوادوں کی روایات میں محسوس کیے جاسکتے ہیں یہ فیضان دراصل ان ہی نفوسِ قدسیہ کی محنتوں کا ثمر ہے جنہوں نے اپنی زندگیوں کو ذکرِ الٰہی محبتِ مصطفیٰ ﷺ اصلاحِ خلق اور تزکیۂ باطن کے لیے وقف کردیا ان کی خانقاہیں صرف بیعت اور خلافت کے مراکز نہ تھیں بلکہ وہ انسان سازی کے مراکز تھیں جہاں دلوں کو ذکر سے زندہ کیا جاتا تھا اخلاق کو سنوارا جاتا تھا علم کو عام کیا جاتا تھا اور مخلوقِ خدا کی خدمت کو عبادت سمجھا جاتا تھا اسی لیے ابوالعلائی رنگ کی اصل شناخت کسی ظاہری شعار یا محض نسبت کے دعوے میں نہیں بلکہ اس باطنی کیفیت میں ہے جو انسان کو اپنے رب سے قریب کرے رسولِ اکرم ﷺ کی محبت میں بڑھائے اپنے نفس کی اصلاح پر آمادہ کرے اور مخلوقِ خدا کے لیے سراپا خیر بنادے جس نسبت کا اثر انسان کے اخلاق کردار اور باطن میں ظاہر نہ ہو اس نسبت کی روحانی حقیقت ابھی اس پر پوری طرح منکشف نہیں ہوئی‌ سلسلۂ ابوالعلائیہ کی یہ داستان ہمیں اسی حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ روحانی فیضان زمان و مکان کی قید سے بلند ہوتا ہے ایک بزرگ کی بارگاہ سے اٹھنے والی نسبت صدیوں کے فاصلے طے کرکے دوسری نسل کے دل تک پہنچ سکتی ہے ایک خانقاہ میں روشن ہونے والا چراغ دوسری خانقاہ کو منور کرسکتا ہے اور ایک بزرگ کی محبت سے پیدا ہونے والی کیفیت پورے خانوادے کی روحانی شناخت بن سکتی ہے یہی سبب ہے کہ ابوالعلائی فیضان کی تاریخ دراصل محبت کے سفر کی تاریخ ہے ذکر کے تسلسل کی تاریخ ہے اور ان نفوسِ قدسیہ کی یاد کا سلسلہ ہے جنہوں نے اپنی نسبتوں کو اپنی ذات تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے انسانیت کی اصلاح اور دلوں کی بیداری کا وسیلہ بنایا آج بھی جب ہم بہار کی خانقاہوں کے صحن میں بیٹھ کر ماضی کے ان روشن نقوش کو دیکھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وقت گزر گیا مگر فیضان کا چراغ بجھا نہیں بلکہ نسبتوں کے ذریعے نسل در نسل منتقل ہوتا ہوا آج بھی اپنی حرارت اور تاثیر کے ساتھ موجود ہے یہی سلسلۂ ابوالعلائیہ کی دل آویزی ہے یہی اس کی روحانی وسعت ہے اور یہی اس کے فیضان کی وہ حقیقت ہے جسے اہلِ ذوق ابوالعلائی ذائقہ کہتے ہیں جس دل کو یہ ذائقہ نصیب ہوگیا اس کے لیے نسبت محض نسبت نہیں رہتی بلکہ زندگی کا ایک روحانی شعور بن جاتی ہے ذکر محض الفاظ نہیں رہتا بلکہ قلب کی کیفیت بن جاتا ہے محبت محض دعویٰ نہیں رہتی بلکہ کردار میں جلوہ گر ہوتی ہے اور خانقاہ محض ایک عمارت نہیں رہتی بلکہ اصلاحِ انسان اور فیضانِ معرفت کا مرکز بن جاتی ہے پس سلسلۂ ابوالعلائیہ کی تاریخ کو اگر ایک جملے میں سمیٹا جائے تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک ایسے روحانی فیضان کی داستان ہے جس نے مختلف سلاسل اور خانوادوں کے دلوں میں محبت و معرفت کے چراغ روشن کیے اور برصغیر خصوصاً سرزمینِ بہار کی خانقاہی تہذیب پر اپنے گہرے اور دیرپا نقوش ثبت کیے یہ فیضان آج بھی زندہ ہے اور جب تک ذکرِ الٰہی کی صدائیں خانقاہوں میں بلند ہوتی رہیں گی جب تک محبتِ رسولِ اکرم ﷺ دلوں کو منور کرتی رہے گی جب تک اہلِ اللہ تزکیۂ نفس اور اصلاحِ باطن کی دعوت دیتے رہیں گے اور جب تک خدمتِ خلق کو عبادت سمجھنے والے نفوس موجود رہیں گے تب تک ان نسبتوں کے چراغ بھی روشن رہیں گے اور ابوالعلائی فیضان کی یہ روحانی داستان بھی اہلِ محبت کے دلوں میں اپنی خوشبو بکھیرتی رہے گی۔

Address

NuruddinGanj
Patna
800008

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sarkar E Patna Mission posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share