Imarat Shariah

Imarat Shariah Bengal (India).

Introduction
Imarat Shariah, Bihar, Orissa & Jharkhand is a unique and un-paralleled socio religious organization of Muslim Ummah in the state of Bihar, Odissa, Jharkhand & W.

مسلمان ایمان، شریعت، اسلامی تہذیب اور معاشرتی اصلاح کے تحفظ کے لیے متحد و بیدار رہیں: احمد حسین قاسمی مورخہ 16 مئی سے جا...
22/05/2026

مسلمان ایمان، شریعت، اسلامی تہذیب اور معاشرتی اصلاح کے تحفظ کے لیے متحد و بیدار رہیں: احمد حسین قاسمی

مورخہ 16 مئی سے جاری ضلع مظفر پور کے مختلف بلاکوں میں امارت شرعیہ کی عظیم دعوتی و اصلاحی مہم آج بحسن وخوبی اختتام پذیر

(مظفر پور، 22 مئی 2026، جمعہ)

حضرت امیر شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ العالی اور ناظم اعلیٰ جناب مفتی محمد سعید الرحمٰن قاسمی کی ہدایت و نگرانی میں امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ پھلواری شریف پٹنہ کے زیر اہتمام ضلع مظفر پور کے مختلف بلاکوں اور مسلم آبادیوں میں جاری عظیم دعوتی و اصلاحی مہم اپنے اثرات کے ساتھ مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔ اس سلسلہ کی ایک اہم اور روح پرور نشست آج بلاک کڑھنی کے موضع سکری سریا کی جامع مسجد میں منعقد ہوئی، جس کی قیادت امارت شرعیہ کے معاون ناظم جناب مولانا احمد حسین قاسمی مدنی صاحب نے فرمائی۔ پروگرام میں بڑی تعداد میں علماء، ائمہ مساجد، نوجوانوں اور عوام الناس نے شرکت کی۔
اپنے خطاب میں مولانا احمد حسین قاسمی مدنی نے ملتِ اسلامیہ کو درپیش سنگین دینی، تہذیبی اور سماجی چیلنجوں پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج مسلمانوں کی دینی شناخت، مساجد، مدارس، عیدگاہوں، قبرستانوں اور موقوفہ جائدادوں پر مختلف انداز سے حملے کیے جا رہے ہیں۔ نئی نسل کو دینی تعلیم سے دور کرنے کی منظم کوششیں ہورہی ہیں، نوجوانوں میں نشہ خوری ،بے راہ روی اور اخلاقی بگاڑ بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ مسلم خواتین میں اسلامی پردہ اور حیا کی قدریں کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بڑی تعداد میں مسلمان نمازوں اور مسجدوں سے دور ہوچکے ہیں، جو پوری امت کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہی نازک حالات کے پیش نظر مفکرِ ملت حضرت امیر شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ امارت شرعیہ کے علماء و خادمین گاؤں گاؤں، بستی بستی پہنچ کر مسلمانوں میں دینی شعور بیدار کریں، ایمان و شریعت کے تحفظ کا جذبہ پیدا کریں اور ملت کو داخلی و خارجی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کریں۔ اسی مقصد کے تحت ضلع مظفر پور کے مختلف بلاکوں میں دینی مکاتب کے نظام کو ازسرِ نو مضبوط و منظم کرنے، جامع نصابِ تعلیم کو فروغ دینے، مدارس میں طلبہ کی تعداد بڑھانے، مسلم خواتین کے لیے ماہانہ تربیتی اجتماعات منعقد کرنے اور معاشرہ کو جہیز، تلک، بارات، سود، سموہ لون اور نشہ جیسی مہلک برائیوں سے پاک کرنے کی خاموش مگر مؤثر تحریک چلائی جا رہی ہے۔
مولانا مدنی نے مسلمانوں کو باہمی اتحاد و اتفاق مضبوط کرنے، محلوں اور دیہات میں مشورہ و مفاہمت کی فضا قائم کرنے اور اجتماعی مسائل کو دینی بنیادوں پر حل کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ اگر مسلمان اپنے ایمان، عبادات اور اسلامی تہذیب سے مضبوطی کے ساتھ وابستہ ہوجائیں تو کوئی طاقت انہیں کمزور نہیں کرسکتی۔
اس موقع پر امارت شرعیہ کے معاون قاضی شریعت مفتی محمد راشد انور قاسمی صاحب نے اصلاحِ معاشرہ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ صالح معاشرہ کی بنیاد میاں بیوی کے صالح کردار پر قائم ہوتی ہے۔ اگر والدین خود شریعت کے پابند ہوں اور اپنی اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت کے لیے فکر مند رہیں تو ایک پاکیزہ نسل اور مثالی معاشرہ وجود میں آسکتا ہے۔ انہوں نے سود اور سمو لون کے تباہ کن اثرات پر روشنی ڈالی اور مسلمانوں کو تاکید کی کہ شرعی تنازعات کی صورت میں دارالقضاء سے رجوع کریں۔
جناب مولانا مفتی عبدالحئی زاہد قاسمی صاحب، استاذ حدیث دارالعلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ نے “کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ” کے موضوع پر مدلل خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں کو قرآن و سنت کی طرف مکمل رجوع کرنے اور اپنی زندگیوں کو اسوۂ نبوی کے مطابق ڈھالنے کی تلقین کی۔
جناب مولانا محمد نوشاد عالم مظاہری، مبلغ امارت شرعیہ نے امارت شرعیہ کے مختلف شعبہ جات کا تفصیلی تعارف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ یہ عظیم ادارہ گزشتہ ایک صدی سے ملت اسلامیہ کی دینی، تعلیمی، سماجی اور شرعی رہنمائی کا تاریخی فریضہ انجام دے رہا ہے۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض جناب مولانا احمد حسین قاسمی، مبلغ امارت شرعیہ نے بحسن و خوبی انجام دیے جبکہ جناب مولانا مفتی عبدالقدوس مظاہری صاحب نے بھی اپنے خطاب میں دینی بیداری اور اصلاحِ معاشرہ کی ضرورت پر زور دیا۔
واضح رہے کہ 16 مئی سے جاری اس دعوتی و اصلاحی مہم کے تحت ضلع مظفر پور کے مختلف بلاکوں اور مواضعات میں مسلسل پروگرام منعقد ہوتے رہے۔ ان پروگراموں میں بلاک کڑھنی کے مواضعات مورنصف خورد، پھلوریا، چین پور بنگرہ، محمد پور مبارک، سکری سریا اور کشن پور بلور؛ بلاک شکرا کے موضع شاہ پور جنید؛ بلاک مسہری کے مواضعات سگہری اور عطردہ؛ بلاک میناپور کے موضع پپراہاں؛ اور بلاک بوچہاں کے گھونچا بھگوان پور، ترکی اور جامعہ زکریا تجوید القرآن خالق پور شامل ہیں، جہاں بڑی تعداد میں مسلمانوں نے شرکت کرکے دینی بیداری، اصلاحِ معاشرہ اور اتحادِ ملت کے پیغام کو سنا اور سراہا۔
یہ اصلاحی دورہ آج شام کشن پور بلور میں بعد نماز مغرب منعقد ہونے والے خصوصی اجلاس پر اختتام پذیر ہوگا، جس میں امارت شرعیہ کے نائب ناظم حضرت مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی مدظلہ بطور مہمان خصوصی شرکت فرمائیں گے اور خصوصی خطاب کریں گے۔
اس پورے دورہ کے دوران امارت شرعیہ کے نہایت فعال و متحرک ناظم و صدر مفتی حضرت مولانا مفتی محمد سعید الرحمٰن قاسمی اور شعبہ تبلیغ و تنظیم کے ذمہ دار جناب مولانا مفتی محمد سہراب ندوی قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ مسلسل وفد کے قائد و اراکین سے رابطہ میں رہے اور وقتاً فوقتاً ضروری رہنمائی فرماتے رہے۔ مقامی مسلمانوں نے اس دعوتی و اصلاحی مہم کا بھرپور خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس کے مثبت اثرات پورے ضلع مظفر پور میں دور رس ثابت ہوں گے۔
آخر میں دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ امارت شرعیہ کی ان تمام کوششوں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ملت اسلامیہ کو ایمان و عمل کی مضبوطی نصیب فرمائے، مسلمانوں کے اندر اتحاد، اخوت اور دینی حمیت پیدا فرمائے اور پوری امت کو فتنوں سے محفوظ رکھے۔ آمین

مشکل حالات میں بہتر تدبیر و حکمت عملی کی راہ اختیار کرنا ہوشمندی کی علامت ہے: مفتی محمد سہراب ندوی(پریس ریلیز،کشن گنج )ی...
21/05/2026

مشکل حالات میں بہتر تدبیر و حکمت عملی کی راہ اختیار کرنا ہوشمندی کی علامت ہے: مفتی محمد سہراب ندوی

(پریس ریلیز،کشن گنج )

یہ دنیا ہمیشہ حق پرستوں کے لئے امتحانات اور آزمائشوں کی جلوہ گاہ رہی ہے،جب جب حق کو سربلندی حاصل ہوئی تو باطل نے اس کو دبانے اور اس کی قوت کو کچلنے کے لئے ظلم و جور اور جبر و استعداد کے مختلف حربے استعمال کئے؛ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ حق کے قدم کو تھوڑی دیر کے لئے روکا تو جا سکا لیکن اسے ہمیشہ کے لئے صفحہ ہستی سے کوئی مٹا نہ سکا، موجودہ وقت میں حق وصداقت ،عدل وانصاف ،مساوات و بھائی چارگی اور مذہبی ہم آہنگی جیسی حقیقتوں کو ظلم و جور کے ہاتھوں سماجی زندگی سے ختم کرنے کی ناپاک کوششیں ہو رہی ہیں،ایک خاص ملت جو امن وسلامتی کے ساتھ جینا چاہتی ہے اس کو مختلف پریشانیوں میں مبتلا کر کے اس کے وجود کو مٹانے اور اس کی پہچان کو چھیننے کا غیر منصفانہ ماحول تیار کیا جارہاہے،بلاشبہ حق پرستوں اور انصاف پسندوں کے لئے یہ آزمائش کی نہایت ہی مشکل گھڑی ہے،تاہم حق کی فتح اور صداقت کی جیت پر یقین رکھنے والے افراد ہمیشہ ایسے موقع پر حالات کی مناسبت سے اپنے حفظ و بقاء کی بہتر تدبیر اور مناسب حکمت عملی اختیار کرکے شکست کی صورتحال کو نئے انقلاب میں بدل دیا کرتے ہیں،اس لئے ضرورت ہے کہ مشکل حالات سے گھبرانے ،دل برداشتہ ہونے اور حوصلہ ہارنے کے بجائے بہتر تدبیروں اور مناسب حکمت عملی کی راہوں کو اختیار کیاجائے اور صبر و تحمل، حوصلہ مندی اور جہد مسلسل کے ذریعہ مشکلات کے گھیرے سے اپنے آپ کو باہر نکالا جائے،ان خیالات کا اظہار امارت شرعیہ کے نائب ناظم و قائد وفد جناب مولانا مفتی محمد سہراب ندوی قاسمی صاحب نے رات ٹھاکر گنج بلاک کی مشہور آبادی پیٹ بھری میں منعقد ایک بڑے اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے کیا،انہوں نے کہاکہ ہم ایک زندہ تاریخ رکھنے والی ملت ہیں،ہمارے پرکھوں نے آزمائشوں کے بے شمار طوفان اٹھتے ہوئے دیکھا ہے،لیکن اس سے گھبرانے اور بزدلی کا شکار ہونے کے بجائے پوری پامردی اور حوصلہ مندی سے اس کا مقابلہ کرکے نہ صرف طوفان کے رخ کو موڑا بلکہ عزت وعظمت کی نئی تاریخ بھی رقم کی ہے،جناب مفتی صاحب نے امارت شرعیہ کے وفد کی آمد کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امارت شرعیہ نے ہمیشہ ایسے موقع پر ملت کی کامیاب رہنمائی اور بیداری کا حق ادا کیاہے اور آج بھی ایسے ہی پیغام کے ساتھ امارت شرعیہ کا یہ موقر وفد آپ کے علاقہ کے دورہ پر ہے۔وفد کے موقر رکن جناب مولانا عقیل اختر قاسمی صاحب رفیق دارالافتاء امارت شرعیہ نے شرعی رہنمائی کے معاملہ میں دارالافتاء امارت شرعیہ کی خدمات اور عوام وخواص کے مکمل اعتماد کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پوری زندگی شریعت کی حد بندیوں میں گھری ہوئی ہے، ضرورت ہے کہ جن چیزوں کا شرعی حکم ہمیں معلوم نہ ہو تو پہلے کسی مقامی مستند عالم دین یا مفتی شرع متین سے دریافت کریں اور اگر جواب حاصل ہونے میں دشواری ہو تو امارت شرعیہ کے دارلافتاء سے رجوع کریں، موجودہ حضرت امیر شریعت کی توجہ سے آج آن لائن اور آف لائن ہرطرح سے دارلافتاء امارت شرعیہ سے سوال پوچھنے کی سہولت حاصل ہے اور اس کے جوابات بھی آن لائن اور آف لائن موصول کرائے جارہے ہیں، انہوں نے کئی سماجی خرابیوں مثلاً نکاح میں فضول خرچی ،مہر کی ادائیگی میں غفلت اور بےجا طلاق کی قباحتوں پر گفتگو کی اور کہا کہ ہمیں ہر حال میں ان خرابیوں کو دور کرنے کے لئے بحیثیت خیر امت آگے آنا چاہئے۔ دارالقضاء ٹیڑھا گاچھ کے قاضی شریعت جناب مولانا وصی احمد قاسمی صاحب نے فکر امارت کی شرعی بنیاد ،وحدت و اجتماعیت کے استحکام کے لئے اطاعت امیر کی اہمیت اور امارت شرعیہ کے موجودہ نظام کو مستحکم رکھنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی اور کہاکہ ملت کے لئے امارت شرعیہ ایک بڑا سہارا ہے کہ جو ہر مشکل گھڑی میں ملت کی رہنمائی اور حق کی لڑائی لڑنے کا کام کرتی ہے۔دارالقضاء پوا خالی کے قاضی شریعت جناب مولانا فضل اللہ قاسمی صاحب نے سماج میں انصاف کو آسان بنانے پر توجہ دینے اور امارت شرعیہ کے نظام قضاء سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی دعوت دی اور کہاکہ سماج کا جو ذمہ دار فرد بھی چند منٹ انصاف کی راہ میں قربان کرتاہے اور اس کے ذریعہ کسی جھگڑے اور تنازع کا خاتمہ ہو جاتا ہے تو اللہ ایسے بندے کو ستر سال کی نفلی عبادت کا اجر دیتا ہے۔مولانا سعوداللہ رحمانی مبلغ امارت شرعیہ نے امارت کی وسیع خدمات کا جامع تعارف کرایا اور نظامت کی ذمہ داری نبھائی۔مولانا رئیس اعظم رحمانی مبلغ امارت شرعیہ نے اجلا س کو منظم رکھنے اوراس کو کامیاب بنانے میں تعاون دیا۔اسی سلسلہ کا ایک اجلاس آج مورخہ ۲۱؍مئی کو بیلوا کشن گنج کے قریب واقع مشہور آبادی کالاسنگیا میں بھی منعقد ہوا، جس میں مردوں کے علاوہ پردے کے ساتھ خواتین کی بھی بڑے تعداد نے شرکت کی،اس اجلاس میں بھی قائد وفد اور ارکان وفد نے مختلف ضروری موضوعات پر موثر خطابات کئے۔ واضح رہے کہ امارت شرعیہ کا ایک موقر دعوتی وفد امیر شریعت مفکر ملت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ کی ہدایت اور ناظم امارت شرعیہ مولانا مفتی محمد سعید الرحمٰن قاسمی صاحب کے مشورہ سے اس وقت ضلع کشن گنج کے دورہ پر ہے۔ یہ دورہ ۲۵؍مئی تک جاری رہے گا۔

گرمیوں کی تعطیل میں بچوں کے دین و ایمان کے تحفظ کے لیے انہیں مکاتب سے جوڑیں: مفتی محمد سعید الرحمٰن قاسمی(پریس ریلیز  پھ...
21/05/2026

گرمیوں کی تعطیل میں بچوں کے دین و ایمان کے تحفظ کے لیے انہیں مکاتب سے جوڑیں: مفتی محمد سعید الرحمٰن قاسمی

(پریس ریلیز پھلواری شریف )

امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کے ناظم مولانا مفتی محمد سعید الرحمٰن قاسمی صاحب نے اپنے ایک اخباری بیان میں والدین اور سرپرست حضرات کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ پرفتن دور میں جہاں نئی نسل کو ان کی اسلامی تہذیب، مادری زبان اور اخلاقی اقدار سے دور کرنے کی منظم کوششیں ہو رہی ہیں، وہیں مسلمانوں کے لیے سب سے بڑا اور اہم ترین چیلنج اپنے بچوں کے دین و ایمان کا تحفظ ہے۔ والدین جس طرح بچوں کے شاندار دنیاوی مستقبل، اعلیٰ عصری تعلیم اور اچھے روزگار کے لیے فکرمند رہتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ ضرورت اپنےبچوں کی دینی تربیت، اچھا ایماندار انسان اور سچا مسلمان بنانے اور ان کے اخروی انجام کے بہتربنانے کی ہے، تاکہ کل قیامت کے دن ہم اللہ کے حضور سرخرو ہو سکیں۔

ناظم امارت شرعیہ نے موجودہ تعلیمی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بچے عصری اسکولوں اور کالجوں میں پڑھ کر بڑی بڑی ڈگریاں تو حاصل کر رہے ہیں، لیکن افسوس کہ وہ بنیادی دینی شعائر، اپنی مادری زبان اردو اور اسلامی لٹریچر سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اس سنگین صورت حال کا واحد اور موثر حل یہ ہے کہ عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کو مساجد پر مبنی مقامی مکاتب کے نظام سے مضبوطی سے جوڑا جائے۔

ناظم صاحب نے مزید فرمایا کہ ابھی اسکولوں میں گرمی کی چھٹی چل رہی ہے اس کو ایک بہترین موقع اور غنیمت جانیں اور بچوں کے قیمتی وقت کو فضول چیزوں یا موبائل وغیرہ میں ضائع ہونے نہ دیں۔ ان چھٹیوں کے دوران بچوں کو خاص طور پر سیرت النبی ﷺ، تاریخِ اسلام، بنیادی عقائد و مسائل اور اخلاقیات کی تعلیم دی جائے، تاکہ بچوں کے ذہنوں کو اسلام کے تئیں صاف اور مستحکم کیا جا سکے، ہم اپنے بچوں کے لیے دنیاوی جائیداد چھوڑ کر جائیں یا نہ جائیں، لیکن انہیں دین سکھا کر اور سچا مسلمان بنا کر دنیا سے جائیں یہی ہماری اولین ذمہ داری ہے۔

آئیے ہم سب عہد کریں کہ اپنے بچوں کے دین و ایمان کی حفاظت کےلئے مسجد کو مرکز بنا کر انہیں بنیادی دینی تعلیم سے آراستہ کریں گے ،انہیں ایک اچھا انسان اور باوقار شہری کی حیثیت سے زندگی گزارنے کی تلقین کریں گے ۔

اخباری تراشے 21/05/2026
21/05/2026

اخباری تراشے
21/05/2026

امارت شرعیہ کی خبریں اخبارات کی زبانی 20/05/2026
20/05/2026

امارت شرعیہ کی خبریں اخبارات کی زبانی
20/05/2026

ایمان کی حفاظت، نشہ و بے حیائی کے خاتمہ اور اتحادِ ملت کے لیے امارتِ شرعیہ کا عظیم اصلاحی مشنضلع سپول کے مختلف علاقوں می...
20/05/2026

ایمان کی حفاظت، نشہ و بے حیائی کے خاتمہ اور اتحادِ ملت کے لیے امارتِ شرعیہ کا عظیم اصلاحی مشن

ضلع سپول کے مختلف علاقوں میں دعوتی و اصلاحی وفد کے مؤثر پروگرام، عوام کا زبردست جوش و خروش

حضرت امیرِ شریعت دامت برکاتہم اور ناظم امارتِ شرعیہ کی ہدایات کی روشنی میں امارتِ شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کا ایک دعوتی، اصلاحی اور بیداریِ ملت پر مشتمل وفد ضلع سپول کے صدر بلاک کے مختلف مواضعات کے دورہ پر 13/تا20/مئی رہا، جہاں ایمان پر ثابت قدمی، نئی نسل کی دینی تعلیم وتربیت، شادی بیاہ میں اسراف ،نشہ خوری ، طلاق کے بڑھتے رجحان، بے حیائی کے فتنوں، خاندانی انتشار، اور ملت کے درمیان اتحاد و اتفاق جیسے اہم موضوعات پر متعدد بیداری پروگرام منعقد کیے گئے۔ ان پروگراموں میں عوام و خواص کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور اصلاحِ معاشرہ کی اس مہم کو بے حد سراہا۔
وفد کی قیادت معروف عالمِ دین حضرت مفتی احتکام الحق قاسمی صاحب نائب مفتی امارت شرعیہ نے کی۔ وفد میں مولانا ابو الکلام شمسی صاحب معاون ناظم، امارت شرعیہ ،مفتی مجیب الرحمن صاحب قاسمی معاون قاضی شریعت مرکزی دارالقضاء امارتِ شرعیہ، قاضی ابوالقاسم رحمانی صاحب قاضی شریعت امارتِ شرعیہ ضلع سپول، مولانا زین الحق قاسمی اور مولانا محی الدین صاحب مبلغِین امارتِ شرعیہ شامل تھے۔
مفتی احتکام الحق قاسمی صاحب نے اپنے مؤثر اور فکر انگیز خطابات میں کہا کہ آج امتِ مسلمہ جن سنگین حالات سے گزر رہی ہے، ان میں ایمان کی حفاظت سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ نوجوان نسل تیزی کے ساتھ نشہ، فحاشی، موبائل کی تباہ کاریوں اور بے دینی کی طرف مائل ہو رہی ہے، جس کے نتیجہ میں خاندان ٹوٹ رہے ہیں، اخلاق بگڑ رہے ہیں اور معاشرہ تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ مولانا ابوالکلام شمسی صاحب نے تعلیم وتربیت پرزور دے کر کہا کہ اگر ہم نے اپنی نسلوں کی دینی تعلیم و تربیت، نماز کی پابندی، قرآن سے تعلق، اور اسلامی ماحول کی فکر نہ کی تو آنے والا وقت مزید خطرناک ہو سکتا ہے۔
مفتی مجیب الرحمٰن قاسمی صاحب نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے گھروں کو دینی ماحول کا گہوارہ بنائیں، نشہ اور بے حیائی شادی بیاہ میں اسراف اور طلاق کے بےجااستعمال کے خلاف اجتماعی مہم چلائیں، اور آپسی اختلافات کو ختم کرکے اتحاد و اتفاق کو مضبوط کریں۔ قاضی ابوالقاسم رحمانی صاحب نےمیراث میں بہنوں کو حصہ دینے حرام خوری سے بچنے اور پاکیزہ زندگی گزارنے پر تفصیل سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر بھی زور دیا کہ دارالقضاء اور شریعت کے نظام سے وابستگی دراصل ایمان اور معاشرہ دونوں کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔لہذااپنے تنازعات شریعت کی روشنی میں دارالقضا امارت شرعیہ کے ذریعہ حل کرائیں مولانا زین الحق قاسمی اور مولانا محی الدین رحمانی نے امارتِ شرعیہ کی سوسالہ خدمات پر روشنی ڈالی
پروگراموں کے اختتام پر ملک و ملت کے امن، نوجوانوں کی اصلاح، ایمان کی سلامتی اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ عوام نے امارتِ شرعیہ کی اس اصلاحی و دعوتی کوشش کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس طرح کے پروگراموں کو مسلسل جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی۔

بلا تفریق مذہب و مسلک انسانیت کی خدمت امارت شرعیہ کی اپنی پہچان ہے: مفتی محمد سہراب ندویپھلواری شریف: پریس ریلیز امارت ش...
19/05/2026

بلا تفریق مذہب و مسلک انسانیت کی خدمت امارت شرعیہ کی اپنی پہچان ہے: مفتی محمد سہراب ندوی

پھلواری شریف: پریس ریلیز

امارت شرعیہ کا نظام ملت کی ہمہ جہت خدمات پر مشتمل ہے،سماجی انصاف کو عام کرنے، ملی اتحاد کو مستحکم بنانے، بنیادی دینی تعلیم اور معیاری عصری تعلیم کو فروغ دینے اور معاشرتی اصلاح پر توجہ دینے کے ساتھ امارت شرعیہ کا ایک بڑا کام بلا تفریق مذہب و مسلک انسانیت کی خدمت ہے، چنانچہ جب اور جہاں بھی انسانیت پر کوئی اوفتاد پڑی لوگ کسی زمینی و آسمانی آفات و مصائب کے شکار ہوئے یا کسی دوسری جہت سے انسانی جان و مال کو نقصان پہونچایا گیا تو امارت شرعیہ نے پورے ملک کے اندر بلا تفریق مذہب و مسلک انسانیت کی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اس کو بڑا کار ثواب سمجھا، آسام ہو یا گجرات، کشمیر ہو یا پنجاب ،نوح میوات ہو یا یوپی بہار کے مختلف مقامات پر پیش آنے والے سانحات، ہر موقع پر امارت شرعیہ کے خادموں نے جائے حادثہ پہونچ کر مصیبت زدگان کا آنسو پوچھنے اور ان کو راحت پہونچانے کا کام کیا، ابھی گذشتہ اگست ستمبر میں پنجاب کے بھیانک سیلاب نے جو تباہی مچائی اس نے ہر درد مند انسان کو جھنجھور کر رکھ دیا، امارت شرعیہ کے امیر شریعت مفکر ملت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ اور ناظم امارت شرعیہ مولانا مفتی محمد سعیدالرحمٰن قاسمی صاحب نے آپسی مشورہ سے ۱۵؍افراد پر مشتمل ایک مضبوط ریلیف ٹیم پنجاب روانہ کیا،جس نے لمبے وقفہ تک قیام کرکے دریائے راوی اور دریائے توی کے کنارے سیکڑوں گوجر خاندان ،سکھ بھائی و دیگر برادران وطن جن کے گھر پانی میں بہہ گئے اور وہ بے گھر کھلے آسمان کے نیچے زندگی گذار رہے تھے ان کو راحت پہونچانے اور ان کی باز آبادکاری میں تعاون دینے کی بڑی خدمت انجام دی، اس لئے امارت شرعیہ سے تعلق رکھنے والے اور اس کی فکر سے وابستہ ہرفرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہمیشہ انسانیت کی خدمت کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور مذہب و مسلک کے فرق کے بغیر اس کام کے انجام دینے کو بڑی عبادت سمجھیں، ان خیالات کا اظہار امارت شرعیہ کے نائب ناظم وقائد وفد جناب مولانا مفتی محمد سہراب ندوی قاسمی صاحب نے رات ٹھاکرگنج بلاک کی مشہور آبادی مرچان کی وسیع جامع مسجد میں بڑے مجمع کو خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر مفتی صاحب نے وفد کے اس دورہ کے مقاصد اور اس کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔دارالافتاء امارت شرعیہ کے رفیق جناب مولانا مفتی عقیل اختر قاسمی صاحب نے اپنے خطاب میں میراث کی ادائیگی میں خواتین کی حق تلفی کی شناعت اوراس کی وجہ سے جہیز کی بڑھتی لعنت پر حدیث و قرآن کی روشنی میں مدلل گفتگوکی،انہوں نے کہا کہ اس وقت یونیفارم سول کوٹ کو جس طرح مختلف ریاستوں میں نافذ کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے اگر ہم نے خود اپنی شریعت پر عمل کا مضبوط فیصلہ نہیں کیا تواحکام شریعت کی حفاظت مشکل ہوگی۔جناب مولانابوصی احمد قاسمی قاضی شریعت ٹیڑھا گاچھ نے بنیادی دینی تعلیم کے نقطہ نظر سے ہر گھر کو مکتب بنانے اور ہر مسجد میں بنیادی دینی تعلیم کے نظام کو منظم طور پر چلانے کی تلقین کی اور کہا کہ یہ کام والدین کے ذمہ محض واجب اورمستحب نہیں بلکہ فرض عین ہے۔ دارالقضاء پوا خالی کے قاضی شریعت مولانا فضل اللہ قاسمی صاحب نے امارت شرعیہ کے نظام قضاء اور ضلع کشن گنج میں قائم تینوں دارالقضاء کی خدمات ،افادیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ہمارے ایمان کی حفاظت مال کی سلامتی اور عزت و آبرو کے تحفظ کی سب سے آسان راہ یہ ہے کہ ہم ہر سول معاملے کو اور اپنے گھریلو جھگڑوں کو شرعی دارالقضاء میں پیش کریں،تاکہ قرآن وحدیث کی روشنی میں انصاف پا سکیں اور اپنی شریعت کی حفاظت بھی کر سکیں۔جناب مولانا سعوداللہ رحمانی مبلغ امارت شرعیہ نے نظامت کی ذمہ داری نبھائی اور تمہیدی خطاب میں امارت شرعیہ کی وسیع خدمات کا تعارف کرایا۔اس سے قبل دن کا پروگرام بندر جھولا کی آبادی میں منعقد ہوا،جہاں قائد وفد اور ارکان وفد نے خاص طورپر اتحاد کی ضرورت ،شریعت کی حفاظت کے لئے اس پر عمل کی اہمیت اور دینی تعلیمی نظام کو مستحکم بنانے کی طرف حاضرین کو متوجہ کیا، دونوں اجلاس ہراعتبار سے کامیاب رہے ۔جناب مولانا رئیس اعظم رحمانی صاحب مبلغ امارت شرعیہ نے دونوں اجلاس کے نظم و ضبط سنبھالا۔

خواتین اپنی نسل کو دینی و عصری تعلیم اور اسلامی اخلاق و کردار سے آراستہ کریں: احمد حسین قاسمی ضلع مظفرپور کے مختلف بلاک...
19/05/2026

خواتین اپنی نسل کو دینی و عصری تعلیم اور اسلامی اخلاق و کردار سے آراستہ کریں: احمد حسین قاسمی

ضلع مظفرپور کے مختلف بلاکوں میں امارتِ شرعیہ کا دعوتی و اصلاحی دورہ جاری

علماء امارت شرعیہ کا تعلیم ،اتحاد اور اسلامی اقدار پر خطاب
(نمائندہ مظفرپور: ١٩/مئی)
امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ کی جانب سے حضرت امیر شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم کے حکم و ہدایت اور ناظم اعلی جناب مفتی محمد سعیدالرحمٰن قاسمی کی ایما پر ضلع مظفرپور کے مختلف بلاکوں؛ شکرا، کڑھنی، مسہری، میناپور اور کانٹی میں دعوتی و اصلاحی پروگراموں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ ان اجتماعات میں بڑی تعداد میں علماء، ائمہ، دانشوران اور عوام الناس شریک ہو رہے ہیں۔اس موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں وفد کے قائد مولانا احمد حسین قاسمی مدنی نے مقام مور نصف کے مجمع عام سےحضرت امیر شریعت کا پیغام سناتے ہوئے کہا کہ آج ملت کو سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ گاؤں اور بستیوں کو دینی، تعلیمی اور سماجی اعتبار سے منظم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے جن افراد کو علم و شعور سے نوازا ہے ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بستیوں میں دینی و عصری تعلیم کے فروغ کے لیے سنجیدہ کوشش کریں، غریب طلبہ کی مالی معاونت کریں، اتحاد و اتفاق کی فضا قائم کریں اور سال میں دو یا تین مرتبہ اجتماعی مشورے کے ذریعے بستی کی ضروریات اور مسائل کا جائزہ لیں۔انہوں نے انہوں نے دینی تعلیم کے حصول اور الحاد و ارتداد سے اجتناب پرزور دے کر کہا کہ مسلمانوں کو غیر اسلامی رسم و رواج سے بچتے ہوئے اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کے احکام اور سنت نبویؐ کے مطابق گزارنا چاہیے۔ مزید کہا کہ ہر شوہر اور خاندان کا ذمہ دار اپنی اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت کے لیے فکر مند ہو، کیونکہ اولاد کی صحیح تربیت ہی ایک صالح اور کامیاب معاشرہ کی بنیاد ہے۔ انہوں نے خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ذمہ داری صرف گھریلو امور کی انجام دہی نہیں بلکہ اپنی نسل کو دینی تعلیم، اسلامی اخلاق اور بہترین کردار سے آراستہ کرنا بھی ہے۔نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوجوان قوم و ملت کا سرمایہ اور مستقبل کے معمار ہیں، اس لیے انہیں اپنی قیمتی زندگی کو تعلیم، تربیت اور کردار سازی کے لیے وقف کرنا چاہیے۔ اگر نوجوان دینی سانچے میں ڈھل جائیں گے تو آنے والی نسلیں بھی دین و ایمان پر قائم رہیں گی۔اس موقع پر مفتی راشد انور قاسمی نے مسلمانوں کو اپنے آپسی تنازعات کے حل کے لیے دارالقضاء امارت شرعیہ سے رجوع کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ بحیثیت مسلمان ہمارا ایمانی فریضہ ہے کہ اپنے معاملات کا فیصلہ قرآن و سنت کی روشنی میں کرائیں۔ انہوں نے بتایا کہ الحمدللہ امارت شرعیہ کے تحت بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال میں دارالقضاء کا مضبوط نظام قائم ہے جہاں قاضی شریعت شرعی اصولوں کے مطابق معاملات کا فیصلہ کرتے ہیں۔انہوں نے ملک میں بڑھتی ہوئی ارتداد کی لہروں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے والدین اور سرپرستوں کو نصیحت کی کہ وہ اپنے بچوں اور بچیوں کی اسلامی نہج پر تربیت کریں،اور اس کے لیے مکتب کے لازمی نظام کو یقینی بنائیں جہاں ان کے ایمان و عقیدہ مضبوط ہوں تاکہ وہ کسی بھی حال میں اپنے ایمان کا سودا نہ کریں۔اسی موقع پر مولانا عبدالحئی زاہد قاسمی نے اتباعِ سنت کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسانیت کی کامیابی صرف جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی سنتوں کی پیروی میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم میں بار بار نبی کریم ﷺ کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے ہمیں اپنی پوری زندگی سنت نبویؐ کے مطابق گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہی امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ کا بنیادی دعوتی پیغام ہے۔پروگرام کی نظامت مولانا احمد حسین قاسمی نے کی، جبکہ تلاوتِ کلام پاک محمد راشد عالم متعلم مکتب قاسم پپراہاں نے کی اور نعتیہ کلام مولانا زاہد صاحب نے پیش کیا۔تمام اجلاس کی ابتدا میں امارت شرعیہ کا تعارف مولانا محمد نوشاد عالم مظاہری نے پیش کیا۔اجلاس سے مولانا مفتی عبد القدوس مظاہری سمیت دیگر علماء نے بھی خطاب فرمایا۔واضح رہے کہ اب تک ضلع مظفرپور کے بلاک کڑھنی کے مواضعات مورنصف خورد، پھلوریا، چین پور بنگرہ اور محمدپور مبارک، بلاک شکرا کے شاہ پور جنید، بلاک مسہری کے سگہری اور بلاک میناپور کے پپراہاں میں یہ دعوتی و اصلاحی پروگرام منعقد ہو چکے ہیں، جہاں عوام میں دینی بیداری اور اصلاحِ معاشرہ کے حوالے سے غیر معمولی جوش و خروش دیکھنے کو ملا۔ان پروگراموں کو ترتیب دینے میں امارت شرعیہ کے مبلغ جناب مولانا نوشاد عالم مظاہری اور جناب مولانا احمد حسین قاسمی نے غیر معمولی جدو جہد کی ہے۔

امارت شرعیہ کی خبریں اخبارات کی زبانی 19/05/2026
19/05/2026

امارت شرعیہ کی خبریں اخبارات کی زبانی
19/05/2026

امارت شرعیہ میں اسحاق اثر اور سید فصیح الدین کے انتقال پر تعزیتی نشستحضرت امیرِ شریعت اور حضرت ناظم صاحب نے اظہارتعزیت ک...
18/05/2026

امارت شرعیہ میں اسحاق اثر اور سید فصیح الدین کے انتقال پر تعزیتی نشست

حضرت امیرِ شریعت اور حضرت ناظم صاحب نے اظہارتعزیت کیا

(پھلواری شریف ۱۸ مئی پریس ریلیز )

جناب اسحاق اثر اور سید فصیح الدین کے انتقال پرامارت شرعیہ میں تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا ان کے انتقال پر امیر شریعت مفکر ملت حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ اپنے تعزیتی پیغام میں فرمایا کہ اسحاق اثر مرحوم اور سید فصیح الدین مرحوم علمی، صحافتی اور سماجی حلقوں کی معتبر شخصیات تھیں۔ انہوں نے اپنی زندگی اردو زبان، ملی شعور اور سماجی خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ ان کا انتقال علمی و صحافتی دنیا کا بڑا خسارہ ہے۔ اور ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ جھارکھنڈ ومغربی مولانا مفتی محمد سعید الرحمنٰ قاسمی صاحب نےاظہارِ تعزیت کرتے ہوئے فرمایا کہ دونوں مرحومین نے خاموشی کے ساتھ ملت اور اردو زبان کی جو خدمات انجام دیں، وہ قابلِ قدر اور لائقِ تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسحاق اثر مرحوم اپنی خوش اخلاقی، سنجیدگی اور ملی درد مندی کے لیے جانے جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں حضرات کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

اس موقع سے تعزیتی نشست میں اظہار خیال کرتے ہوئے قائم مقام ناظم مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب نے فرمایا کہ اسحاق اثر، اسکول کے ریٹائر ٹیچر، جماعت اسلامی حلقہ پھلواری شریف کے سرگرم اور فعال رکن ، اردو میڈیا فورم کے سکریٹری اور پیاری اردو پٹنہ سے منسلک صحافی تھے، جماعت اسلامی کے ایک تربیتی پروگرام میں شریک تھے، تقریر کے دوران ہی دل کا شدید دورہ پڑا ایمس لے جائے گئے ، لیکن اس سے قبل ہی جا ن جاں آفریں کے سپر کر دیا ، وہ بہت خلیق ملنسار،کام کے تئیں حساس اور بیدار شخص تھے، اسی طرح سید فصیح الدین احمد بھی ایک زمانہ میں صحافی تھے ان کا اخبار پیغام نہرو اور صداقت پٹنہ سے نکلا کرتا تھا ، نشست کا آغاز مولانا اسعد اللہ قاسمی کے تلاوت کلام پاک سے ہوا ، شرکا ءمیں مولانا قمر انیس قاسمی صاحب معاون ناظم امارت شرعیہ ، مولانا ارشد رحمانی ، مولانامحمد منہاج عالم ندوی ، مولانا شاہ نوا ز مظاہری ، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ، مولانا صابر حسین قاسمی ، امتیاز عالم ، نورالدین کےنام قابل ذکر ہیں، شرکاء نے قرآن کریم کی بعض صورتوں کی تلاوت کر کے ایصال ثواب کیا ، نشست کا اختتام مغفرت اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعاءپر ہوئی.

مغربی بنگال کی بگڑتی صورت حال اور وندے ماترم کی لازمیت باعث تشویش :امیر شریعت(پریس ریلیز پھلواری شریف پٹنہ ) امیر شریعت ...
18/05/2026

مغربی بنگال کی بگڑتی صورت حال اور وندے ماترم کی لازمیت باعث تشویش :امیر شریعت

(پریس ریلیز پھلواری شریف پٹنہ )
امیر شریعت بہار اڈیشہ ،جھارکھنڈ ومغربی بنگال حضرت مولانا سیداحمد ولی فیصل رحمانی نے ایک پریس بیان میں کہا کہ اس وقت پورے ملک کی جو صورتحال ہے وہ انتہائی تشویش ناک ہے ،خصوصاََ مغربی بنگال میں نئی حکومت کےاقتدارمیں آنے کے بعد مسلمانوں کی جان و مال عزت و آبرو مساجد وغیرہ کو خطرات لاحق ہیں ،وہاں جو تشدد پھوٹ پڑا ہے اس کے سب سے زیادہ شکار مسلمان ہیں، نفرت کی ایسی آ بیاری کی گئی ہے کہ گنگا جمنی تہذیب کا جنازہ نکل رہا ہے،بھائی چارگی اور محبت کی جگہ نفرت نے لے لی ہے ، امن وامان کو خطرہ لاحق ہے ، ہر شہری بے چین اور خوف محسوس کررہا ہے ،جو لااینڈ آڈر پر سوالیہ نشان کھڑا کررہا ہے ،ایسی صورت حال میں حضرت امیر شریعت کا حکومت مغربی بنگال سے پرزور مطالبہ ہے کہ وہ اپنے صوبہ میں امن وامان کی فضاء قائم رکھے بدامنی اور نفرت کا خاتمہ کرے ہرشہری کو اس کا واجب حق دے، عدل و انصاف کی راہ اختیار کرے ،آئین اور دستور کی بالادستی قائم کرے ،صوبہ میں جاری تشدد اور مسلمانوں کو ہراساں کرنے کی مہم کو سختی سے روکا جائے تاکہ حالات معمول پر آئیں اور ہند وستان کی دیرینہ گنگا جمنی تہذیب محفوظ رہ سکے ۔

دوسری حکومت مغربی بنگال کی طرف سے وندے ماترم کے سلسلہ میں جاری سرکولر کو لےکر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے امیر شریعت بہار، اڈیشہ ،جھارکھنڈ ومغربی بنگال نے فرمایا کہ نظم وندے ماترم کی اصل روح دیوی ،درگاہ کی حمد وثناء پر مبنی ہے ، اس کو لازمی قرار دینا مذھبی اور شخصی آزدی کے قطعی خلاف ہے۔انہوں نےمزید فرما یاکہ ملک آئین ودستور سے چلے گا کیونکہ دستور کے معماروں نے ملک کے دستور کو سیکولر ڈھانچہ میں تشکیل دیا ہے ، جس میں تمام مذاہب وادیان کو مذہبی آزادی حاصل ہے ، یہاں کے تمام باشندے اپنے مذہب وعقیدے پر آزادانہ طریقہ پر عمل کرتے ہیں جو ان کے بنیادی حقوق کا حصہ ہے اور وندے ماترم گیت میں دیوی دیوتا ؤں کو ماں تصور کرنے کا نظریہ پیش کیا گیا ہے ، ماضی میں بھی یہ قضیہ کھڑا ہواتھا ملک کے پہلے وزیر اعظم جناب جواہر لال نہرو نے واضح کردیا تھا کہ یہ ترانہ اپنے مخصوص تہذیب میں روایت سے وابستہ ہے ، اس کو ملکی وحدت قرار دینے سے مشکلات پیداہوں گی ، تحریک آزادی کے قائد اور ملک کےپہلے وزیر تعلیم حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ نے کہا کہ اس طرح کے ترانوں سے قومی یکجہتی میں شگاف پیدا ہوسکتا ہے ، بالآخر یہ مسلمانوں کے ایمان وعقیدے کے منافی ہے جس کو ہم کسی طرح تسلیم نہیں کریں گے ، کیوں کہ مذہبی آزادی ہمارا بنیادی حق ہے ۔

ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ ،جھارکھنڈومغربی بنگال جناب مولانا مفتی محمد سعیدا لرحمن قاسمی صاحب نے فرمایاکہ ملکی عدالتوں نے اس ترانے کو سیکولر اقدار کے منافی قرارد یا ہے، اس کے باجود مغربی بنگال حکومت کا وندے ماترم گانے پر اصرارکرنا دستور وآئین اورعدالتی فیصلوں کے قطعی خلاف ہے، اس سےیکجہتی قائم نہیں رہ سکتی ہے ، لہٰذا ملکی وحدت وسالمیت کے پیش نظر حکومت اپنے نوسرکولر کو واپس لے تاکہ جمہوری اقدار قائم رہیں ، انہوں نے مزید فرمایاکہ اس ملک کو بنانے وسنوارنےاورانگریزوں کے تسلط سے آزاد کرانے میں مسلمانوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں ، ہزاروں کی تعدا د میں مسلمان شہید ہوئے ، قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں ، ان کی سرفروشانہ کوششوں کے نتیجہ میں ملک آزاد ہوا،اور یہ ملک گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ قرار پایا اور تمام مذاہب وادیان کا خیال رکھتے ہوئے دستور بنایا گیا،لہذا ان پر کوئی ایسے نامناسب کلمات وگیت کو قومی ترانہ کا نام دے کر پڑھنے پر مجبور کرنا کسی طرح بھی قبول نہیں ہے ۔ اس لیے ہمارا حکومت مغربی بنگال سے مطالبہ ہے کہ فورا ًاس کو واپس لے تاکہ امن وامان قائم رہے اور محبت وبھائی چارگی کی فضا ہموار ہو۔

Address

Imarat Shariah Complex
Patna
801505

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Imarat Shariah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Imarat Shariah:

Share