03/10/2026
امارت شرعیہ کے اعلیٰ سطحی وفد کی حضرت قاری شبیر احمد ؒ کے جنازہ میں شرکت
(پریس ریلیز ) امیر شریعت مفکرملت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ اور ناظم امارت شرعیہ جناب مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی صاحب کی ایماء پر امارت شرعیہ کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے آج مورخہ ۳؍اکتوبر ۲۰۲۶ء کو بھروارہ ضلع دربھنگہ پہونچ کر جید عالم دین ، باکمال خطیب اور ناظم مدرسہ اسلامیہ بھروارہ حضرت مولانا و قاری شبیر احمد قاسمی ؒ کے نماز جنازہ میں شرکت کی ،اس کارواں میں قائد وفد جناب مولانا مفتی محمد سہراب ندوی قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ کے علاوہ جناب مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ ،جناب مولانا مفتی وصی احمد قاسمی نائب قاضی شریعت ،معاون ناظم امارت شرعیہ جناب مولانا احمد حسین قاسمی اور مولانا عثمان رحیمی مبلغ امارت شرعیہ شریک تھے ،جنازہ کی نماز سے قبل قائد وفد جناب مفتی محمد سہراب ندوی صاحب نے حضرت امیر شریعت ،ناظم امارت شرعیہ ،صدر قاضی شریعت اور اس مؤقر وفد کی طرف سے تعزیتی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت حضرت امیر شریعت ،ناظم امارت شرعیہ اور صدر قاضی شریعت سفر پر ہیں،یہ وفد ان حضرات کے تعزیتی پیغام کے ساتھ یہاں پہونچا ہے،حضرت قاری صاحب کی رحلت کے سانحہ پر ان اکابر امارت شرعیہ نے گہرے غم و صدمہ کا اظہارکیا ہے اور حضرت قاری صاحب کے جملہ متعلقین کی خدمت میں تعزیت مسنونہ پیش کی ہے اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ حضرت قاری شبیر صاحب کی بال بال مغفرت فرمائے اور ان کے لواحقین و پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے ،اس موقع پر حاضرین کو خطاب کرتے ہوئے قائد وفد نے مزید کہا کہ محترم قاری صاحب کا سانحۂ ارتحال ،علمی ،فکری اور ملی دنیا کے لئے ایسا عظیم خسارہ ہے جس کا پُر ہونا یقینا بہت مشکل ہے،اللہ ملت کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے ۔ قاری صاحب کی نماز جنازہ میں اتنی بڑی تعداد میں اکابر علماء اور عوام و خواص کی شرکت اس بات کی شہادت ہے کہ یقینا قاری صاحب عنداللہ مغفور و مقبول ہیں ،ضرورت ہے کہ آپ کے جانے کے بعد آپ کے لگائے ہوئے چمن مدرسہ اسلامیہ بھرروارہ کی پوری حفاظت کی جائے ،فرمان رسول کے مطابق رحلت کرنے والے کو اچھے کلمات سے یاد کیا جائے اور آج کے بعد بھی انہیں ہر دعا میں یاد رکھا جائے ،امارت شرعیہ کے نائب ناظم جناب مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب نے اپنی گفتگو میں کہا کہ موت کے بعد صدقہ جاریہ علم نافع اور اولاد صالح کے ذریعہ ثواب کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور حضرت قاری صاحب کی خصوصیت یہ ہے کہ ان کی ذات میں یہ تینوں چیزیں جمع ہیں ،ان کے لئے سب سے بڑا صدقہ جاریہ مدرسہ اسلامیہ ہے ،بحیثیت عالم خود ان کا علمی فیض اور با تربیت صالح اولاد یہ سب ان کو اللہ نے میسر کیا ہے ،ان شاء اللہ ان سب کا ثواب سلسلہ وار ان کی روح کو پہونچتا رہے گا ،نائب قاضی شریعت جناب مولانامفتی وصی احمد قاسمی صاحب نے اس سانحہ کو علمی دنیا کا عظیم خسارہ بتاتے ہوئے کہا کہ ہم سب اس غم میں برابر کے شریک ہیں ، انہوں نے کہا کہ ان کے لگائے ہوئے چمن کی حفاظت اور اس کو ترقی کی راہ پر باقی رکھنا ملت کی بڑی ذمہ داری ہے ،اللہ تعالیٰ حضرت قاری صاحب کے درجات کو بلند فرمائے اور جنت میں اعلیٰ مقام عطا کرے ۔جنازہ میں کئی اضلاع کے علماء ،ائمہ، سیاسی و سماجی نمائندگان اور عوام و خواص کے جم غفیر نے شرکت کی ،وفد امارت شرعیہ نے مدرسہ اسلامیہ بھروارہ پہونچ کر اساتذۂ کرام اور ذمہ داران مدرسہ سے ملاقات کی،اس کے بعد خاص طور پر حضرت قاری صاحب کے صاحبزادہ مولانا دبیر احمد قاسمی ، ان کے بھائی مولانا سہیل احمد قاسمی ،مدرسہ کے صدرالمدرسین مولانا سعید احمد قاسمی اور قاری صاحب مرحوم کے دیگر برادران وغیرہ سے بھی ملاقات کر کے اکابر امارت شرعیہ اور وفد کی طرف سے تعزیت مسنونہ پیش کیا۔