Imarat Shariah

Imarat Shariah Bengal (India).

Introduction
Imarat Shariah, Bihar, Orissa & Jharkhand is a unique and un-paralleled socio religious organization of Muslim Ummah in the state of Bihar, Odissa, Jharkhand & W.

23/08/2026

اڈیشہ کے اصحاب کے تاثرات

امارت شرعیہ کی خبریں اخبارات کی زبانی 22/08/2026
22/08/2026

امارت شرعیہ کی خبریں اخبارات کی زبانی
22/08/2026

ناظم ِامارت شرعیہ کے ہاتھوں علامہ بہاری ؒ کی حیات وخدمات پر مشتمل کتاب کا اجرا ء(پریس ریلیز : پھلواری شریف ) دارالعلوم د...
21/08/2026

ناظم ِامارت شرعیہ کے ہاتھوں علامہ بہاری ؒ کی حیات وخدمات پر مشتمل کتاب کا اجرا ء

(پریس ریلیز : پھلواری شریف ) دارالعلوم دیوبند کے مایہ ناز استاذالاساتذہ ، امام المنطق وا لفلسفہ حضرت علامہ محمد حسین بہاری کی حیات و خدمات اور اوصاف و کمالات پر ان کے صاحبزادے محترم مولانا احمد حسن قاسمی نے ایک جامع کتاب ’’سوانح حضرت علامہ بہاری‘‘ کے نام سے تصنیف کر کے ایک بڑا علمی کارنامہ انجام دیا، اسی طرح انہوں نے حضرت علامہ بہاری ؒکے شاگردوں کی طرف سے ایک طرح قرض کو ادا کیا، جس کے لیے وہ سب کی طرف سے مبارک باد کے مستحق ہیں،یہ باتیں ناظمِ امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال، مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی نے کتاب کی رسمِ اجرا کرتے ہوئے کہیں ، یہ رسمِ اجرا تقریب امارتِ شرعیہ، پھلواری شریف، پٹنہ میں منعقد ہوئی، جس میں ناظم صاحب نے کہا: حضرت علامہ دارالعلوم دیوبند کے ان ممتاز اساتذہ میں تھے، جنہیں محبین فخرِ بہار تک کہتے تھے، آپ بافیض وباکمال مدرس تھے ۔

اس موقع پرمرکزی دارالقضاء کے صدر قاضیِ شریعت مولانا مفتی محمد انظارقاسمی نے کہا کہ اگرچہ میں حضرت علامہ کی زیارت سے محروم رہا، مگر ان کے علمی کمالات کےاس قدرتذکرےسنےگویا کہ وہ شخصیت میرے لیے دید و شنید کے مانند ہو گئی، وہ بڑے باکمال اور صاحبِ علم تقویٰ ،عالمِ دین تھے۔امارتِ شرعیہ کے نائب ناظم مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نے کہا کہ مصنفِ کتاب نے حضرت علامہ کےتعلق سے بکھرے بکھرے ہوئے موتیوں کو پرو دیاہے تاکہ اس سے نئی نسل کو روشنی ملے، میری طرف سے وہ مبارک باد کے مستحق اور قابلِ ستائش ہیں،مولانا سہیل اختر قاسمی نائب قاضیِ شریعت نے کہا کہ حضرت علامہ کی شخصیت ہمہ جہت تھی، وہ ہرفن پر عبور رکھتے تھے، مگر منطق اور فلسفہ میں انہیں کمال درجہ کا درک تھا، مولانا مفتی وصی احمد قاسمی نائب قاضی امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ ،جھارکھنڈ و مغربی بنگال نے کہا کہ میں نے دارالعلوم دیوبند میں تعلیم کے دوران ان کے علمی کمالات کے بہت چرچے سنے، بلاشبہ علامہ بہاریؒ فخرِ بہار کے لقب کے مستحق تھے، مولانا رضوان احمدندوی نے کہا کہ حضرت علامہ میرے شفیق استاد تھے، ان کے پڑھانے کا انداز بڑا اچھوتا اور نرالا تھا، مولانا عطاء الرحمن مظاہری ناظم آزاد مدرسہ اسلامیہ ڈھاکہ، ضلع مشرقی چمپارن نے کہا کہ حضرت علامہ دارالعلوم دیوبند کے بے مثال مدرس تھے،اس موقع پر مصنفِ کتاب مولانا احمد حسن قاسمی ناظمِ تعلیمات آزاد مدرسہ اسلامیہ ڈھاکہ نے اپنے والدِ ماجد کی چندامتیازی خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہا کہ عرصے سے اس بات کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ ان پر کوئی کتاب مرتب کی جائے،میں نے اپنی سطح سے چند بکھری یادوں اور با توں کو جمع کر دیا ہےتاکہ وہ اگلی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہو،آخر میں رسمِ اجرا کی یہ تقریب دعا پر اختتام پذیر ہوئی ، اس تقریب میں امارتِ شرعیہ کے متعدد ذمہ داران و کارکنان نے شرکت کی ۔

آسام سیلاب متاثرین کے درمیان امارتِ شرعیہ کی جانب سے پلنگ اور بستر کی تقسیمضلع شیو ساگر کے جیوتی ساگر، غور علی، ہیلا ہا...
21/08/2026

آسام سیلاب متاثرین کے درمیان امارتِ شرعیہ کی جانب سے پلنگ اور بستر کی تقسیم

ضلع شیو ساگر کے جیوتی ساگر، غور علی، ہیلا ہاکو، لکوہ اور ربولی میں 50 خاندانوں کو راحتی سامان فراہم



(پریس ریلیز : نمائندہ آسام) حضرت امیرِ شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہٗ کی خصوصی ہدایت پر آسام کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں امارتِ شرعیہ بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ، پھلواری شریف، پٹنہ کی جانب سے راحت رسانی اور بازآبادکاری کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ امارتِ شرعیہ کی امدادی ٹیم متاثرین کی حقیقی ضروریات کا جائزہ لے کر انہیں ترجیحی بنیادوں پر ضروری اشیاء فراہم کر رہی ہے، تاکہ سیلاب سے اجڑے خاندانوں کو جلد از جلد معمول کی زندگی کی طرف واپس لایا جا سکے۔اسی سلسلے میں ضلع شیو ساگر کے شہری حلقہ جیوتی ساگر کے علاوہ غور علی، ہیلا ہاکو، لکوہ اور ربولی کے مختلف علاقوں میں امارتِ شرعیہ کی ٹیم نے سیلاب متاثرین کے درمیان بڑے پیمانے پر پلنگ اور بستر تقسیم کیے۔ ان علاقوں میں 50 ایسے خاندانوں کی نشاندہی کی گئی جن کے گھروں میں سونے اور آرام کرنے کے لیے پلنگ اور بستر کی شدید ضرورت تھی۔ مقامی ذمہ داران کی سفارش اور متاثرین کی ضرورت کا جائزہ لینے کے بعد ان خاندانوں کو لوہے کے پلنگ اور مکمل بستر سیٹ فراہم کیے گئے۔متاثرین کی ضرورت کے پیش نظر یہ لوہے کے پلنگ شیو ساگر کے ناظرہ فیکٹری میں خصوصی طور پر تیار کروائے گئے، تاکہ امدادی رقم کو حقیقی ضرورت کی اشیاء پر صرف کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ مزید 50 خاندانوں کو، جنہیں صرف بستر کی ضرورت تھی، بستر کا ضروری سامان فراہم کیا گیا۔

امارتِ شرعیہ کے ناظمِ اعلیٰ حضرت مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی نے امدادی ٹیم کو واضح ہدایت دی ہے کہ متاثرہ خاندانوں کی ضروریات کا محض عمومی اندازہ لگانے کے بجائے ہر علاقے میں گھر گھر اور خاندان بہ خاندان صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے، متاثرین سے براہِ راست ملاقات کی جائے اور جو چیز جس خاندان کو فوری طور پر درکار ہو، اسے ترجیحی بنیاد پر فراہم کیا جائے۔اسی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے امارتِ شرعیہ کے معاون ناظم اور امدادی ٹیم کے قائد جناب مولانا احمد حسین قاسمی مدنی کی نگرانی میں متاثرین کو ان کی ضرورت کے مطابق پلنگ، بستر اور دیگر راحتی اشیاء فراہم کی گئیں۔اس موقع پر آسام میں امارتِ شرعیہ کے مقامی ذمہ دار جناب مولانا عریف الحسن نے امارتِ شرعیہ کی اس منظم اور ضرورت پر مبنی راحت رسانی پر دلی تشکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قدرتی آفات کے موقع پر امدادی کام صرف اشیاء تقسیم کرنے کا نام نہیں، بلکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ متاثرین کی حقیقی ضروریات کو سمجھ کر انہیں بروقت پورا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر بعض فلاحی ادارے اپنی سہولت اور اندازے کے مطابق امدادی سامان تقسیم کر دیتے ہیں، لیکن بسا اوقات وہ اشیاء متاثرین کی فوری ضرورت میں شامل نہیں ہوتیں۔انہوں نے مزید کہا کہ امارتِ شرعیہ کا طریقۂ کار اس اعتبار سے قابلِ تحسین ہے کہ اس کے ذمہ داران پہلے متاثرہ علاقوں میں پہنچتے ہیں، حالات کا قریب سے مشاہدہ کرتے ہیں، متاثرین سے براہِ راست ملاقات کرتے ہیں، ان کی ضروریات کی فہرست تیار کرتے ہیں اور پھر مقامی ذمہ داران کے مشورے سے ترجیحات طے کرکے راحت رسانی اور بازآبادکاری کا کام مرحلہ وار انجام دیتے ہیں۔ اس منظم طریقۂ کار سے ایک طرف متاثرین کی حقیقی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں، تو دوسری جانب بازآبادکاری کا مؤثر نظام بھی قائم ہوتا ہے اور متاثرہ خاندانوں کو معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے میں کم وقت لگتا ہے۔مولانا عریف الحسن نے کہا کہ اس طریقۂ کار کا ایک اہم فائدہ یہ بھی ہے کہ اہلِ خیر حضرات کی جانب سے دی جانے والی امدادی رقم صحیح مقام پر اور صحیح ضرورت کے مطابق خرچ ہوتی ہے، جس سے امداد کا زیادہ سے زیادہ فائدہ مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے۔دریں اثنا ناظرہ جماعت اور صدرِ جماعت کے ذمہ داران نے بھی امارتِ شرعیہ کی امدادی ٹیم سے ملاقات کی اور سیلاب متاثرین کے لیے کیے جانے والے منظم اور مؤثر کاموں کی ستائش کی۔ انہوں نے حضرت امیرِ شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی، امارتِ شرعیہ کے ذمہ داران، امدادی ٹیم اور تمام اہلِ خیر حضرات کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا، جن کی کوششوں اور تعاون سے آسام کے سیلاب متاثرین کی راحت رسانی اور بازآبادکاری کا یہ سلسلہ مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔امارتِ شرعیہ کی جانب سے جاری یہ امدادی سرگرمیاں اس عزم کا اظہار ہیں کہ قدرتی آفت سے متاثرہ خاندانوں کو محض وقتی امداد فراہم کرنےکے بجائے ان کی بنیادی ضروریات پوری کرکے انہیں دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑا کرنے کی حتی المقدور کوشش کی جائے، تاکہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد ان کے لیے زندگی کا سفر دوبارہ آسان اور باوقار بنایا جا سکے۔

21/08/2026




آسام کے شیوساگر میں مزید 105 سیلاب متاثرہ خاندانوں میں امارتِ شرعیہ کی جانب سے راحتی اشیاء کی تقسیم(پریس ریلیز نمائندہش...
20/08/2026

آسام کے شیوساگر میں مزید 105 سیلاب متاثرہ خاندانوں میں امارتِ شرعیہ کی جانب سے راحتی اشیاء کی تقسیم

(پریس ریلیز نمائندہشیو ساگر آسام نمائندہ ) آسام کے سیلاب متاثرین کے درمیان امارتِ شرعیہ بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال، پھلواری شریف، پٹنہ کی جانب سے راحت رسانی اور بازآبادکاری کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ اسی سلسلے میں آج 20 اگست کو ضلع شیوساگر کے ڈیکھو پوریا اور داس گاؤں، آملہ پٹی کے تقریباً 105 سیلاب متاثرہ خاندانوں کے درمیان گھریلو ضروریات اور کچن کے سامان پر مشتمل راحتی اشیاء تقسیم کی گئیں۔امارتِ شرعیہ کےاس ریلیف ٹیم کے قائدِ وفد مولانا احمد حسین قاسمی مدنی نے اس موقع پر کہا کہ آسام کے مختلف علاقوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے بڑی تعداد میں لوگوں کو شدید مالی نقصان سے دوچار کیا ہے، خصوصاً داس برادری کے متعدد خاندان اس سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں، جبکہ آسام کی قدیم آبادیوں میں شمار ہونے والا گوگوئی قبیلہ بھی غیر معمولی طور پر سیلاب کی زد میں آیا ہے، کئی گھروں میں ہفتوں تک پانی جمع رہا، جس کے باعث گھریلو سامان اور روزمرہ استعمال کی اشیاء مکمل طور پر تباہ ہوگئیں، انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں عموماً ٹین شیٹ کے مکانات پائے جاتے ہیں اور موسم کے اعتبار سے پختہ یا چھت دار مکانات کی تعداد کم ہے۔ سیلاب اچانک آنے کی وجہ سے متاثرین کو اپنے گھروں کے سامان کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا موقع نہیں مل سکا۔ نتیجتاً فرنیچر، الیکٹرانک اشیاء، گھریلو سازوسامان اور روزمرہ استعمال کی بیشتر چیزیں پانی اور کیچڑ میں پڑ کر اس قدر خراب ہوگئیں کہ اب وہ مکمل طور پر ناقابلِ استعمال ہوچکی ہیں، اس نقصان کا ازالہ غریب اور متوسط طبقے ہی نہیں بلکہ صاحبِ حیثیت خاندانوں کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ انہیں اپنی ضروریات کی اشیاء دوبارہ خریدنی پڑیں گی ۔

انہوں نے مزید بتایا کہ امارتِ شرعیہ کی جانب سے ڈیکھو پوریا کے دونوں جانب قائم جھگی جھوپڑیوں اور سلم ایریاز کے علاوہ داس گاؤں میں بھی بڑے پیمانے پر متاثرہ خاندانوں تک امداد پہنچائی گئی ہے، تقریباً 105 خاندانوں کو گھریلو استعمال کی ضروری اشیاء اور کچن سیٹ فراہم کیے گئے، تاکہ سیلاب کے نتیجے میں تباہ ہونے والے گھریلو نظام کو دوبارہ بحال کرنے میں ان کی مدد ہوسکے، مولانا احمد حسین قاسمی مدنی نے کہا کہ حضرت امیرِ شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ کی خصوصی ہدایت اور ناظمِ امارتِ شرعیہ حضرت مفتی محمد سعید الرحمٰن قاسمی کے درد مندانہ پیغام کے مطابق امارتِ شرعیہ کی کوشش ہے کہ سیلاب سے متاثرہ زیادہ سے زیادہ خاندانوں تک امداد پہنچائی جائے، اسی مقصد کے تحت آسام کے مختلف متاثرہ علاقوں میں امارتِ شرعیہ کی ٹیمیں مسلسل پہنچ رہی ہیں اور راحت رسانی و بازآبادکاری کے کام کو منظم انداز میں انجام دے رہی ہیں،انہوں نے بتایا کہ اب تک آسام میں ساڑھے پانچ سو سے زائد سیلاب متاثرہ خاندانوں تک امارتِ شرعیہ کی جانب سے بازآبادکاری کا سامان اور راحتی اشیاء پہنچائی جاچکی ہیں، ان امدادی اشیاء میں اشیائے خوردونوش، گھروں کی تعمیر و مرمت کا سامان، پلنگ، بستر، کچن سیٹ اور دیگر ضروری گھریلو سامان شامل ہیں،امارتِ شرعیہ کی اس مسلسل امدادی مہم کا مقصد صرف فوری راحت رسانی تک محدود نہیں بلکہ سیلاب سے تباہ حال خاندانوں کو دوبارہ اپنے گھروں میں معمول کی زندگی شروع کرنے کے قابل بنانا بھی ہے۔ اس کے لیے ضرورت کے مطابق غذائی اشیاء کے ساتھ ساتھ تعمیراتی اور گھریلو سامان بھی فراہم کیا جارہا ہے،آخر میں امارتِ شرعیہ کی جانب سے عوام سے اپیل کی گئی کہ آسام کے سیلاب متاثرین کو درپیش مشکلات کے پیش نظر ان کی مدد اور بازآبادکاری کے کام میں بھرپور تعاون کیا جائے، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ امارتِ شرعیہ کی اس انسانی خدمت، راحت رسانی اور بازآبادکاری کی جدوجہد کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور تمام سیلاب متاثرین کو جلد از جلد معمول کی زندگی نصیب فرمائے۔

امارت شرعیہ کی جانب اب تک ساڑھے چار سو خاندانوں کو بازآبادکاری کا سامان اور ضروری گھریلو اشیاء فراہم کی گئیں(پریس ریلیز...
19/08/2026

امارت شرعیہ کی جانب اب تک ساڑھے چار سو خاندانوں کو بازآبادکاری کا سامان اور ضروری گھریلو اشیاء فراہم کی گئیں

(پریس ریلیز : نمائندہ آسام) امارتِ شرعیہ بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال، پھلواری شریف، پٹنہ کی جانب سے آسام کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر راحت رسانی اور بازآبادکاری کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ سیلاب سے جن خاندانوں کے مکانات مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں، انہیں دوبارہ گھر تعمیر کرنے کے لیے تین شیٹ اور بانس فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ جن خاندانوں کے رہائشی اور گھریلو سامان سیلاب کی نذر ہوگئے ہیں، انہیں بستر، لوہے کے پلنگ، کچن سیٹ، ضروری برتن اور دیگر گھریلو اشیاء فراہم کی جا رہی ہیں۔اسی سلسلے میں امارتِ شرعیہ کی امدادی ٹیموں نے نیپالی کھوٹی کے اطراف میں واقع ریلوے کنواری، پرجا بستی، سنتک برج، بورٹل، روضہ پور اور دیگر متاثرہ علاقوں میں ایک سو سے زائد سیلاب متاثرہ خاندانوں کے درمیان مختلف قسم کی راحتی اور بازآبادکاری کی اشیاء تقسیم کیں۔سنتک برج میں 16 خاندانوں کو گھر کی تعمیر نو کے لیے تین شیٹ کا بنڈل اور بڑی تعداد میں بانس فراہم کیے گئے۔ اسی علاقے کی مخدوش حالت میں موجود مسجد کے لیے بھی بڑی تعداد میں تین شیٹ فراہم کی گئیں، تاکہ مسجد کی ضروری مرمت اور تعمیر نو کا کام انجام دیا جاسکے۔دوسری جانب نیپالی کھوٹی کی پرجا بستی میں 46/ خاندانوں کو باورچی خانے میں استعمال ہونے والے ضروری سامان اور برتنوں کا مکمل سیٹ فراہم کیا گیا۔ اس کے علاوہ دیگر متاثرہ خاندانوں میں بستر، پلنگ، کچن کا سامان اور روزمرہ ضرورت کی مختلف اشیاء بھی تقسیم کی گئیں۔اس کے بعد ریلوے لائن نمبر دو گیٹی سایٹنگ اور بہوبر کے شمالی علاقے میں 50 کے قریب خاندانوں میں ریلیف کا سامان فراہم کیا گیا۔امارتِ شرعیہ کے ذمہ داروں نے بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی صرف فوری غذائی ضرورت پوری کرنا کافی نہیں، بلکہ ان کی زندگی کو دوبارہ معمول پر لانے کے لیے بازآبادکاری پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اسی مقصد کے تحت ایک طرف تباہ شدہ مکانات کی تعمیر کے لیے تین شیٹ اور بانس فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف سیلاب میں تباہ ہونے والے گھریلو سامان کی جگہ ضروری اشیاء مہیا کی جا رہی ہیں۔امارتِ شرعیہ کی جانب سے جاری اس امدادی و بازآبادکاری مہم کے تحت اب تک آسام کے مختلف سیلاب متاثرہ علاقوں میں ساڑھے چار سو خاندانوں کو مکانات کی تعمیر نو کے سامان اور مختلف راحتی اشیاء فراہم کی جا چکی ہیں۔ امدادی سرگرمیوں کے نتیجے میں سینکڑوں متاثرہ خاندانوں کو اپنے گھروں اور معمول کی زندگی کو دوبارہ بحال کرنے میں مدد مل رہی ہے۔اس موقع پر شمال مشرقی ہند کے مختلف علاقوں سے وابستہ امارتِ شرعیہ کے ذمہ داران اور مقامی جماعتوں نے امارتِ شرعیہ کی امدادی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ سیلاب جیسی قدرتی آفت کے بعد اتنے منظم انداز میں سینکڑوں ضرورت مند خاندانوں کی ضروریات پوری کرنا قابلِ قدر اور نمایاں خدمت ہے۔ متاثرین کو لوہے کے پلنگ، بستر، کچن میں استعمال ہونے والے ضروری برتن اور دیگر گھریلو سامان فراہم ہونے سے ان کی زندگی بتدریج معمول پر آ رہی ہے۔حضرت امیرِ شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہم اور ناظمِ امارتِ شرعیہ حضرت مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی سمیت امارتِ شرعیہ کے تمام ذمہ داران نے اس موقع پر ان تمام اہلِ خیر حضرات کا تہِ دل سے شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے مخلصانہ تعاون کے ذریعے آسام کے سیلاب متاثرین کی مدد میں اپنا حصہ ادا کیا، آسام میں ریلیف ٹیم کی قیادت جناب مولانا احمد حسین قاسمی مدنی معاون ناظم امارت شرعیہ فرما رہے ہیں ؛جبکہ اس ٹیم میں جناب مولانا محمد شعیب عالم قاسمی مبلغ امارت شرعیہ، جناب مولانا رفیع احمد ندوی مبلغ امارت شرعیہ، جناب مولانا محمد صابر حسین قاسمی، جناب مفتی عبدالقدوس مظاہری کے علاوہ جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے استاذ جناب مولانا وجیہ الرحمن، جناب مولانا اسامہ رحمانی کے علاوہ تین طلباء بھی شریک وفد ہیں۔

اپنی زندگی کو آقا ئے دو جہاںﷺ کی مثالی زندگی سےآہنگ کیجئے  : مفتی محمد سعید الرحمٰن قاسمی(پریس ریلیز  )ناظمِ امارتِ شر...
19/08/2026

اپنی زندگی کو آقا ئے دو جہاںﷺ کی مثالی زندگی سےآہنگ کیجئے : مفتی محمد سعید الرحمٰن قاسمی

(پریس ریلیز )ناظمِ امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال مولانا مفتی محمد سعید الرحمٰن قاسمی نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا کہ ربیع الاول کے اسی مبارک مہینے میں عالمِ انسانیت کے سب سے بڑے محسن، آقا ئےدوجہاں خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت ہوئی، جس سے پورا عالم جگمگا اٹھا، آج سے ساڑھے چودہ سو سال بیشتر دنیا تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی، انسانیت طبقاتی کشمکش میں مبتلا تھی، قبیلے اور خاندان اونچ نیچ کے خانوں میں بٹے ہوئے تھے، ظلم و بربریت انتہا کو پہنچ چکی تھی، اللہ تعالیٰ نے آپ کو ابرِ رحمت بنا کر بھیجا اور منصبِ نبوت پر فائز ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو حق و صداقت کا پیغام دیا، بندے کا تعلق خالق سے جوڑا، اس کو شرک کی بھول بھلیوں سے نکال کر توحید کی شا ہ راہ پر گامزن کیا، حقوقِ انسانی کی حفاظت اور مساوات کا درس دیا کہ تمام انسان بحیثیتِ انسان برابر ہیں، کمزور وں، بے سہارا انسانوں، بے کسوں اور مظلوموں کی دستگیری کو عبادت قرار دیا اور فرمایا کہ تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کو انسانیت کا زیور قرار دیا اور اس کو اپنے کردار و عمل سے برت کر دکھایا،اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ان روشن تعلیمات سے دنیا کا گوشہ گوشہ اور چپہ چپہ منور ہو گیا، اس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ ہر اعتبار سے مکمل اور مثالی تھی، اسی لیے رب ذوالجلال نے آپ کو رحمتُ للعالمین کے لقب سے نوازا، لہٰذا ہم اس مبارک مہینہ کو یومِ احتساب و جائزے کے طور پر منائیں، اپنے نفس کا محاسبہ کریں اور اپنے طریقۂ زندگی کو آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر ڈھال کر ساری دنیا کے لیے نمونۂ عمل اور پیغامِ عمل بن جائیں، اور دنیا والوں کو بتائیں کہ اگر تم حقیقی امن و سکون اور ابدی خیر و فلاح چاہتے ہو تو اپنی زندگی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مثالی زندگی سے ہم آہنگ کر و۔

اس کےلیے ضرورت متقاضی ہے کہ اس ماہِ مبارک میں سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مختلف گوشوں کو اجاگر کیا جائے، اس کےلیے ہمارے علماء و خطباء حیاتِ طیبہ کو انسانیت کے لیے مثالی زندگی کی حیثیت سے پیش کریں، بہتر ہے کہ جمعہ کے خطبات میں اس کو موضوعِ سخن بنائیں، کثرت سے سیرت کے جلسے منعقد کریں، بلکہ ہفتۂ سیرتِ رسول کا اہتمام کریں اور عام لوگوں کو سیرت کے موضوع پر کسی مستند سیرت نگار کی کتاب کے مطالعہ کا جذبہ ابھاریں، اس موضوع پر کئی علمی و تحقیقی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ علامہ شبلی نعمانی ؒاور علامہ سید سلیمان ندویؒ کی سیرت النبی، رحمتِ عالم کے علاوہ دوسرے سیرت نگار کی کتابیں نبی رحمت ،محسنِ انسانیت، ذکرِ رسول وغیرہ کے پڑھنے کی رہنمائی کریں اور ساتھ ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ تعلیمات و ارشادات کو سوشل میڈیا پر خوب عام کریں، جن سے انسانیت کو زیادہ سے زیادہ نفع پہنچے۔

ناظم صاحب نے کہا کہ جان لیجیے کہ جب کوئی داعی قوم اپنا داعیانہ کردار چھوڑ دیتی ہے تو وہ مدعو ہو جاتی ہے،اسی لیے آج ضرورت ہے کہ محسنِ انسانیت حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمہ گیر شخصیت، اخلاق و عادات اور سیرت و کردار اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے دنیا کو باخبر کیا جائے اور ہم بھی عہد کریں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک سنت کو زندہ کریںگے اور اتحاد و اجتماعیت کی زندگی گزاریں گے۔

کافی نہیں کہ بیٹھ کر مدح و ثنا کریں
اٹھو کہ آج حقِ محبت ادا کریں۔

شیوساگرآسام کے ہدایت پور، آملہ پٹی اور سیلا ساکو میں سیلاب متاثرین کے درمیان امارت شرعیہ کی راحتی امداد52خاندانوں میں ...
18/08/2026

شیوساگرآسام کے ہدایت پور، آملہ پٹی اور سیلا ساکو میں سیلاب متاثرین کے درمیان امارت شرعیہ کی راحتی امداد
52خاندانوں میں رہائشی و تعمیراتی سامان تقسیم، آسام میں بازآبادکاری کا سلسلہ جاری

(پریس ریلیز: نمائندہ آسام)

حضرت امیر شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہٗ کی ہدایات کے مطابق امارت شرعیہ، بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ، پھلواری شریف، پٹنہ کی جانب سے آسام کے سیلاب متاثرین کی راحت رسانی کے ساتھ ان کی بازآبادکاری کا سلسلہ بھی مسلسل جاری ہے، امارت شرعیہ کے ناظم اعلیٰ جناب مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی کے مشورے سے آسام کے مختلف سیلاب زدہ علاقوں میں مرحلہ وار راحت رسانی اور بازآبادکاری کا کام معاون ناظم امارت شرعیہ جناب مولانا احمد حسین قاسمی مدنی کی قیادت میں انجام دیا جا رہا ہے۔

اسی سلسلے میں 16 اگست کو امارت شرعیہ کی ٹیم نے شیوساگر ضلع کے ہدایت پور، آملہ پٹی، سیلا ساکو اور دیگر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف کا سامان فراہم کیا، جہاں حالیہ سیلاب کے باعث متعدد خاندانوں کے مکانات اور گھریلو سامان مکمل طور پر تباہ یا شدید متاثر ہوئے ہیں۔ متاثرین کی ضروریات کا جائزہ لینے کے بعد انہیں تعمیراتی اور رہائشی سامان فراہم کیا گیا ہے۔اس موقع پر 30 خاندانوں کے درمیان مکانات کی تعمیر و بحالی کے لیے تین شیٹ کے بنڈل اور بڑی تعداد میں بانس تقسیم کیے گئے، جبکہ 22 خاندانوں کو رہائشی ضروریات کا سامان فراہم کیا گیا۔ ان سامان میں عمدہ قسم کے پلنگ، گدے، تکیے، چادریں اور دیگر ضروری گھریلو اشیاء شامل تھیں۔ اس طرح مجموعی طور پر 52 سیلاب متاثرہ خاندانوں کو بازآبادکاری کے لیے ضروری تعاون فراہم کیا گیا۔واضح رہے کہ گزشتہ 15 دنوں سے امارت شرعیہ کی جانب سے آسام میں سیلاب متاثرین کے درمیان راحت رسانی کا کام جاری ہے،امارت شرعیہ کی جانب سے آسام میں جاری اس امدادی و بازآبادکاری مہم کے تحت اب تک 300 سے زائد خاندانوں کو گھروں کی تعمیر و مرمت کے لیے مختلف تعمیراتی اشیاء اور بنیادی ضروری رہائشی سامان فراہم کیا جا چکا ہے۔ اس امدادی سرگرمی کا مقصد صرف وقتی راحت پہنچانا نہیں، بلکہ سیلاب سے اجڑنے والے خاندانوں کو دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑا ہونے اور معمول کی زندگی بحال کرنے میں عملی مدد فراہم کرنا ہے۔امارت شرعیہ کی جانب سے ان خاندانوں کو ترجیح دی جا رہی ہے جن کے مکانات سیلاب میں مکمل طور پر منہدم یا گھریلو سامان سمیت تباہ ہو گئے ہیں۔ ایسے متاثرہ خاندانوں کی باقاعدہ فہرست تیار کرکے ترجیحی بنیادوں پر امداد پہنچائی جا رہی ہے، تاکہ سب سے زیادہ ضرورت مند افراد کو بروقت سہارا مل سکے۔صوبہ آسام و شمال مشرقی ہند کی امارت شرعیہ کے ذمہ داران، نیز شیوساگر اور ناظرہ حلقہ کے مقامی ذمہ داران اور نمائندگان کے مشورے سے متاثرین کو ان کی حقیقی ضروریات کے مطابق بنیادی سامان فراہم کیا جا رہا ہے۔ امارت شرعیہ کی اس منظم اور مسلسل کوشش کے نتیجے میں سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی زندگی رفتہ رفتہ معمول کی طرف لوٹ رہی ہے اور انہیں اپنے گھروں کو دوبارہ آباد کرنے میں حوصلہ اور سہارا مل رہا ہے۔امارت شرعیہ کی جانب سے جس طرح مضبوطی اور فکر مندی کے ساتھ آسام میں ریلیف کا کام انجام دیا جا رہا ہے اس سے متاثر ہو کر صوبہ آسام کی جماعت اسلامی کے نائب امیر جناب مولانا اشفاق عالم ندوی صاحب اور ان کے رفقاء نے ریلیف ٹیم امارت شرعیہ سے ملاقات کی اور امارت شرعیہ کے تمام ذمہ داروں کا شکریہ ادا کیا۔دوسری جانب مقامی ذمہ داران اور متاثرین نے امارت شرعیہ کی اس بروقت اور مؤثر امدادی و بازآبادکاری مہم پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امارت شرعیہ کے ذمہ داران، کارکنان اور بالخصوص تمام اہلِ خیر حضرات کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور ان کی اس انسانی و فلاحی خدمت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا۔امارت شرعیہ کی جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی حتی المقدور مدد اور ان کی بازآبادکاری کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا،تقریبا 600 خاندانوں کی باز آباد کاری و راحت رسانی کا عزم کیا گیا ہے تاکہ آفت زدہ خاندان جلد از جلد اپنے معمولاتِ زندگی بحال کر سکیں۔

18/08/2026

Address

Imarat Shariah Complex
Patna
801505

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Imarat Shariah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Imarat Shariah:

Shortcuts

Share