Imarat Shariah

Call Directions Website Contact the place of worship

Imarat Shariah Bengal (India).

Introduction
Imarat Shariah, Bihar, Orissa & Jharkhand is a unique and un-paralleled socio religious organization of Muslim Ummah in the state of Bihar, Odissa, Jharkhand & W.

امارت شرعیہ کے اعلیٰ سطحی وفد کی حضرت قاری شبیر احمد ؒ کے جنازہ میں شرکت (پریس ریلیز )   امیر شریعت مفکرملت حضرت مولانا ...
03/10/2026

امارت شرعیہ کے اعلیٰ سطحی وفد کی حضرت قاری شبیر احمد ؒ کے جنازہ میں شرکت



(پریس ریلیز ) امیر شریعت مفکرملت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ اور ناظم امارت شرعیہ جناب مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی صاحب کی ایماء پر امارت شرعیہ کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے آج مورخہ ۳؍اکتوبر ۲۰۲۶ء کو بھروارہ ضلع دربھنگہ پہونچ کر جید عالم دین ، باکمال خطیب اور ناظم مدرسہ اسلامیہ بھروارہ حضرت مولانا و قاری شبیر احمد قاسمی ؒ کے نماز جنازہ میں شرکت کی ،اس کارواں میں قائد وفد جناب مولانا مفتی محمد سہراب ندوی قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ کے علاوہ جناب مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ ،جناب مولانا مفتی وصی احمد قاسمی نائب قاضی شریعت ،معاون ناظم امارت شرعیہ جناب مولانا احمد حسین قاسمی اور مولانا عثمان رحیمی مبلغ امارت شرعیہ شریک تھے ،جنازہ کی نماز سے قبل قائد وفد جناب مفتی محمد سہراب ندوی صاحب نے حضرت امیر شریعت ،ناظم امارت شرعیہ ،صدر قاضی شریعت اور اس مؤقر وفد کی طرف سے تعزیتی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت حضرت امیر شریعت ،ناظم امارت شرعیہ اور صدر قاضی شریعت سفر پر ہیں،یہ وفد ان حضرات کے تعزیتی پیغام کے ساتھ یہاں پہونچا ہے،حضرت قاری صاحب کی رحلت کے سانحہ پر ان اکابر امارت شرعیہ نے گہرے غم و صدمہ کا اظہارکیا ہے اور حضرت قاری صاحب کے جملہ متعلقین کی خدمت میں تعزیت مسنونہ پیش کی ہے اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ حضرت قاری شبیر صاحب کی بال بال مغفرت فرمائے اور ان کے لواحقین و پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے ،اس موقع پر حاضرین کو خطاب کرتے ہوئے قائد وفد نے مزید کہا کہ محترم قاری صاحب کا سانحۂ ارتحال ،علمی ،فکری اور ملی دنیا کے لئے ایسا عظیم خسارہ ہے جس کا پُر ہونا یقینا بہت مشکل ہے،اللہ ملت کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے ۔ قاری صاحب کی نماز جنازہ میں اتنی بڑی تعداد میں اکابر علماء اور عوام و خواص کی شرکت اس بات کی شہادت ہے کہ یقینا قاری صاحب عنداللہ مغفور و مقبول ہیں ،ضرورت ہے کہ آپ کے جانے کے بعد آپ کے لگائے ہوئے چمن مدرسہ اسلامیہ بھرروارہ کی پوری حفاظت کی جائے ،فرمان رسول کے مطابق رحلت کرنے والے کو اچھے کلمات سے یاد کیا جائے اور آج کے بعد بھی انہیں ہر دعا میں یاد رکھا جائے ،امارت شرعیہ کے نائب ناظم جناب مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب نے اپنی گفتگو میں کہا کہ موت کے بعد صدقہ جاریہ علم نافع اور اولاد صالح کے ذریعہ ثواب کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور حضرت قاری صاحب کی خصوصیت یہ ہے کہ ان کی ذات میں یہ تینوں چیزیں جمع ہیں ،ان کے لئے سب سے بڑا صدقہ جاریہ مدرسہ اسلامیہ ہے ،بحیثیت عالم خود ان کا علمی فیض اور با تربیت صالح اولاد یہ سب ان کو اللہ نے میسر کیا ہے ،ان شاء اللہ ان سب کا ثواب سلسلہ وار ان کی روح کو پہونچتا رہے گا ،نائب قاضی شریعت جناب مولانامفتی وصی احمد قاسمی صاحب نے اس سانحہ کو علمی دنیا کا عظیم خسارہ بتاتے ہوئے کہا کہ ہم سب اس غم میں برابر کے شریک ہیں ، انہوں نے کہا کہ ان کے لگائے ہوئے چمن کی حفاظت اور اس کو ترقی کی راہ پر باقی رکھنا ملت کی بڑی ذمہ داری ہے ،اللہ تعالیٰ حضرت قاری صاحب کے درجات کو بلند فرمائے اور جنت میں اعلیٰ مقام عطا کرے ۔جنازہ میں کئی اضلاع کے علماء ،ائمہ، سیاسی و سماجی نمائندگان اور عوام و خواص کے جم غفیر نے شرکت کی ،وفد امارت شرعیہ نے مدرسہ اسلامیہ بھروارہ پہونچ کر اساتذۂ کرام اور ذمہ داران مدرسہ سے ملاقات کی،اس کے بعد خاص طور پر حضرت قاری صاحب کے صاحبزادہ مولانا دبیر احمد قاسمی ، ان کے بھائی مولانا سہیل احمد قاسمی ،مدرسہ کے صدرالمدرسین مولانا سعید احمد قاسمی اور قاری صاحب مرحوم کے دیگر برادران وغیرہ سے بھی ملاقات کر کے اکابر امارت شرعیہ اور وفد کی طرف سے تعزیت مسنونہ پیش کیا۔

قضاء اسلامی کے بغیر اسلامی زندگی کاتصورنہیں : حضرت امیر شریعتایمان لانے کے بعد نظام عدل وانصاف کوقائم کرناایک اہم دینی و...
02/10/2026

قضاء اسلامی کے بغیر اسلامی زندگی کاتصورنہیں : حضرت امیر شریعت

ایمان لانے کے بعد نظام عدل وانصاف کوقائم کرناایک اہم دینی و ملی فریضہ ہے، اس کے بغیر اسلامی زندگی کاتصورنہیں کیاجاسکتا، اس لئے تاریخ کے ہر دورمیں قضاء اسلامی کے ادارے قائم ہوتے رہے، تاکہ مسلمانوں کے باہمی معاملات قانون شریعت کے مطابق حل ہوں، ان خیالات کااظہار امیرشریعت بہار ، اڈیشہ ،جھارکھنڈ ومغربی بنگال حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب نے جھارکھند کے پاکوڑمیں واقع جامعہ اسلامیہ مہیش پور میںدارالقضاء کے افتتاح کے موقع پر کیا، حضرت امیر شریعت نے مولانا محمد حبیب اللہ قاسمی کوسند قضاء اور کارقضاء کی ذمہ داری انجام دینے پر معمورکرتے ہوئے کہاکہ دارالقضاء کے قیام کابنیادی مقصد عوام کوانصاف فراہم کرنااورباہمی تنازعات کوپر امن طریقے پر حل کرناہے، حضرت امیر شریعت نے مزیدکہاکہ اللہ کی وحدانیت اوررسول اکرم کی رسالت پر یقین کرنے والے کتاب وسنت کے مطابق زندگی گذارنے والے مومن کامل ہیں، ان کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی کوسنت اورشریعت کے سانچے میں ڈھالیں تاکہ دنیامیں وہ ترقی وخوشحالی سے ہمکنار ہوسکیں،ناظم امارت شرعیہ بہار ، اڈیشہ ، جھارکھنڈ اورمغربی بنگال مولانا مفتی سعید الرحمن قاسمی صاحب نے دارالقضاء کی شرعی حیثیت پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ دارالقضاء شریعت اسلامی کی روشنی میں معاملات کاجائزہ لیتاہے، اورشرعی حل کی پوری کوشش کرتاہے، انہوں نے دینی تعلیم کوفروغ دینے اورمدارس اسلامیہ کے تعلیمی وتربیتی نظام کومعیاری اور پرکشش بنانے پر توجہ دلائی ، قیام دارالقضاء کے اس عظیم الشان اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدرقاضی شریعت مولانا محمد انظارعالم قاسمی نے کہاکہ امارت شرعیہ ایک عرصہ سے علاقہ پاکوڑ میں قیام دارالقضاء کے لئے جدوجہدکرتی رہی ہے، آج اس کاافتتاح اسی سلسلہ کی ایک اہم کڑی ہے، ہماری اورآپ کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے عائلی تنازعات کوشریعت اسلامی کی روشنی میں حل کرائیں ،نائب ناظم مولانا مفتی محمد سہراب ندوی صاحب نے کہاکہ اس وقت ہمارے معاشرے میں بے دینی اوربے حیائی عام ہوتی جارہی ہے، نوجوان بے راہ روی کاشکارہوتاجارہاہے، اگر سماج کے امن پسند لوگوں نے بے حیائی کے اس سیلاب کونہیں روکاتو اس کے مضراثرات پورے معاشرے پر پڑیںگے ، انہوں نے شادی بیاہ میں فضول خرچی اوراسراف سے بھی بچنے کی تلقین کی ،مولاناسہیل اختر قاسمی نائب قاضی شریعت نے کہاکہ دارالقضاء کے ذریعہ کم خرچ میں جلد انصاف مل جاتاہے، اسلئے یہاں سے اپنے جھگڑوںکاتصفیہ کریں، اس سے ہمارااورآپ کا ایمان بھی محفوظ رہے گا، اوراللہ کی رضااورخوشنودی بھی حاصل ہوگی مولانا مفتی مجیب الرحمان قاسمی معاون قاضی شریعت نے کہاکہ امارت شرعیہ کے دارالقضاء کے ذریعہ سیکڑوںمعاملات حل ہوئے جنہیں فریقین نے رضاء ورغبت کے ساتھ اللہ کی رضاء وخوشنودی کے خاطرقبول کیا،اس موقع پرعلاقہ پاکوڑکے متعددمقامی علماء کرام نے امارت شرعیہ کی طرف سے یہاں ذیلی دارالقضاء کے قیام کووقت کی ایک ضرورت سے تعبیر کیااورکہاکہ عرصہ سے یہاں دارالقضاء کے قیام کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی ،حضرت امیرشریعت کی فعال قیادت وامارت میں امارت شرعیہ روز افزوںترقی کررہی ہے ، اللہ تعالی ادارے کوہر طرح کے شروفتنہ سے محفوظ رکھے ،اخیر میں یہ اجلاس حضرت امیرشریعت کی دعاء پر اختتام پذیرہوا۔

مدارس اسلامیہ کے تحفظ و استحکام کے لئے فکر مندی ضروری  :حضرت امیر شریعتامارت شرعیہ کے زیراہتمام ۱۱/نومبر ۲۰۲۶ءکو مدارس ا...
29/09/2026

مدارس اسلامیہ کے تحفظ و استحکام کے لئے فکر مندی ضروری :حضرت امیر شریعت

امارت شرعیہ کے زیراہتمام ۱۱/نومبر ۲۰۲۶ءکو مدارس اسلامیہ کنونشن کے انعقادکا فیصلہ

(پھلواری شریف :پریس ریلیز)

مدارس اسلامیہ کا وجود ملت کے دین و ایمان اور علم و آگہی کے لئے دل کی حیثیت رکھتا ہے ،یہ مدارس انسان سازی اور اخلاق و کردار کے سنوارنے کے سب سے اہم مراکز ہیں ،اس ملک میں مدارس اسلامیہ کی روشن تاریخ ہے ،ان اداروں سے تعلیم پانے والوں اور ان تربیت گاہوں سے تربیت یافتہ جیالوںنے ہر جہت سے ملک وملت کو ترقی و استحکام بخشا ہے اور آج بھی یہ ادارے ایسے ہی صالح مقاصد کو سامنے رکھ کر اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں ؛ لیکن افسوس کہ اس وقت ان سب سے قیمتی ملی سرمایہ کو تعصب و تنگ نظری کے جال میں اُلجھا کر اس کے وجود اوراس کے نظام کو درہم برہم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ،ارباب مدارس کی نظر حالات پر ہونے کے باوجود وہ خود بھی مدارس کے تحفظ کے تعلق سے غفلتوں کے شکار ہیں ،جو نہایت ہی افسوسناک اور تشویشناک معاملہ ہے ،ضرورت ہے کہ ان حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ارباب مدارس ،ملت کے علماء و دانشوران اور تعلیم گاہوں کے ذمہ دارن اس مسئلہ پر بار بار سر جوڑ کر بیٹھیں ،مختلف جہتوں سے مسائل کا احاطہ کریں اور خارجی و داخلی دونوں طرح مسائل کے حل کے لئے مضبوط و مرتب حل سامنے لا کر ان کو عملی جامہ پہنائیں ، یہ میٹنگ مدارس کے مسائل اور اس کی جہتوں کو صحیح طور پر جاننے کے لئے منعقد ہوئی ہے، ان خیالات کا اظہاربہار،اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کے امیر شریعت مفکر ملت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ نے آج مورخہ ۲۹؍ ستمبر ۲۰۲۶ء روز منگل بوقت ۱۲؍ بجے دن زوم ایپ پر منعقد چاروں ریاستوں کے ۵۰؍ سے زائد بڑے مدارس ملحقہ و غیر ملحقہ کے سامنے فرمایا،حضرت امیر شریعت نے مزید کہا کہ آپ حضرات بڑے مدارس کے ذمہ داران ہیں ،اس وقت آپ حضرات کی نظروں میں خارجی و داخلی طور پر جو اہم مسائل ہیں ان کو پیش کریں ۔اس میٹنگ میں افتتاحی گفتگو کرتے ہوئے ناظم امارت شرعیہ جناب مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی صاحب نے شرکاء میٹنگ کا استقبال کیا اور میٹنگ کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حضرت امیر شریعت مدظلہ مدارس کے مسائل کے بارے میں مسلسل فکر مند ہیں اور اس سلسلے میں کوششوں کا سلسلہ بھی جاری ہے ،تاہم ضرورت تھی کہ زمینی سطح پر مدارس کے مسائل کا جائزہ لیا جائے اور خارجی و داخلی دونوں طرح کے مسائل کو سامنے رکھ کر مضبوط لائحہ عمل طے کیا جائے ؛چنانچہ اسی غرض سے ان شاء اللہ ۱۱؍ نومبر ۲۰۲۶ ء کو امارت شرعیہ کے زیر اہتمام باپو سبھا گار آڈیٹوریم پٹنہ میں چاروں ریاستوں کے اربا ب مدارس،مختلف تعلیمی اداروں کے ذمہ داران ،علماء و ائمہ اور تنظیم امارت کے نمائندگان کا ایک اہم اجلاس مدارس اسلامیہ کنونشن کے عنوان سے منعقد ہوگا ۔حضرت امیر شریعت مدظلہ کی فکر یہ ہے کہ اجلاس سے قبل پہلے مرحلہ میں چاروں ریاستوںکے بڑے مدارس کے ذمہ دارن سے مسائل کو جانا جائے اور اس کے بعد مدارس کی ایک مناسب تعداد کا زمینی جائزہ عملی طور پر لیا جائے اور حاصل شدہ رپورٹ کی روشنی میں دستاویزی انداز کا حل تیار کیا جائے اور جو مسائل اپنے حل میں عملی تربیت کے متقاضی ہوں ان کو ورکشاپ کے ذریعہ حل کیا جائے ۔ناظم صاحب نے امید ظاہر کی کہ ان شاء اللہ ہونے والا اجلاس آپ حضرات کے تعاون سے تاریخی و مثالی ہوگا،میٹنگ میں شریک مدارس کے ذمہ داران نے میٹنگ کے مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے جن جن ریاستوں میں جس قسم کے مسائل و مشکلات مدارس کو در پیش ہیں نہایت تفصیل کے ساتھ ذکر کیا اور ہونے والے اجلاس کے فیصلے پر حضرت امیر شریعت مدظلہ اور دیگر ذمہ داران امارت نے مبارکباد دیتے ہوئے اجلاس کو کامیاب بنانے میں بھرپور تعاون دینے کے عزم کا اظہار کیا،شرکاء میٹنگ کی طرف سے پیش کئے گئے تمام مسائل کوحضرت امیر شریعت مدظلہ نے بغور سنا اور انہیں قلمبند بھی کیا گیا ،ان شاء اللہ انہیں سامنے رکھتے ہوئے ہونے والے کنونشن کو مؤثر بنانے کی بھرپور کوشش کی جائے گی ،میٹنگ میں صدر قاضی شریعت جناب مفتی انظار عالم قاسمی صاحب ن،نائب ناظم جناب مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب ،نائب قاضی شریعت جناب مفتی وصی احمد قاسمی صاحب نے بھی اظہار خیال کیا ،نظامت نائب ناظم امارت شرعیہ جناب مولانا مفتی محمد سہراب ندوی صاحب نے کی ،تلاوت مولانا عبداللہ انس قاسمی کی ہوئی ،میٹنگ میں مولانا احمد حسین قاسمی معاون ناظم امارت شرعیہ مولانا قمر انیس قاسمی معاون ناظم امارت شرعیہ ،مولانا رضوان ندوی معاون ناظم اور حافظ احتشام رحمانی صاحب کے علاوہ اڈیشہ سے مولانا فیض الرحمن بسرا،مولانا ارشد قاسمی راوڑکیلا ،جھارکھنڈ سے مولانا اسحق صاحب سرکارڈیہہ ،مولانا آفتاب دھنباد ،حامد غازی صاحب گڈا ، مولانا محمد صاحب کڈرو رانچی ،مولانا محمد انور قاسمی و مولانا سعود عالم قاسمی رانچی ،بنگال سے مولانا ممتاز صاحب اتر دیناج پور ،مولانا مفتی عبدالحئی آسنسول و مولانا ضمیرالدین کولکاتہ، بہار سے جناب الحاج عارف رحمانی و مولانا قمرالزماں صاحب مونگیر،قاری سعود صاحب بہادرگنج کشن گنج،مفتی محفوط الرحمن صاحب سیوان ،مولانا فیض الرحمن صاحب مغربی چمپارن ،مفتی انصارصاحب سوپول ،مفتی توحید صاحب و مفتی دبیر صاحب دربھنگہ ،مفتی امداداللہ صاحب مدھوبنی،مفتی شمس توحید و مولانا خالد ندوی صاحب پورنیہ ،مولانا شاہد عادل و مولانا شاہد صاحب ارریہ وغیرہ کی خصوصی شرکت رہی۔

مورخہ 26/ستمبر 2026 بروز سنیچر حضرت مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی صاحب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ جھارکھنڈ و مغربی...
27/09/2026

مورخہ 26/ستمبر 2026 بروز سنیچر حضرت مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی صاحب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ جھارکھنڈ و مغربی بنگال کی صدارت میں امارت شرعیہ کا ایک موقر وفد سجاد کالونی سبیت،بہار شریف ضلع نالندہ پہونچا۔اور بعد نماز ظہر مقامی افراد سے حضرت ناظم صاحب نے خطاب فرماتے ہوئے کہا کہ امارت شرعیہ ملت اسلامیہ ہندیہ کے لیے عظیم نعمت اور اکابرین امارت شرعیہ کا لگایا ہوا شجر سایہ دار ہے جو ثمر آور بھی ہے۔ امارت شرعیہ ملت کے لیے ہر مشکل گھڑی میں کھڑی رہتی ہے اور آج جو یہ آبادی سجاد نگر کے نام سے موسوم ہے وہ یہاں کے اکابر کے اخلاص کا وہ تاج محل ہے جس میں آپ حضرات آباد ہیں،اس موقع سے ناظم صاحب نے اپنے پیغام میں فرمایا کہ آپ حضرات کے بیچ جب کبھی امارت شرعیہ اور حضرت امیر شریعت مدظلہ العالی کا کوئی پیغام پہونچے اس پر دل و جان سے تیار رہیں،اور تعلیم کے میدان میں اگے آئیں،اپنے بچوں کو زیور علم سے آراستہ کریں ان کی صحیح تربیت پر توجہ مرکوز کریں اور اس وقت جو ملک کے حالات ہیں ایسے میں تعلیم ہمارے لئے ایک بہترین ذریعہ ہے جس سے ہم ترقیات کے مراحل سے ہمکنار ہوسکتے ہیں ۔اور پھر اخیر میں امیر شریعت مفکر ملت حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ العالی کا پیغام بھی پہونچایا کہ آپسی تفریق سے بچیں اور اتحاد و یک جہتی کے ساتھ زندگی گزاریں یہی ہمارے نبی کا فرمان ہے اسی میں بھلائی ہے تمام تر اختلافات کو چھوڑ کر آپسی بھائی چارہ کے ساتھ زندگی گزاریں۔
حضرت مولانا قمر انیس قاسمی صاحب معاون ناظم امارت شرعیہ نے امارت شرعیہ کی خدمات اور اس کے کارناموں سے واقف کرایا اور مولانا قاضی منصور صاحب قاسمی قاضی شریعت دارالقضاء امارت شرعیہ ضلع نالندہ نے فرمایا کہ اصل کامیابی اسلام اور اسلامی نظام کو ماننا اور شریعت اسلامیہ پر عمل درآمد کرنا ہے۔اس وفد میں مولانا محمد منہاج عالم ندوی امارت شرعیہ بھی شریک رہے۔
پروگرام کے بعد اس کالونی کا معائنہ بھی فرمایا جسے کئی سال قبل امارت شرعیہ نے فساد سے متاثر لوگوں کو زمین خرید کر،گھر بنا کر بسایا تھا اور مصیبت کی اس گھڑی میں لوگوں کے آنسوئوں کو پوچھنے کا کام کیا تھا۔

آپس میں ٹوٹ کر زندگی گذارنے والی قوم کامیابی کے منازل طے نہیں کرپاتی  :  مفتی محمد سہراب ندویشہر بھبھوا میں تنظیم امارت...
20/09/2026

آپس میں ٹوٹ کر زندگی گذارنے والی قوم کامیابی کے منازل طے نہیں کرپاتی : مفتی محمد سہراب ندوی

شہر بھبھوا میں تنظیم امارت ضلع کیمور کے عہدہ داران و ارکان کی خصوصی میٹنگ اور اسناد کی تقسیم

(پریس ریلیز ) ملت اسلامیہ ایک امت ایک جماعت کی حیثیت سے برپا کی گئی ہے ،پوری اسلامی تعلیمات میں جماعتی نظام کی اہمیت اس کی برکت اور اس کی قوت کو مختلف پہلوؤں سے اُجاگر کیا گیا ہے ،دنیا کی قوموں کی تاریخ اور خود اسلام کی لمبی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ عزت و سربلندی اور فلاح و کامیابی ہمیشہ جماعتی قوت اور آپسی اتحاد کی برکت سے نصیب ہوئی ہے اور جب بھی ملت آپسی انتشار ،باہمی خلفشار اور منافقانہ راہ پر چلی ہے ہمیشہ ذلت و رسوائی اور ناکامی و نامرادی اس کا مقدر بنی ہے ،قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے وحدت کی ایک رسیِّ کو مضبوطی سے تھامنے آپشی انتشار سے بچنے اور ایک امت اور ایک جماعت بن کر زندگی گذارنے کی واضح ہدایت دی ہے ،حدیث پاک میں ملت اسلامیہ کو ایک جسم کے مانند قرار دیا گیا ہے اور بتایا گیا کہ اس کی اصل تصویر یہی ہے کہ جس طرح جسم کا ہر عضو ایک دوسرے سے مربوط اور ایک دوسرے کے دُکھ سُکھ میں شامل ہے ،جب تک یہی کیفیت ملت کے جماعتی وجود پر طاری نہ ہو اس وقت تک نہ نصرت خداوندی میسر آسکتی ہے اور نہ ہی یہ جماعتی وجود خدا اور رسول کی نگاہ میں معتبر ہو سکتا ہے ،اس لئے ضرورت ہے کہ موجودہ بدلتے ہوئے حالات میں ملت کے علماء و ائمہ ،سماجی نمائندگان، مؤثر شخصیات اور دینی و ملی تنظیمات و تحریکات کے علمبرداران اپنے وسائل و صلاحیت کے مطابق تنظیم ملت اور ہر سطح پر آپسی اتحاد کو مستحکم بنانے پر توجہ دیں ،اس وقت یہ ملت جن جن ناکامیوں سے دوچار ہے اور جس طرح دنیا کی نگاہوںمیں بے وزن ہو رہی ہے اس کی واحد وجہ آپسی انتشار ،اتحاد کا فقدان اور ایک دوسرے کے تعاون سے کنارہ کشی ہے ،علامہ اقبال ؒ نے وحدت و محبت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کیا ہی خوب کہا تھا کہ ؎

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں

امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ پھلواری شریف پٹنہ جس کو ملت کے ممتاز اکابر نے تنظیم ملت کے اسی بڑے مقصد اور وحدت کلمہ کی بنیاد پر ایسے ہی جماعتی نظام کے قیام کے لئے قائم کیا تھا ،بحمداللہ اس کے سائے میں شب و روز ایسی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے ،اتحاد و اتفاق کا عمومی شعور ملت میں عام کرنے کے ساتھ امارت کے زیر انتظام قائم شعبۂ تنظیم کے ذریعہ بہار ،اڈیشہ و جھارکھنڈ کی مسلم آبادیوں کو ایک امیر شریعت کے ماتحت متحد رکھنے اور گاؤں سے لے کر صوبہ تک ایک تنظیمی کڑی میں مربوط رکھنے کی ہر ممکن کوشش جاری و ساری ہے ،ان خیالات کا اظہار نائب ناظم امارت شرعیہ جناب مولانا مفتی محمد سہراب ندوی قاسمی صاحب انچارج شعبۂ تبلیغ و تنظیم نے آج مورخہ ۲۰؍ستمبر ۲۰۲۶ء کو شہر بھبھوا میں واقع جامع مسجد مدرسہ قاسم العلوم میں منعقد تنظیم امارت ضلع کیمور کے عہدہ داران و ارکان کو خطاب کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ گذشتہ ۹؍ مئی کو اسی شہر بھبھوا میں امیر شریعت مفکر ملت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ کی صدارت میں پورے بھبھوا ضلع کی مسلم آبادیوں میں تنظیم امارت کے قیام اور نقباء و نائبین کی نامزدگی کے بعد ضلع کے نقباء کا تربتی اجلاس منعقد ہوا تھا ،اس موقع پر بلاک اور ضلع کی کمیٹیوں کے لئے نام پیش ہوئے تھے اور اس کی مجوزہ فہرست بھی تیار ہوئی تھی ،اب اس کو حتمی شکل دینے کے بعد حضرت امیر شریعت مدظلہ کی ہدایت اور ناظم امارت شرعیہ جناب مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی صاحب کے مشورہ سے یہ خصوصی میٹنگ منعقد ہوئی ہے ، جس میں آپ تمام ضلع و بلاک کمیٹیوں کے ذمہ داران و ارکان کو حضرت امیر شریعت مدظلہ کی طرف سے جاری کردہ سند دی جارہی ہے اور بحیثیت عہد ہ دار یا رکن آپ کو چند اہم تنظیمی ذمہ داریاں سپرد کی جارہی ہیں ،اس سند کے حصول کے بعد آپ اپنے ضلع و بلاک میں امارت شرعیہ کے ترجمان اور حضرت امیر شریعت کے نمائندہ ہیں آپ کی پہلی ذمہ داری ہے کہ آپ خود شریعت کے پابندرہیں اور دوسروںکو بھی شریعت کا پابند رہنے کی تلقین کرتے رہیں ،سماج میں آپسی اتحاد کو مضبوط بنائیں ، ذات برادری اور مسلک و مشرب کی بنیاد پر پیدا ہونے والی ہر تفریق کو ختم کریں ،معاشرتی خرابیوں خاص طور پر تلک جہیز اور نشہ خوری ،سودی لین دین اور شادی بیاہ کی فضول خرچی جیسی چیزوںکو روکنے کی کوشش کریں ،امارت شرعیہ جو ایک ایمانی فکر اور اسلامی منہج کا نام ہے اس فکر کو لوگوں میں عام کرنے اور ایک امیر شریعت کی ماتحتی میں سمع و طاعت کے ساتھ زندگی گذارنے کی تلقین کریں ،انسانیت کی خدمت کو عبادت سمجھیں اور جب کوئی اللہ کی مخلوق پریشانیوں میں مبتلا ہو تو ہر ممکن اس کی مدد کے لئے آگے بڑھیں اور تنظیمی ڈھانچہ کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنائے رکھنے کی فکر کریں ۔اس موقع پر میٹنگ کو خطاب کرتے ہوئے امارت شرعیہ کے معاون ناظم جناب مولانا قمر انیس قاسمی صاحب نے امارت شرعیہ کے نظام کی عظمت موجودہ وقت میں اس کی خدمات کے بڑھتے دائرہ کار ،امراء شریعت کے علمی و فکر ی مقام اور امارت شرعیہ کے مختلف شعبوں سے انجام پانے والی خدمات کا تفصیلی تذکرہ کیا اور کہا کہ یہ نظام امارت جہاں ملک کے لئے اللہ کی رحمت ہے وہیں مسلمانوںکے لئے خدا کی طرف سے ایک عظیم نعمت ہے ، ضرورت ہے کہ اس ادارہ سے وابستگی کو سعادت سمجھتے ہوئے اس کی ترقی و استحکام میں بھرپور حصہ لیا جائے ،اس خصوصی میٹنگ میں محترم نائب ناظم صاحب اور معاون ناظم صاحب کے ہاتھوں ضلع و بلاک کے ذمہ داران و ارکان کو سند عطا کی گئی اور ہدایات و اختیارات پر مشتمل تحریر بھی پیش کی گئی ۔بحیثیت صدر ضلع کمیٹی جناب مولانا آفتاب قاسمی صاحب اور بحیثیت جنرل سکریٹری جناب عارف انصاری صاحب سند سے نوازے گئے ،اس کے علاوہ ضلع کے دیگر ۱۸؍ عہدہ داران و ذمہ دارن اور ۱۱؍ بلاک کے ۷۹ ؍ ذمہ داران وعہدہ داران کو سند دی گئی ،میٹنگ میں ضلع ہیڈ کوارٹر کے علاوہ تمام بلاک کے ذمہ داروں نے بڑے جوش و خرو ش سے شرکت کی اور اور سند کے حصول کے بعد نئے عزم و حوصلہ کے ساتھ ذمہ داریوں کوپورا کرنے کے عزم کا اظہار کیا ،یقین ہے کہ اس تنظیمی ڈھانچہ کے ذریعہ ضلع کیمور میں ملی بیداری کی نئی لہر محسوس کی جائے گی ،اجلاس کا آغاز جناب قاری ارشد صاحب کی تلاوت کلا م پاک سے ہوا ،نعت پاک جناب حافظ ادیب الرحمن صاحب نے پیش کی ، ضلع صدر و سکریٹری نے شکریہ کے کلمات کہے ، جناب مولانا رفیع احمد ندوی صاحب مبلغ امارت شرعیہ نے میٹنگ کی نظامت کی ،مولانا اسعداللہ نیموی صاحب مبلغ امارت شرعیہ ،جناب قاری ارشاد صاحب ناظم مدرسہ قاسم العلوم اور مدرسہ کے اساتذہ و طلبہ نے انتظام کو سنبھالا ،اخیر میں صدر مجلس کی دعا پر میٹنگ اختتام پذیر ہوئی ۔

بیت اللہ کی زیارت عظیم سعادت :  مفتی محمدسعیدالرحمٰن قاسمی( پریس  ریلیز    پھلواری    شریف )     امارتِ شرعیہ بہار، اڈیش...
18/09/2026

بیت اللہ کی زیارت عظیم سعادت : مفتی محمدسعیدالرحمٰن قاسمی

( پریس ریلیز پھلواری شریف ) امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال کے معاون ناظم اور شعبۂ تعلیم کے نگراں مولانا محمد ابوالکلام شمسی صاحب 21 /ستمبر کو عمرۂ مبارک کے سفر پر روانہ ہو رہے ہیں، ان کے اعزاز میں ایک دعائیہ نشست ناظم امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ مولانا مفتی محمدسعیدالرحمن قاسمی کی صدارت میں منعقد ہوئی، جس میں امارتِ شرعیہ کے ذمہ داران و کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی،اس موقع پر ناظم صاحب نے شرکائے مجلس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے گھر کی زیارت اور دیدار سے قلب و جگر منور ہوتا ہے، عبودیت اور بندگی کے جذبے میں ایمانی حرارت کی لہر دوڑتی ہے،یہ سعادت خوش نصیب مومن بندوں کو ہی حاصل ہوتی ہے،میں مولانا ابوالکلام شمسی کو مبارک باد دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نےانہیں اپنے گھر کی دوبارہ زیارت کی سعادت عطا کی،مولانا اس سے قبل حج و زیارتِ بیت اللہ سے شرف یاب ہو چکے ہیں اور اب یہ دوسرا موقع عمرہ کا ملا ہے اللہ ان کے اس مبارک سفر کو شرفِ قبولیت سے نوازے،ناظم صاحب نے مزید کہا کہ امارتِ شرعیہ کی نسبت اور اس کی خدمت بھی بڑی سعادت مندی کی علامت ہے اس وقت یہ ادارہ امیرِ شریعت بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ، حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی فعال قیادت میں ترقی و استحکام کی راہ پر گامزن ہے، اس پر ہم سب لوگ اللہ کا شکر ادا کریں اور مولانا موصوف ادارے کے لیے مقدس مقامات پر دعاؤں کا اہتمام بھی فرمائیں، اور جن لوگوں نے اب تک حج یا عمرہ نہیں کیا ہے، ان کے لیے بھی مقاماتِ مقدسہ پر دعا کریںکہ اللہ تعالی انہیں بھی اپنے گھر کی زیارت کی سعادت نصیب فرمائے ، مولانا ابوالکلام شمسی صاحب، معاون ناظم امارتِ شرعیہ نے کہا کہ آپ حضرات نے جس حسنِ ظن کے ساتھ یہ مجلس منعقد کی ہے، اللہ سے دعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق بخشے کہ ہم آپ سب لوگوں کے لیے مقاماتِ قبولیت پر دعا کریں،مولانا موصوف نے آب دیدہ ہوکر مجلس سے اس مبارک سفر کو آسان کرنے کے لئے دعا کی درخواست کی۔

امارتِ شرعیہ کے نائب ناظم مولانا مفتی محمد ثناء الہدٰی قاسمی صاحب نے اجتماعی طور پر دعا کرائی، مجلس کا آغاز مولانا راشد انور قاسمی کی تلاوتِ قرآن سے ہوا،مولانا مفتی محمد مجیب الرحمن قاسمی معاون قاضیِ شریعت نے آقائے دوجہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا اور آخر میں یہ مجلس اختتام پذیر ہوئی۔

جناب محمد ندیم صاحب کے والدِ ماجد کے انتقال پر امارتِ شرعیہ میں تعزیتی نشست( پریس ریلیز :پھلواری شریف)  نہایت ہی دکھ و ص...
17/09/2026

جناب محمد ندیم صاحب کے والدِ ماجد کے انتقال پر امارتِ شرعیہ میں تعزیتی نشست
( پریس ریلیز :پھلواری شریف) نہایت ہی دکھ و صدمے کے ساتھ یہ خبر دی جا رہی ہے کہ امارتِ شرعیہ کے قدیم شرطی جناب محمد ندیم صاحب، خلیل پورہ، پھلواری شریف، پٹنہ کے والدِ ماجد طویل علالت کے بعد مورخہ15/ستمبر 2026ء کو ربِّ ذوالجلال کے حضور حاضر ہو گئے۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ؛ ان کے انتقال پر امارتِ شرعیہ میں ایک تعزیتی نشست زیرِ صدارت ناظمِ امارتِ شرعیہ بہار ، اڈیشہ و جھارکھنڈ مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی صاحب منعقد ہوئی، جس میں ناظم صاحب نے ان کے وصال پر گہرے دکھ و صدمے کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ مرحوم نہایت ہی شریف، دیندار اور صوم و صلوٰۃ کے پابند آدمی تھے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت سی خوبیوں اور صلاحیتوں سے نوازا تھا،اس موقع پر امارتِ شرعیہ کے دوسرے ذمہ دار علماء، اساتذہ، وزراء، کارکنان نے گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلا شبہ والد کا سایہ اللہ کی ایک بڑی نعمت ہے اور اس سے محروم ہو جانا حرماں نصیبی ہےلیکن قضا و قدر کے فیصلوں پر راضی رہنا ایمان کی علامت ہے،غم کی اس گھڑی میں ہم سب لوگ جناب محمد ندیم صاحب اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ برابر کے شریک ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات کو بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبر و ثبات کی توفیق بخشے،پھر آخر میں نائب ناظمِ امارتِ شرعیہ مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب نے مرحوم کے لیے اجتماعی طور پر دعائے مغفرت کرائی،اس تعزیتی نشست میں مولانا مفتی وصی احمد قاسمی نائب قاضیِ شریعت امارتِ شرعیہ، مولانا مفتی محمد احتکام الحق قاسمی صاحب قائم مقام مفتی امارت شرعیہ ، مولانا ابوالکلام شمسی صاحب معاون ناظم امارت شرعیہ ، جناب مولانا سہیل اختر قاسمی صاحب نائب قاضیِ شریعت، جناب مولانا مفتی محمد مجیب الرحمن صاحب نائب قاضیِ شریعت امارتِ شرعیہ، جناب مولانا محمد مرسل صاحب، جناب مولانا احمد حسین قاسمی صاحب معاون ناظم امارت شرعیہ ، جناب مولانا محمد قمرانیس قاسمی صاحب معاون ناظم امارت شرعیہ ، جناب مولانا رضوان احمد ندوی صاحب معاون ناظم امارت شرعیہ ، جناب مولانا مطیع الرحمٰن صاحب ، جناب مولانا راشد انور قاسمی صاحب معاون قاضی امارت شرعیہ ، مولانا مجیب الرحمن قاسمی صاحب معاون قاضی امارت شرعیہ ، جناب مولانا منہاج عالم ندوی صاحب، جناب مولانا محمد شمیم اکرم رحمانی صاحب معاون قاضی امارت شرعیہ ، جناب مولانا صابر حسین صاحب قاسمی، جناب امتیاز عالم صاحب نائب انچارج بیت المال، جناب محمد خبیب صاحب ،مفتی عقیل اختر صاحب، مولانامحمد طارق رحمانی صاحب ، مولانا خالد سیف اللہ قاسمی صاحب ، قاری مجیب الرحمن صاحب ودیگر کارکنان امارت شرعیہ شریک رہے ۔

تنظیمی قوت سے ہی مسائل و مشکلات کا حل ممکن:مفتی محمد سہراب ندویتنظیم امارت ضلع شیوہر کے عہدہ داران و ارکان کو اسناد کی ت...
15/09/2026

تنظیمی قوت سے ہی مسائل و مشکلات کا حل ممکن:مفتی محمد سہراب ندوی

تنظیم امارت ضلع شیوہر کے عہدہ داران و ارکان کو اسناد کی تفویض اور ہدایات و اختیارات سے آگاہی

(پھلواری شریف :پریس ریلیز)

اس وقت بدلتے ہوئے حالات نے ملت کے سامنے جتنے مسائل و مشکلات کھڑے کر دئیے ہیں قریب کی تاریخوں میں اس کی نظیر کم ملتی ہے ،بات صرف شہریت کے تحفظ و بقاء کی نہیں ؛بلکہ ایمان اور ایمان کے بنیادی تقاضوں پر عمل اور ایمانی شناخت کی حفاظت بھی سنگین خطرات کے گھیرے میں ہے ، دن کے اجالے میں جس طرح دستور کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور بنیادی حقوق کی پامالی کی جا رہی ہے وہ ہر حساس صاحب ایمان کو بے چین کر دینے کے لئے کافی ہے ،حالات کی تفصیلات آپ حضرات سے مخفی نہی ہیں ،کیا ایسی صورت حال میں باعزت ،باضمیر اور مومنانہ شناخت کے ساتھ زندگی گذارنے کے لئے فکرمند ہونا ہم سب کی ذمہ داری نہیں ہے ؟مشکلات سے گھبرانا اور حالات کے سامنے بلا سوچے سمجھے سرنگوں ہو جانا نہ ایمان کا تقاضہ ہے اور نہ انصاف کا ،ضرورت ہے کہ ملک کے دستور و آئین کو سامنے رکھتے ہوئے قدم کو آگے بڑھایا جائے اور حوصلہ مندی کے ساتھ حسن تدبیر کو کام میں لایا جائے ،حالات سے مایوسی اگر کفر ہے تو خوف و ہراس میں مبتلا ہونا بھی ایمان کے منافی ہے ،امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ و جھارکھنڈ پھلواری شریف ،پٹنہ نے ہمیشہ ایسے مواقع پر مختلف پہلوؤں سے ملت کو بیدار رکھنے اور ملی وجود کی بقاء کے لئے جدوجہد کرنے کے سلسلہ میں عملی کردار نبھایا ہے ،آج بھی مختلف تدبیروں کو رو بہ عمل لانے کے ساتھ امارت شرعیہ چاہتی ہے کہ کلمہ گو افراد نظم و اتحاد کی ایسی راہ اختیار کریں جس سے نہ صرف اندرونی استحکام حاصل ہو ؛بلکہ اس کے ذریعہ مسائل و مشکلات حل ہو سکیں ۔ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ تنظیمی قوت سے ہی مسائل ومشکلات حل ہوئے ہیں اور آج بھی اسی راہ سے مشکلات کے حل کی امید کی جا سکتی ہے ،امارت شرعیہ کے تحت بہار،اڈیشہ ،جھارکھنڈ و مغربی بنگال چاروں صوبوں کی اکثر مسلم آبادیوں میں تنظیم امارت قائم ہے ،ضرورت تھی کہ اس تنظیمی ڈھانچہ کو ان چاروں صوبوں میں گاؤں سے لے کر پنچایت ،پنچایت سے لے کر بلاک اور بلاک سے لے کر ضلع کی سطح پر تنظیمی کڑی کے ذریعہ منظم کیا جائے ؛چنانچہ اس تنظیمی کڑی کو مکمل کرنے کا کام جاری ہے ،ضلع شیوہر میں ضلع کمیٹی کی تشکیل کے بعد اسناد کی تفویض اور ہدایات و اختیارات سے آگاہی کے لئے منعقد یہ میٹنگ در اصل اسی سرگرمی کا ایک اہم حصہ ہے ،ان خیالات کا اظہار امارت شرعیہ کے نائب ناظم جناب مولانا مفتی محمد سہراب ندوی قاسمی انچارج شعبۂ تبلیغ و تنظیم امارت شرعیہ نے مدرسہ اسلامیہ عربیہ ڈومری شیوہر کے وسیع جامع مسجد میں منعقد تنظیم امارت شرعیہ ضلع شیو ہر کے عہدہ داران و ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے صدارتی گفتگو میں کیا۔واضح رہے مورخہ ۱۳؍ستمبر ۲۰۲۶ ء کو امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ کی ہدایت اور ناظم امارت شرعیہ جناب مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی صاحب کے مشورہ سے تقسیم اسناد اور تفویض اختیارات کے عنوان سے تنظیم امارت ضلع شیوہر کے عہدہ داران و ارکان کی باوقار تقریب اور شاندار میٹنگ منعقد ہوئی ،ضلع تنظیم شیوہر میں مختلف طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک سو چھیاسٹھ (۱۶۶) افراد کو شامل کیا گیا ہے ،میٹنگ میں شریک تمام عہدہ دران و ذمہ داران کو محترم نائب ناظم مولانا مفتی محمد سہراب ندوی ،مولانا قمر انیس قاسمی معاون ناظم اور قاضی شریعت شیوہر مولانا فخرالدین قاسمی کے ہاتھوں حضرت امیر شریعت مدظلہ کی طرف سے جاری عہدے کی سند دی گئی اور ہدایات و اختیارات پر مشتمل تحریر سپرد کی گئی ۔جناب ماسٹر فخرالحسن صاحب ڈومری شیوہر کو بحیثیت صدر اور جناب مولانا مفتی اعجاز احمد قاسمی صاحب سوگیا کو بحیثیت سکریٹری سند سے نوازا گیا۔ایسے تمام اضلاع جہاں تنظیمی ڈھانچے کی تکمیل یا تجدید کی ضرورت ہے اسے پورا کیا جا رہا ہے اور ان اضلاع میں بھی اس طرح کی میٹنگوں کے انعقاد کی تیاری جاری ہے ،حضرت امیر شریعت مدظلہ اور ناظم امارت شرعیہ بھی اس سلسلہ میں بے حد فکر مند ہیں اور ان کی منشاء ہے کہ ہر ضلع میں ایسے متحرک افراد کی ٹیم تیار ہو جو ہر وقت ملی خدمت کے لئے مستعد و تیار رہے ،اس میٹنگ کو خطاب کرتے ہوئے معاون ناظم امارت شرعیہ جناب مولاناقمر انیس قاسمی صاحب نے کہاکہ امارت شرعیہ کی سو سالہ روشن تاریخ گواہ ہے کہ ہر مشکل موقع پر امارت شرعیہ کی طرف سے فکری اور عملی رہنمائی ملت کو حاصل رہی ہے ،انہوں نے امارت شرعیہ کی فکر اور اس کی تحریکی سرگرمیوں پر بھی روشنی ڈالی ،قاضی شریعت جناب مولانا فخرالدین قاسمی صاحب نے میٹنگ کی نظامت کی اور افتتاحی خطاب کیا،میٹنگ کا آغاز مفتی فیاض قاسمی کی تلاوت سے ہوا ،نعت پاک مولانا جلال الدین ندوی نے پیش کی ،نومنتخب صدر ماسٹر فخرالحسن صاحب نے اپنے تأثرات کے اظہار کے ساتھ شکریہ کے کلمات کہے ، مولانا محمد نوشاد عالم مظاہری اور مولانا احمد حسین قاسمی مبلغین امارت شرعیہ نے قاضی صاحب کے تعاون سے میٹنگ کو کامیاب بنایا ،میٹنگ میں شریک تمام عہدہ داران و ارکان نے حضرت امیر شریعت کی ہدایات اور مفوضہ ذمہ داریوں کو نبھانے کے سلسلے میں مضبوط عزم کا اظہار کیا ۔

ماہ ربیع الثانی کا چاند نظر نہیں آیا
12/09/2026

ماہ ربیع الثانی کا چاند نظر نہیں آیا

سہارنپور کلکٹریٹ میں واقع قدیم تاریخی مسجد کی شہادت پر حضرت امیرِ شریعت کا سخت ردِعمل(پریس ریلیز: پھلواری شریف )  سہارنپ...
08/09/2026

سہارنپور کلکٹریٹ میں واقع قدیم تاریخی مسجد کی شہادت پر حضرت امیرِ شریعت کا سخت ردِعمل

(پریس ریلیز: پھلواری شریف ) سہارنپور کے کلکٹریٹ احاطے میںواقع ایک قدیم تاریخی مسجد کو رات کے اندھیرے میں شہید کیے جانے پر امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کے امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ العالی نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ پولیس کی یہ آمرانہ کارروائی آئین و دستور کے قطعاً خلاف ہے،عبادت گاہ تحفظ ایکٹ 1991ء میں اس کی صراحت موجود ہے کہ 1947ء کے بعد کسی بھی عبادت گاہ کو منہدم کرنا قانونی طور پر جرم ہے،اس مسجد کو شہید کرکے انتظامیہ نے آئین اور قانون کی بالادستی کا مذاق اڑایا،حضرت امیرِ شریعت نے مزید فرمایا کہ اگر غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کرنا ہی مسئلہ کا حل ہے تو پھر ہندوستان بھر میں سیکڑوں غیر قانونی عمارتیں، مذہبی تعمیرات بنی ہوئی ہیں، انہیں کیوں نہیں منہدم کیا جارہاہے ؟ صرف اقلیتی طبقوں کی عبادت گاہوں کو کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے؟ کیا یہ اصولِ انصاف و مساوات کے خلاف نہیں ہے؟حکومت کسی کی بھی ہو، قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے اور کسی بھی مذہبی یا عوامی عمارت کے خلاف کارروائی شفاف، غیر جانب دار اور مقررہ قانون کے طریقۂ کار کے مطابق ہی ہونی چاہیے،جبکہ سہارنپور کی یہ مسجد وقف بورڈ کے اندراج رجسٹر میں وقف کے طور پر درج ہے، اس کے پختہ کاغذات اور دستاویزات بھی شہادت دیتے ہیں کہ یہ زمین جناب یعقوب خان اور جناب وحید خان کے نام سے ہے، اس کے باوجودسیٹی مجسٹریٹ نے 16 جولائی کو مسجد کو غیر قانونی قرار دے کر تیس دن کے اندر ہٹانے کا حکم دے دیا،مسجد کمیٹی نے عدالت کے سامنے کاغذات،بلدیاتی ریکارڈ اور پرانے ریونیو اندراجات پیش کیے، مگر انہیں نظرانداز کر دیا گیا، انتظامیہ کمیٹی اس کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی تیاری کر رہی تھی کہ اسی دوران سرکاری عملے نے بھاری فوج کے ذریعے بڑی عجلت میں علی الصبح مسجد کو منہدم کر دیا، جو کہ نہایت ہی افسوس ناک ہے،یہ کارروائی قانونی اور آئینی طور پر غلط تو ہے ہی حقوقِ انسانی کے بھی خلاف ہے،حضرت امیرِ شریعت نے مزید کہا کہ بی جے پی کے اختیار والی ریاستوں میں مساجد و مدارس کے خلاف کارروائیوں میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے،گزشتہ چند ماہ کے دوران اتر پردیش، دہلی، راجستھان، مدھیہ پردیش، آسام، گجرات اور مہاراشٹر وغیرہ میں ایسی کارروائیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، یہ صورتِ حال ملک کے مذہبی و تہذیبی اقدار کے خلاف ہے،جبکہ اس سلسلے میں سپریم کورٹ نے واضح رہنما خطوط جاری کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی شخص یا عمارت کے خلاف کارروائی قانون کے مقررہ اختیار کے مطابق ہی ہونی چاہیے، کیونکہ قانون کی حکمرانی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ریاست کی بنیادی اور اہم ذمہ داری ہے،اگر مذہبی تعصب کی بنیاد پر کسی ایک طبقے کو نشانہ بنایا گیا تو اس سے ملک میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہوگی،اور ملک کی سالمیت کے لئے خطرہ ہے ۔

Address

Imarat Shariah Complex
Patna
801505

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Imarat Shariah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Imarat Shariah:

Shortcuts

Share