Imarat Shariah

Imarat Shariah Bengal (India).

Introduction
Imarat Shariah, Bihar, Orissa & Jharkhand is a unique and un-paralleled socio religious organization of Muslim Ummah in the state of Bihar, Odissa, Jharkhand & W.

یوم عاشورہ کا پیغام صبر، حق پر استقامت اور امن وانصاف کا قیام : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمیناظم امارت شرعیہ نےکی اس دن ک...
25/06/2026

یوم عاشورہ کا پیغام صبر، حق پر استقامت اور امن وانصاف کا قیام : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی

ناظم امارت شرعیہ نےکی اس دن کوشریعت وقانون کی پاسداری اور امن وامان کے ساتھ گذارنے کی اپیل



(پریس ریلیز پھلواری شریف ) امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ ،جھارکھنڈ ومغربی بنگال کے ناظم جناب مولانا مفتی محمدسعید الرحمن قاسمی صاحب نے ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا کہ ماہ محرم اور یوم عاشورہ دونوں اپنے آپ میں متنوع فضیلتوں کے حامل ہیں، محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ اور اشہر حرم میں شامل ہے ،جبکہ یوم عاشورہ کے روزے اور اس دن کی عظمت کے سلسلے میں متعدد تاریخی واقعات اور روایات وارد ہیں ،خاص طور پر اس دن سیدنا امام حسین ؓکی شہادت کے واقعہ نے اس کو ہمیشہ کے لیے یادگار تاریخی بنا دیا ہے ،اس دن کے تعلق سے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ۹؍۱۰؍محرم یا ۱۰؍۱۱؍ محرم کے روزے رکھنے کی ترغیب دی۔

غرض یہ دن ہر مسلمان کے لیے نہایت ہی قابل احترام اور باعث صبر و شکر ہے، ضرورت ہے کہ اس دن کا پورااحترام کیا جائے، روزہ کا اہتمام قرآن پاک کی تلاوت اور صدقہ و خیرات کا احترام خاص طور پر کیا جائے ،ایسا کوئی عمل جو شرعی نقطہ نظر سے گناہ ہو اور اس سے سیدنا امام حسینؓ کی شہادت کے تقدس کو ٹھیس پہنچے اس سے بچنا اور گریز کرنا ضروری ہے، جو لوگ تعزیہ داری اور جلوس وغیرہ کے ساتھ اس دن کو مناتے ہیں ان کی ذمہ داری ہے کہ شریعت پر عمل کریں، اس دن کی عظمت اور شہادت امام حسینؓ کے تقدس کا پورا لحاظ رکھیں ،ہر کام پرامن اور قانون کی پاسداری کے ساتھ انجام دیں ،ہمارے عمل سے نہ کسی کی دلآزاری ہو اور نہ آپسی محبت وہ بھائی چارہ کو کوئی نقصان پہنچے، بلکہ اپنے عمل سے یوم عاشورہ کے پیغام محبت ،امن اور بھائی چارگی، صبر و تحمل اور استقامت علی الحق کو زبان و عمل سے عام کرنے کی سعی کریں ۔

محترم ناظم صاحب نے اس موقع پر حکومت اور انتظامیہ کے ذمہ داروں کو بھی متوجہ کیا ہے کہ اس دن ہر اعتبار سے چوکس و بیدار ہو کر پوری احساس ذمہ داری کے ساتھ نظم و انتظام ،ٹریفک اور دوسری ضروری سہولیات کی فراہمی میں مکمل تعاون دیں،تاکہ پورے صوبہ میں کہیں بھی کسی جگہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے ،امن وامان کی فضا برقرار رہے ،انسانیت کی بنیاد پر محبت وبھائی چارگی قائم رہے ۔

امارت شرعیہ کو تاریخ کےہردور میں امانت دار رجال کار ملتے رہے ہیںامارت شرعیہ میں منعقد استقبالیہ مجلس سے مولانا عمر ین مح...
17/06/2026

امارت شرعیہ کو تاریخ کےہردور میں امانت دار رجال کار ملتے رہے ہیں

امارت شرعیہ میں منعقد استقبالیہ مجلس سے مولانا عمر ین محفوظ رحمانی کا اظہار خیال



(پریس ریلیز پھلواری شریف ) امارت شرعیہ بہاراڈیشہ ،جھارکھنڈ ومغربی بنگال ہمارے بزرگوں کے خوابوں کی حسین تعبیر ہے جنہوں نے کلمہ کی بنیاد پر ملت کی اجتماعی شیرازہ بندی کی ،آج اس کے ذرہ ذرہ سے ہماری عقیدت اور محبت جڑی ہوئی ہے ،اس ادارہ نے سوسال کے عرصہ میں قوم وملت کی جوبیش بہاعظیم خدمات انجام دی ہے وہ آب زر سے لکھےجانے کے قابل ہے ان خیالات کا اظہار ملک کے مشہور ومعروف جواں سال عالم دین آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سکریٹری حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی سجادہ نشیں خانقاہ رحمانیہ مالیگاؤں مہاراشٹرا نے امارت شرعیہ پھلواری شریف میں تشریف آوری کے موقع پر اپنے استقبالیہ کلمات میں کہا ،مورخہ 15 ؍جون 2026 کو مولانا رحمانی اپنے چند رفقاءکار کے ساتھ امارت شرعیہ تشریف لائے جہاں ناظم امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ جھارکھنڈ ومغربی بنگال مولانا مفتی محمد سعیدالرحمن قاسمی نے اپنے دیگر رفقاء گرامی اور ذمہ داران وکارکنا ن کے ساتھ مہمان محترم کا استقبال کیا اور ان کے اعزاز میں امیر شریعت بہاراڈیشہ جھارکھنڈ ومغربی بنگال کی ہدایت پر ایک استقبالیہ مجلس منعقد کی، جس میں مہمان محترم نے فرمایا کہ امارت شرعیہ کو ہمارے بزروگوں نے اخلاص وللہیت کے جذبے سے قائم کیا ،بانی امارت شرعیہ مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد ؒ جیسے فقیہ النفس عالم دین نے اس ادارہ کو خون جگر سے سینچااور ترقی کے بام عروج پر پہونچایا اس وقت یہ ترقی کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے شجر سایہ دار کی مانند ملت کے سروں پر سایہ فگن ہے ،یہ سب ہمارے اکابرین کے اخلاص کا نتیجہ ہے کہ اس ادارہ کو تاریخ کے ہردور میں امانت دار ودیانت دار افراد ورجال ملتے رہے ہیں جنہوں نے اخلاص وللہیت ،انائب واستحضار ،تواضع وانکساری اور حسن اخلاق سے لوگوں کے دلوں کو مسخر کیا ان کے دلوں میں دین وشریعت اوراتحاد امت کےجذبہ کو پیوست کیا اور سمع وطاعت کے ساتھ زندگی گذارنے پر آمادہ کیا ،حضرت مولانا نے فرمایا کہ امارت شرعیہ کا ہر شعبہ کتاب وسنت کا درخشاں باب ہے جس پر عمل کرکے ہی انسان نجات حاصل کرسکتا ہے ،انہوں نے فرمایا کہ اس وقت ملک کے حالات بہت تیزی سے بدل رہے ہیں ان حالات میں فکر وعمل کی یکسانیت اور اتحاد وہم آہنگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے ہمارے بزرگوں نے جو نقش کار تیار کیا ہے اسی کو مشعل راہ بنا کر منصوبہ بندی کے ساتھ کاموں کو آگے بڑھانا ہے ۔

اللہ کے فضل وکرم سے اس وقت یہ ادارہ موجودہ امیر شریعت کی قیادت وامارت میں قدم بہ قدم آگے بڑھ رہا ہے ،مجھے دیکھ کر اور آپ سب سے مل کر بے انتہاخوشی ہوئی اللہ تعالیٰ ادارہ کو ہرطرح کے شروفتن سے محفوظ رکھے ۔

ازیں قبل خیر مقدمی کلمات میں ناظم امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ ،جھارکھنڈ ومغربی بنگال مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی نے مہمان محترم کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا کہ حضرت مولانا ملک کے نامور عالم دین بڑے مصنف ومحقق ،بے مثال خطیب ومقرر اور امیر شریعت سابع حضرت مولانامحمد ولی رحمانی کے خلیفہ مجاز ہیں ،قدرت نے انہیں گوناگوں خصوصیات وکمالات سے نوازا ،ہم آپ کی تشریف آوری پر دل کی گہرائی سے استقبال کرتے ہیں ،ناظم صاحب نے مہمان محترم کےسامنے امارت شرعیہ کی خدمات اورسرگرمیوں کا اجمالی خاکہ پیش کیا اور کہا کہ اللہ کے فضل وکرم سے امارت شرعیہ کا ہر شعبہ ترقی کی شاہ راہ پر گامزن ہے موجو د امیر شریعت مفکر ملت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی مثالی قیادت وامارت میں ادارہ کے دائرہ کا ر وسیع ہوا ہے ،دار القضا ء ،دار الافتا ء ،امارت پبلک اسکول ،شعبہ دعوت تبلغ ،شعبہ تعلیم دینی وعصری میں نمایاں ترقی ہوئی ہے ،اب تک CBSC طرز کے 13 اسکول قائم ہوچکے ہیں ،بہت المال کے نظام میں بھی استحکام پیدا ہوا ہے ،اللہ کا شکر ہےکہ ادارہ کا ہر شعبہ فعال ومتحرک ہے ،مہمان محترم نے امارت شرعیہ کی سرگرمیوں پر تحسین کلمات ارشاد فرمائے اور دلی مسرت کا اظہار کیا ،اس استقبالیہ مجلس میں صدر قاضی شریعت مولانا محمد انظار عالم قاسمی ،نائب ناظم امارت شرعیہ مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب ،قائم مقام مفتی امارت شرعیہ مفتی احتکام الحق قاسمی صاحب ،مولانا رضوان احمد ندوی صاحب معاون ناظم امارت شرعیہ ،مولانا مفتی مجیب الرحمن صاحب معاون قاضی امارت شرعیہ ،محمد امتیاز صاحب نائب انچارج بیت المال ،مولانا اسعد اللہ صاحب ،مفتی انس جعفر قاسمی صاحب ،مولانا مفتی عقیل اختر قاسمی صاحب ،مولانا محمد منہاج عالم ندوی مولانا محمد شارق رحمانی صاحب ،مولانا مجاہد الاسلام صاحب کے علاوہ دیگر ذمہ داراصحاب وکارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی ،آخر میں یہ نشست مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب کی دعاء پراختتام پذیر ہوئی۔

माहे मुहर्रम का चांद नज़र आया । इमारत शरिया
16/06/2026

माहे मुहर्रम का चांद नज़र आया । इमारत शरिया

حضرت مولانا عمرین محفوظ رحمانی صاحب، خلیفہ و مجازِ امیرِ شریعت سابع اور سیکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، کی مرکزی د...
15/06/2026

حضرت مولانا عمرین محفوظ رحمانی صاحب، خلیفہ و مجازِ امیرِ شریعت سابع اور سیکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، کی مرکزی دفتر امارتِ شرعیہ، پھلواری شریف، پٹنہ آمد ہوئی۔ اس موقع پر امارتِ شرعیہ کے صدرقاضی شریعت جناب مولانا مفتی انظار عالم قاسمی صاحب ،نائب ناظم امارت شرعیہ مفتی محمد ثناء الہدایٰ قاسمی صاحب ، قائم مقام مفتی امارت شرعیہ مولانا مفتی احتکام الحق قاسمی صاحب اور دیگر ذمہ داران و کارکنان نے ان کا خیرمقدم کیا۔

اس موقع پر ایک علمی مجلس منعقد ہوئی، جس کا آغاز ناظمِ امارتِ شرعیہ حضرت مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی صاحب کے تعارفی کلمات سے ہوا۔ انہوں نے مختصر انداز میں امارتِ شرعیہ کے مختلف شعبہ جات کا تعارف پیش کرتے ہوئے ادارے کی دینی، تعلیمی، سماجی، اصلاحی اور رفاہی خدمات پر روشنی ڈالی۔
اس کے بعد اپنے خطاب میں حضرت مولانا عمرین محفوظ رحمانی صاحب نے امارتِ شرعیہ کی دینی، ملی اور سماجی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے حضرت امیرِ شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب کی قیادت میں امارتِ شرعیہ کی مسلسل ترقی، وسعتِ خدمات اور ادارہ جاتی استحکام کا اعتراف کرتے ہوئے اس پر اطمینان کا اظہار کیا۔ نیز دینی و ملی خدمات میں اخلاص، باہمی تعاون، نظم و ضبط اور احساسِ ذمہ داری کی اہمیت پر روشنی ڈالی
مجلس کے اختتام پر امارتِ شرعیہ کی مزید ترقی، ملتِ اسلامیہ کی فلاح و بہبود اور ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

امارت شرعیہ کی خبریں اخبارات کی زبانی
14/06/2026

امارت شرعیہ کی خبریں اخبارات کی زبانی

مشکل حالات ہمیں عزیمت و استقامت کی نئی تاریخ رقم کرنے کی دعوت دیتے ہیں : مولانا احمد حسین قاسمی مدنی ضلع ہزاری باغ میں ا...
14/06/2026

مشکل حالات ہمیں عزیمت و استقامت کی نئی تاریخ رقم کرنے کی دعوت دیتے ہیں : مولانا احمد حسین قاسمی مدنی

ضلع ہزاری باغ میں امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ کی جانب سےدعوتی و اصلاحی دورہ جاری

ہزاری باغ، 13 جون (نمائندہ)
حسب ہدایت حضرت امیر شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہم اور جناب مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کے ایماء پرامارت شرعیہ بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ کی جانب سے ضلع ہزاری باغ میں جاری دعوتی و اصلاحی دورے کے سلسلے میں بڑگاؤں بلاک کی معروف آبادی "بادم" میں ایک عظیم الشان اجلاسِ عام منعقد ہوا، جس میں بڑی تعداد میں مسلمانوں نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امارت شرعیہ کے معاون ناظم اور وفد کے قائد محترم مولانا احمد حسین قاسمی مدنی نے کہا کہ صاحبِ ایمان ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ حالات موافق ہوں یا مخالف، ہر حال میں ایمان پر ثابت قدم رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے احکام اور رسول اکرم ﷺ کی سنتِ مبارکہ سے اپنے تعلق کو مضبوط رکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات مسلمانوں سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اپنی نئی نسل کو دینی، تعلیمی اور فکری اعتبار سے مضبوط بنائیں، خواتین میں دینی و تعلیمی بیداری پیدا کریں اور اپنی تمام کمزوریوں کو دور کرتے ہوئے استقامت و عزیمت کی مثال قائم کریں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی زندہ قومیں مشکل حالات میں نئی راہیں تلاش کرتی ہیں، اور ہمارے اسلاف نے بھی تاریخ کے کٹھن ترین ادوار میں ایمان و استقامت کی روشن مثالیں قائم کی ہیں۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ آزمائشوں اور دشوار حالات نے ملت کو مزید بیدار، باحوصلہ اور ذمہ دار بنایا ہے۔

مولانا مدنی نے مسلمانوں کو تلقین کی کہ وہ اپنی اولاد کو دینی تعلیم کے ساتھ عصری علوم میں بھی آگے بڑھائیں تاکہ وہ مستقبل میں قوم و ملت کی مؤثر قیادت کر سکیں اور حالات کا رخ موڑنے کی صلاحیت حاصل کریں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امارت شرعیہ کے نوجوان عالم دین، مرکزی دارالقضاء کے معاون قاضیِ شریعت مفتی عبداللہ انس قاسمی نے اصلاحِ معاشرہ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام نے خاندانی زندگی کے لیے مکمل اور متوازن نظام عطا کیا ہے، جس میں ہر فرد کے حقوق و فرائض متعین ہیں۔ اگر والدین، اولاد اور میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق کو اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر ادا کریں تو مسلم معاشرہ دیگر اقوام کے لیے ایک مثالی نمونہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے بہنوں اور بیٹیوں کو وراثت میں ان کا شرعی حق دینے، خاندانوں میں اتحاد و اتفاق پیدا کرنے، تلک، جہیز اور بارات جیسی غیر شرعی رسموں سے اجتناب کرنے اور حقوق العباد کی ادائیگی کو زندگی کا حصہ بنانے پر زور دیا۔

اس موقع پر امارت شرعیہ کے مبلغ مفتی مجاہد اللہ قاسمی نے امارت شرعیہ کی تاریخ اور خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امارتِ شرعیہ کے تمام امرائے شریعت نے اپنے اپنے ادوار میں ملتِ اسلامیہ کی دینی و ملی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو مشکل حالات میں حوصلہ، شعور اور صحیح سمت فراہم کی اور اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا رہنے کی تلقین کی۔ موصوف نے امارت شرعیہ کے مختلف شعبوں کی خدمات کا بھی تفصیلی تذکرہ کیا۔

وہیں دوسری جانب خطاب کرتے ہوئے مفتی عبداللہ جاوید ثاقبی نے مسلم معاشرے میں بڑھتی ہوئی دینی کمزوریوں پر تشویش کا اظہار کیا کہ اگر مسلمانوں نے اپنی نوجوان نسل کی دینی و ملی تربیت پر توجہ نہ دی اور نوجوانوں کا رشتہ علماء اور دینی مراکز سے کمزور ہوگیا تو مستقبل میں دینی شعور، مذہبی اقدار اور اسلامی روایات شدید متاثر ہوں گی۔

پروگرام کا آغاز حافظ اسامہ ہاشمی کی تلاوتِ کلام پاک اور نعتِ رسول ﷺ سے ہوا، جبکہ نظامت کے فرائض امارت شرعیہ کے قدیم مبلغ حافظ شہاب الدین نے انجام دیے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل کل جمعہ کے روز ہزاری باغ شہر کے دو اہم مقامات پر بھی دعوتی و اصلاحی پروگرام منعقد ہوئے۔ مولانا احمد حسین قاسمی مدنی نے کچہری جامع مسجد میں خطبۂ جمعہ دیتے ہوئے مسلمانوں کو دینی و ملی زندگی اختیار کرنے، حالات سے باخبر رہنے اور ایک زندہ و بیدار امت بننے کی تلقین کی۔ بعد ازاں "سلطانہ" مقام پر بھی ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔
قابل ذکر ہے کہ ناظم امارت شرعیہ حضرت مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی اورشعبہ تنظیم امارت شرعیہ کے انچارج اور امارت شرعیہ کے متحرک و فعال نائب ناظم جناب مفتی محمد سہراب ندوی قاسمی وفد کے اراکین سے رابطے میں رہ کر ضروری رہنمائی انجام دے رہے ہیں، دورۂ ہزاری باغ کے دوران منعقد ہونے والے ان پروگراموں میں مسلمانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے امارت شرعیہ کے دعوتی و اصلاحی پیغام کا خیر مقدم کیا۔

دارالقضاء سے باہمی تنازعات کا حل تلاش کرنا مسلمانوں کا ایمانی فریضہ ہے۔ قمر انیس قاسمینماز جمعہ سے قبل ضلع سمستی پور کے ...
14/06/2026

دارالقضاء سے باہمی تنازعات کا حل تلاش کرنا مسلمانوں کا ایمانی فریضہ ہے۔ قمر انیس قاسمی

نماز جمعہ سے قبل ضلع سمستی پور کے مختلف مساجد میں علماء امارت شرعیہ کا خطاب

حسب ہدایت مفکر ملت حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی صاحب دامت برکاتہم، امیر شریعت بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال، حسب ایماء حضرت مولانا مفتی سعید الرحمن قاسمی صاحب دامت برکاتہم ناظم امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال، امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کا ایک دعوتی و اصلاحی وفد، حضرت مولانا قمر انیس قاسمی صاحب دامت برکاتہم، معاون ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کی قیادت میں، ضلع سمستی پور کے دورے پر ہے۔ وفد میں مفتی راشد انور قاسمی، معاون قاضی شریعت مرکزی دارالقضاء امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ، مولانا امان اللہ قاسمی، قاضی شریعت دارالقضاء امارت شرعیہ دھرم پور سمستی پور، مفتی نیرالاسلام قاسمی صاحب، استاذ حدیث دارالعلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ، مولانا محمد جمیل اختر رحمانی، مبلغ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ اور مولانا رضوان احمد مظاہری، مبلغ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ شریک ہیں۔
چک عبد الغنی کی جامع مسجد میں جمعہ سے قبل عوام الناس سے خطاب کرتے ہوئے قائد وفد مولانا قمر انیس قاسمی صاحب، معاون ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ نے امارت شرعیہ کے تمام شعبہ جات کا تعارف کراتے ہوئے نظام قضاء پر تفصیل سے روشنی ڈالی، آپ نے فرمایا کہ نظام قضاء اللہ کے نبی جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، پیغمبر علیہ الصلاۃ والسلام خود قاضی شریعت تھے، دور نبوت میں مسجد نبوی میں بیٹھ کر آپ مقدمات کے فیصلے کیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد صحابہ کرام کو مختلف جگہوں کے لیے قاضی مقرر فرمایا، قائد وفد نے فرمایا کہ اللہ کے نبی کے اسی سنت کو زندہ رکھتے ہوئے اکابرین امارت شرعیہ نے بھی بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال میں نظام قضاء قائم فرمایا، آج امارت شرعیہ کے تحت تقریبا سو مقامات پر دارالقضاء کا نظام قائم ہے، جہاں سے ہر سال کم خرچ اور کم وقت میں تقریبا آٹھ ہزار معاملات حل ہوتے ہیں، دارالقضاء کے ذریعہ کے باہمی تنازعات کا حل کرانا مسلمانوں کا ایمانی فریضہ ہے، چنانچہ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی مسلمان اپنے عائلی تنازعات کا حل دارالقضاء کے ذریعہ کرائیں، نیز قائد وفد نے موجودہ حالات کے تناظر میں لوگوں سے اپیل کی کہ آپ اپنا معاشرہ صالح اور پاکیزہ بنائیں، اتحاد و اجتماعیت کے ساتھ زندگی گزاریں، ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں۔
مفتی راشد انور قاسمی معاون قاضی شریعت مرکزی دارالقضاء امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ نے جمعہ سے قبل بی بی فاطمہ بی ایڈ کالج بکرم پور باندے کی جامع مسجد میں خطاب
کرتے ہوئے فرمایا کہ مسلمانوں کی زندگی کا کوئی لمحہ ایسا نہ گزرے جس میں اس کا کوئی امیر نہ ہو، انہوں نے فرمایا کہ ایک امیر کی ماتحتی میں رہ کر اجتماعیت کے ساتھ زندگی گزارنا ہر حال میں مسلمانوں پر لازم ہے، امیر شریعت کی اطاعت ایمان کا حصہ ہے، نیز انہوں نئی نسل کی بہترین تربیت پر زور دیتے ہوئے مسلمانوں سے اپیل کی کہ آپ اپنے بچوں کے دلوں میں ایمان اتنا مظبوط کر دیں کہ یہ بچے آپ کی گود سے نکل کر دنیا کے جسں کونے میں جائیں اور چاہے جس طرح کے حالات کا انہیں سامنا کرنا پڑے کسی بھی صورت میں ان کا قدم لغزش نہ کھائے، یہ اپنے ایمان اور عقیدے پر ثابت قدم رہ سکیں۔
مفتی امان اللہ قاسمی قاضی شریعت دارالقضاء امارت شرعیہ سمستی پور نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ معاشرہ میں پھیلی ہوئی برائیوں کے سد باب کے لیے نوجوانوں کو آگے آنا ہوگا، تلک، جہیز، بارات پر روک لگانا ہوگا، سموہ لون جیسے خطرناک سازشوں سے اپنی بہن اور بیٹیوں کو بچانا ہوگا۔
مفتی نیر الاسلام قاسمی صاحب استاذ حدیث دارالعلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ نے مسلمانوں سے اپیل کہ کہ ہرکام میں نیت کو خالص اللہ کے لیے رکھیں، انہوں نے فرمایا کہ اچھا اور خالص عمل اللہ کو مطلوب ہے، اس لیے جتنا بھی عمل کریں، خلوص و للہیت کے ساتھ کریں، نام و نمود اور شہرت سے بچیں۔
مولانا جمیل اختر رحمانی صاحب مبلغ امارت شرعیہ اور مولانا رضوان صاحب مظاہری مبلغ امارت شرعیہ وفد کے اس دورے کو کامیاب بنانے میں مسلسل جد و جہد کر رہیں، محی الدین پور وارث نگر کے جناب سلیمان صاحب، ماسٹر یاسین صاحب، اور مولانا آفتاب صاحب امام جامع مسجد محی الدین پور، چک عبد الغنی کے جناب اقبال زاہد صاحب، بی بی فاطمہ بی ایڈ کالج بکرم پور باندے کے ڈائرکٹر جناب پروفیسر انجم اصغر صاحب، شکرام پور باندے کی جامع مسجد کے نام جناب مولانا مطیع الرحمان صاحب، ڈیہ بکرم پور باندے کے جناب مصطفیٰ صاحب، مصطفی پور کے جناب مکھیا رحمت اللہ صاحب، موہن پور کے جناب ماسٹر حیدر امام غزالی اور جناب پرویز صاحب اور بھمرو پور کے جناب حافظ عبد الجبار صاحب، جناب ابرار صاحب، اور جناب مولانا معصوم صاحب، ان تمام حضرات نے وفد کا والہانہ استقبال کیا۔ واضح رہے کا وفد کا یہ دورہ مؤرخہ 10/ جون 2026 سے 17/ جون 2026 تک جاری رہے گا۔

نقباء وذمہ داران تنظیم امارت ملی مسائل کے حل اور معاشرتی اصلاح کے لیے آگے آئیں:حضرت امیر شریعتشہر بتیا میں منعقد نقباء...
14/06/2026

نقباء وذمہ داران تنظیم امارت ملی مسائل کے حل اور معاشرتی اصلاح کے لیے آگے آئیں:حضرت امیر شریعت

شہر بتیا میں منعقد نقباء و ذمہ داران تنظیم امارت شرعیہ کے خصوصی اجلاس سے اکابر علماء کا خطاب

(پریس ریلیز: بتیا)
اس وقت ایک طرف اگر روز بروز ملی مسائل ومشکلات میں اضافہ ہورہاہے تو دوسری طرف سماجی اعتبار سے بھی خیر امت کالقب پانے والی ملت معاشرتی خرابیوں میں ڈوبتی چلی جارہی ہے ، گویا تباہی کے دوطرفہ حالات نے اس ملت کو اپنے گھیرے میں لے لیا ہے ، ایسے وقت میں ملت کے باشعور افراد بااثر سماجی ذمہ داران، علماء وائمہ کرام ،امارت شرعیہ کے نقباء ونائبین ،اورتنظیم امارت شرعیہ کے نمائندگان کی بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ دل دردمند اورفکر ارجمند کے ساتھ ملی مسائل کے حل اور معاشرتی اصلاح کے لیے مؤثرعملی اقدام کریں ، اگر آپ حضرات نے اس ذمہ داری کا احساس نہیں کیا اور اپنے عملی اقدامات سے ملت کو فائدہ نہیں پہونچایا تو نہ صرف ملت نقصا ن سے دوچار ہوگی؛بلکہ آپ بھی اللہ کی عدالت میں جواب دہی سے نہیں بچ سکیں گے ۔ امارت شرعیہ کا یہ خصوصی اجلاس دراصل آپ جیسے ذمہ دار ، باشعور اورفکر مند احباب کے اندر کچھ اسی طرح کا احساس جگانے اور فکر مندی پیداکرنے کے لیے منعقد ہواہے ،ان خیالات کا اظہار بہار، اڈیشہ ،جھارکھنڈ ومغربی بنگال کے امیر شریعت مفکر ملت حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ العالی سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر نے مورخہ ۱۳؍جون کو شہر بتیا کے وسیع وبارونق سواگتم میرج ہال میں منعقد ضلع مغربی چمپارن کے نقباء ونائبین وذمہ داران تنظیم امارت شرعیہ کے خصوصی تربیتی اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر آپ نے دستوری نقطۂ نظر سے وندے ماترم کی لازمیت اور اس گیت میں موجو د فکر کی سنگینی اورشرکیہ کلمات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کی لازمیت کسی طرح بھی آئینی اوردستوری نہیں ہے ؛بلکہ اس گیت کا بعض حصہ تو وہ ہے جو فکری اعتبار سے انصاف پسند برادران وطن کے لیے بھی قابل قبول نہیں ہوسکتا ،اسی طرح دینی مدارس جو ملت کے لیے دین کے پاور ہاؤس کی حیثیت رکھتے ہیں انہیں مختلف طرح کی جانچ کے گھیرے میں ڈال دیا گیا ہے جو یقینا باعث تشویش ہے ، مدارس انسان سازی کا سب سے عمدہ کارخانہ ہیں ، یہاں دَل نہیں بلکہ انسانوں کے دِل بنائے جاتے ہیں اور ملک وملت کی خدمت کے لیے اچھے افراد تیار ہوتے ہیں ، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مدارس کو اسی نگاہ سے دیکھے اور اس کے وجود وتحفظ کو ہرگز نقصان نہ پہونچنے دے۔ آپ نے ارباب مدارس کو بھی متوجہ کیا کہ وہ وقت اورحالات کو سامنے رکھتے ہوئے قانونی نقطۂ نظر سے اپنے پورے نظام کو صاف وشفاف رکھنے پر پوری توجہ دیں ، ہمت وحوصلہ سے کام لیں اور خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں ،حضرت امیر شریعت مدظلہ نے تربیتی اعتبار سے بھی حاضرین تک اپنا پیغام پہونچایا ، سوالات جوابات کا سلسلہ چلا ،شرکاء کو اظہا رخیال کا موقع دیا گیا اور تحریر و بیان کے ذریعہ بھی قوت عمل اور جذبۂ خدمت کو بڑھانے و نکھارنے کی کوشش کی گئی ،اجلاس میں بڑی تعداد میں نقباء و نائبین اور ضلع و بلاک کی سطح پر قائم تنظیم امارت شرعیہ کے ذمہ داران و ارکان نے شرکت کی ، اس اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے ناظم امارت شرعیہ و صدر مفتی جناب مولانا مفتی محمد سعیدالرحمن قاسمی صاحب نے امارت شرعیہ کی شرعی و تاریخی حیثیت ،وحدت و اجتماعیت کے استحکام کے لیے بیعت امیر کی ضرورت ،امارت شرعیہ کے امراء شریعت کی علمی و عملی عظمت اور امارت شرعیہ کی ہمہ جہت خدمات پر مؤثر انداز میں روشنی ڈالی ، آپ نے کہا کہ امارت شرعیہ اس فکر اسلامی اور نطام شرعی کی عملی تصویر ہے جس کی بنیاد کائنات کے آخری پیغمبر جناب محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی تھی ، ہندوستان جیسے ملک میں امارت شرعیہ کا وجود ایک عظیم مذہبی نعمت اور ایک ناگزیر ملی ضرورت ہے ، امارت شرعیہ نے اپنی صدسالہ تاریخ میں مختلف جہتوں سے ملت کو زندہ وبیدار رکھنے کا جو مثالی کارنامہ انجام دیا ہے ، اس کی نظیر اگر نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے ، ضرورت ہے کہ آپ نقباء اور تنظیم امارت شرعیہ کے ذمہ داران فکر امارت کی عظمت سے ہر مسلمان کو واقف کرائیں اور شرعی ضرورت کی حیثیت سے ہر مردمسلماں کو اس سے وابستہ رکھنے کی فکرکریں ،امارت شرعیہ کے صدر قاضی جناب مولانا مفتی محمد انظار عالم قاسمی صاحب نظام قضاء امارت شرعیہ کے موضوع پرایک جامع پریزینٹیشن پیش کیا اور نظام قضاء کے قیام ،اس کی افادیت ،اس کے فیصلوں کے اثرات ، دارالقضاء میں پیش ہونے والے مقدمات اورفیصلوں کے لیے درکار مدت کار جیسے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اگر ہم سب اپنے ایمان کی سلامتی ،وقت ومال کا تحفظ اورعزت وآبرو کی عافیت چاہتے ہیں تو ہمیں سول معاملات ہرحال میں دارالقضاء کے اندر پیش کرنا چاہیے ،آپ سب سے گزارش ہے کہ اس آواز کو گاؤں دیہات تک پہونچائیں اورتحریکی انداز میں اس مہم کو آگے بڑھائیں ۔ امارت شرعیہ کے نائب ناظم جناب مولانا مفتی محمد سہراب ندوی صاحب انچارج شعبۂ تبلیغ وتنظیم نے شعبۂ تبلیغ وتنظیم کی اہمیت ،لفظ نقیب کی بلند نسبت اور بہ حیثیت نقیب منتخب ہونے کی عظمت کا تذکرہ کرتے ہوئے نقباء وذمہ داران تنظیم کو ان کی ذمہ داریاں بتائیں اور کہا کہ اللہ نے اس عہدہ کے ذریعہ آپ کو جو مقام بخشا ہے اورجس بڑے ادارہ کی نسبت سے جوڑ ا ہے اس کا حق یہ ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کے تئیں ہمیشہ فکر مند رہیں ، اللہ کی طرف سے جب تک خدمت کا یہ دروازہ کھلا ہے اسے اپنے لیے باعث سعادت سمجھیں ۔ اجلاس کا آغاز جناب مولانا نسیم انظر ندوی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ،مولانا عبداللہ نورالدین رحیمی نے نعت پاک پیش کیا اور استقبالیہ کلمات مولانا نیاز احمد قاسمی نائب صدر تنظیم امارت شرعیہ ضلع مغربی چمپارن نے کہے اور نظامت کی ذمہ داری نائب ناطم امارت شرعیہ جناب مولانا مفتی محمد سہراب ندوی صاحب نے نبھائی ،جبکہ امارت شرعیہ کے رکن شوریٰ وعاملہ ، امارت شرعیہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر ٹرسٹ کے چیئرمین اور تنظیم امارت شرعیہ ضلع مغربی چمپارن کے سکریٹری جناب ایڈوکیٹ ذاکر بلیغ صاحب نے حضرت امیر شریعت مدظلہ کی خدمت میں شال ،منظوم سپاس نامہ پیش کیے اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا ۔تنظیم کے دیگر ذمہ داروں نے امارت شرعیہ کے دیگر موجود ذمہ داران کو شال پیش کر کے ان کا استقبال کیا ۔اس اجلاس کو مثالی طور پر کامیاب بنانے میںسکریٹری تنظیم جناب ایڈوکیٹ ذاکر بلیغ صاحب ، صدر تنظیم جنا ب مولانا محبوب عالم نعمانی صاحب ،نائب صدر مولانا نیاز احمد قاسمی صاحب ،نائب صدر جناب الحاج نیاز احمد صاحب مالک سواگتم میرج ہال ،جناب الحاج ڈاکٹر اکرام ،جناب سہراب صاحب ،جناب ارشاد اختر ،جناب سید امتیاز احمد،جناب مولانا نفیس ذوالقرنین قاسمی صاحب ،اور مبلغ امارت شرعیہ مولانا اسعداللہ نیموی و مولانا حشرالدین ندوی نے اہم رول ادا کیا ۔اجلاس میں جناب حافظ احتشام رحمانی ، مولانا عبدالاحد رحمانی ازہری اور مولانا محمد منہاج عالم ندوی کی خصوصی شرکت رہی ۔

مغربی چمپارن میں حضرت امیر شریعت مدظلہ وذمہ داران امارت کے دوروزہ تنظیمی،تعلیمی واصلاحی دورہ کا آغاز ناظم امارت شرعیہ ب...
12/06/2026

مغربی چمپارن میں حضرت امیر شریعت مدظلہ وذمہ داران امارت کے دوروزہ تنظیمی،تعلیمی واصلاحی دورہ کا آغاز

ناظم امارت شرعیہ بہار،ڈیشہ جھارکھنڈ ومغربی بنگال جناب مولانا مفتی محمد سعیدالرحمن قاسمی صاحب نے اپنے ایک اخباری بیان میں بتایا کہ امارت شرعیہ کے زیر اہتمام ضلع مغربی چمپارن اوراس کے اطراف میں مورخہ ۱۲؍۱۳؍جون ۲۰۲۶ء کو کئی اہم تنظیمی ،تعلیمی واصلاحی اجلاسوں کا انعقادہونے جارہاہے ، ان تمام اجلاسوں کی صدرات مفکر ملت حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ امیر شریعت بہار،ڈیشہ جھارکھنڈ ومغربی بنگال وسجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر فرمائیں گے۔ اس سلسلہ کاپہلا اجلاس تعلیمی بیداری کے عنوان سے ۱۲؍جون کو بعد نماز مغرب مدرسہ رحمانیہ ہاتھی خانہ بتیا میں منعقد ہوگا ، جس میں تعلیمی بیداری ،نظام مدارس کے تحفظ اور دینی مدارس کی ترقی کی راہیں جیسے موضوعات پر خطابا ت ہوں گے ۔جب کہ ۱۳؍جون کو صبح ۹؍بجے سے سواگتم میرج ہال ،منواپل ،بتیا کے وسیع وپررونق ہا ل میں ضلع مغربی چمپارن کے نقباء ،نائبین نقباء اور تنظیم امارت شرعیہ کے ضلعی وبلاک سطح کی کمیٹیوں کے ذمہ داران وارکان کا خصوصی تربیتی اجلاس ہونا ہے ، جس میں حاضرین کو معلوماتی وتربیتی نقطۂ نظر سے فکر امارت کی تفہیم ،خدمات امارت کے تعارف اورتنظیمی ذمہ داریوں سے واقف کراتے ہوئے کئی اہم پہلوؤں پر عملی تربیت بھی دی جائے گی ، اس موقع پر حضرت امیر شریعت دامت برکاتہم موجودہ حالات کو سامنے رکھتے ہوئے مدارس کے تحفظ ،شریعت کے عملی بقاء اور ملی مسائل کے حل کے سلسلہ میں اپنے کلیدی خطاب کے ذریعہ ضروری رہنمائی بھی فرمائیں گے ۔۱۳؍جون ہی کوبعد نماز مغرب ایک بڑا اصلاحی اجلاس مسلمانوں کی بڑی آبادی بھوگاڑی میں منعقد ہوگا جس کی تیاری نہایت زور وشور کے ساتھ کی گئی ہے اور بڑی تعداد میں اہل ایمان کی شرکت متوقع ہے ،ان تمام پروگراموں کا نظام امارت شرعیہ کے رکن شوریٰ وعاملہ ،ٹرسٹ،تنظیم امارت شرعیہ مغربی چمپارن کے ضلع سکریٹری اورامارت شرعیہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر ٹرسٹ کے چیئرمین جناب ایڈوکیٹ ذاکر بلیغ صاحب نے اپنی سرکردگی میں اپنے رفقاء وتنظیم کے دیگر ذمہ داروں کے ساتھ نہایت ہی منظم اوربامقصد انداز میں مرتب کیا ہے ،محترم ناظم صاحب نے بتایاکہ ان تمام پروگراموں میں حضرت امیر شریعت مدظلہ اور خود ان کے علاوہ امارت شرعیہ کے صدر قاضی جناب مولانا مفتی محمد انظارعالم قاسمی صاحب ، نائب ناظم امارت شرعیہ جناب مولانا مفتی محمد سہراب ندوی صاحب ، رفیق پروجیکٹ مینجمنٹ مولانا محمد منہاج عالم ندوی صاحب اور قاضی شریعت بتیا جناب مولانا شمس الحق قاسمی صاحب شریک رہیں گے ۔
محترم جناب ناظم صاحب اورنائب ناظم صاحب نے جمعہ کی نمازبھی شہر بتیا میں اداکی ،ناظم صاحب کا خطاب شہر بتیا کی وسیع جامع مسجد واقع نزد مدرسہ اسلامیہ بتیا میں ہوا ، آپ نے اپنے خطا ب میںموجودہ حالات ومشکلات اورملت کو درپیش مسائل کا ذکرکرتے ہوئے ان کے حل کی طرف خصوصی رہنمائی فرمائی اورامارت شرعیہ کے دوروزہ پروگراموں کی ضرورت اور حضرت امیر شریعت مدظلہ العالی کی آمد کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے دونوں اجلاس عام میں عوام وخواص کو شرکت کی دعوت دی اورخصوصی تنظیمی اجلاس کی ضرورت کو سمجھایا،نائب ناظم امارت شرعیہ جنا ب مولانا مفتی محمد سہراب ندوی صاحب نے جنگی مسجد بتیا میں نماز جمعہ سے قبل خطاب کیا اور امارت شرعیہ کا سرزمین مغربی چمپارن سے جو دیرینہ رشتہ ہے اور بانی امارت شرعیہ کاجولگاؤ اس زمین سے رہاہے اس کا ذکر کرتے ہوئے اس تعلق کو مستحکم رکھنے کی دعوت دی اورحضرت امیرشریعت کی آمد کو باعث برکت بتاتے ہوئے ان کا حوصلہ مندانہ استقبال کرنے کی ترغیب دی ۔جمعہ کے بعد محترم ناظم صاحب نے نائب ناظم صاحب اور ایڈوکیٹ ذاکر بلیغ صاحب کے ہمراہ پروگراموں کے مقامات کا جائزہ لیا اور انتظامی نقطۂ نظر سے اجلاس کو بہتربنانے کے سلسلہ میں منتظمین کو کئی مفید مشورے دیئے۔ناظم صاحب نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ سارے پروگرام ان شاء اللہ مفید اوربامقصد ہوں گے اوراس سے تنظیم امارت شرعیہ کے استحکام اورملت کی بیداری کی نئی راہیں کھلیں گی۔

امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھاڑکھنڈ و مغربی بنگال مسلمانوں کی مذہبی ضرورت ہے: قمر انیس قاسمیضلع سمستی کے تاج پور، سرائے رن...
12/06/2026

امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھاڑکھنڈ و مغربی بنگال مسلمانوں کی مذہبی ضرورت ہے: قمر انیس قاسمی

ضلع سمستی کے تاج پور، سرائے رنجن، اوجیارپور، دلسنگھ سرائےاور وارث نگر بلاک میں وفد امارت شرعیہ کا دعوتی و اصلاحی دورہ جاری۔

(پریس ریلیز :نمائندہ سمستی پور) مفکر ملت حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی صاحب دامت برکاتہم، امیر شریعت بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کی ہدایت اور حضرت مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی صاحب دامت برکاتہم ناظم امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کی ایماء پر مولانا قمر انیس قاسمی صاحب دامت برکاتہم معاون ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کی قیادت میں، امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کا ایک دعوتی و اصلاحی وفد، ضلع سمستی پور کے تاج پور، سرائے رنجن، اوجیار پور، دلسنگھ سرائے اور وارث نگر بلاک کے مختلف مواضعات کے دورے پر ہے، وفد میں مفتی راشد انور قاسمی، معاون قاضی شریعت مرکزی دارالقضاء امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ، مولانا امان اللہ قاسمی قاضی شریعت دارالقضاء امارت شرعیہ دھرم پور سمستی پور، مفتی نیرالاسلام صاحب استاذ حدیث دارالعلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ، مولانا محمد جمیل اختر رحمانی، مبلغ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ اور مولانا رضوان احمد مظاہری مبلغ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ شریک ہیں۔

موضع ڈیہ سرسونا، پیغمبر پور اور شاہ پور بگھونی کی جامع مسجد میں عوام الناس سے خطاب کرتے ہوئے قائد وفد مولانا قمر انیس قاسمی صاحب، معاون ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ نے فرمایا کہ امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال پورے ملک کے مسلمانوں کے لیے خصوصا بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کے مسلمانوں کے لیے اللہ کی ایک عظیم نعمت ہے، امارت شرعیہ مسلمانوں کی مذہبی ضرورت ہے، اس کی عظمت و تقدس کا لحاظ رکھنا اور اس کی ضرورتوں کا خیال کرنا مسلمانوں پر لازم ہے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک امیر شریعت کی ماتحتی میں رہ کر ان کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا مسلمانوں پر واجب ہے؛اس لیے امارت شرعیہ سے جڑ کر رہنا اور امیر شریعت کے پیغام پر لبیک کہنا وقت کی اہم ضرورت ہے، قائد وفد نے امارت شرعیہ کے تمام شعبوں کا بہت ہی جامع تعارف کرایا، نیز انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے گھر کو اسلامی ماحول سے مزین کریں، مرد و عورت خود بھی اسلامی احکامات پر عمل کریں اور اپنے بچے اور بچیوں کو بھی ان پر عمل کرنے تلقین کریں۔ مفتی راشد انور قاسمی معاون قاضی شریعت مرکزی دارالقضاء امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ نے اپنے خطاب میں اتحاد امت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ کلمہ واحدہ کی بنیاد پر وحدت و اجتماعیت کے ساتھ زندگی گزاریں، اسی میں ان کی بقا ہے، انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ اپنا معاشرہ ایک صالح اور اسلامی معاشرہ بنائیں۔ مفتی امان اللہ قاسمی قاضی شریعت دارالقضاء امارت شرعیہ سمستی پور نے دارالقضاء کی اہمیت وضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی کہ اپنے معاملات امارت شرعیہ کے دارالقضاء سے حل کرائیں۔ مفتی نیر الاسلام قاسمی صاحب استاذ حدیث دارالعلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ نے ذمہ داران اور گارجین حضرات سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں اور بچیوں کی دینی تعلیم و تربیت پر توجہ دیں، انہیں اس طرح اسلامی سانچے میں ڈھالیں کہ ان کے دل و دماغ میں ایمان اور اسلام پیوست ہو جائے۔ مولانا جمیل اختر رحمانی صاحب مبلغ امارت شرعیہ نے نظامت کے فرائض انجام دیے، مولانا رضوان صاحب مظاہری مبلغ امارت شرعیہ اور مولانا جمیل اختر رحمانی مبلغ امارت شرعیہ وفد کے اس دورے کو کامیاب بنانے میں مسلسل جد و جہد کر رہیں، جناب مولانا مصباح الدین قاسمی صاحب ڈیہ سرسونا، جناب بدیع الزماں عرف ہیرا بابو ڈیہ سرسونا، جناب توقیر صاحب سلفی پیغمبر پور، جناب توفیق صاحب پیغمبر پور، جناب توثیق صاحب پیغمبر پور، جناب اکبر علی صاحب پیغمبر پور، جناب حاجی شبیر صاحب بھروکھرا، جناب مولانا مہتاب عالم قاسمی صاحب بھروکھرا، جناب حاجی خورشید صاحب ہری شنکر پور بگھونی وغیرھم نے امارت شرعیہ کے اس وفد کا پرجوش استقبال کیا اور خوب اکرام کیا، ضیافت کی۔ واضح رہے کا وفد کا یہ دورہ مؤرخہ 10/ جون 2026 سے 17/ جون 2026 تک جاری رہے گا۔

Address

Imarat Shariah Complex
Patna
801505

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Imarat Shariah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Imarat Shariah:

Share