27/04/2026
سلطان العارفین حضرت سید شاہ سلطان احمد چشتی شیخپوروی قدس سرہ
پیکر حسن و جمال،صاحب فضل وکمال،منبع علم و حکمت،تاجدار ولایت،سیدالصوفیہ ،سلطان العارفین حضرت سید شاہ سلطان احمد چشتی قدس سرہٗ اپنے والد بزرگوار کے پردہ فرمانے کے بعد آستانہ عالیہ چشتیہ کے نویں سجادہ نشیں ہوئے۔ آپ تمام کمالات انسانی سے آراستہ اور علوم ظاہری و باطنی کے جامع تھے،زہد و تقویٰ،عبادت و ریاضت، ولایت اور فقر و درویشی میں کمال رکھتے تھے۔
آپ کی ولادت آبائی وطن چھوٹا شیخپورہ نوادہ میں ہوئی اور ابتدائی تعلیم اپنے والد بزرگوار اور مولانا سیدفصیح نرہٹی عرف بفاتی صاحب کے زیر سایہ ہوئی اس کے بعد مدرسہ انوارالعلوم گیا کے معزز مشائخ کی صحبت میں رہ کر علوم دینیات سے آراستہ ہوئے۔ بعد ازاں پھلواری شریف پٹنہ میں فیاض المسلمین حضرت شاہ بدر الدین پھلواروی قدس سرہٗ کی خانقاہ میں کشاں کشاں پہنچے،اور ایک مدت تک ان کی خدمت میں رہ کر کسب فیض کیا اور ماہ رجب 1342ھ مطابق 1923ء کو بیعت کا شرف حاصل کیا۔
حضرت سلطان العارفین قدس سرہٗ کو کم سنی میں ہی اپنے والد حضرت خواجہ سید احمد حسین چشتی قدس سرہٗ سے جمیع سلاسل کی تحریری اجازت و خلافت اور خاندانی و برکات سے مشرف و بہرہ یاب ہوئے۔
آپ کو جو آبائی اجازت اپنے والد بزرگوار سے حاصل ہوئی اسے کتاب شجرہ عالیہ چشتیہ میں خلافت نامہ کے طور پر لکھتے ہیں:
فقیر سید سلطان احمد چشتی کو اپنے والد حضرت سید شاہ احمد حسین چشتی قدس سرہٗ سے بتاریخ 13جمادالاول بروز دوشنبہ 1323ھ مطانق 1905ء کو تحریری اجازت و خلافت ملی ہے،اور حضرت سید شاہ احمد حسین چشتی قدس سرہٗ کو اپنے والد حضرت سید شاہ شجاعت حسین چشتی قدس سرہٗ سے ملی ہے اور حضرت سید شاہ شجاعت حسین چشتی قدس سرہٗ کو دو بزرگوں سے اجازت ملی ہے۔سلسلہ چشتیہ بہشتیہ حضرت خواجہ سید عبداللہ چشتی مودودی بھکری شیخپوروی قدس سرہ کی اجازت حضرت سید شاہ شجاعت حسین چشتی قدس سرہٗ اپنے والد حضرت سید شاہ فخر الدین حسین چشتی قدس سرہٗ سے ملی ہے اور ان کو حضرت سید شاہ رحمان حسین چشتی قدس سرہٗ سے اور ان کو حضرت سید شاہ ملیح چشتی قدس سرہٗ سے اور ان کو حضرت سید شاہ فصیح چشتی قدس سرہٗ سے اور ان کو حضرت خواجہ سید عنایت اللہ چشتی قدس سرہ سے اور ان کو حضرت سید شاہ حاجی تاج محمود حقانی چشتی قدس سرہٗ سے اور ان کو حضرت خواجہ قطب الدین قطب ثانی چشتی قدس سرہٗ سے اور ان کو اپنے والد حضرت خواجہ سید عبداللہ چشتی قدس سرہٗ (صاحب ولایت چھوٹا شیخپورہ شریف ضلع نوادہ) سے اپنے والد حضرت سید اسد اللہ سلطان گنج نشیں چشتی بھکری شیخپوروی قدس سرہ سے سلسلہ جاری ہے۔یہاں تک کل بزرگوں کی مزار شیخپورہ شریف ضلع نوادہ میں واقع ہے۔اور حضرت جد مکرم سید شاہ شجاعت حسین چشتی شیخپوروی قدس سرہ کو دوسری اجازت حضرت سید شاہ عطا حسین فانی داناپوری ثم گیاوی قدس سرہٗ سے ان کو حضرت سید شاہ غلام حسین داناپوری قدس سرہ سے ان کو حضرت مخدوم منعم پاک عظیم آبادی سے سلسلہ چشتیہ قادریہ نقشبندیہ سہروردیہ وغیرہ کل سلسلوں کی اجازت ملی اور یہ سب جاری ہیں۔(شجرہ چشتیہ قلمی)
حضرت سلطان العارفین قدس سرہٗ مختلف الجہات شخصیت تھے،ظاہری حسن و جمال، باطنی جاہ و جلال اور بے پناہ کمالات عرفانی سے آراستہ اور مزین تھے اور آپ نے بے شمار لوگوں کو اپنی علمی و روحانی فیوض سے سرفراز فرمایا،بہار اور جھارکھنڈ کے قصبات میں آپ نے کافی تبلیغی دورے فرماۓ، ان دوروں کا مقصد فقط لوگوں کی اصلاح و ہدایت ہوتی،آپ کے عمدہ اخلاق وعادات،حسن سیرت و صورت دیکھ کر لوگ گرویدہ ہو جاتے اور سینکڑوں افراد آپ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے۔
حضور سیدالصوفیہ سید شاہ سلطان احمد چشتی صاحب کی اہم علمی و ادبی تصنیفات کی چند نمایاں کتب درج ذیل ہیں:
• سفر نامہ اجمیر (۱۹۳۴ء): یہ کتاب شاہ صاحب کے سفرِ اجمیر کی روداد ہے۔ ۱۹۳۴ء میں تحریر کردہ اس سفرنامے میں نہ صرف اس دور کے سفری حالات کا تذکرہ ہے بلکہ روحانی کیفیات اور اجمیر شریف کے تاریخی و مذہبی پس منظر کو بھی بڑے دلنشین انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
• زلزلہ ۱۹۳۴ء (ایک اندوہ ناک خواب): ۱۹۳۴ء میں آنے والا زلزلہ ایک بہت بڑا سانحہ تھا۔ایک تاریخی ریکارڈ کے ساتھ ساتھ عبرت کا درس بھی دیتی ہے۔
• کتاب الانساب: شجرہ نگاری اور خاندانوں کے نسب کو محفوظ کرنا ایک مشکل فن ہے۔ شاہ صاحب نے اس کتاب کے ذریعے اپنے خاندان اور دیگر مشائخ کے شجروں کو علمی بنیادوں پر مرتب کیا، جو محققین کے لیے ایک مستند حوالہ ہے۔
• میلاد النبی ﷺ: سیرت طیبہ کے موضوع پر لکھی گئی اس کتاب میں شاہ صاحب نے حضور اکرم ﷺ کی ولادتِ با سعادت اور آپ ﷺ کے فضائل کو انتہائی عقیدت اور محبت سے بیان کیا ہے۔
• کتاب الاسرار (مجموعہ وظائف): یہ کتاب روحانیت اور سلوک کے تلامذہ کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے۔ اس میں مختلف اوراد و وظائف اور باطنی اسرار و رموز کو یکجا کیا گیا ہے، جس کا مقصد انسانی زندگی میں روحانی سکون پیدا کرنا ہے۔
• رسالہ تعزیہ داری: اس رسالے میں شاہ صاحب نے تعزیہ داری کی شرعی و تاریخی حیثیت اور اس سے وابستہ رسوم و رواج پر تحقیق پیش کی ہے، جو ان کے مذہبی گہرائی اور سماجی مشاہدے کی عکاسی کرتی ہے۔
حضرت نے بیاضوں (Personal Notebooks) اور خاندانی قلمی نسخوں کو محض الماریوں کی زینت نہیں رہنے دیا، بلکہ ان کی نوک پلک درست کر کے انہیں جدید قارئین کے لیے استفادے کے قابل بنایا۔ حضرت کی تصنیفات کی تعداد ایک درجن کے قریب ہے، جو آپ کی علمی وسعت کی دلیل ہے۔
آپ کے تین صاحبزادے اور دو صاحبزادیاں ہوئیں۔
1 حضرت سید شاہ قطب الدین احمد چشتی قدس سرہٗ
2 ڈاکٹر سید قیام الدین چشتی
3 حضرت سید محمد ضیاء الدین چشتی
4 سیدہ معینہ خاتون زوجہ جناب سید منصور احمد شیرکھاٹی
5 سیدہ ریحانہ خاتون زوجہ مرحوم سید فیاض الدین حیدر دائرہ بہار شریف
آپ قریب پچاس سال تک مسند سجادگی پر رونق افروز رہے اور 14 ذیقعدہ 1382ھ مطابق 1962ء بروز منگل کو رفیق اعلی سے جاملے۔مزارشریف آپ کا اسی بستی کے جامع مسجد سے متصل دائرہ احمدی میں زیارت گاہ خلائق ہے۔
(تذکرہ سجادگان خانقاہ چشتیہ چھوٹا شیخپورہ نوادہ بہار)