30/04/2020
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين.
عصر حاضر میں دعوت الی اللہ کی ضرورت۔
از قلم : شمشیر عالم جوہری۔
دعوت الی اللہ کی بڑی اہمیت ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود اپنے متعلق خبر دیتے ہوئے فرمایا"اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہےاور جس کو چاہتا ہے راہ راست پر چلنے کی توفیق عطا کرتاہے"(سوره يونس:25)
قارئین۔آج جن گوناگوں مسائل سے ہم گزر رہے ہیں ان میں سے ہمارے اوپر مسلط لوگوں کا بھی مسئلہ ہے ایسے لوگ جن کے پاس نہ کوئی ڈگری ہے اور نہ کوئی لائق وفائق لوگ ہیں یہ ہمارے اوپر مسلط ہے اور ہمارے خلاف قانون نافذ کر رہے ہیں غیر شرعی احکامات پر عمل کرنے پر مجبور کر رہے ہیں کبھی تھالی بجانے تو کبھی دیا جلنے کی تلقین کرتے ہیں اور نئے نئے حربے اٹھاتے ہیں آج میڈیا بھی ہمارے خلاف زہر اگل رہا ۔ آج تبلیغی جماعت کے بارے میں یہ میڈیا سفید چھوٹ رچ رہا ہےساری قوم پریشان ہے کہ ایسا معاملہ کیوں درپیش ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے"اور تم ایسے وبال سے بچو!کہ جو خاص کر صرف ان ہی لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں سے ان گناہوں کے مرتکب ہے۔اور یہ جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے"(انفال:25)
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس آیت کی تفسیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی روشنی میں بیان کیا ہے۔"ان الله لا يعذب العامة بعم خاصة"
یقینا اللہ کا یہ قانون نہیں ہےکہ گناہ کوئی اور کریگا سزا کسی اور کو ملے گی بلکہ اللہ کا قانون ہے کہ گناہ کے مرتکب ہی کو سزا ملے گی لیکن یہ قانون تبدیل ہو جاتا ہے کہ گناہ کوئی کرے گا اور سزا پوری قوم کو ملے گی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"حتى يروا المنكر بين ظهرانيهم وهم قادرون على ان ينكروا فلاينكرونه"
قانون اس وقت بدلتا ہے جب ہمارے درمیان کوئی ایسا کام رائج پاتا ہے جس پر دعوت الی اللہ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اس کی جانب توجہ مبذول نہیں کرتے ہیں اور منکر کو دیکھ کر خاموش رہتے ہیں اس وقت اللہ اپنا قانون بدل دیتا ہے اسی طرح اللہ نے ہم کو"ادعونى استجب لكم" کے ذریعہ دعا کرنے کا حکم دیا اور اس کی قبولیت کا اعلان بھی فرمایا اس کے باؤجود آج ہماری دعائیں رب کی بارگاہ میں قبول نہیں ہوتی ہے مصیبتوں کو دور کرنے کے لیے نمازوں میں قنوت نازلہ کا اہتمام کیا جاتا ہے سارے مسلمان پریشان ہیں کہ ہماری دعائیں نہ قبول ہونے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے"لتامرون بالمعروف ولتنهون عن المنكر اوليسلطن الله عليكم شراركم فيدعوا خياركم فلا يستجاب لهم"
کہ تم ضرور نیکی کا حکم دوگے اور برائ سے روکو گے ورنہ اللہ تمہارے اوپر تمہارے بد ترین لوگوں کو مسلط کر دےگا پھر تمہارے اچھے لوگ دعا کریں گے تو ان کی دعا قبول نہیں ہوگی۔
قارئین کرام۔دعوت دین کا تقاضہ یہ ہے کہ اس فریضہ کو ہر قسم کے حالات میں حکمت و بصیرت کے ساتھ انجام دیا جائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکی دور میں جب حالات نہایت ہی ناسازگار تھے تب اس کام کو انجام دیا اور اس پر استقامت اختیار فرمائ اور کسی قسم کی مداہنت نہ کی۔جب کفار ومشرکین نےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت وتبلیغ سے روکنے کی کوششیں کی اس وقت آپ کی زبان سے جو الفاظ نکلے وہ سیرت نبوی کا درخشاں پہلو یہ ہے۔کہ اے لوگوں اگر تم میرے دائیں ہاتھ میں سورج اور بائیں ہاتھ میں چاند بھی لاکر رکھ دوگے تو بھی میں دعوت دین سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور صحابئہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا" قل هذه سبيلي ادعوا الى الله على بصيرة أنا و من اتبعنى "
آپ فرما دیجئےمیری راہ یہی ہے میں اور میرے متبعین اللہ کی طرف بلا رہے ہیں پورے یقین و اعتماد کے ساتھ۔اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں نہیں ہوں۔(یوسف:108)
اہل علم نے بصیرت کے تعلق سے تین باتیں لکھیں ہیں
(1)العلم قبل الدعوة.یعنی دعوت کا کام انجام دینے سے قبل زیور علم سے آراستہ ہونا پڑے گا ۔
(2)الین مع الدعوة.دعوت کے ساتھ نرم روی اختیار کرنا ہوگا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا"کہ اے بنی اگر آپ نرم نہ ہوتے تو صحابئہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تمہیں چھوڑ کر بھاگ جاتے"(ال عمران:159)
(3) الصبر بعد الدعوة۔ دعوت کی راہ میں صبر و ثبات سے کام لینا ہے۔
اگر مسلمان ان قرآنی آیات و احادیث پر عمل پیرا ہوتے تو یہ سارا خطہ مسلمانوں کا ہوتا اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ہندوستان میں حکومت دیا تھا ایک ہزار سال دیا تھا لیکن مسلمانوں نے بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کرنے میں اپنا وقت ضائع کر دیا۔اگر تاج محل و لال قلعہ قطب مینار نہ بنا کر ان اوقات اور ان دولت کو دین کی راہ پر صرف کرتا تو ہندوستان کے مسلمانوں کا مسئلہ کچھ اور ہوتا۔آج دعوت الی اللہ کی سخت ضرورت ہے اور اس کام سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ہمارے دین کے تعلق سے غیروں کے ذہنوں میں جو غلط فہمیاں بیٹھی ہوہی ہیں وہ ختم ہو سکتی ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ بہت سے برادران وطن گوشئہ اسلام میں پناہ لے کرشرک و بت پرستی سے تائب ہو جائیں۔
قارئین کرام۔آج ضرورت ہے"بلغوا عني ولو "پر عمل پیرا ہونے کی اور اپنے آپ کو خیر امت ہونے کا ثبوت فراہم کرنے کی اور"ادع الى سبيل ربك بالحكمة و الموعظة الحسنة و جادلهم بالتي هى احسن"کے مصداق بننے کی۔
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں التجا ہے کہ ہمیں دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دینے اور اسلامی تعلیمات کو عام کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین