Radde Batil Reaction

Radde Batil Reaction Radde Batil Reaction

ان شاء اللہ عزوجل آج 3:30 بجے رد باطل ریکشن یوٹیوب چینل پر پبلش ہوگی۔📱 *یوٹیوب YouTube چینل* https://youtube.com/?si=xpa...
14/06/2026

ان شاء اللہ عزوجل آج 3:30 بجے رد باطل ریکشن یوٹیوب چینل پر پبلش ہوگی۔

📱 *یوٹیوب YouTube چینل*
https://youtube.com/?si=xpaZxAFG1w5dAPoi

*🪀واٹس ایپ WhatsApp چینل ↶*
https://whatsapp.com/channel/0029Va9xUxb0G0XZ6zF6Jw46

🪙 *ٹیلی گرام Telegram چینل*
https://t.me/radde_batil_reaction

*📍فیس بُک FaceBook پیج ↶*
https://www.facebook.com/RaddeBatilReaction

♥️ 💐ㅤ 📩 📤
♥️ 💐ㅤ 📩 📤
ˡᶦᵏᵉ ᶠᵒˡˡᵒʷᵉʳ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ

♥️ 💐ㅤ 📩 📤
♥️ 💐ㅤ 📩 📤
ˡᶦᵏᵉ ᶠᵒˡˡᵒʷᵉʳ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ

> *ضربِ رمضانی بر جنید پاخانی* *نہیں تیرا نشیمن اہلِ عرفاں اہل ایماں میں**تو پاخانی ہے بسیرا کر غلاظت کے ٹھکانوں میں* حک...
13/06/2026

> *ضربِ رمضانی بر جنید پاخانی*

*نہیں تیرا نشیمن اہلِ عرفاں اہل ایماں میں*
*تو پاخانی ہے بسیرا کر غلاظت کے ٹھکانوں میں*

حکیم الامتِ دیابنہ وہابیہ اشرفعلی تھانوی نے ببانگِ دہل یہ اعلان کیا تھا کہ

” *سچ تو یہ ہے کہ ہمارے بزرگ ہم کو بگاڑ گئے* “ (ملفوظات)

یہی وجہ ہے کہ *دیو کے بندے* اتنے *بِگڑَیل* ہوتے ہیں۔ جس کا نمونہ یہ *دیو جنید پاخانی* (چونکہ یہ لوگ خنزیر بن کر پاخانہ کھاتے ہیں۔ امداد المشتاق) ہے۔

*قارئین کرام!* اتنی اچھل کود اور دجل و فریب کے بعد بھی دیو جنید پاخانی اپنے *شیخ الہنود* محمود الحسن کا دفاع کرنے میں ایک بار پھر ناکام و نامراد ہی رہا، اور کبھی یہ اصول، کبھی یہ حوالہ کبھی ادھر بھاگا کبھی ادھر بھاگا، پھر بھی *مکاری اور دجالی کے بغیر* اس دیو جنید پاخانی کا کام نہیں چلا، اگرچہ کامیاب پھر بھی نہ ہوا۔

قارئین کرام!
اس *دیو جنید پاخانی* کا خوف جو دو محقق اہلسنت علامہ طارق انور اور انجینئر تیمور قادری صاحبان کے نام سے ہے اس کا جب ہم نے ذکر کر دیا۔ تو کہتا ہے:
"اس بات پر جتنا ہنسا جائے کم ہے "
ظاہر ہے کہ ہماری *ضربات* سے اس پاخانی پر پاگل پن کا جو دورہ پڑا ہے اس کا اظہار زیادہ سے زیادہ ہنس کر ہی تو کرے گا؟ اس لیے ہنس لے جتنا ہنسا چاہے۔

اور *اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی تحقیق کا لوہا* تو دیو جنید پاخانی تمہارے علماء نے اپنی تحریر و تقریر میں کیا ہے اب تم اندھے نجدی اور بہرے دیو بن کر بیٹھ جاؤ تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟
اور تمہارے *ساجد خان کوڈو* کی جو بار بار درگت بنائی گئی اور بنائی جا رہی ہے اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اور تونے ساجد کوڈو کی جس کتاب کا نام لیا ہے اس کا جواب انجینئر تیمور قادری صاحب ” *ترجمان اسلام سیدہ اعلیٰ حضرت* “ نے زبردست طریقے سے دیا ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

رہی بات *معین الدین اجمیری* صاحب کی تو ان کے بارے میں خود تمہارے گھر کی کتاب میں لکھا ہے:
” *حضرت علامہ اجمیری کے اکابر دیوبند سے گہرے روابط تھے* “ (علماء دیوبند اور مشائخ پنجاب، ص30)
لہذا اس حوالے سے ان کا قول ہمارے خلاف پیش کرنا چہ معنی دارد؟

پھر اس کے بعد *قارئین کرام!* اس دیو پاخانی جنید نے اپنے *شیخ الہنود* محمود حسن کے دفاع میں جو چول ماری وہ دیدنی ہے۔ پہلی تحریر میں اس پاخانی نے ” رام “ کو پروردگار ثابت کرنے کی کوشش کی اور جب ہم نے اصل جملہ پر گرفت کی تو بے چارہ دیو جنید پاخانی *ماہیٔ بے آب کی طرح تڑپ کر رہ گیا*۔ بچنے کی جب کوئی راہ اس دیو کو نظر نہ آئی تو عجیب عجیب ہفوات بکنے لگا کبھی کہتا ہے:
مقصد عبارت پڑھیں۔
کبھی کہتا ہے :
دوسرے مرتبہ لفظ رام یہ *ٹائپنگ مسٹیک ہے* یا سرعت کلام کے سبب ہوا ہے۔

حالانکہ یہ *شیخ الہنود کو بچانے کی بچکانہ کوشش کے علاوہ کچھ نہیں،* کیونکہ آگے مزید ہاتھ پیر چلانے کے بعد یہی پاخانی جنید کہتا ہے :
*اگر یہ توجیہ نہ کریں اور لفظ رام رام (دو مرتبہ رکھے) تب بھی اللہ معنی درست ہے۔*
اور پھر آگے لکھا :
مشہور و معروف اردو *ڈیجیٹل لغت ریختہ* کا اسکرین شارٹ ذیل میں ملاحظہ کریں
*رام رام کرنا۔ اللہ اللہ کرنا۔*

بے چارے پاخانی! اپنے *شیخ الہنود* کو بچانے کے لیے ڈیجیٹل لغت تک دوڑ لگائی مگر بدنصیبی یہاں بھی اس کا پیچھا چھوڑنے کو تیار نہیں۔ کیونکہ اس کے شیخ الہنود نے ” رام رام کرنے “ کو اللہ اللہ نہیں بتایا۔۔ بلکہ یہ کہا کہ
*رام رام کے معنی اللہ کے ہیں*

حالانکہ ہم نے پہلے والی تحریر میں ثابت کیا تھا کہ *رام رام کے معنی اللہ* ہرگز نہیں ہوتا۔
جس کا جواب نہ تو اس *پاخانی دیو جنید* نے دیا ہے اور نہ ہی قیامت تک دے پائے گا۔ کیونکہ جہالت و غلاظت ہی اس کے شیخ الہنود نے ایسی پھیلائی ہے۔

*دیو جنید پاخانی!* تجھے اپنے شیخ الہنود محمود حسن کے اس قول کہ
*رام رام کے معنی اللہ کے ہیں*
یہ ثابت کرنا ہے۔ نہ کہ ” رام رام کرنا “ کیونکہ تیرا *شیخ الہنود* کا جملہ یہ نہیں، وہ ہے۔ اور اپنے شیخ الہنود کے قول کو صحیح ثابت تو کیا تیرے زندہ مردہ سارے دیو پاخانی مل کر بھی ناک رگڑ کر رہ جائیں گے تب بھی تاقیامت ثابت نہیں کر سکتے۔ دیدہ باید

اور پھر آئینہ میں اپنی جہالت دیکھ کر ہم پر جہل کا طعن کیا۔ لگتا ہے اس *دیو پاخانی جنید* کو اشرفعلی کا یہ قول یاد نہیں کہ اس نے خود کہا تھا :
” *میں اقرار کرتا ہوں کہ میں جاہل بلکہ اجہل ہوں* “ (اشرف السوانح، اول ص 69)
اب جس کا حکیم الامت *اجہل* ہو *بگڑا ہوا* ہو اس کے *چوزے* اپنی اجہلیت اور بگڑیل پن کو کسی نہ کسی طرح ظاہر نہ کریں گے تو پھر اور کیا کریں گے؟
(واضح رہے کہ اس اجہل اور بگڑیل دیو جنید پاخانی نے اپنی تحریر میں کئی الفاظ غلط لکھے ہیں، مثلاً ۔۔گول۔۔ کو *غول* اور ۔۔خجالت۔۔ کو *خذالت* لکھا ہے)

اس بگڑیل دیو جنید پاخانی نے *ملفوظات* کے متعلق دو حوالے اپنی تحریر میں پیش کیے جس کا جواب یہ ہے کہ یہ حوالے تم دیو کے بندوں پاخانیوں کے لیے مفید نہیں کیونکہ تمہارے بگڑے ہوئے اجہل الامت اشرفعلی کے ملفوظات کے متعلق دارالعلوم دیوبند کے آن لائن فتویٰ میں صاف لکھا ہوا ہے کہ
” *حضرت حکیم الامت کے ملفوظات سے خود حضرت والا کی نظر وملاحظہ کے بعد یا ان کے معتمد ومستند مقرر کردہ علمائے کرام کو ملاحظہ کے بعد طبع ہوئے ہیں۔* “ (اسکرین شارٹ محفوظ ہیں)
لہذا *ملفوظات اجہل الامت* میں نہ تو *ٹائپنگ مسٹیک* ہے، نہ ہی اسے دیوبندی غیر معتبر کہہ سکتے ہیں۔ اور یوں ” *رام رام کے معنی اللہ کے ہیں* “ اسے یہ بگڑیل دیو جنید پاخانی درست ثابت نہ کر سکا۔ کیونکہ پہلی بار تو اس نے صرف ” *رام* “ کے معنی لغت سے دکھایا اور جب ہم نے گرفت کی تو دوسری بار بھی دجالی کرتے ہوئے ” رام رام کرنا “ کے معنی دکھایا، حالانکہ *شیخ الہنود* نے ایسا نہیں کہا، اس نے تو یہ کہا کہ
*رام رام کے معنی اللہ کے ہیں* ۔
لہذا ” رام رام کے معنی اللہ “ دکھانا زندہ مردہ تمام دیو *پاخانیوں کی ذمہ داری ہے۔*

اس کے بعد پاخانی جنید دیو نے ایک غیر معتبر کتاب” نغمۃ الروح “ کے متلعق لکھا اور ” برق آسمانی “ میں اس کا دفاع کیا گیا ہے، یہ بتا کر لکھا :
پہلے آپس میں بیٹھ کر طے کر لو معتبر ہے یا نہیں

جواباً عرض ہے: کہ اس طرح تو تمہارے باطل دھرم دیوبندیت کے عقیدے کی کتاب ” تفویۃ الایمان “ جس نے مسلمانوں کو لڑوا کر دو گروہ میں تقسیم کر دیا، اسی کتاب کو تمہارے ہی علماء اسماعیل دہلوی کی کتاب ہونے کا انکار بھی کرتے ہیں اور اقرار بھی۔ تو اس پر تم دیو پاخانی لوگ کب طے کروگے؟ کہ
*کس کی بات صحیح ہے اور کس کی غلط؟ جو تمہارا جواب وہی ہماری طرف سے بھی سمجھ لو۔*

رہا *عبارات اکابر کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ* کا حوالہ تو جنید پاخانی تم نے اپنے گھر میں جھانک لیا ہوتا تو تجھے نظر آتا کہ تمہارے فقیہ الامت محمود حسن گنگوہی سے مذکورہ کتاب سے تین اشعار لکھ کر اس کے متعلق سوال کیا گیا تو جواب میں تفصیل کے بعد بالآخر لکھا کہ
” *الحاصل ان اشعار کی وجہ سے اس شاعر پر کفر کا فتویٰ نہیں دیا جا* “ (فتاویٰ محمودیہ، دوم، ص 446)
لو پاخانی جنید! تیرے سارے کیے کرائے پر پانی پھیر دیا تمہارے ہی فقیہ الامت نے۔

اس کے علاوہ اپنے مفتی عمیر قاسمی کا یہ فرمان بھی دیکھ لو، لکھتا ہے:
” *یہاں جو بات ہے وہ بعض کی ہے اور بعض جو ہوتے ہیں وہ قلیل ہوتے ہیں اور القلیل کالمعدوم لہذا ان کا کوئی اعتبار نہیں۔* “ (فضل خداوندی، ص 229)

اس کے بعد ہم نے اس پاخانی جنید دیو کو اس کے اعلیٰ حضرت کی کتاب ” کلیات امدادیہ “ کا آئینہ دکھایا کہ
” *ظاہر میں بندہ اور باطن میں خدا ہو جاتا ہے* “
اور یہ بھی سوال کیا کہ
*اس وقت دیوبندیت میں ایسے کتنے لوگ ہیں جو ظاہر میں بندہ اور باطن میں خدا ہو جاتا ہیں؟*

لیکن اس کا جواب اس *پاخانی جنید نے نہیں دیا، شیر مادر سمجھ کر ہضم کر لیا* ۔ لیکن اب اس کا جواب ضرور دے کہ عہد حاضر میں *ایسے کتنے دیو پاخانی ہیں جو ظاہر میں بندہ اور باطن میں خدا؟*

پھر اس کے بعد ” *حدیث دلبراں* “ نامی کتاب کا ایک واقعہ نقل کیا جس میں کسی بوٹامل نے حضرت صاحب سے لپٹ کر کہا کہ
یہ ہے رب، یہ ہے رب میں نے تو ڈھونڈ لیا۔

حالانکہ اس *پاخانی دیو جنید* کے *مفتی نعیم* اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ
” *اہل سنت والجماعت فرماتے ہیں : عربی میں رب کا ترجمہ اردو میں مالک اور صاحب کے ہیں* “ (ادیان باطلہ اور صراط مستقیم، ص 486)
لہذا ” حدیث دلبراں “ میں رب سے مراد صاحب یا مالک ہے۔
یا، *جنید پاخانی* تونے اپنے پسندیدہ لغت *ریختہ* میں ہی دیکھ لیا ہوتا کہ *رب کے معنی کیا ہے* تو یوں ذلیل نہ ہوتا۔
رب: پالنے یا پرورش کرنے والا (ریختہ)
اور فیروز اللغات دیکھو
رب: (1) پالنے والا، پروردگار (2) مالک، صاحب

المختصر یہ کہ یہاں بھی اس دیو جنید پاخانی کی کوشش ناکام و نامراد ہوکر رہ گئی

نیز عمیر قاسمی کا حوالہ اوپر گزر چکا کہ
” *یہاں جو بات ہے وہ بعض کی ہے اور بعض جو ہوتے ہیں وہ قلیل ہوتے ہیں اور القلیل کالمعدوم لہذا ان کا کوئی اعتبار نہیں۔* “ (فضل خداوندی، ص 229)

لہذا اپنے گھر کے اصول سے ناقابلِ اعتبار باتوں پر اعتراض کرکے دیو جنید پاخانی اپنے بدفہم ہونے کا اظہار نہ کرے۔ اور ہماری توجیہہ کو قبول کرے۔ کیونکہ ان پاخانیوں کے گھر کا اصول ہے کہ:
” *کوئی شخص اپنی بات کی کوئی اچھی توجیہہ اختیار کرے اور برے احتمال کی واشگاف الفاظ میں تردید کرے تو اس کے عذر کو قبول نہ کرنا اور خواہ مخواہ اس پر کفر کے معنی چسپاں کرنا اچھے اور شریف لوگوں کا کام نہیں۔* “ (مطالعۂ بریلویت،اول 275)

اب دیو جنید پاخانی کی اپنی مرضی ہے کہ وہ اپنی حقیقت واضح کر دے۔ یا اپنی حقیقت چھپا لے۔ 😁

از قلم: *رمضان رضا ماتریدی*
13 جون 2026

📱 *یوٹیوب YouTube چینل*
https://youtube.com/?si=xpaZxAFG1w5dAPoi

*🪀واٹس ایپ WhatsApp چینل ↶*
https://whatsapp.com/channel/0029Va9xUxb0G0XZ6zF6Jw46

🪙 *ٹیلی گرام Telegram چینل*
https://t.me/radde_batil_reaction

*📍فیس بُک FaceBook پیج ↶*
https://www.facebook.com/RaddeBatilReaction

♥️ 💐ㅤ 📩 📤
♥️ 💐ㅤ 📩 📤
ˡᶦᵏᵉ ᶠᵒˡˡᵒʷᵉʳ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ

> *کیا ” رام رام “ کے معنی اللہ ہے؟ ایک دیو کے مکر وفریب یا جہالت بھری تحریر کا جائزہ* دیوبندی ہند و پاک کے دو محققِ عصر...
11/06/2026

> *کیا ” رام رام “ کے معنی اللہ ہے؟ ایک دیو کے مکر وفریب یا جہالت بھری تحریر کا جائزہ*

دیوبندی ہند و پاک کے دو محققِ عصر حضرت علامہ طارق انور مصباحی صاحب اور انجینئر تیمور قادری صاحب سے ان کی تحقیقات سے کتنے خوف زدہ ہیں جنید دیو کی تحریر سے واضح ہے۔ اور ان کی گھبراہٹ کا عالم یہ ہے کہ بات کو سمجھے بغیر ہی جو جی میں آیا جواب کے نام پر لکھ مارا۔

شیخ الہنود محمود الحسن نے اپنی جے جے کارے پر کہا کہ
” *رام رام کیا کرو اس لیے کہ رام رام کے معنی اللہ کے ہیں* “ (دفاع اہل السنّۃ والجماعۃ، دوم ص 366)

اس پر کسی صاحب نے دنیا بھر کے دیو کو چیلنج دیا کہ

” *لغت کی کون سی کتاب میں رام رام کے معنی اللہ کے ہیں؟ دکھائے ورنہ دیوبندیت پر لعنت* “

اب اس کا جواب دنیا کے کسی بھی دیو کے پاس تو تھا نہیں، اس لیے اپنے اکابر کے نقش قدم پر چلنے علاوہ اور کوئی چارہ دیو کے پاس نہ تھا، اس لیے *جنید* نام کا ایک دیو اٹھا اور دجل و مکر کا یا اپنی جہالت کا ایسا ننگا ناچ دکھایا کہ کیا ہی کہا جائے۔ اس نے کیا یہ کہ جھٹ سے ” فیروز اللغات “ میں ” *رام* “ کے معنی *پرمیشور، پروردگار* لکھا ہوا دکھا کر اندھوں میں کانا راجا بن کر اچھلنے لگا یہ کہہ کر کہ تمہارے نزدیک
” *پروردگار اللہ ہی ہے یا کوئی اور ہے؟* “

حالانکہ قارئین! شیخ الہنود محمود الحسن نے صرف *رام* نہیں، بلکہ ” *رام رام* “ کے معنی *اللہ* بتایا ہے۔

اور آپ دیکھیں گے تو *چیلنج* میں بھی لغت سے ” *رام رام* “ ہی کے معنی *اللہ* دکھانے کہا گیا ہے نہ کہ ” *رام* “ کے۔ (یعنی رام کا لفظ ایک بار نہیں بلکہ دو بار ہے)

قارئین کرام! اب جب آپ *فیروز اللغات* میں ” *رام رام* “ کے معنی دیکھیں گے تو ہرگز بھی *پروردگار* یا *پرمیشور* نہیں ہے۔ تو پھر اور کیا ہے؟ یہ آپ خود ملاحظہ فرمائیں

*رام رام:* (1) ہندوؤں کا باہمی سلام (2) صاحب سلامت (3) توبہ توبہ

جبھی تو کہا گیا ہے کہ
*خدا جب دین لیتا ہے تو عقلیں چھین لیتا ہے*
جیساکہ دیوبندیوں وہابیوں سے عقلیں چھین لی گئی ہیں۔

مطلب *چیلنج* اب بھی اپنی جگہ *بدستور* اٹل ہے۔ لہٰذا اب دیکھنا یہ ہے کہ جنید دیو آگے اس کا کیا جواب لاتا ہے۔
اور رہی بات ” *نغمۃ الروح* “ نامی کتاب کے اس مصرع کی۔کہ
تیرا اور سب کا خدا احمد رضا

تو اول تو یہ کتاب ہی غیر معتبر ہے۔ اور بالفرض یہ معتبر ہو بھی تو *فن شاعری* کے ماہرین پر واضح ہے کہ مذکورہ مصرعے میں لفظِ ” خدا “ *قافیہ* اور ” احمد رضا “ *ردیف* ہے۔ نیز شاعر نے اس شعر میں *اعلیٰ حضرت* علیہ الرحمہ کو *خدا* نہیں کہا بلکہ آپ کو خطاب کرکے
*خدا آپ کی نسل میں آپ کا ہم رتبہ پیدا فرمائے،* یہ کہا ہے۔

مگر ہر شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ جو دیو اپنے شیخ الہنود کی عام بات کو سمجھنے کی اہلیت نہ رکھتا ہو، وہ بھلا شاعر کے کلام کو کیا خاک سمجھ پائے گا؟
علاوہ ازیں اس دیو جنید کو چاہیے کہ اپنے گھر کی کتاب ” *سیف یمانی* “ میں اشعار کے متعلق تمہارے دیوبندی مولوی نے جو لکھا ہے وہ پڑھ کر اپنے جہل کا علاج کر لو۔

*لیکن قارئین* ! اس محرر دیو جنید کو اپنے گھر کا علم ہی نہیں ہے کہ اس کے یہاں تو لوگ
” ظاہر میں بندہ اور باطن میں خدا ہو جاتا ہے “ (کلیات امدادیہ، ص 36)

مگر کب اور کیسے؟ یہ راز جنید دیو ہی کھولے تو بہتر رہے گا۔ ساتھ ہی یہ بھی بتا دیں کہ *اس وقت دیوبندیت* میں ایسے کتنے لوگ ہیں جو
*ظاہر میں تو بندہ مگر باطن میں خدا ہیں*

ــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــــــ

از قلم: ✍️ *رمضان رضا ماتریدی*

📱 *یوٹیوب YouTube چینل*
https://youtube.com/?si=xpaZxAFG1w5dAPoi

*🪀واٹس ایپ WhatsApp چینل ↶*
https://whatsapp.com/channel/0029Va9xUxb0G0XZ6zF6Jw46

🪙 *ٹیلی گرام Telegram چینل*
https://t.me/radde_batil_reaction

*📍فیس بُک FaceBook پیج ↶*
https://www.facebook.com/RaddeBatilReaction

♥️ 💐ㅤ 📩 📤
♥️ 💐ㅤ 📩 📤
ˡᶦᵏᵉ ᶠᵒˡˡᵒʷᵉʳ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ

*بر وقت ایک اور دھماکہ 🔥💥 جم کر Share کریں*
25/04/2026

*بر وقت ایک اور دھماکہ 🔥💥 جم کر Share کریں*

دیوبندیوں کے مشہور و معروف مولوی، سلیم اللہ خان دیوبندیوں کی حقیقت اجاگر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: > *” جدیدیت کا فتنہ ہم پر ...
27/02/2026

دیوبندیوں کے مشہور و معروف مولوی، سلیم اللہ خان دیوبندیوں کی حقیقت اجاگر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

> *” جدیدیت کا فتنہ ہم پر مسلط ہے، یہ سارا فساد اسی وجہ سے ہے، ہم نے اکابر و اسلاف سے بے نیاز ہو کر ” نیا دین “ ایجاد کرنا اپنا وطیرہ بنایا ہوا ہے۔ “*

(ماہنامہ الشریعہ، خصوصی اشاعت، جون 2014، ص 147)

*Follow the Radde Batil Reaction channel on WhatsApp⬇️:*
https://whatsapp.com/channel/0029Va9xUxb0G0XZ6zF6Jw46



دیوبندیوں کے مفتی سلمان منصور پوری ” ضروری تنبیہ “ کے تحت لکھتے ہیں: ” شرعی طور پر یہ ضروری نہیں ہے کہ پورے ملک میں ایک ...
22/02/2026

دیوبندیوں کے مفتی سلمان منصور پوری ” ضروری تنبیہ “ کے تحت لکھتے ہیں:
” شرعی طور پر یہ ضروری نہیں ہے کہ پورے ملک میں ایک ہی دن سے رمضان شروع ہو یا ایک ہی دن عید ہو بلکہ مہینہ کی ابتدا و انتہا کا مدار چاند دیکھنے اور اس کی گواہی دینے کے شرعی ضابطوں پر ہے۔ “
(کتاب المسائل، جلد دوم، ص 131)
لہذا دیوبندیوں بالخصوص امتیاز پلاموی کو چاہیے کہ اپنے مفتی کی تنبیہ کو سامنے رکھ کر لب کشائی کرے۔



  🩸💔تبلیغی مرکز کے سابق امام جنہوں نے بچپن، جوانی اور بڑھاپا تبلیغ میں گزارا وہ کہتے ہیں:” جن خلافِ شریعت باتوں کی آج تب...
21/02/2026

🩸💔

تبلیغی مرکز کے سابق امام جنہوں نے بچپن، جوانی اور بڑھاپا تبلیغ میں گزارا وہ کہتے ہیں:

” جن خلافِ شریعت باتوں کی آج تبلیغ ہو رہی ہے اگر یہ باتیں دوسرے مسلک کے لوگ کرتے تو کب کے ہمارے علماء حضرات نے کفر کا فتویٰ دے دیا ہوتا مگر ان تبلیغیوں کو اپنا سمجھ کر یہ خاموش ہیں “
(سنگین فتنہ، 56)

اب بھی اگر آپ علماء دیوبند کو دیانت دار اور عادل و منصف سمجھتے ہیں، تو یاد رکھیں! آپ اندھ بھکتی میں اپنی مثال آپ ہیں۔



ہوا میں اڑنے والے بزرگ 🪂 دیوبندیوں کے شیخ الحدیث زکریا کاندھلوی ” خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ “ کے متعلق لکھتے ہیں: ...
19/02/2026

ہوا میں اڑنے والے بزرگ 🪂
دیوبندیوں کے شیخ الحدیث زکریا کاندھلوی ” خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ “ کے متعلق لکھتے ہیں:
” آپ کو طی الارض بھی حاصل تھا، چنانچہ جب طواف کو دل چاہتا تھا ہَوا کے ذریعہ سے مکہ مکرمہ پہنچ جاتے تھے “
(تاریخ مشائخ چشت، ص ۱۵۹)
لہذا دیوبندیوں کو چاہیے کہ غیر مقلدین کی طرح اولیاء اللہ پر اعتراض کرنے سے پہلے اپنے گھر میں جھانک لیا کریں۔






رمضان کریم مبارک......
18/02/2026

رمضان کریم مبارک......




Address

Malegaon
423203

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Radde Batil Reaction posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share