MSO UP

Call Directions

MSO UP Muslim Students Organisation of India (MSO) is an apex and largest body of Muslims students (Sunni Sufi) in India.

It works for community development, nation building, Career guidance and anti terrorism.

04/10/2026

MY INDIA MY RESPONSIBILITY - 4.mp4

MSO Bihar MSO Girl's Wing MSO Kaushambi MSO West Bengal

*🌙  Mehfil mein sabhi behne  zaroor shirkat farmaye 🌙**✨ Mahfil-e-Noor-e-Imaan — dil ko roshan karne wali mehfil*📅  *(Th...
02/10/2026

*🌙 Mehfil mein sabhi behne zaroor shirkat farmaye 🌙*

*✨ Mahfil-e-Noor-e-Imaan — dil ko roshan karne wali mehfil*

📅 *(Thursday) | ⏰ 9:00–10:00 PM*

🕌 *Topic: Fahm E Deen*
🎙️. *Aalima Fazila Zeba Fatima(Moradabad)*
*🔗 Google meet*

Zikr-o-Durood ki barkat, roohani sukoon aur Allah ki qurbat ke liye aaj humare saath judiyega.

Sirf behnon ke liye. 💙

_*Join MSO Girl's Wing*_
*(Noor E Durood O Azkar Group)*

Come, nourish your soul, and light up your heart with divine remembrance.
*All sisters are cordially invited! 🌹*

02/10/2026

MY INDIA MY RESPONSIBILITY - 3.mp4

MSO – Research Scholars’ MeetThe Research Scholars’ Meet aims to provide research scholars with a national-level platfor...
01/10/2026

MSO – Research Scholars’ Meet

The Research Scholars’ Meet aims to provide research scholars with a national-level platform to exchange ideas, collaborate, and contribute to meaningful academic discourse. The initiative seeks to encourage scholarly writings and publications while promoting the positive representation of the Ahle Sunnat wal Jamaat narrative through media and social media.

Objectives:

1. To create a national network of research scholars from diverse universities and academic disciplines.
2. To encourage research-based writings, articles, journals, and publications on contemporary issues.
3. To promote positive, fact-based, and intellectual representation of Ahle Sunnat wal Jamaat in mainstream and digital media.

📅 Date: Sunday, 4th October 2026
⏰ Time: 7:00 PM
🍽️ Dinner: Followed by Dinner

📝 Registration Form:
https://forms.gle/JQJ6ZiM7ivYGJQjB7

📍 Venue:
G 28 FF, Hazrat Nizamuddin West, New Delhi

📌 GPS Location:
https://maps.app.goo.gl/GnUH17yUk2Kw5F5PA?g_st=aw

📞 For More Information:
+91 97073 19501
Tahzeeb Khan Misbahi

خطبہ جمعہسلسلہ خطبات - 123عنوان*ایمان و عمل کی قوت کے مطابق قدرتی آزمائش* جامع و مرتبمولانا محمد ظفر الدین برکاتیمدیر ما...
01/10/2026

خطبہ جمعہ
سلسلہ خطبات - 123

عنوان
*ایمان و عمل کی قوت کے مطابق قدرتی آزمائش*

جامع و مرتب
مولانا محمد ظفر الدین برکاتی
مدیر ماہ نامہ کنز الایمان دہلی

پیش کش
کل ہند امام فاؤنڈیشن دہلی
Contact No: 8595509193
Telegram Link: https://t.me/MarkaziImam

نوٹ : امام صاحبان مقامی ضرورت اور حالات کے مطابق تقریر کا مواد خود تیار کریں، وقت کی نزاکت کو نظر انداز نہ کریں.

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ. (سورہ عنکبوت آیت 2)
ترجمہ :
کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھاہے کہ انہیں صرف اتنی سی بات پر چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ کہتے ہیں ہم ’’ ایمان لائے‘‘ اور انہیں آزمایا نہیں جائے گا؟
حضرات متحرم تلاوت کردہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ انہیں صرف اتنی سی بات پر چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم ’’ایمان لائے‘‘ اور انہیں شدید تکالیف ، مختلف اَقسام کے مَصائب ، عبادات کے ذوق، شہوات کو ترک کرنے اور جان و مال میں طرح طرح کی مشکلات سے آزمایا نہیں جائے گا؟ یاد رکھیں کہ انہیں ضرور آزمایا جائے گا تاکہ اُن کے ایمان کی حقیقت خوب ظاہر ہو جائے اور مخلص مومن اور منافق میں امتیاز ظاہر ہو جائے۔
برادران گرامی! آج کے حالات اور مسلمانوں کی موجودہ صورت حال کو دیکھیں اور پھر ایک مرتبہ اس آیت کا ترجمہ پڑھیں پھر اندازہ کریں کہ ہم آزمائش سے کس قدر شکوہ کرتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ یہ سب نظام قدرت کا حصہ ہے. اب آیت کا شان نزول ملاحظہ فرمائیں :
(1) یہ آیت اُن حضرات کے بارے میں نازل ہوئی جو اسلام کا اقرار کرنے کے باوجود مکہ مکرمہ میں تھے ، صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ عَنْہُمْ نے اُنہیں لکھا کہ جب تک ہجرت نہ کر لو اس وقت تک محض اقرار کافی نہیں ، اس پر اُن صحابہ ٔکرام نے مکہ مکرمہ سے ہجرت کی اور مدینہ منورہ جانے کے ارادے سے روانہ ہوئے، مشرکین اُن کے پیچھے لگ گئے اور اُن سے لڑائی کی ، ان میں سے بعض حضرات شہید ہو گئے اور بعض بچ کر مدینہ منورہ آئے، اُن کے حق میں یہ دو آیتیں نازل ہوئیں ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں سے مراد سلمہ بن ہشام ، عیاش بن ابی ربیعہ ، ولید بن ولید اور عمار بن یاسر وغیرہ ہیں جو مکہ مکرمہ میں ایمان لائے۔
(2) یہ آیتیں حضرت عمار رَضِیَ اللہ عَنْہُ کے حق میں نازل ہوئیں جو اللہ کی عبادت کرنے کی وجہ سے ستائے جاتے اور کفار انہیں سخت ایذائیں پہنچاتے تھے۔
(3) یہ آیتیں حضرت عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہ عَنْہُ کے غلام حضرت مہجع بن عبد اللہ رَضِیَ اللہ عَنْہُ کے حق میں نازل ہوئیں ، یہ بدر میں سب سے پہلے شہید ہوئے اورسرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ ’’مہجع شہداء کے سردار ہیں اور اس اُمت میں سے جنت کے دروازے کی طرف پہلے وہ پکارے جائیں گے۔‘‘ ان کے والدین اور اُن کی بیوی کو ان کی شہادت کا بہت صدمہ ہوا تو اللہ نے یہ آیت نازل کی پھر ان کی تسلی فرمائی۔( تفسیر مدارک، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۲، ص۸۸۴)
*ایمانی قوت کے حساب سے آزمائش*
معلوم ہوا کہ مسلمانوں کا ان کی ایمانی قوت کے مطابق امتحان لینا ، اللہ کا قانون ہے ۔ بیماری، ناداری، غربت، مصیبت، یہ سب رب تعالیٰ کی طرف سے آنے والی آزمائشیں ہیں جن سے مخلص اور منافق ممتاز ہو جاتے ہیں ۔یہاں آزمائشوں سے متعلق دو اَحادیث ملاحظہ ہوں:
(1)حضرت انس رَضِیَ اللہ عَنْہُ سے روایت ہے ، سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: بڑا ثواب ، بڑی مصیبت کے ساتھ ہے اور جب اللہ کسی قوم سے محبت فرماتا ہے تو انہیں آزمائش میں مبتلا کرتا ہے، پس جو اس پر راضی ہوا اس کے لئے اللہ کی رضا ہے اور جو ناراض ہوا اس کے لئے ناراضگی ہے۔ ( سنن ترمذی، کتاب الزہد، باب ما جاء فی الصبر علی البلاء، ۴ / ۱۷۸، الحدیث: ۲۴۰۴)
(2) حضرت سعد رَضِیَ اللہ عَنْہُ فرماتے ہیں، میں نے عرض کیا : یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ، لوگوں میں سب سے زیادہ سخت آزمائش کس کی ہوتی ہے؟ آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کی پھر درجہ بدرجہ مُقَرَّب بندوں کی، آدمی کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے، اگر دین میں مضبوط ہو تو سخت آزمائش ہوتی ہے اور اگر دین میں کمزور ہو تو اس کے دین کے حساب سے آزمائش کی جاتی ہے۔ بندے کے ساتھ یہ آزمائشیں ہمیشہ رہتی ہیں یہاں تک کہ وہ زمین پر اس طرح چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔(سنن ترمذی، کتاب الزہد، باب ما جاء فی الصبر علی البلاء، ۴ / ۱۷۹، الحدیث: ۲۴۰۶)

*اگلی آیت*
وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ. (سورہ عنکبوت آیت 3)
ترجمہ : بیشک ہم نے ان سے پہلے لوگوں کو آزمایا تو ضرور الله انہیں دیکھے گا جو سچے ہیں اور ضرور جھوٹوں کو (بھی) دیکھے گا۔
*دوسری آیت کا مفہوم*
رب العالمین نے ارشاد فرمایا کہ بیشک ہم نے اس امت سے پہلے لوگوں کو بھی طرح طرح کی آزمائشوں میں ڈالا لیکن وہ صدق و وفا کے مقام میں ثابت اور قائم رہے تو یقیناً اللہ تعالیٰ انہیں دیکھے گا جو اپنے ایمان میں سچے ہیں اور یقیناً ایمان میں جھوٹوں کو بھی دیکھے گا اور ان میں سے ہر ایک کا حال ظاہر فرما دے گا۔( تفسیر مدارک، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۳، ص۸۸۴-۴۸۵)
*مصیبتوں پر صبر کی ترغیب*
معلوم ہوا کہ تمام امتوں میں کئی حکمتوں اور مَصلحتوں کے پیش ِنظر اللہ کا یہ طریقہ جاری رہا ہے کہ وہ ایمان والوں کو آزمائشوں میں مبتلا فرماتا ہے، لہٰذا اس کے برخلاف ہونے کی توقّع رکھنا جائز نہیں اور یاد رہے کہ اس امت سے پہلے لوگوں پر انتہائی سخت آزمائشیں اور مصیبتیں آئی ہیں لیکن پہلے لوگوں نے ان مصیبتوں اور آزمائشوں پر صبر کیا اور اپنے دین پر اِستقامت کے ساتھ قائم رہے، یونہی ہم پر بھی آزمائشیں اور مصیبتیں آئیں گی تو ہمیں بھی چاہئے کہ سابقہ لوگوں کی طرح صبر و ہمت سے کام لیں اور اپنے دین کے احکام پر مضبوطی سے عمل کرتے رہیں۔ اسی سے متعلق دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ. (سورہ بقرہ:۲۱۴)
ترجمہ :
کیا تمہارا یہ گمان ہے کہ جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ ابھی تم پر پہلے لوگوں جیسی حالت نہ آئی۔ انہیں سختی اور شدت پہنچی اور انہیں زور سے ہلا ڈالا گیا یہاں تک کہ رسول اور اس کے ساتھ ایمان والے کہہ اُٹھے: اللہ کی مدد کب آئے گی؟ سن لو! بیشک اللہ کی مدد قریب ہے۔

اسی ایک مقام پر ارشاد فرماتا ہے:

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌ فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْا وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ. (سورہ اٰل عمران:۱۴۶)
ترجمہ :
کتنے ہی انبیاء نے جہاد کیا، ان کے ساتھ بہت سے اللہ والے تھے تو انہوں نے اللہ کی راہ میں پہنچنے والی تکلیفوں کی وجہ سے نہ تو ہمت ہاری اور نہ کمزوری دِکھائی اور نہ (دوسروں سے) دبے اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔

*پیغام ہدایت*
ابتدائی آیت میں صرف آزمائش کا تذکرہ ہے اور دوسری آیت میں آزمائش پر صبر کا تذکرہ اور ابھی تلاوت کردہ دونوں آیتوں میں خاص پیغام اور ہدایت ہے کہ مومن کو آزمائش پر صبر بھی کرنا چاہیے اور حالات کو بدلنے کی تدبیر بھی کرنا چاہیے اور ظالموں سے دبنے کی غلطی نہیں کرنا چاہیے کیونکہ جو قوم سیاسی سماجی اور معاشی آزمائش کے وقت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ جاتی ہے اور حالات کو اپنے موافق بدلنے کی تدبیر نہیں کرتی وہ کمزور ہو جاتی ہے اور دوسری قومیں اس کو دبا دیتی ہیں جس سے اس کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے اور پھر دین، ایمان، عقل، عزت و آبرو سب کچھ خطرے میں پڑ جاتے ہیں.
*ایک ایمان افروز واقعہ*
صحیح بخاری شریف میں ہے، حضرت خباب بن الارت رَضِیَ اللہ عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ایک روز نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ کعبہ شریف کے سائے میں اپنی چادر سے تکیہ لگائے تشریف فرما تھے کہ ہم نے حاضر ِخدمت ہو کر عرض کیا ، یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ، (ہم پر مصائب کی حد ہو گئی) ، آپ اللہ سے ہمارے لئے مدد کیوں طلب نہیں فرماتے اور اللہ سے ہمارے لئے دعا کیوں نہیں فرماتے؟ تاج دارِ رسالت صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: (یہ مصیبتیں صرف تم ہی برداشت نہیں کر رہے ہو بلکہ) تم سے پہلے لوگوں میں سے کسی شخص کے لئے گڑھا کھودا جاتا پھر اس گڑھے میں اسے کمر تک گاڑ دیتے پھر آری لا کر اس کے سر پر چلائی جاتی اور کاٹ کر اس کے دو حصے کر دئیے جاتے، بعض پر لوہے کی کنگھیاں چلائی جاتیں جن سے ان کے گوشت اور ہڈیوں کو اکھیڑ کر رکھ دیا جاتا، اس کے باوجود وہ مومن اپنے دین پر ثابت قدم رہے، اللہ کی قسم !یہ دین مکمل ہو کر رہے گا، یہاں تک کہ اگر کوئی سوار صنعا سے حَضْر مَوت تک سفر کرے گا تو اسے اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ ہوگا اور نہ اپنی بکریوں پر بھیڑیے کا خوف ہوگا لیکن تم جلد بازی سے کام لیتے ہو۔( صحیح بخاری، کتاب المناقب، باب علامات النبوّۃ فی الاسلام، ۲ / ۵۰۳، الحدیث: ۳۶۱۲)
*اپنے حق میں دعائیں کریں*
کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صحت و عافیت عطا فرمائے اور اگر مَصائب و آلام آئیں تو ان پر صبر کرنے اور دین ِاسلام کے احکام پر مضبوطی سے عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے. اٰمین۔

*پیغام عمل*

جس قوم کے فقیروں اور غریبوں کے پاس رہنے کے لئے مکانات نہ ہوں .....اور وہاں جلسہ اور جلوس میں لاکھوں روپئے صرف ہوتے ہوں، کیا وہ قوم ترقی کرسکتی ہے؟ جس قوم میں پڑوس کی بیٹی کنواری بیٹھی ہو اور بیواؤں اور یتیموں کے لئے کوئی نظم نہ ہو لیکن قوم کے دولت مند لوگ عمرہ پر عمرہ کر رہے ہوں کیا وہ قوم ترقی کر سکتی ہے؟ جس قوم کے غریب بیماروں کے پاس علاج کا کوئی بندوبست نہ ہو اور قوم کے ڈاکٹروں کی فیس غیر قوم کے ڈاکٹروں سے
زیادہ ہو. کیا وہ قوم ترقی کر سکتی ہے؟ جس قوم کے ہونہار نوجوان بے روزگاری کے شکار ہوں اور قوم کے مال دار لوگ اپنے محلّات سجانے اور سنوارنے میں لگے ہوں کیا وہ قوم ترقی کر سکتی ہے؟ جس قوم کے لوگ اپنے امام اور مؤذن کا حق المحنت نہ ادا کرتے ہوں اور مسجدیں سنگ مرمر سے سجائی جا رہی ہوں. کیا وہ قوم ترقی کر سکتی ہے؟

ایسے ڈھیروں سوال ہیں جو ہم اور آپ اپنے آپ سے کر سکتے ہیں اور اپنی سیاسی سماجی حیثیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں. ساتھ ہی یہ غور و فکر بھی کر سکتے ہیں کہ کیا آزمائش اور ایثار کے بغیر ہمارا سماج آگے بڑھ سکتا ہے؟

30/09/2026

1 MY INDIA MY RESPONSIBILITY.mp4

रसूलुल्लाह ﷺ ने फ़रमाया:-क़यामत के दिन मेरे सबसे क़रीब वह व्यक्ति होगा, जो मुझ पर सबसे ज़्यादा दरूद भेजता होगा।जामे तिर्...
29/09/2026

रसूलुल्लाह ﷺ ने फ़रमाया:-

क़यामत के दिन मेरे सबसे क़रीब वह व्यक्ति होगा, जो मुझ पर सबसे ज़्यादा दरूद भेजता होगा।

जामे तिर्मिज़ी:484

علمائے دہلی و اطراف کی خصوصی فکری نشست،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ملی ذمہ داریوں پر تبادلۂ خیال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نئی دہلی، 27 س...
29/09/2026

علمائے دہلی و اطراف کی خصوصی فکری نشست،۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ملی ذمہ داریوں پر تبادلۂ خیال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نئی دہلی، 27 ستمبر: مسلم یوتھ آرگنائزیشن آف انڈیا کے زیرِ اہتمام ضامن المساجد، باؤلی گیٹ، درگاہ حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے قریب علمائے دہلی و اطراف کی خصوصی فکری و مشاورتی نشست منعقد ہوئی، جس میں متعدد علمائے کرام اور دینی شخصیات نے شرکت کی۔
نشست میں دین و ملت اور مسلم سماج کی اصلاح و فلاح، دین کی مؤثر ترجمانی، علماء کی موجودہ دور میں ذمہ داریوں اور نوجوان نسل کی دینی و فکری رہنمائی کے موضوعات پر سنجیدہ گفتگو ہوئی۔ شرکائے نشست نے اپنی آرا، تجربات اور مشاہدات پیش کرتے ہوئے باہمی مشاورت اور اجتماعی جدوجہد کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
مقررین نے کہا کہ موجودہ حالات میں علماء اور دینی قیادت کو اپنی ذمہ داریوں کا جائزہ لیتے ہوئے معاشرے کی اصلاح، فلاح اور نئی نسل کی بہتر رہنمائی کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
نشست کا اہتمام مولانا محمد ظفرالدین برکاتی (کنوینر) اور ڈاکٹر شجاعت علی قادری (نائب کنوینر) نے کیا۔ آخر میں تمام شرکائے نشست کا شکریہ ادا کیا گیا۔

خطبہ جمعہسلسلہ خطبات - 122عنوان *حضرت شیخ عبد القادر جیلانی کی تعلیمات و ہدایات* جامع و مرتبمولانا محمد ظفر الدین برکاتی...
24/09/2026

خطبہ جمعہ
سلسلہ خطبات - 122
عنوان
*حضرت شیخ عبد القادر جیلانی کی تعلیمات و ہدایات*

جامع و مرتب
مولانا محمد ظفر الدین برکاتی
مدیر ماہ نامہ کنز الایمان دہلی

پیش کش
کل ہند امام فاؤنڈیشن دہلی
Contact No: 8595509193
Telegram Link: https://t.me/MarkaziImam

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اما بعد
فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ. الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ. (سورہ یونس 63)
ترجمہ: سن لو ! بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا ، نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے۔

*حالاتِ زندگی*
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒکا نام عبدالقادر بن ابی صالح عبداللہ بن جنگی دوست الجیلی (الجیلانی) ہے. آپ کی کنیت ابو محمد اور لقب محی الدین اور شیخ الاسلام ہے۔ ابن رجب کی طبقات حنابلہ میں آپ کا لقب 'امامِ حنابلہ' بھی ملتا ہے. آپ کا سلسلہ نسب حضرت حسن بن علی تک پہنچتا ہے یعنی آپ حسنی سید ہیں۔ آپ جیلان میں پیدا ہوئے. جیلان یا گیلان (کیلان) ایران کے شمالی مغربی حصے کا ایک صوبہ ہے، اس کے شمال میں روسی سر زمین 'تالیس' واقع ہے، جنوب میں برز کا پہاڑی سلسلہ ہے جو اس کو آذر بائیجان اور عراقِ عجم سے علیحدہ کرتا ہے۔ جنوب میں مازندان کا مشرقی حصہ ہے اور شمال میں بحر قزوین کا مغربی حصہ، وہ ایران کے بہت خوب صورت علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ علاقائی نسبت کی وجہ سے آپ کو جیلانی، گیلانی یا کیلانی کہا جاتاہے۔
شیخ عبد القادر جیلانی کی ابتدائی تعلیم و تربیت کا تذکرہ کتب ِتواریخ میں نہیں ملتا، البتہ یہ بات مختلف مؤرخین نے بیان کی ہے کہ ''آپ اٹھارہ برس کی عمر میں تحصیل علم کے لئے بغداد روانہ ہوئے۔'' (اردو دائرۃ المعارف:۱۲؍۹۲۹) اپنے تحصیل علم کا واقعہ خود بیان کرتے ہیں کہ ''میں نے اپنی والدہ سے کہا: مجھے خدا کے کام میں لگا دیجئے اور اجازت مرحمت کیجئے کہ بغداد جا کر علم میں مشغول ہو جاؤں اور صالحین کی زیارت کروں۔ والدہ رونے لگیں، تاہم مجھے سفر کی اجازت دے دی اور مجھ سے عہد لیا کہ تمام احوال میں صدق پر قائم رہوں۔ والدہ مجھے الوداع کہنے کے لئے بیرونِ خانہ تک آئیں اور فرمانے لگیں'' تمہاری جدائی، خدا کے راستے میں قبول کرتی ہوں۔ اب قیامت تک تمہیں نہ دیکھ سکوں گی۔'' (نفحات الانس)
*شیوخ و تلامذہ*
آپ کے اساتذہ و شیوخ میں
قاضی ابو سعد مخرمی ، ابوغالب (محمد بن حسن) باقلانی، احمد بن مظفر بن سوس، ابو قاسم بن بیان، جعفر بن احمد سراج، ابو سعد بن خشیش، ابو طالب یوسفی وغیرہ کا بطور خاص تذکرہ ہوتا ہے جبکہ دیگر اہل علم نے ابو زکریا یحییٰ بن علی بن خطیب تبریزی، ابو الوفاء علی بن عقیل بغدادی، شیخ حماد الدباس کو بھی آپ کے اساتذہ کی فہرست میں شمار کیا ہے۔ ( دائرۃ المعارف، اُردو)
ابو سعد سمعانی، عمر بن علی قرشی، شیخ موفق الدین ابن قدامہ، عبدالرزاق بن عبدالقادر، موسیٰ بن عبد القادر (یہ دونوں شیخ کے صاحب زادگان سے ہیں)، علی بن ادریس، احمد بن مطیع ابو ہریرہ، محمد بن لیث وسطانی ، اکمل بن مسعود ہاشمی، ابو طالب عبد اللطیف بن محمد بن قبیطی وغیرہ.
*شیخ کی اولاد*
امام ذہبی شیخ عبدالقادر جیلانی کے بیٹے سید عبد الرزاق کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:
ولد لأبي تسعة و أربعون ولدا سبعة و عشرون ذکرا و الباقي أناث. (فوات الوفیات)
کہ میرے والد کی کل اولاد ۴۹ تھی جن میں ۲۷ بیٹے اور باقی سب بیٹیاں تھیں۔
*شیخ کا حلقہ درس*
تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے دعوت و تبلیغ، وعظ و نصیحت اور تعلیم و تربیت کو اپنی زندگی کا نصب ُالعین بنا لیا. جس اخلاص و للہیت کے ساتھ آپ نے یہ سلسلہ شروع کیا، اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ اللہ نے آپ کے کام میں بے پناہ برکت ڈالی اور آپ کا حلقہ درس آپ کے دور کا سب سے بڑا تعلیمی و تربیتی حلقہ بن گیا۔ وقت کے حکمران، امراء و وزرا بلکہ بڑے بڑے اہل علم بھی آپ کے حلقہ ٔ وعظ و نصیحت میں شرکت کو سعادت سمجھتے۔ جبکہ وعظ و نصیحت کا یہ سلسلہ جس میں خلق کثیر شیخ کے ہاتھوں توبہ کرتی، شیخ کی وفات تک جاری رہا. شیخ عبد القادر جیلانی نے بغداد آنے کے بعد حضرت ابو سعید مخرمی حنبلی سے حدیث و فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ شیخ ابو سعید مخرمی کا ایک مدرسہ تھا جو انہوں نے شیخ عبد القادر جیلانی کے سپرد کر دیا۔ اس مدرسہ میں آپ لوگوں کے ساتھ وعظ و نصیحت اور تعلیم و تربیت کی مجالس منعقد کرتے اور لوگ آپ سے بڑے مستفید ہوتے۔' شیخ عبدالقادر ۹۰ سال زندہ رہے اور ۱۰، یا ١١ ربیع الآخر ۵۶۱ھ کو آپ کا وصال ہوا.
*قلمی تحریری خدمات*
شیخ عبد القادر جیلانی بنیادی طور پر ایک مؤثر واعظ و مبلغ تھے تاہم مؤرّخین نے آپ کی چند تصنیفات کا تذکرہ کیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ صاحب ِقلم بھی تھے، ایک روایت کے مطابق آپ کی ذاتی تصنیفات صرف تین ہیں جبکہ باقی کتابیں آپ کے بعض شاگردوں اور عقیدت مندوں نے تالیف کر کے آپ کی طرف منسوب کر رکھی ہیں جس کی مجھے تحقیق نہیں.
1. غنیۃ الطالبین: اس کتاب کا معروف نام تو یہی ہے مگر اس کا اصل اور بذاتِ خود شیخ کا تجویز کردہ نام ہے: الغنیۃ لطالبي طریق الحق. یہ کتاب نہ صرف یہ کہ شیخ کی سب سے معروف کتاب ہے بلکہ شیخ کے افکار و نظریات پر مشتمل ان کی مرکزی تالیف بھی یہی ہے۔ دورِ حاضر میں بعض لوگوں نے اسے شیخ کی کتاب تسلیم کرنے سے انکار یا تردّد کا اظہار بھی کیا ہے لیکن اس سے مجالِ انکار نہیں کہ یہ شیخ ہی کی تصنیف ہے. حاجی خلیفہ اپنی کتاب 'کشف الظّنون' میں رقم طراز ہیں : الغنیة لطالبي طریق الحق للشیخ عبد القادر الکیلاني الحسني المتوفی سنۃ ۵۶۱ ھ إحدی وستین وخمس مائة. (ص:۲؍۱۲۱۱)
غنیۃ الطالبین شیخ عبدالقادر جیلانی جو ۵۶۱ ھ میں فوت ہوئے، انہی کی کتاب ہے۔
2. فتوح الغیب: یہ کتاب شیخ کے ۷۸ مختلف مواعظ مثلاً توکل، خوف، اُمید، رضا، احوالِ نفس وغیرہ پر مشتمل ہے۔ یہ بھی شیخ کی کتاب ہے.
3. الفتح الربانی و الفیض الرحماني: یہ کتاب شیخ کے ۶۲ مختلف مواعظ پر مشتمل ہے، یہ بھی شیخ کی مستقل تصنیف ہے۔
4. الفیوضات الربانیۃ فی المآثر و الأوراد القادریۃ: اس میں مختلف اوراد و وظائف جمع کیے گئے ہیں۔
5. الأوراد القادریۃ: یہ کتاب بھی بعض قصائد و وظائف پر مبنی ہے۔
(۶) بشائر الخیرات (۷) تحفۃ المتقین و سبیل العارفین (۸) الرسالۃ القادریۃ (۹) حزب الرجاء و الانتہاء (۱۰) الرسالۃ الغوثیۃ (۱۱) الکبریت الأحمر فی الصلاۃ علی النبی (۱۲) مراتب الوجود (۱۳) یواقیت الحکم (۱۴) معراج لطیف المعاني (۱۵) سر الأسرار و مظھر الانوار فیما یحتاج إلیه الأبرار (۱۶) جلاء الخاطر في الباطن و الظاهر (۱۷) آداب السلوك و التوصل إلی منازل الملوك
*شیخ کے نظریات اور تعلیمات*
شیخ کی ذاتی تصنیفات کے حوالہ سے معلوم ہوتا ہے کہ شیخ کا عقیدہ وہی تھا جو سواد اعظم اہل سنت کا متفقہ عقیدہ ہے. آپ خود اپنے عقیدہ کے حوالہ سے رقم طراز ہیں : اعتقادنا اعتقاد السلف الصالح و الصحابة. (سیراعلام النبلاء) کہ ہمارا عقیدہ وہی ہے جو صحابہ کرام اور سلف صالحین کا ہے۔ بلکہ شیخ دوسروں کو بھی سلف صالحین کا عقیدہ و مذہب اختیار کرنے کی اس طرح تلقین کرتے ہیں : علیکم بالاتباع من غیر ابتداع، علیکم بمذھب السلف الصالح امشوا في الجادة المستقیمة. کہ تمہیں چاہیے کہ (کتاب و سنت کی) اتباع اختیار کرو. بدعات کا ارتکاب نہ کرو. تمہیں چاہیے کہ سلف صالحین کے مذہب کو اختیار کرو اور یہی وہ صراط مستقیم ہے جس پر تمہیں گامزن رہنا چاہیے۔ (الفتح الربانی: المجلس العاشر ص۳۵) فرماتے ہیں : فعلی المؤمن اتباع السنة و الجماعة فالسنة ما سنه رسول ﷲﷺ و الجماعة ما اتفق علیه أصحاب رسول ﷲ. یعنی مومن کو چاہیے کہ سنت اور سنت پر چلنے والی جماعت کی پیروی کرے۔ سنت وہ ہے جسے رسول اللہ نے سنت قرار دیا اور جماعت وہ ہے جس پر اللہ کے رسول کے صحابہ کا اتفاق رہا۔(الغنیۃ)
*ایمان سے متعلق نظریہ*
ہمارا عقیدہ ہے کہ ایمان ، زبانی اقرار ، قلبی تصدیق اور ارکان اسلام پر عمل پیرا ہونے کے مجموعہ کا نام ہے۔ ایمان اطاعت سے بڑھتا ، نافرمانی سے کم ہوتا ، علم سے مضبوط اور جہالت سے کمزور ہوتا رہتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کی توفیق ہی سے یہ حاصل ہوتا ہے۔ (غنیہ)
ایمان ، قول و عمل کا نام ہے کیونکہ قول (زبانی) دعویٰ ہے اور عمل اس دعویٰ کی دلیل ہے۔ قول صورت ہے اور عمل اس کی روح ہے۔ ( غنیہ باب اول)
*توحید سے متعلق نظریہ*
انسانی نفس (فطرت) مکمل طور پر اپنے ربّ کا مطیع ہے کیونکہ ربّ تعالیٰ ہی اس کا خالق و مالک ہے اور یہ خدا کی بندگی کرنے پر محتاج ہے۔ (فتح الغیب) جو شخص اسلام میں داخل ہونا چاہتا ہے، اس پر واجب ہے کہ سب سے پہلے کلمہ شہادت کا اپنی زبان سے اقرار کرے اور دین اسلام کے علاوہ دیگر تمام ادیان سے اعلانِ برأت کرے اور اپنے دل سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت و خالقیت کا تصدیق کرے.(غنیہ)
*قرآن پاک سے متعلق نظریہ*
ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ قرآنِ مجید اللہ کا کلام ، مقدس کتاب ، خطاب اور اس کی وہ وحی ہے جسے جبریل کے ذریعے حضرت محمد رسول اللہﷺپر نازل کیا گیا ہے۔(غنیہ)
*نبی آخر الزماں علیہ الصلوٰۃ و السلام سے متعلق عقیدہ*
تمام اہل اسلام کا اس بات پر متفقہ اعتقاد ہے کہ حضرت محمد ، اللہ کے رسول ہیں۔ تمام رسولوں کے سردار اور خاتم النّبیین یعنی آخری رسول ہیں۔ (غنیہ)
*آخرت سے متعلق نظریہ*
روزِ آخرت قبروں سے جی اُٹھنے اور حشر و نشر پر ایمان لانا بھی واجب ہے۔(الغنیۃ) عذابِ قبر ، پل صراط ، حوضِ کوثر ، جنت و جہنم، میزان و شفاعت ِکبریٰ وغیرہ کے حوالہ سے بھی شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمۃ و الرضوان نے غنیۃ الطالبین میں وہی عقائد رقم کیے ہیں جو سواد اہل السنۃ کے ہاں معروف ہیں۔
*ردّ ِشرک و بدعت سے متعلق نظریہ*
حضرت شیخ عبد القادر جیلانی توحید کے زبردست حامی اور شرک و بدعت کے قاطع تھے :
1. انسان کو چاہئے کہ وہ اللہ کے حضور دست ِسوال دراز کرے، اللہ کی حمد و ثنا کرے، حضرت محمد پر درود و سلام بھیجے پھر اللہ سے اپنی حاجت کا سوال کرے۔ (الغنیۃ)
2.آباء و اجداد یا غیر اللہ کی قسم کھانا مکروہ (بمعنی حرام) ہے لہٰذا قسم کھانی ہو تو صرف اللہ کی قسم کھائی جائے ورنہ خاموشی اختیار کی جائے۔
3. شیخ آدابِ قبور کی مسنون دعا ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں : جب قبر کی زیارت کرنے جاؤ تو قبر پر ہاتھ نہ رکھو، نہ ہی قبر کو چومو۔ نہ ہی قبر پر بیٹھو اور نہ اس کے ساتھ ٹیک لگاؤ۔ پھر اللہ سے اپنی حاجت طلب کرو. (غنیہ)
4. بد شگونی حرام ہے البتہ فال (نیک اور اچھی بات) میں کوئی حرج نہیں۔
5. سنت کی پیروی کرو اور بدعات جاری نہ کرو۔ (دین کی) موافقت کرو اور خلاف ورزی نہ کرو۔ فرماں برداری کرو اور نافرمانی نہ کرو۔ اخلاص پیدا کرو اور شرک نہ کرو۔ حق تعالیٰ کی توحید کا پرچار کرو اور اس کے دروازے سے منہ نہ موڑو۔ اسی سے مدد مانگو، کسی اور سے مدد نہ مانگو۔ اسی پر توکل و اعتماد کرو اس کے علاوہ کسی اور پر توکل نہ کرو۔ (الفتح الربانی)
6. جب تم میں سے کوئی شخص خود یا اس کا بھائی (عزیز) بیمار ہو تو وہ اس طرح دعا کرے ''اے ہمارے ربّ ! جو آسمان میں ہے، تیرا نام مقدس ہے، ارض و سما پر تیرا ہی حکم ہے۔ جس طرح ارض و سما میں تیری ہی رحمت کے دریا بہتے ہیں، اے پاکیزہ لوگوں کے ربّ! ہمارے گناہ معاف فرما دے، اپنی رحمت سے ہم پر مہربانی فرما، اس مصیبت و بیماری میں اپنی طرف سے شفا عطا فرما۔ (الغنیۃ)
*قبولیت ِعبادات سے متعلق موقف* تم سے تمہارے اعمال اس وقت تک قبول نہیں کیے جا سکتے جب تک کہ تم اِخلاص پیدا نہ کر لو۔ کوئی قول، عمل کے بغیر مقبول نہیں اور کوئی عمل اخلاص اور سنت کی مطابقت کے بغیر مقبول نہیں۔ (الفتح الربانی)
*خلاصہ کلام*
حضرت شیخ عبد القادر جیلانی صحابی العقیدہ تھے۔ اس کی مزید تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ شیخ نے اپنی کتاب غنیۃ الطّالبین میں تمام گمراہ کن عقائد کی بھرپور تردید کی ہے۔ اب یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ شیخ کس درجے کے خوش عقیدہ اور صحیح العقیدہ صحابی عقیدہ عالم دین تھے.
دعوت و عزیمت کے مصنف مولانا علی میاں ندوی نے اپنے ایک شیخ ابن تیمیہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اگر شیخ جیلانی کے عقائد و نظریات میں کوئی بگاڑ ہوتا تو ابن تیمیہ اس کی ضرور نشاندہی اور تردید فرماتے مگر اس کے برعکس ہم دیکھتے ہیں کہ ابن تیمیہ نے شیخ جیلانی کا نہ صرف ذکر ِخیر فرمایا ہے بلکہ انہیں اکابر الشیوخ ، الشیخ الامام اور 'أئمتنا' میں شمار فرمایا ہے بلکہ سبھی علما نے انھیں اپنا روحانی پیشوا تسلیم کیا ہے.
*فقہی مسلک*
حضرت شیخ عبد القادر جیلانی کے بارے میں اہل علم نے متفقہ طور پر یہ رائے ظاہر کی ہے کہ آپ فقہی مسائل میں حنبلی المسلک تھے۔ حافظ ذہبی نے سیر أعلام النبلاء ، عبدالحی بن عماد حنبلی نے شذرات الذھب اور محمد بن شاکر کتبی نے فوات الوفیات میں اس کا تذکرہ کیا ہے۔ خود شیخ کے درج ذیل اقتباسات سے بھی واضح ہوتا ہے کہ وہ فقہی مسائل میں امام احمد بن حنبل کے مقلد تھے :
1. امام کے لئے جائز نہیں کہ وہ بالکل محراب کے اندر اس طرح گھس کر کھڑا ہو کہ مقتدیوں کی نظر ہی سے اوجھل ہو جائے بلکہ اسے چاہیے کہ محراب سے قدرے باہر ہو کر کھڑا ہو اور ہمارے امام احمد بن حنبل سے اس مسئلہ میں ایک دوسری روایت یہ بھی ہے کہ امام کا محراب میں کھڑا ہونا مستحب ہے۔ (غنیہ) 2. ہمارے امام ابو عبد اللہ احمد بن حنبل نے اپنے ایک رسالہ میں اپنی اسناد کے ساتھ حضرت ابو موسی اشعری سے روایت کیا ہے... 3. امام ابو عبد اللہ احمد بن حنبل الشیبانی نے فرمایا ... اللہ تعالیٰ ہمیں عقائد و فروعی مسائل میں انہی کے مذہب پر موت دے اور روزِ محشر انہی کے گروہ میں ہمیں اُٹھائے...امام شعرانی نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ شیخ ، امام احمد اور امام شافعی دونوں ہی سے متاثر تھے اور ان دونوں اماموں کے مسلک پر فتویٰ دیتے تھے۔ (الطبقات الکبریٰ) مذکورہ اقتباسات سے آپ کا حنبلی المسلک ہونا ثابت ہوتا ہے۔ غنیۃ الطالبین میں خود رقم طراز ہیں : صالحین (علماء ومشائخ) کے افعال و اعمال (اور اقوال) کو پیش نظر نہ رکھا جائے بلکہ اس چیز کو پیش نظر رکھا جائے جو آنحضرت سے مروی ہے اور اسی مروی(حدیث) پر اعتماد کیا جائے خواہ اس طرح کرنے سے کوئی شخص دوسرے لوگوں سے ممتاز و منفرد ہو جائے.
*زہد و تصوف*
زہد کا تصور چونکہ اسلام میں موجود ہے : ازھد في الدنیا یحبك ﷲ. دنیا سے بے رغبتی کرو تو خدا تم سے محبت کرے گا۔ (صحیح ابن ماجہ) اس لئے متقدم صوفیا جو در اصل زہاد و عباد ہی تھے، کے طرزِ عمل، طریقۂ عبادت اور تزکیۂ نفس کے سلسلہ کو دیگر ائمہ دین نے ہدفِ تنقید نہیں بنایا ہے. کیونکہ ان صوفیہ اور زہاد کی طرزِ زندگی مجموعی طور پر شریعت ہی کی آئینہ دار تھی. شیخ عبدالقادر جیلانی انہی صوفیہ کے امام اور شیخ تھے، آپ نے غنیۃ الطالبین میں تصوف اور اس کے متعلقات پر ایک طویل بحث سپردِ قلم فرمائی ہے جو دراصل زہد و تقویٰ سے متعلقہ تعلیمات توکل، صبر ، شکر ، رضا، صدق اور آدابِ معاشرت وغیرہ پر مبنی ہے۔ باب تصوف میں آپ کے عقائد و نظریات سرا سر سواد اعظم اہل سنت کے عقائد ہیں.
*کرامات غوث اعظم*
جب اللہ کے برگزیدہ بندے انبیاء و رسل کے ہاتھوں کوئی خرقِ عادت کام ظاہر ہو تو اسے معجزہ کہا جاتا ہے جیسے حضرت موسیٰ کی لاٹھی کا اژدھا بن جانا، حضرت ابراہیم کے لئے آگ کا ٹھنڈا ہو جانا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی انگلیوں کے اشارے سے چاند کا دو ٹکڑے ہو جانا وغیرہ اور جب کسی نیک صالح مؤمن کے ہاتھوں کوئی خرقِ عادت چیز ظاہر ہو تو اسے کرامت کہا جاتا ہے جیسے حضرت مریم کے پاس بے موسمی پھلوں کا آنا (آلِ عمران:۳۷) بعض صحابہ کے لئے اندھیرے میں عصا کا روشن ہونا. وغیرہ یعنی معجزہ نبی کے ہاتھوں ظاہر ہوتا ہے اور کرامت ولی کے۔ البتہ یاد رکھیں کہ جس طرح کوئی ولی، کسی نبی کی فضیلت کو نہیں پہنچ سکتا، اسی طرح کسی ولی کی کرامت کسی نبی کے معجزے کے مساوی نہیں ہو سکتی۔ معجزہ یا کرامت کے ظہور میں انبیاء و اولیا کا کوئی اختیار نہیں ہوتا بلکہ ان کا صدور ، اللہ کے حکم و مرضی پر موقوف ہوتا ہے۔ یہ اختیار ، اللہ کی مرضی و منشا و قدرت کا مظہر ہوتا ہے. اس لئے نبی کے معجزے سے اِنکار تو کسی مسلمان کے لئے ہرگز جائز نہیں لیکن کسی ولی کی کرامت کو تسلیم بھی کیا جا سکتا ہے اور ردّ بھی۔ بشرط کہ وہ عقلا و عادتاً محال ہو.
اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی انتہائی متقی صوفی ، عالم باعمل مفتی فقیہ اور اللہ کے ولی تھے، اس لئے ان کے ہاتھوں کرامات کا ظہور کوئی بعید نہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کی سینکڑوں کرامتیں مشہور ہیں ۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ بہت سی کرامتیں ایسی ہیں کہ حضرت غوث اعظم ان کے محتاج نہیں کہ ان کی عظمت کے لئے ان کو بیان کیا جائے. حقیقت یہ ہے کہ آپ اللہ کے خاص ولی تھے، اس لئے ان کی کرامت تسلیم کرنی چاہئے۔
*خاص فرمودات*
'' کہو بسم اللہ، یہ اس ذات کا نام ہے جس نے دریا جاری کیے ، درخت پیدا کیے ، اپنے اطاعت شعار بندوں کے ساتھ شہر آباد کیے اور ان بندوں کو پہاڑوں کی طرح اوتاد (میخیں، کیل) بنایا، جن کی وجہ سے زمین اپنے باشندوں کے لئے فرش کی طرح ہو گئی۔ یہ چالیس برگزیدہ بندے ہیں جنہیں اَبدال کہا جاتاہے۔ یہ ابدال اللہ کے شریکوں کی نفی کرتے ہوئے اللہ کی پاکیزگی (بیان) کرتے ہیں۔ یہ ابدال دنیا کے بادشاہ اور روزِ قیامت سفارش کرنے والے ہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کائنات کی تدبیر کرنے اور بندوں پر لطف و کرم کرنے کے لئے پیدا کیا ہے۔ ( غنیۃ الطالبین)
ہمارا ایمان ہے کہ مردہ کی قبر پر آنے والے کو مردہ پہچانتا ہے ۔جمعہ کے دن طلوعِ فجر کے بعد طلوعِ آفتاب تک یہ شناخت اور زیادہ قوی ہوتی ہے۔ (الغنیۃ مترجم شمس بریلوی)
یا اللہ ! میں تیرے نبی علیہ السلام کے وسیلے سے جو نبی الرحمہ تھے، تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔ یا رسول اللہ ! میں آپ کے وسیلہ سے اپنے ربّ کی طرف رجوع کرتا ہوں کہ وہ میرے گناہ معاف فرما دے۔ یا اللہ ! میں تیرے پیارے نبی کے واسطے سے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے معاف کر دے اور مجھ پر رحم فرما۔( غنیہ)
اہل نظر اہل دل اور آپ کے عقیدت مند آپ کو غوث اعظم کہتے ہیں. آج کے کچھ روشن خیالوں کا خیال یہ ہے کہ ان عقیدت مندوں نے غوث ، قطب ، ابدال وغیرہ کی ایک الگ دنیا بنا رکھی ہے. مثلا کہا جاتا ہے کہ دنیا میں چار ولی ایسے ہیں جنہیں 'اوتاد' کہا جاتا ہے۔ انہوں نے دنیا کے چاروں کناروں کو تھام رکھا ہے۔ (اصطلاحات الصوفیہ للکاشانی: ص۵۸) سات اور ایسے اولیا ہیں جنہوں نے سات آسمانوں میں سے ایک ایک آسمان کا نظام سنبھالا ہوا ہے انہیں 'ابدال' کہا جاتا ہے۔ ('معجم الفاظ الصوفیہ' از ڈاکٹر شرقاوی)
چالیس ولی ایسے ہیں جنہوں نے مخلوق کا بوجھ اٹھا رکھا ہے انہیں 'نجبا' کہا جاتا ہے۔ (اصطلاحاتِ کاشانی) تین سو ولی ایسے ہیں جو لوگوں کے ساتھ شہروں میں رہتے ہیں۔ ان سب پر ایک بڑا ولی ہوتا ہے جسے قطب ِاکبر یا غوثِ اعظم کہا جاتا ہے اور یہ ہمیشہ مکہ مکرمہ میں رہتا ہے۔ جبکہ دنیا میں جو آفت و مصیبت بھی پہنچتی ہے وہ ان سب اولیا سے ہو کر غوث اعظم تک پہنچتی ہے. اسی طرح کی بہت سی باتیں ہوتی ہیں، اس لئے عقیدت مند کبھی ایسی باتوں پر توجہ نہ دیں البتہ اپنے عقیدے کی حفاظت اور عملی وضاحت و تعارف کا معیار بلند رکھیں.
*گیارہویں شریف*
گیارہویں شریف درحقیقت حضرت محبوب سبحانی، قطب ِربانی غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی کی روح پر فتوح کو ایصالِ ثواب کرنا ہے۔'' (غوث الثقلین: ص۲۱۷) اور موجودہ دور میں ایصالِ ثواب کی تقریبات اور محافل و مجالس مختلف ناموں سے جانے اور پہچانے جاتے ہیں جن میں ایک نام گیارہویں شریف کا بھی آتا ہے۔ غوثِ اعظم حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی سے عقیدت و محبت کی وجہ سے ان کے ایصال ثواب کی فاتحہ خوانی اور تاریخ کو گیارہویں شریف کہتے ہیں.
*نذر ونیاز کی نیت سے گیارہویں*
نذر بنیادی طور پر عربی زبان کا لفظ ہے، اردو میں اس کا ترجمہ 'منت' اور فارسی میں 'نیاز' کیا جاتا ہے۔ یہ در اصل عبادت کی وہ قسم ہے جسے بندہ کسی حاجت کے وقت اپنے رب سے کھاتا ہے کہ ایسا ہوا تو ہم یہ عمل کریں گے. نذر و نیاز کے بارے میں خود اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کو یہ طریقہ سکھایا:
فَقولى إِنّى نَذَر‌تُ لِلرَّ‌حمنِ صَومًا فَلَن أُكَلِّمَ اليَومَ إِنسِيًّا. (سورة مريم ایت 26)
تو کہہ دینا کہ میں نے اللہ رحمن کے نام کا روزہ مان رکھا ہے کہ میں آج کسی شخص سے بات نہ کروں گی۔
حضرت مریم کی والدہ کی نذر کا تذکرہ بھی قرآنِ مجید نے اس طرح کیا ہے :
رَ‌بِّ إِنّى نَذَر‌تُ لَكَ ما فى بَطنى مُحَرَّ‌رً‌ا فَتَقَبَّل مِنّى. (سورة آل عمران آیت 35)
اے میرے رب ! میرے پیٹ میں جو کچھ ہے، اسے میں نے تیرے نام آزاد کرنے کی نذر مان رکھی ہے لہٰذا تو میری طرف سے (یہ)قبول فرما۔
*ایصالِ ثواب کے لئے گیارہویں شریف*
مُردوں کے لئے ایصالِ ثواب کی سبھی جایز صورتیں قرآن و سنت کی رو سے جائز ہیں، ان میں گیارہویں کی فاتحہ اور ایصال ثواب بھی داخل ہے. مزید تفصیل کے لئے ہم ایصالِ ثواب کی ان تمام صورتوں کی نشاندہی کر دیتے ہیں جن کا جواز قرآن و حدیث سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے :
1. کوئی بھی مسلمان جو توحید و ایمان کی حالت میں فوت ہوا ہو، اس کے لئے ایصال ثواب اور مغفرت کی دعا کی جا سکتی ہے۔ 2.صدقہ جاریہ سے مراد وہ نیک کام ہیں جن کا ثواب آدمی کو وفات کے بعد بھی ملتا رہتا ہے اور حدیث ِنبوی کے مطابق اس کی تین صورتیں ہیں (1) محض صدقہ جاریہ یعنی اللہ کی راہ میں کسی چیز (گھر، ہسپتال، سبیل وغیرہ) کو وقف کر دینا. (2) نیک اولاد (اولاد کے نیک عمل کا ثواب قدرتی طور پر موحد مومن والدین کو بھی پہنچتا رہے گا) (3) نفع بخش علم (خواہ شاگردوں کی صورت میں ہو یا کتابوں اور مدرسہ وغیرہ کی شکل میں)
2. اگر میت کی اولاد ان کی وفات کے بعد ان کی طرف سے صدقہ کرے تو فوت شدہ والدین کو اس کا ثواب پہنچتا ہے۔ میت کی طرف سے صدقہ کرنے کے حوالہ سے یہ واضح رہے کہ صرف اولاد ہی اپنے والدین کی طرف سے ایصال ثواب کے لئے صدقہ نہیں سکتی بلکہ دیگر افراد بھی میت کی طرف سے صدقہ کر سکتے ہیں. 4. میت کی طرف سے اگر حج کیا جائے تو میت کا یہ فرض ادا ہو جاتا ہے۔ 5- اگر میت کے ذمہ نذر کے روزے رہ جائیں تو اس کے اولیا اس کی طرف سے یہ روزے رکھ سکتے ہیں۔ میت کے رمضان کے فوت شدہ روزے رکھنے کے بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ بعض تو نذر کی طرح اس کے بھی جواز کے قائل ہیں جبکہ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ صرف نذر کے روزے جائز ہیں تاہم میت کے رمضان کے روزوں کی جگہ فدیہ ادا کیا جائے. 6. میت کے ذمہ اگر قرض ہو تو اس کی طرف سے کوئی بھی دوسرا شخص میت کا یہ قرض ادا کرسکتا ہے۔
*قادری دعوت اصلاح و تحریک خیر خواہی*
حضرت شیخ عبد القادر جیلانی اور علمائے ربانیین
کے علم و عمل ، اصلاح و تربیت اور تحریک جہاد و قربانیوں کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔ وہ یقینا خود بھی سرخرو ہو گئے اور اپنی قوم و معاشرہ کے لئے بھی نجات دہندہ قرار پائے لیکن جن خرافات و باطل نظریات کے خلاف انھوں نے اصل جہاد کیا تھا آج ہم نے خود ان کی دعوت و تحریک اصلاح کو بھی انھی مہلک موروثی امراض کا شکار کر دیا ہے۔ ان مبارک ہستیوں کی تحریک و خدمات کا جائزہ لیں تو ہمارے لئے یہ واضح رہنمائی سامنے آتی ہے:
*پیغام عمل*
اصلاح و نجات کی اسلامی تحریک بسا اوقات کئی نسلوں تک جاری رہنے کے بعد فتح و نصرت کی منزل حاصل کرتی ہیں۔ پروردگار مختلف ادوار میں مختلف افراد سے مختلف کام لے رہا ہوتا ہے لیکن عملاً وہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے اور قافلے کو فتح و کامیابی کی جانب آگے بڑھا رہے ہوتے ہیں۔
اصلاحِ اقوام کے لئے اصلاحِ افراد بے حد ضروری ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ فاسق افراد مل کر کوئی صالح قوم تشکیل دے ڈالیں۔ ارشاد ربانی : اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ. (الرعد۱۳:۱۱) اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی.
کے مطابق اصلاحِ افراد و معاشرہ کے لئے وہی اصول اپنانا ہوں گے جو خود نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ و سلم نے سکھائے اور آپ کے صحابہ کرام نے اپنائے۔ امام غزالی اور سیّد عبدالقادر جیلانی نے سب سے زیادہ زور توحید خالص کو اپنانے اور شرک، جھوٹ، منافقت اور بد عنوانی و خیانت چھوڑنے پر دی۔ جھوٹ نہ بولنے کی وجہ سے بچپن ہی میں سیّد عبد القادر جیلانی کے سامنے ڈاکوؤں اور ان کے سردار کی توبہ کا واقعہ معروف ہے۔ روحانیت اور تمام تر شرک و شوائب سے پاک راہِ تصوف، توحید و جہاد اور اقامتِ دین کی نفی نہیں، اس کی تکمیل کرتی ہے۔ ان ہستیوں نے فروعی اختلافات اور علم الکلام کی مختلف بحثوں یا لفظی موشگافیوں میں اُلجھ یا اُلجھا کر معاشرے میں تقسیم و نفرت کی آگ نہیں بھڑکائی۔ سیّد عبد القادر جیلانی نے ایسے علمائے کرام کو جو دین کو دکانوں کا درجہ دیے بیٹھے تھے اور سلاطین کو خوش کرنے کے لئے فتویٰ فروشی کے مرتکب ہوتے تھے، راہِ شریعت کھوٹی کرنے والے ڈاکو قرار دے کر بے نقاب کیا۔
در اصل تبدیلی اس وقت آتی ہے جب محدود و مخصوص افراد کی بجاے معاشرے کے تمام افراد کو اپنا ہم نوا بنایا جائے۔ صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کو فتح کرنے کے لئے سیّد عبد القادر جیلانی اور ان کے دیگر حنبلی علما و فقہا کے علاوہ شافعی علما کی نمایاں تعداد بھی ساتھ ملائی۔ سب نے مل کر اصلاح و جہاد کا فریضہ سر انجام دیا۔ البتہ جہاں مختلف باطنی تحریکوں سے واسطہ پڑا چاروں شخصیات امام غزالی و سیّد عبدالقادر جیلانی اور نورالدین زنگی و صلاح الدین ایوبی نے ان کی مکمل سرکوبی کی۔

Address

Malhaur Road Chinhat Lucknow
Lucknow
226028

Telephone

+919565136140

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MSO UP posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share