27/08/2026
خطبہ جمعہ
سلسلہ خطبات - 118
عنوان
*دینی اسلامی مراسم کو غیر اسلامی بنانے کا انجام*
عید میلاد النبی کے جلوس ، تقریبات اور محافل و مجالس کو غیر اسلامی بنانے کا گناہ نہ کریں
جامع و مرتب
مولانا محمد ظفر الدین برکاتی
مدیر ماہ نامہ کنز الایمان دہلی
پیش کش
کل ہند امام فاؤنڈیشن دہلی
Contact No: 8595509193
Telegram Link: https://t.me/MarkaziImam
نوٹ : امام صاحبان مقامی ضرورت اور حالات کے مطابق تقریر کا مواد خود تیار کریں، وقت کی نزاکت کو نظر انداز نہ کریں.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰى كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ. (سورہ بقرہ آیت 264)
ترجمہ : اے ایمان والو اپنے صدقے باطل نہ کر دو احسان رکھ کر اور ایذا دے کر اس کی طرح جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرے اور اللہ اور قیامت پر ایمان نہ لائے تو اس کی کہاوت ایسی ہے جیسے ایک چٹان کہ اس پر مٹی ہے اب اس پر زور کا پانی پڑا جس نے اسے نرا پتھر کر چھوڑا اپنی کمائی سے کسی چیز پر قابو نہ پائیں گے اور اللہ کافروں کو راہ نہیں دیتا۔
اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْ وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا٘. (سورہ نساء آیت 142)
ترجمہ :
بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دینا چاہتے ہیں اور وہی انہیں غافل کرکے مارے گا اور جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں توبڑے سست ہوکر لوگوں کے سامنے ریاکاری کرتے ہوئے کھڑے ہوتے ہیں اور اللہ کو بہت تھوڑا یاد کرتے ہیں ۔
اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُكَذِّبُ بِالدِّیْنِ.
فَذٰلِكَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ. وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِ. فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ. الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ. الَّذِیْنَ هُمْ یُرَآءُوْنَ. وَ یَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ۠.
ترجمہ :
کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جو دین کو جھٹلاتا ہے پھر وہ ایسا ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھانا دینے کی ترغیب نہیں دیتا۔ تو ان نمازیوں کے لئے خرابی ہے جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔ وہ جو دکھاوا کرتے ہیں اور برتنے کی معمولی چیزیں بھی نہیں دیتے۔
*بنیادی گفتگو*
اسلامی دینی مراسم اور شعائر کو تبدیل کرنا ، ان میں تحریف کرنا ، انہیں غیر اسلامی رنگ دینا ، یا، ان کی بجائے نیا طریقہ شامل کرنا جو شریعت و مروت کے خلاف ہو ، دینِ اسلام میں ایک سنگین عمل ہے، در اصل اسی کو بدعت ، تشبیہ باغیار (غیر مسلموں کی مشابہت) اور دین میں تحریف و تبدیلی کہا جاتا ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس عمل کے دنیاوی اور اخروی انجام کو ذیل کے اہم نکات میں سمجھا جا سکتا ہے:
اعمال کا ضائع ہونا یعنی ایسا عمل بارگاہ الہی قبول نہیں اور مردود ہے کیونکہ اسلام میں عبادت کی قبولیت کے لئے اس کا سنت کے مطابق ہونا لازمی ہے۔ اگر کسی دینی رسم کو غیر اسلامی بنا دیا جائے تو وہ عمل اللہ کے ہاں رد کر دیا جاتا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے ہمارے اس امر (دین) میں کوئی ایسی نئی بات نکالی جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے- (صحیح بخاری)
گمراہی کی راہ پر چلنا ہے جو عذابِ الٰہی کا سبب ہے اور سنت سے دوری کا دانستہ گناہ اپنی جگہ. دینی شعائر کا حلیہ بگاڑنا انسان کو سنتِ رسول ﷺ کے سیدھے راستے سے دور کر کے گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔ انجام واضح ہے کہ ہر بدعت اور دینی معاملے میں غیر اسلامی روش کا انجام گمراہی ہے اور گمراہی کا انجام جہنم کی آگ ہے۔
امت کا فکری زوال یقینی ہونے لگتا ہے اور اور شناخت کا خاتمہ تو یقینی ہے ہی کہ جب مسلمان اپنے دینی شعبوں میں غیر مسلموں کے طریقے اپناتے ہیں تو ان کی اپنی ملی اور اسلامی شناخت ختم ہو جاتی ہے۔ آقا کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہے. (سنن ابو داؤد)
برکت کا اٹھ جانا اور فتنوں کا آنا ، یہ سراسر دنیاوی نقصان ہے کہ جب معاشرے میں دین کے نام پر غیر اسلامی رسومات ( خرافات، اسراف یا شرکیہ عناصر) عام ہوتی ہیں تو معاشرے سے امن اور برکت اٹھ جاتی ہے اور امت مختلف قسم کے فتنوں اور آزمائشوں میں گھِر جاتی ہے۔
*تینوں آیات کا خلاصہ*
قرآن پاک میں دکھاوا ، نام و نمود اور ریا کاری کی سخت مذمت کی گئی ہے اور اسے باطنی بیماری اور اعمال کے ضائع ہونے کا سبب بتایا گیا ہے۔ ریا معنی ہے کسی کام کو لوگوں کو دکھانے کے لئے کرنا۔ یعنی کسی عبادت یا نیک عمل سے اللہ کی رضا کے بجائے لوگوں کی تعریف ، واہ واہی یا دنیاوی فائدہ حاصل کرنا۔ قرآن مجید میں ریا کی مذمت کی گئی ہے اور اعمال کا ضائع ہونا بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرتے ہیں اور اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ان کا حال اس چکنے پتھر کی طرح ہے جس پر مٹی ہو اور زور دار بارش اسے صاف کر دے۔ (سورہ بقرہ آیت 264) وہ اپنے اعمال کا کوئی ثواب نہیں پاتے۔ ساتھ ہی یہ منافقین کی صفت ہے، اللہ نے فرمایا کہ منافق جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو کسمساتے ہوئے اور لوگوں کو دکھانے کے لئے کھڑے ہوتے ہیں اور اللہ کو بہت کم یاد کرتے ہیں۔ (سورہ نساء آیت 142) اور تیسویں پارے کی سورہ ماعون میں فرمایا کہ ایسے نمازیوں کے لئے ہلاکت ہے جو اپنی نماز سے غافل ہیں اور جو ریا کاری (دکھاوا) کرتے ہیں۔ جو خالص نیت سے خالی ہوتے ہیں اور خالق کی بجائے مخلوق کی خوش نودی کی نیت رکھتے ہیں. اس طرح وہ شرک والا عمل کرتے ہیں. سورۃ الكهف کی آخری آیت 110 میں حکم دیا گیا ہے کہ جو شخص اپنے رب کی ملاقات کی امید رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔ احادیث رسول میں بھی ریا کو "شرکِ اصغر" یا چھپا ہوا شرک کہا گیا ہے کیونکہ اس میں بندہ اللہ کے ساتھ لوگوں کو بھی اپنے عمل کا مقصود بنا لیتا ہے۔، اس لئے رسوائی مقدر ہونے لگتی ہے کہ جو شخص نام و نمود کے لئے عبادت کرتا ہے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے مخلوق کے سامنے رسوا اور ذلیل کرے گا۔
*عرض مدعا*
کل یوم ولادت رسول 12 ربیع الاول کو جشن عید میلاد النبی کے جلوس میں جو بھی اضافی اور غیر مانوس کام کیے گئے، سماجی ہم آہنگی کے نام پر غیر اسلامی رسومات شامل کی گئیں اور گنگا جمنی تہذیب کے نام پر شرکیہ اور حرام أعمال کی اجازت دی گئی، سیاسی جماعتوں اور افراد و أشخاص کو عزت دینے یا پھر ان سے عزت لینے کے لئے عجیب و غریب انداز سے جو شال اور پھول مالا گردی مچای گئی، جھانکیوں کے نام پر عجیب و غریب چیزیں جلوس میں شامل کی گئیں، ان سب کا خیال رکھیں اور اصلاحات کے طریقوں پر توجہ دیں. وقت رہتے ایسے غیر اسلامی اور حرام أقدام و أعمال سے جلوس عید میلاد النبی کو محفوظ رکھنے کی کوشش نہ کی گئی تو بعد میں ایک فتنہ بن سکتے ہیں جن کا مقابلہ کرنا مشکل تر ہو جائے گا پھر عوام و خواص دونوں ہی جلوس عید میلاد النبی سے بیزار و متنفر ہو جائیں گے.
*پیغام عمل*
ہم اور آپ اور سبھی امام صاحبان کوشش کریں کہ میلاد النبی ﷺ کا حقیقی پیغام عوام و خواص تک پہنچا دیں کہ
میلادُ النبی ﷺ کا مطلب صرف یہ نہیں کہ چائنا کی لائٹوں سے گھروں اور گلیوں کو روشن کیا جائے بلکہ میلادِ مصطفیٰ ﷺ کا اصل مقصد یہ ہے کہ جس نورِ ہدایت کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ نبی آخر الزماں ﷺ کی صورت میں ہماری طرف بھیجا ، اُس نور سے اپنے دل و روح کو منور کیا جائے۔ گھروں کی روشنیاں اور قمقمے چند لمحوں کے لئے ماحول کو جگمگا سکتے ہیں مگر محبتِ رسول ﷺ ، ذکرِ رسول ﷺ ، سیرتِ رسول ﷺ اور سنتِ رسول ﷺ وہ نور ہے جو انسان کی پوری زندگی کو روشن کر دیتا ہے۔
اس لئے آئیے وعدہ عہد کریں کہ اگلے سال میلادُ النبی ﷺ کے موقع پر صرف اپنے گھروں کو نہیں بلکہ اپنے دلوں کو بھی عشقِ مصطفیٰ ﷺ سے روشن کریں ، اپنی زندگی کو سنتِ مصطفیٰ ﷺ کے مطابق سنواریں اور اپنے کردار سے محبتِ رسول ﷺ کا ثبوت دیں۔
عیدوں کی عید ، عید میلاد النبی پر گھروں اور گلیوں کی صفائی بھی کریں کچڑا کے ملبے کو محلوں سے دور کریں اور صرف گھروں کو ہی چراغوں سے نہیں ، عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے نور سے دل کو بھی روشن کیجیے ! یہی میلاد کا حقیقی پیغام ہے۔