02/07/2026
اختلاف، مگر کس حد تک؟
ایک شخص دنیا سے رخصت ہوا — اس کا جسم ابھی ٹھنڈا بھی نہیں ہوا تھا کہ کچھ زبانیں کھل گئیں، کچھ قلم چل پڑے۔ نہ دعا، نہ مغفرت — بس وہی پرانا اختلاف جو زندگی میں تھا اب اس سے زیادہ شدت سے اس کی میت کے ساتھ ہو رہا ہے۔
یہ کیسا علم ہے جو موت کے سامنے بھی نرم نہیں ہوتا؟ یہ کیسی دینداری ہے جو "اذکروا محاسن موتاکم" کی حدیث پڑھ کر بھی اپنے انانیت کی پاسداری کرتی ہے؟
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان اختلاف ہوا — جنگیں ہوئیں، تلواریں اٹھیں — جبکہ قرآن نے سب کے لیے "حسنیٰ" کا وعدہ کیا۔ اور ہم ہیں کہ ایک عالم کی موت پر بھی رحم نہیں کھاتے اور دنیا کو بتاتے ہیں کہ دیکھو اسلام جس قدر شدت پسند اور تنگ نظر دین ہے؟
اگر زندگی میں اختلاف تھا، علمی تھا، فکری تھا — تو وہ زندگی میں رہا، زندگی میں ختم ہو جانا چاہیے تھا۔ موت کے بعد بھی اسی نفرت کو زندہ رکھنا — یہ علم نہیں، یہ ضد ہے۔ یہ دین نہیں، یہ انا ہے۔
جس زبان سے تم نے ایک مرحوم کو لعن طعن کیا، وہی زبان ایک دن روز محشر میں گواہی دے گی — سوچ لو، اس وقت کون تمہارے لیے دعا کرے گا؟ اللہ سب کو سمجھ عطا فرمائے۔ آمین