Quranic Insights

Quranic Insights "Faithful servant of Allah"...

23/12/2025

Surat No 48 : سورة الفتح - Ayat No 25

ہُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ صَدُّوۡکُمۡ عَنِ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ وَ الۡہَدۡیَ مَعۡکُوۡفًا اَنۡ یَّبۡلُغَ مَحِلَّہٗ ؕ وَ لَوۡ لَا رِجَالٌ مُّؤۡمِنُوۡنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤۡمِنٰتٌ لَّمۡ تَعۡلَمُوۡہُمۡ اَنۡ تَطَئُوۡہُمۡ فَتُصِیۡبَکُمۡ مِّنۡہُمۡ مَّعَرَّۃٌۢ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ۚ لِیُدۡخِلَ اللّٰہُ فِیۡ رَحۡمَتِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ لَوۡ تَزَیَّلُوۡا لَعَذَّبۡنَا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡہُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿۲۵﴾

وہی لوگ تو ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روکا اور ہدی کے اونٹوں کو ان کی قربانی کی جگہ نہ پہنچنے دیا43 ۔ اگر ( مکہ میں ) ایسے مومن مرد و عورت موجود نہ ہوتے جنہیں تم نہیں جانتے ، اور یہ خطرہ نہ ہوتا کہ نادانستگی میں تم انہیں پامال کر دو گے اور اس سے تم پر حرف آئے گا ( تو جنگ نہ روکی جاتی ۔ روکی وہ اس لیے گئی ) تاکہ اللہ اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کر لے ۔ وہ مومن الگ ہو گئے ہوتے تو ( اہل مکہ میں سے ) جو کافر تھے ان کو ہم ضرور سخت سزا دیتے ۔

جبلِ اُحد — اس محبوب پہاڑ کے بارے میں 10 اہم معلومات یہ مدینہ منورہ کے شمالی جانب واقع ہے۔ مسجدِ نبوی ﷺ سے اس کا فاصلہ ت...
21/12/2025

جبلِ اُحد — اس محبوب پہاڑ کے بارے میں 10 اہم معلومات
یہ مدینہ منورہ کے شمالی جانب واقع ہے۔
مسجدِ نبوی ﷺ سے اس کا فاصلہ تقریباً 4 کلو میٹر ہے۔
اسی کے دامن میں غزوۂ اُحد پیش آیا۔
نبیِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“اُحد ایک پہاڑ ہے، یہ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں”
اس پہاڑ پر قدیم اور تاریخی نقوش موجود ہیں۔
دورِ جاہلیت میں اسے “عُنقُد” کے نام سے جانا جاتا تھا۔
اس کا محیط (گھیراؤ) تقریباً 16 کلو میٹر ہے۔
یہ کئی چوٹیوں پر مشتمل پہاڑ ہے۔
اس میں پانی جمع ہونے کے قدرتی حوض (مہارس) پائے جاتے ہیں۔
اس کے اردگرد کوئی دوسرا پہاڑ نہیں،
یعنی یہ تنہا اور منفرد پہاڑ ہے
۔
اللهم صلِّ وسلم على سيدنا محمد ﷺ
وعلى آله وأصحابه أجمعين 🤍

16/12/2025

** خانہ کعبہ کا نقشہ جبرائیل علیہ السلام نے تیار کیا۔
** خانہ کعبہ میں ہجر اسود مشرق کی سمت ہے۔
** خانہ کعبہ کا طواف ہجراسود سے شروع ہوتا ہے۔
** خانہ کعبہ کی تعمیر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے مل کر کی۔
** خانہ کعبہ کی بلندی 54 فٹ 8 انچ ہے۔
** خانہ کعبہ کو تعمیر ہوئے تقریباً 4 ہزار سال کا عرصہ ہو گیا ہے۔
** خانہ کعبہ پانچ پہاڑوں کے پتھروں سے تعمیر کیا گیا۔
** خانہ کعبہ کی چھت میں کل 80 قندیلیں ہیں ۔
** خانہ کعبہ کے غلاف کی لمبائی 54 میٹر ہے۔ اس کو ہر سال تبدیل کیا جاتا ہے۔
** خانہ کعبہ کے غلاف میں ایک( من) چالیس کلو گرام سے زیادہ سونے کی تاروں کا استعمال کیا جاتا ہے ۔
** خانہ کعبہ کا غلاف پورے ایک سال میں تیار کیا جاتا ہے۔
** خانہ کعبہ کی چھت کو کھولا نہیں جاتا،اس نئے غلاف کوپرانے غلاف پر چڑھا دیا جاتا ہے پھر جدید مشینوں سے پرانے غلاف کو کاٹ دیا جاتا ہے۔
** خانہ کعبہ کی چھت کے اوپر سیدھا اللہ کا عرش ہے۔
ســـبحان الـــلـــہ !!

03/12/2025

حضر نوح علیہ السلام کی کشتی کیسی تھی کشتی کی لمبائی تین سو ذراع ساڑھے چار سوفٹ چوڑائی پچاس ذراع پچہتر فٹ ( اور اونچائی میں ذراع پینتالیس فٹ ) تھی ۔ ساگوان کی لکڑی سے تیار کی گئی تھی جس کے تیار کرنے میں دو سال صرف ہوئے ۔ کشتی تین منزلہ تھی، پہلی منزل میں وحشی جانور درندے اور حشرات الارض ) کیڑے مکوڑے ( تھے اور درمیانی حصہ میں پالتو جانور چوپائے وغیرہ تھے اور سب سے اوپر والی منزل میں حضرت نوحعلیم اور ان کے ساتھ ایمان لانے والے حضرات تھے اور اپنا زاد راه یعنی کھانے پینے کی اشیاء رکھی گئی تھیں۔۔ کشتی میں وہی لوگ سوار تھے جو آپ کے ساتھ ایمان لائے تھے جن کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے۔ آپ کے تین بیٹے اور ہر ایک کی زوجہ اور نوح علیہ السلام خود اور آپ کی ایک زوجہ گھر کے یہ آٹھ افراد تھے اور ستر افراد اور تھے جنہوں نے ایمان قبول کیا تھا۔ اس طرح کشتی میں سوار ہونے والوں کی کل تعداد اٹھہتر تھی ۔ علامہ آلویسی رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کے بغیر اناسی آدمی یعنی بہتر اور سات آپ کے قبیلے کے اور ایک آپ خود اس طرح کل اسی آدمی تھے، اس روایت کو زیادہ صيح قرار دیا ۔ خیال رہے کہ نوح علیہ السلام کی ایک زوجہ اور ایک بیٹا کنعان کافر تھے جو غرق ہو گئے تھے ان کا ذکر انشاء اللہ آگے آئے گا۔۔۔ حضرت نوح علیہ السلام اللہ تعال کے حکم سے کشتی بنا رہے تھے تو قوم آپ سے پوچھتی تھی اسے کیا کرو گے تو آپ فرماتے: یہ سیلاب میں کام آئے گی ۔ یہ سن کر قوم مزاح اڑاتی کہ اس علاقے میں پانی کا کوئی دریا

نہیں تو اتنی بڑی کشتی بنانا کہ یہ پانی میں کام آئے گی؟ ) معاذ الله ) یہ تو سراسر حماقت ہے۔ کبھی کہتے پہلے تو تم نبوت کا دعوی کر رہے تھے اب بڑھئی بن گئے ہو اس طرح وہ تمسخر اڑا رہے تھے کہ اللہ تعالی نے ان کے اس طریقے کو ذکر فرمایا : اور نوح کشتی بناتے ہیں اور جب اس قوم کے سردار اس پر گزرتے ہیں اس پر ہنستے بولے: اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ایک وقت ہم تم پر ہنسیں گے جیسا کہ تم بنتے ہو ۔ " الله تعالی نے حضرت نوح علیہ السلام کو بتا دیا تھا کہ جب تنور سے پانی نکلنا شروع ہو جائے تو سمجھو کہ اب طوفان آرہا ہے اس وقت تم کشتی پر سوا ہو جانا۔ تمام جانوروں کا ایک ایک جوڑا اور ایمان لانے والوں کو بھی ساتھ کشتی میں سوار کر لینا۔ یہ تنور کوفہ میں تھا۔ صحیح یہی ہے کہ عام تنور تھا جس میں آپ کی زوجہ روٹیاں پکاتی تھی اس سے طوفان کی ابتداء ہوئی ۔ اللہ تعالی نے فرمايا: حَتَّى إِذَا جَاءَ أمْرُنَا وَفَارَ النور ) ( بود (4:12 اور یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آیا تو تنور نے جوش مارا یعنی جس طرح ہنڈیا ابلتی ہے اس طرح تنور ابلنا شروع ہوا تو آپ علیہ السلام کو معلوم ہو گیا کہ اب طوفان آنے ہی والا ہے۔ جب تنور سے پانی نکلنا شروع ہوا تو حضرت نوح علیہ السلام نے تمام ایمان والوں کو حکم دے دیا کہ اب کشتی پر سوار ہو جاؤ اور سوار ہوتے وقت الله کے نام سے ابتدا کرو۔ جب طوفان کی ابتداء تنور سے ہو چکی تو آسمانوں کو پانی برسانے اور زمین کو چشموں سے پانی نکالنے کا حکم دے دیا گیا۔ آسمانوں اور زمین کے پانی نے مل کر ایک عظیم ہولناک منظر پیش کیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم نے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے زور کے بہتے پانی سے اور زمین چشمے کر کے بہادی یعنی زمین سے چشمے جاری کر کے زور سے پانی بہادیا تو دونوں پانی مل گئے اس مقدار پر جو مقدر تھی " زمین و آسمان کے پانیوں نے مل کر اتنی شدید طغیانی بر پا کر دی کہ موجیں جب اٹھتیں تو بہت بڑے بلند پہاڑوں کی طرح نظر آتیں۔ رب تعالی نے فرمایا اور وه کشتی ( انہیں لئے جارہی تھی ایسی موجوں میں جیسے پہاڑ۔۔ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی دس رجب کو چلی اور دس محرم کو جودی پہاڑ پر لنگر انداز ہوگئی کشتی چھ ماه مسلسل طوفان میں رہی ۔ دس محرم کو طوفان سے پانی نکالنے کا حکم دے دیا گیا۔ آسمانوں اور زمین کے پانی نے مل کر ایک عظیم ہولناک منظر پیش کیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

ہم نے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے زور کے بہتے پانی سے اور زمین چشمے کر کے بہادی یعنی زمین سے چشمے جاری کر کے زور سے پانی بہادیا تو دونوں پانی مل گئے اس مقدار پر جو مقدر تھی " زمین و آسمان کے پانیوں نے مل کر اتنی شدید طغیانی بر پا کر دی کہ موجیں جب اٹھتیں تو بہت بڑے بلند پہاڑوں کی طرح نظر آتیں۔ رب تعالی نے فرمایا اور وه کشتی ( انہیں لئے جارہی تھی ایسی موجوں میں جیسے پہاڑ۔ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی دس رجب کو چلی اور دس محرم کو جودی پہاڑ پر لنگر انداز ہوگئی کشتی چھ ماه مسلسل طوفان میں رہی ۔ دس محرم کو طوفان سے نجات ملنے پر حضرت نوح علیہ السلام اور آپ کی قوم نے روزہ رکھا۔

Dr. Israr Ahmed’s words remind us that when the path ahead seems lost and nothing adds up, that is exactly when one shou...
02/12/2025

Dr. Israr Ahmed’s words remind us that when the path ahead seems lost and nothing adds up, that is exactly when one should deepen their trust in Allah.

He taught that Allah is never dependent on any means rather, every means in existence depends upon Him. So when situations appear impossible, renew your faith, for Allah can create a way where none seems to exist.

Disclaimer: Background Image is AI Generated and is just for reference.

30/11/2025

ایک داڑھی والا آدمی مجھے دیکھ رہا تھا میں اٹھ کر اسکے پاس جا بیٹھا اور میں نے اس سے پوچھا ’’کیا آپ مسلمان ہیں ؟
اس نے مسکرا کر جواب دیا ’’نہیں میں جارڈن کا یہودی ہوں۔ میں ربی ہوں اور پیرس میں اسلام پر پی ایچ ڈی کر رہا ہوں‘
میں نے پوچھا ’’تم اسلام کے کس پہلو پر پی ایچ ڈی کر رہے ہو؟‘‘
وہ شرما گیا اور تھوڑی دیر سوچ کر بولا ’’میں مسلمانوں کی شدت پسندی پر ریسرچ کر رہا ہوں‘‘
میں نے قہقہہ لگایا اور اس سے پوچھا ’’تمہاری ریسرچ کہاں تک پہنچی؟‘‘
اس نے کافی کا لمبا سپ لیا اور بولا ’’میری ریسرچ مکمل ہو چکی ہے اور میں اب پیپر لکھ رہا ہوں‘‘
میں نے پوچھا ’’تمہاری ریسرچ کی فائنڈنگ کیا ہے؟‘‘
اس نے لمبا سانس لیا‘ دائیں بائیں دیکھا‘ گردن ہلائی اور آہستہ آواز میں بولا ’’میں پانچ سال کی مسلسل ریسرچ کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں مسلمان اسلام سے زیادہ اپنے نبی سے محبت کرتے ہیں۔ یہ اسلام پر ہر قسم کا حملہ برداشت کر جاتے ہیں لیکن یہ نبی کی ذات پر اٹھنے والی کوئی انگلی برداشت نہیں کرتے‘‘
یہ جواب میرے لیے حیران کن تھا‘ میں نے کافی کا مگ میز پر رکھا اور سیدھا ہو کر بیٹھ گیا‘
وہ بولا ’’میری ریسرچ کے مطابق مسلمان جب بھی لڑے‘ یہ جب بھی اٹھے اور یہ جب بھی لپکے اس کی وجہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تھی‘ آپ خواہ ان کی مسجد پر قبضہ کر لیں‘ آپ ان کی حکومتیں ختم کر دیں۔ آپ قرآن مجید کی اشاعت پر پابندی لگا دیں یا آپ ان کا پورا پورا خاندان مار دیں یہ برداشت کرجائیں گے لیکن آپ جونہی ان کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام غلط لہجے میں لیں گے‘ یہ تڑپ اٹھیں گے اور اس کے بعد آپ پہلوان ہوں یا فرعون یہ آپ کے ساتھ ٹکرا جائیں گے‘‘
میں حیرت سے اس کی طرف دیکھتا رہا‘ وہ بولا ’’میری فائنڈنگ ہے جس دن مسلمانوں کے دل میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نہیں رہے گی اس دن اسلام ختم ہو جائے گا۔ چنانچہ آپ اگر اسلام کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو آپ کومسلمانوں کے دل سے ان کا رسول نکالنا ہوگا‘‘
اس نے اس کے ساتھ ہی کافی کا مگ نیچے رکھا‘ اپنا کپڑے کا تھیلا اٹھایا‘ کندھے پر رکھا‘ سلام کیا اور اٹھ کر چلا گیا
لیکن میں اس دن سے ہکا بکا بیٹھا ہوں‘ میں اس یہودی ربی کو اپنا محسن سمجھتا ہوں کیونکہ میں اس سے ملاقات سے پہلے تک صرف سماجی مسلمان تھا لیکن اس نے مجھے دو فقروں میں پورا اسلام سمجھا دیا‘
میں جان گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اسلام کی روح ہے اور یہ روح جب تک قائم ہے اس وقت تک اسلام کا وجود بھی سلامت ہے‘ جس دن یہ روح ختم ہو جائے گی اس دن ہم میں اور عیسائیوں اور یہودیوں میں کوئی فرق نہیں رہے گا.
_*شئیر کرنے کا بلکل نہیں کہوں گا، یہ آپ کا اپنا ظرف ہے* _
کاپی

28/11/2025
28/11/2025

BREAKING: Sources told Inside the Haramain that Sheikh Dr. Saleh bin Humaid has been appointed Grand M***i of the Kingdo...
24/09/2025

BREAKING: Sources told Inside the Haramain that Sheikh Dr. Saleh bin Humaid has been appointed Grand M***i of the Kingdom of Saudi Arabia and Head of the Senior Council of Scholars by the Custodian of the Two Holy Mosques, the Royal Court will announce imminently

Address

Handwara
Kupwara

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Quranic Insights posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Quranic Insights:

Share