Maqsad - e - Zindagi

Maqsad - e - Zindagi *حاجت تو فقیروں کی بھی پوری ہوتی ہیں*
*چاہت تو بادشاہوں کی بھی ادھوری رہتی ہیں*

27/11/2025

امام شعبی رحمہ اللّٰہ نے فرماتے ہیں :
*"جو شخص قرآن پڑھتا ہے وہ بڑھاپے میں بھی خرف (ذہنی زوال) کا شکار نہیں ہوتا۔"*

`اور عبدالملک بن عمیر رحمہ اللّٰہ کا قول ہے:`
*"سب لوگوں میں سب سے زیادہ مضبوط عقلیں قرآن پڑھنے والوں کی ہوتی ہیں۔"*
📖 کتاب: العمر والشيب، ابن ابی الدنیا (ص 75)

27/11/2025

دو یہودیوں کا واقعہ۔
۔
۔
۔
۔
۔

25/11/2025

*زمانۂ جدید کی تیزگامی نے اگرچہ عالمِ انسانیت کو ظاہری تمدّن کی چمک سے آراستہ کر دیا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس برق رفتار ترقی کے پسِ پردہ ایک ایسی ہیبت ناک تاریکی بھی پنہاں ہے، جو جاہلیتِ اَوّلٰی کے اندھیروں کی یاد تازہ کرتی ہے۔ آج بھی وقت کا سیلِ رواں اپنی گردشوں میں ایسی بےرُبطی اور ایسی بےخودی لیے بہہ رہا ہے کہ انسان کے ہوش و خرد کے محرابوں میں اضطراب کے سانپ پھنکارتے محسوس ہوتے ہیں، اور ہر شعور کی شمع گرد و غبارِ کثرت میں دھندلا پڑ جاتی ہے۔*

*اسی آشوبِ عصر میں مسافرِ زمانہ کا سب سے کربناک امتحان ریل کے جرنل ڈبّے میں رقم ہوتا ہے وہی جرنل ڈبا جو بظاہر سفر کی آسانی کا پیغام لیے چلتا ہے مگر حقیقت میں اپنے اندر صدیوں کی بدنظمی، افلاس، اور انسانی تنگی کا مرثیہ چھپائے ہوتا ہے۔ وہاں ہر سانس گویا کرب کا ایک نیا باب کھولتی ہے، ہر چہرہ مسافت کے زخموں سے اٹا ہوا، اور ہر قدم ہجوم کے سیلاب میں اپنی ہستی کو گم کیا ہوا نظر آتا ہے۔*

*طلباء کی بےبسی تو اس ڈبّے میں سب سے زیادہ نوحہ کناں دکھائی دیتی ہے وہی نوجوان جن کے ذوقِ تعلیم پر افلاس کے پہاڑ ٹوٹتے ہیں، اور جو محض چند سکے بچانے کی خاطر اپنی جانوں کو ہجوم کے جنگل میں یوں گم کر دیتے ہیں کہ گویا زندگانی کی قیمت اُن پر واجب بھی نہیں۔ دروازوں پر لٹکتے، کھڑکیوں سے جھولتے، چھتوں پر بیٹھے یہ معصوم ارواح اپنی قسمت کے تھپیڑوں کو یوں جھیلتی ہیں کہ دل کا ہر گوشہ لرز اٹھتا ہے۔*
*اور تعجب کہ یہ تکلیف صاحبِ حیثیت طلباء پر بھی مساوی طور پر سایہ فگن ہے؛ وہ جو آسائش کے اہل ہیں، مگر جرنل ڈبّے کی بدنظمی کا دامن پھر بھی اُنہیں اپنی جانب کھینچ لیتا ہے۔ اس ابتری نے امیر و غریب، دونوں کے حالات کو یکساں پست کر کے رکھ دیا ہے۔*

*گویا ریل کا جرنل ڈبا ایک ایسا سیلِ بےرحم ہے جو انسانی ہستیوں کو کچلتا ہوا گزرتا ہے، اور اس بےرحم گردش میں انسان کی حقیقت و حرمت دونوں پامال ہوتی چلی جاتی ہیں۔*

*مگر ان تمام ہولناکیوں کے مقابل جب میں گزشتہ دس برس سے اپنی بائیک پر سفر کی داستانِ زیست کو یاد کرتا ہوں، تو دل گویا سکون کی کسی گمنام وادی میں اُتر جاتا ہے۔ بائیک کا سفر اگرچہ بظاہر سادہ اور غیر اہم دکھائی دیتا ہے لیکن حقیقت میں آزادی کا وہ چراغ ہے جو مسافر کے رُوحانی افق پر اپنی روشنی سے عجب مسرّت گھول دیتا ہے۔*
*ہَوا کا لمس، سڑک کی روانی، اور تنہائی کی وہ پرکیف خاموشی جس میں انسان خود سے ہمکلام ہو جاتا ہے یہ سب ایسی نعمتیں ہیں کہ جرنل ڈبا اُن کی گونج تک بھی نہیں رکھتا۔ بائیک پر مسافر زمانے کے شور سے کٹ کر ایک ایسی آزاد دنیا میں داخل ہوتا ہے جہاں ہر موڑ اپنے اندر معنی رکھتا ہے اور ہر رفتار ایک نیا احساس عطا کرتی ہے۔*

*یوں مقابلتاً جرنل ڈبّے کا سفر انسانی روح کو جتنا مسخ کرتا ہے، بائیک کا سفر اتنا ہی اسے مرتب، آزاد اور تازہ دم کرتا ہے۔*

*یہ تحریر ایک ایسے دل کی صدا ہے جو ہجوم کے صحرا میں گھٹ کر رہ جاتا ہے مگر بائیک کی تنہائی میں اپنی گم شدہ اصل کو پا لیتا ہے۔*
*اور یہ خلاصہ ہے عصرِ جدید کے سفر نامے کاجس میں جرنل ڈبا تاریکی کی علامت اور بائیک روشنی کا استعارہ بن کر سامنے آتا ہے۔**

24/11/2025

موت پر کچھ اشعار۔
۔
۔
۔
۔

20/06/2024

𝘚𝘖𝘏𝘉𝘈𝘛 𝘌 𝘠𝘈𝘒𝘌𝘌𝘕..❤💫

20/02/2023



20/01/2023

Imaan ko Taza rakhnai kaleya nimaaz||Dr.Israr Ahmed.

Address

Kupwara
193223

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Maqsad - e - Zindagi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Maqsad - e - Zindagi:

Share