25/11/2025
*زمانۂ جدید کی تیزگامی نے اگرچہ عالمِ انسانیت کو ظاہری تمدّن کی چمک سے آراستہ کر دیا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس برق رفتار ترقی کے پسِ پردہ ایک ایسی ہیبت ناک تاریکی بھی پنہاں ہے، جو جاہلیتِ اَوّلٰی کے اندھیروں کی یاد تازہ کرتی ہے۔ آج بھی وقت کا سیلِ رواں اپنی گردشوں میں ایسی بےرُبطی اور ایسی بےخودی لیے بہہ رہا ہے کہ انسان کے ہوش و خرد کے محرابوں میں اضطراب کے سانپ پھنکارتے محسوس ہوتے ہیں، اور ہر شعور کی شمع گرد و غبارِ کثرت میں دھندلا پڑ جاتی ہے۔*
*اسی آشوبِ عصر میں مسافرِ زمانہ کا سب سے کربناک امتحان ریل کے جرنل ڈبّے میں رقم ہوتا ہے وہی جرنل ڈبا جو بظاہر سفر کی آسانی کا پیغام لیے چلتا ہے مگر حقیقت میں اپنے اندر صدیوں کی بدنظمی، افلاس، اور انسانی تنگی کا مرثیہ چھپائے ہوتا ہے۔ وہاں ہر سانس گویا کرب کا ایک نیا باب کھولتی ہے، ہر چہرہ مسافت کے زخموں سے اٹا ہوا، اور ہر قدم ہجوم کے سیلاب میں اپنی ہستی کو گم کیا ہوا نظر آتا ہے۔*
*طلباء کی بےبسی تو اس ڈبّے میں سب سے زیادہ نوحہ کناں دکھائی دیتی ہے وہی نوجوان جن کے ذوقِ تعلیم پر افلاس کے پہاڑ ٹوٹتے ہیں، اور جو محض چند سکے بچانے کی خاطر اپنی جانوں کو ہجوم کے جنگل میں یوں گم کر دیتے ہیں کہ گویا زندگانی کی قیمت اُن پر واجب بھی نہیں۔ دروازوں پر لٹکتے، کھڑکیوں سے جھولتے، چھتوں پر بیٹھے یہ معصوم ارواح اپنی قسمت کے تھپیڑوں کو یوں جھیلتی ہیں کہ دل کا ہر گوشہ لرز اٹھتا ہے۔*
*اور تعجب کہ یہ تکلیف صاحبِ حیثیت طلباء پر بھی مساوی طور پر سایہ فگن ہے؛ وہ جو آسائش کے اہل ہیں، مگر جرنل ڈبّے کی بدنظمی کا دامن پھر بھی اُنہیں اپنی جانب کھینچ لیتا ہے۔ اس ابتری نے امیر و غریب، دونوں کے حالات کو یکساں پست کر کے رکھ دیا ہے۔*
*گویا ریل کا جرنل ڈبا ایک ایسا سیلِ بےرحم ہے جو انسانی ہستیوں کو کچلتا ہوا گزرتا ہے، اور اس بےرحم گردش میں انسان کی حقیقت و حرمت دونوں پامال ہوتی چلی جاتی ہیں۔*
*مگر ان تمام ہولناکیوں کے مقابل جب میں گزشتہ دس برس سے اپنی بائیک پر سفر کی داستانِ زیست کو یاد کرتا ہوں، تو دل گویا سکون کی کسی گمنام وادی میں اُتر جاتا ہے۔ بائیک کا سفر اگرچہ بظاہر سادہ اور غیر اہم دکھائی دیتا ہے لیکن حقیقت میں آزادی کا وہ چراغ ہے جو مسافر کے رُوحانی افق پر اپنی روشنی سے عجب مسرّت گھول دیتا ہے۔*
*ہَوا کا لمس، سڑک کی روانی، اور تنہائی کی وہ پرکیف خاموشی جس میں انسان خود سے ہمکلام ہو جاتا ہے یہ سب ایسی نعمتیں ہیں کہ جرنل ڈبا اُن کی گونج تک بھی نہیں رکھتا۔ بائیک پر مسافر زمانے کے شور سے کٹ کر ایک ایسی آزاد دنیا میں داخل ہوتا ہے جہاں ہر موڑ اپنے اندر معنی رکھتا ہے اور ہر رفتار ایک نیا احساس عطا کرتی ہے۔*
*یوں مقابلتاً جرنل ڈبّے کا سفر انسانی روح کو جتنا مسخ کرتا ہے، بائیک کا سفر اتنا ہی اسے مرتب، آزاد اور تازہ دم کرتا ہے۔*
*یہ تحریر ایک ایسے دل کی صدا ہے جو ہجوم کے صحرا میں گھٹ کر رہ جاتا ہے مگر بائیک کی تنہائی میں اپنی گم شدہ اصل کو پا لیتا ہے۔*
*اور یہ خلاصہ ہے عصرِ جدید کے سفر نامے کاجس میں جرنل ڈبا تاریکی کی علامت اور بائیک روشنی کا استعارہ بن کر سامنے آتا ہے۔**