Anjuman-Tableeghul-Islam Tehsil DH Pora

Anjuman-Tableeghul-Islam Tehsil DH Pora Promoting The True Knowledge Of Ulamay e Ahlus Sunnah Wal Jama'at

16/09/2025

شیر خدا حیدر کرار

دل کی عمیق گہرائیوں سے سب کو دعوت دی جاتی ہے۔
17/08/2025

دل کی عمیق گہرائیوں سے سب کو دعوت دی جاتی ہے۔

Today's Meeting From Anjuman Tableegh ul Islam Tehsil DH Pora...!!
13/08/2025

Today's Meeting From Anjuman Tableegh ul Islam Tehsil DH Pora...!!

16/02/2025

امام اہلسنت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ

ان شاء اللہ تعالیٰ
13/02/2025

ان شاء اللہ تعالیٰ

02/02/2025
29/09/2024

جو شخص ہر وقت بحث برائے بحث اور مناظرہ کا شوق رکھتا ہو وہ داعی نہیں بن سکتا۔
🙏

10/09/2024


میلاد ہی کیوں سیرت کانفرنس کیوں نہیں؟
ہر سال میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موقع پر بدمذہب دیوبندی اوروہابی ایک پوسٹ عام کرتے ہیں کہ فلاں فلاں ہستی کی زندگی میں اتنی مرتبہ بارہ ربیع الاول آیا لیکن انہوں نے میلاد نہیں منایا۔اس لیے یہ میلاد منانا بدعت ہے۔ یعنی ان دیوبندیوں اور وہابیوں کے نزدیک میلاد منانا اس وجہ سے بدعت ہے کہ حضور علیہ السلام ،صحابہ کرام اور بزرگانِ دین سے ثابت نہیں، تو ہم اہل سنت ان سے پوچھتے ہیں کہ اس اصول سے تو سیرت کانفرنس بھی جائز نہیں جو تم لوگ خوب کرتے ہو ۔ میلاد کی اصل تو سنت سے ثابت ہے کہ آپ علیہ السلام ہرپیر روزہ رکھتے تھے اور اسی پیر والے دن روزہ رکھنے کی سنت کو بزرگانِ دین بھی ادا کرتے رہے ہیں لیکن کسی سے بھی سیرت کانفرنس ثابت نہیں ۔پھر مروجہ میلاد جس میں روزے کے علاوہ خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے ،لنگر تقسیم ہوتا،حضور علیہ السلام کی سیرت بیان ہوتی ہے یہ میلاد درج ذیل مستندو معتبر ہستیوں سے ثابت ہے جن کو دیوبندی اور وہابی بھی مانتے ہیں:
ابو الفرج عبد الرحمٰن امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 508ھ میں ہوئی اور وفات 597 ھ میں ،کل 89 سالہ زندگی میں ان سے ایک مرتبہ بھی سیرت کانفرنس ثابت نہیں البتہ میلاد ثابت ہے۔(ملاحظہ ہو:بيان الميلاد النبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )
امام نووی کے شیخ امام ابو شامہ عبد الرحمان رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 599ھ میں ہوئی اور وفات665ھ میں کل 66 سالہ زندگی میں ان سے ایک مرتبہ بھی سیرت کانفرنس ثابت نہیں البتہ میلاد ثابت ہے۔ ( ملاحظہ: الباعث علی انکار البدع والحوادث )
اِمام شمس الدین الذہبی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 673ھ میں ہوئی اور وفات 748ھ میں کل75 سالہ زندگی میں ان سے ایک مرتبہ بھی سیرت کانفرنس ثابت نہیں البتہ میلاد ثابت ہے۔ (ملاحظہ ہو:سیر اعلام النبلاء)
اِمام تقی الدین ابو الحسن السبکی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 683ھ میں ہوئی اور وفات 756ھ میں کل 73 سالہ زندگی میں ان سے ایک مرتبہ بھی سیرت کانفرنس ثابت نہیں البتہ میلاد ثابت ہے۔ (ملاحظہ ہو: روح البیان)
سلطان صلاح الدین ایوبی کے بہنوئی شاہ ابوسعید المظفر رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 549ھ میں ہوئی اور وفات 630ھ میں کل 81 سالہ زندگی میں ان سے ایک مرتبہ بھی سیرت کانفرنس ثابت نہیں البتہ میلاد ثابت ہے۔ (ملاحظہ ہو:البدایہ والنہایہ)
ابن الحاج رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1256 ء میں ہوئی اور وفات 1336 ء میں، کل 80 سالہ زندگی میں ان سے ایک مرتبہ بھی سیرت کانفرنس ثابت نہیں البتہ میلاد ثابت ہے۔(ملاحظہ ہو:المدخل )
امام الحافظ شمس الدین سخاوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 831ھ میں ہوئی اور وفات 902ھ میں، کل 71 سالہ زندگی میں ان سے ایک مرتبہ بھی سیرت کانفرنس ثابت نہیں البتہ میلاد ثابت ہے۔(ملاحظہ ہو: انسان العیون )
حافظ ابن حجر عسقلانی کی ولادت 773میں ۔اور وفات 852ھ میں کل 79 سالہ زندگی میں ان سے ایک مرتبہ بھی سیرت کانفرنس ثابت نہیں البتہ میلاد ثابت ہے۔ (ملاحظہ ہو:حسن المقصد في عمل المولد)
امام شہاب الدین ابو العباس قسطلانی کی ولادت 851میں اور وفات 923ھ میں کل 72 سالہ زندگی میں ان سے ایک مرتبہ بھی سیرت کانفرنس ثابت نہیں البتہ میلاد ثابت ہے۔ (ملاحظہ ہو: المواہب اللدنیہ)
امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 849ھ میں ہوئی اور وفات 911ھ میں، کل 62 سالہ زندگی میں ان سے ایک مرتبہ بھی سیرت کانفرنس ثابت نہیں البتہ میلاد ثابت ہے۔(ملاحظہ ہو:روح البیان)
امام نور الدین حلبی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 975ھ میں ہوئی اور وفات 1043ھ میں،کل 68 سالہ زندگی میں ان سے ایک مرتبہ بھی سیرت کانفرنس ثابت نہیں البتہ میلاد ثابت ہے۔(ملاحظہ ہو: انسان العیون )
علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1063ھ میں ہوئی اور وفات 1127ھ میں، کل 64 سالہ زندگی میں ان سے ایک مرتبہ بھی سیرت کانفرنس ثابت نہیں البتہ میلاد ثابت ہے۔(ملاحظہ ہو:روح البیان)
امام احمد بن محمد بن علی بن حجر الہیتمی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 909 ھ میں ہوئی اور وفات 974 ھ میں، کل 65 سالہ زندگی میں ان سے ایک مرتبہ بھی سیرت کانفرنس ثابت نہیں البتہ میلاد ثابت ہے۔(ملاحظہ ہو: انسان العیون)
ابو الخير شمس الدين جزري رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 751ھ میں ہوئی اور وفات 833ھ میں، کل 82 سالہ زندگی میں ان سے ایک مرتبہ بھی سیرت کانفرنس ثابت نہیں البتہ میلاد ثابت ہے۔(ملاحظہ ہو:مواہب اللدنیہ )
ملا علی القاری رحمۃ اللہ علیہ ( المتوفی 1014ھ) نے پوری زندگی میں ان سے ایک مرتبہ بھی سیرت کانفرنس ثابت نہیں البتہ میلاد ثابت ہے۔ (ملاحظہ ہو:المورد الروی فی مولد النبی ﷺ ونسبه الطاه)
حضرت مجدد الف ثانی کی ولادت 971ھ میں ہوئی اور وفات 1034ھ میں کل 63سالہ زندگی میں ان سے ایک مرتبہ بھی سیرت کانفرنس ثابت نہیں البتہ میلاد ثابت ہے۔ (ملاحظہ ہو: مکتوبات مجدد الف ثانی)
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت958 ھ میں ہوئی اور وفات1052ھ میں، کل 94 سالہ زندگی میں ان سے ایک مرتبہ بھی سیرت کانفرنس ثابت نہیں البتہ میلاد ثابت ہے۔(ملاحظہ ہو:مدارج النبوۃ)
دیوبندی ،وہابیوں اور اہل سنت سب کے نزدیک ایک مستند شخصیت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت1114ھ میں ہوئی اور وفات 1174ھ میں، کل 60 سالہ زندگی میں ان سے ایک مرتبہ بھی سیرت کانفرنس ثابت نہیں البتہ میلاد ثابت ہے۔(ملاحظہ ہو:فیوض الحرمین )
شاہ ولی اللہ کے والد ابو الفیض عبد الرحیم دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1054ھ میں ہوئی اور وفات 1131ھ میں کل 77 سالہ زندگی میں ان سے ایک مرتبہ بھی سیرت کانفرنس ثابت نہیں البتہ میلاد ثابت ہے۔(ملاحظہ ہو:رسائل شاہ ولی اللہ دہلوی)
دیوبندیوں کے پیر حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1233ھ میں ہوئی اور وفات 1317ھ میں،کل 82 سالہ زندگی میں ان سے ایک مرتبہ بھی سیرت کانفرنس ثابت نہیں البتہ میلاد ثابت ہے۔(ملاحظہ ہو: کلیات امدادیہ)
دیوبندی مولوی خلیل احمد سہارنپوری انبیٹھوی 1852ء کو پیدا ہوا اور وفات 1927ء میں ہوئی ، کل 75 سالہ زندگی میں اس سے ایک مرتبہ بھی سیرت کانفرنس ثابت نہیں البتہ میلاد ثابت ہے۔(ملاحظہ ہو: المہند )
دیوبندیوں کا امام اشرف علی تھانوی 1280ھ کو پیدا ہوا اور 1362ھ کو وفات ہوئی تو کل 82 سالہ زندگی میں ان سے ایک مرتبہ بھی سیرت کانفرنس ثابت نہیں البتہ میلاد ثابت ہے۔(ملاحظہ ہو:مجالس حکیم الامت)
اب ہم پوچھتے ہیں:
بیان کردہ تمام علماء دیوبندی وہابیوں کے نزدیک مستند ہیں یا نہیں؟ اگر ہیں تو ان کی پیروی کیوں نہیں؟
اگر میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدعت اور سیرت کانفرنس نیکی کا کام تھا تو ان بیان کردہ علماء نے میلاد کیوں منایا یا اسے جائز کیوں کہا اور سیرت کانفرنس جیسی اہم نیکی کیوں چھوڑ دی کیا ان میں نیکیوں کی رغبت موجودہ وہابیوں ،دیوبندیوں سے کم تھی؟
اگر یہ سب علماء میلاد منانے یا اسے جائز کہنے کے سبب گناہ گار و بدعتی ہوئے تو موجودہ دیوبندی وہابیوں کا ان کی پیروی کرنا اور ان کی کتب کے حوالے بطور دلیل دینا کیسا؟
وہابی ،دیوبندی اگر تو قرآن وسنت اور اسلاف کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے والے ہوں گے تو ضرور میلاد کو بدعت کہنا چھوڑ دیں گے اور اگر ہمیشہ کی طرح ہٹ دھرمی کریں گے تو اپنے مطلب کی احادیث سے غلط معنی لے کر بقیہ احادیث و اصول کا انکار کر کے اپنے خود ساختہ اصولوں سے میلاد کو بدعت کہتے رہیں گے اور خود سیرت کانفرنسیں کرتے رہیں گے اور ان دیوبندی،فرقوں سے تعلق رکھنی والی جاہل عوام ہمیشہ کی طرح ہرسال پھر وہی پرانی پوسٹیں بے شرمی سے وائرل کرتی رہے گی کہ فلاں کی زندگی میں اتنی مرتبہ بارہ ربیع الاول آیا،فلاں کی زندگی میں اتنی مرتبہ انہوں نے نہیں منایا ،اہل سنت کیوں مناتے ہیں؟ وہ کیا حضور علیہ السلام سے محبت نہ کرتے تھے؟ وہ زیادہ نیکیاں کمانے میں کیا رغبت نہ رکھتے تھے؟وغیرہ(پیشکش: مفتی محمد انس رضا قادری)

07/09/2024

Address

Kulgam
NOORABAD

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Anjuman-Tableeghul-Islam Tehsil DH Pora posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Anjuman-Tableeghul-Islam Tehsil DH Pora:

Share