Idara Roohani Imdad

Idara Roohani Imdad Online Centre Of Spiritual Healing & Guidance مرکز روحانی علاج و رہبری e-mail: [email protected]
Skype-sufiimranrazvee. Mobile # 0091-9883021668

24/05/2026
24/05/2026

چند شریر کفار
جو کفار مکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی دشمنی اور ایذارسانی میں بہت زیادہ سرگرم تھے۔ ان میں سے چند شریروں کے نام یہ ہیں۔(۱)ابو لہب(۲)ابو جہل(۳)اسود بن عبد یغوث(۴)حارث بن قیس بن عدی (۵)ولید بن مغیرہ(۶)امیہ بن خلف(۷) ابی بن خلف(۸)ابو قیس بن فاکہہ (۹) عاص بن وائل(۱۰) نضربن حارث(۱۱)منبہ بن الحجاج(۱۲) زہیر بن ابی امیہ(۱۳)سائب بن صیفی(۱۴)عدی بن حمرا (۱۵)اسود بن عبدالاسد (۱۶) عاص بن سعید بن العاص(۱۷)عاص بن ہاشم(۱۸)عقبہ بن ابی معیط (۱۹)حکم بن ابی العاص۔ یہ سب کے سب حضور رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پڑوسی تھے اور ان میں سے اکثر بہت ہی مالدار اور صاحب اقتدار تھے اور دن رات سرور کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ایذارسانی میں مصروف کار رہتے تھے۔ (نعوذباللہ من ذالک)

مسلمانوں پر مظالم
حضور رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ غریب مسلمانوں پر بھی کفار مکہ نے ایسے ایسے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے کہ مکہ کی زمین بلبلا اُٹھی۔ یہ آسان تھا کہ کفار مکہ ان مسلمانوں کو دم زدن میں قتل کر ڈالتے مگر اس سے ان کافروں کے جوش انتقام کا نشہ نہیں اتر سکتا تھا کیونکہ کفار اس بات میں اپنی شان سمجھتے تھے کہ ان مسلمانوں کو اتنا ستاؤ کہ وہ اسلام کو چھوڑ کر پھر شرک و بت پرستی کرنے لگیں۔ اس لئے قتل کر دینے کی بجائے کفار مکہ مسلمانوں کو طرح طرح کی سزاؤں اور ایذا رسانیوں کے ساتھ ستاتے تھے۔ مگر خدا کی قسم! شراب توحید کے ان مستوں نے اپنے استقلال و استقامت کا وہ منظر پیش کر دیا کہ پہاڑوں کی چوٹیاں سر اٹھا اٹھا کر حیرت کے ساتھ ان بلاکشانِ اسلام کے جذبۂ استقامت کا نظارہ کرتی رہیں۔ سنگدل،بے رحم اور درندہ صفت کافروں نے ان غریب و بیکس مسلمانوں پر جبرو اکراہ اور ظلم و ستم کا کوئی دقیقہ باقی نہیں چھوڑا مگر ایک مسلمان کے پائے استقامت میں بھی ذرہ برابر تزلزل نہیں پیدا ہوااور ایک مسلمان کا بچہ بھی اسلام سے منہ پھیر کر کافر و مرتد نہیں ہوا۔ کفار مکہ نے ان غرباء مسلمین پر جو روجفاکاری کے بے پناہ اندوہناک مظالم ڈھائے اور ایسے ایسے روح فرساء اور جاں سوز عذابوں میں مبتلا کیا کہ اگر ان مسلمانوں کی جگہ پہاڑ بھی ہوتا تو شاید ڈگمگانے لگتا۔ صحرائے عرب کی تیز دھوپ میں جب کہ وہاں کی ریت کے ذرات تنور کی طرح گرم ہو جاتے۔ ان مسلمانوں کی پشت کو کوڑوں کی مار سے زخمی کرکے اس جلتی ہوئی ریت پر پیٹھ کے بل لٹاتے اور سینوں پر اتنا بھاری پتھر رکھ دیتے کہ وہ کروٹ نہ بدلنے پائیں لوہے کو آگ میں گرم کرکے ان سے ان مسلمانوں کے جسموں کو داغتے، پانی میں اس قدرڈبکیاں دیتے کہ ان کا دم گھٹنے لگتا ۔چٹائیوں میں ان مسلمانوں کو لپیٹ کر ان کی ناکوں میں دھواں دیتے جس سے سانس لینا مشکل ہو جاتا اور وہ کرب و بے چینی سے بدحواس ہو جاتے۔

حضرت خباب بن الارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ اس زمانے میں اسلام لائے جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت ارقم بن ابوارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر میں مقیم تھے اور صرف چند ہی آدمی مسلمان ہوئے تھے۔ قریش نے ان کو بے حد ستایا۔ یہاں تک کہ کوئلے کے انگاروں پر ان کو چت لٹایا اور ایک شخص ان کے سینے پر پاؤں رکھ کر کھڑا رہا۔ یہاں تک کہ ان کی پیٹھ کی چربی اور رطوبت سے کوئلے بجھ گئے ۔برسوں کے بعد جب حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ واقعہ حضرت امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے بیان کیا تو اپنی پیٹھ کھول کر دکھائی ۔پوری پیٹھ پر سفید سفید داغ دھبے پڑے ہوئے تھے ۔ اس عبرت ناک منظر کو دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دل بھر آیا اور وہ رو پڑے۔(طبقات ابن سعد ج 3 تذکرہ خباب)

حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوجو امیہ بن خلف کافر کے غلام تھے۔ان کی گردن میں رسی باندھ کر کوچہ و بازار میں ان کو گھسیٹا جاتا تھا۔ ان کی پیٹھ پر لاٹھیاں برسائی جاتی تھیں اور ٹھیک دوپہر کے وقت تیز دھوپ میں گرم گرم ریت پر ان کو لٹا کر اتنا بھاری پتھر ان کی چھاتی پر رکھ دیا جاتا تھا کہ ان کی زبان باہر نکل آتی تھی۔ امیہ کافر کہتا تھا کہ اسلام سے باز آ جاؤ ورنہ اسی طرح گھٹ گھٹ کر مر جاؤ گے۔ مگر اس حال میں بھی حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیشانی پر بل نہیں آتا تھا بلکہ زور زور سے '' اَحَد، اَحَد '' کا نعرہ لگاتے تھے اور بلند آواز سے کہتے تھے کہ خدا ایک ہے۔ خدا ایک ہے۔

(سیرت ابن ہشام ج1 ص317 تاص318)

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گرم گرم بالو پر چت لٹا کر کفار قریش اس قدر مارتے تھے کہ یہ بے ہوش ہو جاتے تھے۔ ان کی والدہ حضرت بی بی سُمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اسلام لانے کی بنا پر ابو جہل نے ان کی ناف کے نیچے ایسا نیزہ مارا کہ یہ شہید ہوگئیں۔ حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد حضرت یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی کفار کی مار کھاتے کھاتے شہید ہو گئے۔ حضرت صہیب رومی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کفار مکہ اس قدر طرح طرح کی اذیت دیتے اور ایسی ایسی مار دھاڑ کرتے کہ یہ گھنٹوں بے ہوش رہتے۔ جب یہ ہجرت کرنے لگے تو کفار مکہ نے کہا کہ تم اپنا سارا مال و سامان یہاں چھوڑ کر مدینہ جا سکتے ہو۔ آپ خوشی خوشی دنیا کی دولت پر لات مار کر اپنی متاع ایمان کو ساتھ لے کر مدینہ چلے گئے۔

حضرت ابوفکیہہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ صفوان بن امیہ کافر کے غلام تھے اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ہی مسلمان ہوئے تھے ۔جب صفوان کو ان کے اسلام کا پتا چلا تو اس نے ان کے گلے میں رسی کا پھندہ ڈال کر ان کو گھسیٹا اور گرم جلتی ہوئی زمین پر ان کو چت لٹا کر سینے پر وزنی پتھر رکھ دیا جب ان کو کفار گھسیٹ کر لے جا رہے تھے راستہ میں اتفاق سے ایک گبریلا نظر پڑا۔ امیہ کافر نے طعنہ مارتے ہوئے کہا کہ ''دیکھ تیرا خدا یہی تو نہیں ہے۔'' حضرت ابو فکیہہ نے فرمایا کہ'' اے کافر کے بچے! خاموش میرا اور تیرا خدا اللہ ہے۔'' یہ سن کر امیہ کافر غضب ناک ہو گیا اور اس زور سے ان کا گلا گھونٹا کہ وہ بے ہوش ہو گئے اور لوگوں نے سمجھا کہ ان کا دم نکل گیا۔

اسی طرح حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی اس قدر مارا جاتا تھا کہ ان کے جسم کی بوٹی بوٹی درد مند ہو جاتی تھی۔

حضرت بی بی لبینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو لونڈی تھیں ۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب کفر کی حالت میں تھے اس غریب لونڈی کو اس قدر مارتے تھے کہ مارتے مارتے تھک جاتے تھے مگر حضرت لبینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اُف نہیں کرتی تھیں بلکہ نہایت جرأت و استقلال کے ساتھ کہتی تھیں کہ اے عمر! اگر تم خدا کے سچے رسول پر ایمان نہیں لاؤ گے تو خدا تم سے ضرور اس کا انتقام لے گا۔

حضرت زنیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھرانے کی باندی تھیں۔ یہ مسلمان ہوگئیں تو ان کو اس قدر کافروں نے مارا کہ ان کی آنکھیں جاتی رہیں۔ مگر خداوند تعالیٰ نے حضورِاقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی دعا سے پھر ان کی آنکھوں میں روشنی عطا فرما دی تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ محمد(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)کے جادو کا اثر ہے۔(زرقانی علی المواہب ج1 ص270)

اسی طرح حضرت بی بی ''نہدیہ'' اور حضرت بی بی ام عبیس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بھی باندیاں تھیں۔ اسلام لانے کے بعد کفار مکہ نے ان دونوں کو طرح طرح کی تکلیفیں دے کر بے پناہ اذیتیں دیں مگر یہ اللہ والیاں صبر و شکر کے ساتھ ان بڑ ی بڑی مصیبتوں کو جھیلتی رہیں اور اسلام سے ان کے قدم نہیں ڈگمگائے۔

حضرت یارغار مصطفی ابوبکر صدیق با صفا رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کس کس طرح اسلام پر اپنی دولت نثار کی اس کی ایک جھلک یہ ہے کہ آپ نے ان غریب و بے کس مسلمانوں میں سے اکثر کی جان بچائی۔ آپ نے حضرت بلال و عامر بن فہیرہ و ابو فکیہہ و لبینہ و زنیرہ و نہدیہ وام عنیس رضی اللہ تعالیٰ عنہم ان تمام غلاموں کو بڑی بڑی رقمیں دے کر خریدااور سب کو آزاد کر دیااور ان مظلوموں کو کافروں کی ایذاؤں سے بچا لیا۔(زرقانی علی المواہب و سیرت ابن ہشام ج1 ص319)

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب دامن اسلام میں آئے تو مکہ میں ایک مسافر کی حیثیت سے کئی دن تک حرم کعبہ میں رہے ۔یہ روزانہ زور زور سے چلا چلا کر اپنے اسلام کا اعلان کرتے تھے اور روزانہ کفار قریش ان کو اس قدر مارتے تھے کہ یہ لہولہان ہو جاتے تھے اور ان دنوں میں آب زمزم کے سوا ان کو کچھ بھی کھانے پینے کو نہیں ملا۔ (بخاری ج1 ص544 باب اسلام ابی ذر)

واضح رہے کہ کفار مکہ کا یہ سلوک صرف غریبوں اور غلاموں ہی تک محدود نہیں تھابلکہ اسلام لانے کے جرم میں بڑے بڑے مالداروں اور رئیسوں کو بھی ان ظالموں نے نہیں بخشا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو شہر مکہ کے ایک متمول اور ممتاز معززین میں سے تھے مگر ان کو بھی حرم کعبہ میں کفار قریش نے اس قدر مارا کہ ان کا سر خون سے لت پت ہو گیا۔ اسی طرح حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو نہایت مالدار اور صاحب اقتدار تھے۔ جب یہ مسلمان ہوئے تو غیروں نے نہیں بلکہ خود ان کے چچا نے ان کو رسیوں میں جکڑ کر خوب خوب مارا۔ حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ بڑے رعب اور دبدبہ کے آدمی تھے مگر انہوں نے جب اسلام قبول کیا تو ان کے چچا ان کو چٹائی میں لپیٹ کر ان کی ناک میں دھواں دیتے تھے جس سے ان کا دم گھٹنے لگتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چچا زاد بھائی اور بہنوئی حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کتنے جاہ و اعزاز والے رئیس تھے مگر جب ان کے اسلام کا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پتا چلا تو ان کو رسی میں باندھ کر مارا اور ساتھ ہی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی بہن حضرت بی بی فاطمہ بنت الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہاکو بھی اس زور سے تھپڑ مارا کہ ان کے کان کے آویزے گر پڑے اور چہرے پر خون بہہ نکلا۔

20/05/2026

رحمت عالم ﷺ پر ظلم و ستم
کفارِ مکہ خاندان بنو ہاشم کے انتقام اور لڑائی بھڑک اٹھنے کے خوف سے حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کوقتل تونہیں کرسکے لیکن طرح طرح کی تکلیفوں اور ایذا رسانیوں سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر ظلم و ستم کا پہاڑ توڑنے لگے۔ چنانچہ سب سے پہلے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کاہن، ساحر، شاعر، مجنون ہونے کا ہرکوچہ و بازار میں زور دار پروپیگنڈہ کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پیچھے شریر لڑکوں کا غول لگا دیاجو راستوں میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر پھبتیاں کستے، گالیاں دیتے اور یہ دیوانہ ہے، یہ دیوانہ ہے ،کا شور مچا مچا کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اوپر پتھر پھینکتے۔ کبھی کفار مکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے راستوں میں کانٹے بچھاتے۔ کبھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر نجاست ڈال دیتے۔ کبھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو دھکا دیتے۔ کبھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس اور نازک گردن میں چادر کا پھندہ ڈال کر گلا گھونٹنے کی کوشش کرتے۔روایت ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حرم کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک دم سنگدل کافر عقبہ بن ابی معیط نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے گلے میں چادر کا پھندہ ڈال کر اس زور سے کھینچا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا دم گھٹنے لگا۔ چنانچہ یہ منظر دیکھ کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے قرار ہو کر دوڑ پڑے اور عقبہ بن ابی معیط کو دھکا دے کر دفع کیا اور یہ کہا کہ کیا تم لوگ ایسے آدمی کو قتل کرتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ ''میرا رب اللہ ہے۔'' اس دھکم دھکا میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کفار کو مارا بھی اور کفار کی مار بھی کھائی۔ (زرقانی ج1 ص252و بخاری ج1 ص544)

کفار آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے معجزات اور روحانی تاثیرات و تصرفات کو دیکھ کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو سب سے بڑا جادو گر کہتے۔ جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قرآن شریف کی تلاوت فرماتے تو یہ کفار قرآن اور قرآن کو لانے والے(جبریل) اور قرآن کو نازل فرمانے والے(اللہ تعالیٰ) کو اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے۔ اور گلی کوچوں میں پہرہ بٹھا دیتے کہ قرآن کی آواز کسی کے کان میں نہ پڑنے پائے اور تالیاں پیٹ پیٹ کر اور سیٹیاں بجا بجا کر اس قدر شوروغل مچاتے کہ قرآن کی آواز کسی کو سنائی نہیں دیتی تھی۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جب کہیں کسی عام مجمع میں یا کفار کے میلوں میں قرآن پڑھ کر سناتے یا دعوت ایمان کا وعظ فرماتے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا چچاابولہب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پیچھے چلا چلا کر کہتا جاتا تھا کہ اے لوگو! یہ میرا بھتیجا جھوٹا ہے،یہ دیوانہ ہو گیا ہے،تم لوگ اس کی کوئی بات نہ سنو۔(معاذاللہ)

ایک مرتبہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ''ذوالمجاز'' کے بازار میں دعوت اسلام کا وعظ فرمانے کے لئے تشریف لے گئے اور لوگوں کو کلمۂ حق کی دعوت دی تو ابو جہل آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر دھول اڑاتا جاتا تھا اور کہتا تھا کہ اے لوگو! اس کے فریب میں مت آنا،یہ چاہتا ہے کہ تم لوگ لات و عزیٰ کی عبادت چھوڑ دو۔ (مسند امام احمد ج4 وغیرہ)

اسی طرح ایک مرتبہ جب کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حرم کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے عین حالتِ نماز میں ابو جہل نے کہا کہ کوئی ہے؟ جو آل فلاں کے ذبح کیے ہوئے اونٹ کی اوجھڑی لا کر سجدہ کی حالت میں ان کے کندھوں پر رکھ دے۔ یہ سن کر عقبہ بن ابی معیط کافر اٹھااور اس اوجھڑی کو لا کر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دوش مبارک پر رکھ دیا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سجدہ میں تھے دیر تک اوجھڑی کندھے اور گردن پر پڑی رہی اور کفار ٹھٹھا مار مار کر ہنستے رہے اور مارے ہنسی کے ایک دوسرے پر گر گر پڑتے رہے آخر حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو ان دنوں ابھی کمسن لڑکی تھی آئیں اور ان کافروں کو برا بھلا کہتے ہوئے اس اوجھڑی کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دوش مبارک سے ہٹا دیا ۔حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قلب مبارک پر قریش کی اس شرارت سے انتہائی صدمہ گزرا اور نماز سے فارغ ہو کر تین مرتبہ یہ دعا مانگی کہ '' اَللّٰھُمَّ عَلَیْکَ بِقُرَیْشٍ '' یعنی اے اللہ! تو قریش کو اپنی گرفت میں پکڑ لے، پھر ابو جہل،عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، امیہ بن خلف، عمارہ بن ولید کا نام لے کر دعا مانگی کہ الٰہی! تو ان لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم! میں نے ان سب کافروں کو جنگ بدر کے دن دیکھا کہ ان کی لاشیں زمین پر پڑی ہوئی ہیں۔ پھر ان سب کفار کی لاشوں کو نہایت ذلت کے ساتھ گھسیٹ کر بدر کے ایک گڑھے میں ڈال دیا گیااور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان گڑھے والوں پر خدا کی لعنت ہے۔(بخاری ج1 ص74 باب المرأۃ تطرح الخ)

13/05/2026

نادر علم
حضرت سیدنا عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: ایک شخص نے سید عالم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کی : ’’یارسول اللہ ﷺ! مجھے نادر علوم میں سے کچھ سکھا دیجئے!‘‘آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ تم نے اصل علم میں کیا سیکھا ہے جو نادر علوم طلب کر رہے ہو ؟‘‘ اس نے عرض کی: ’’اصل علم کیا ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا:’’ کیا تم نےاللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرلی ہے ؟‘‘ اس نے عرض کی: ’’جی ہاں!‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا:’’ پھر تم نے اس کا کتنا حق ادا کیا ہے ؟‘‘ اس نے عرض کی:’’ جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا اتنا اداکیا ہے۔‘‘ آپ ﷺ نے استفسار فرمایا:’’ کیا تم نے موت کو پہچان لیاہے؟‘‘ اس نے جواب دیا:’’ جی ہاں!‘‘فرمایا:’’تم نے اس کے لئے کس قدرتیاری کی؟‘‘اس نے عرض کی:’’جتنی اللہ تعالیٰ نے چاہی اتنی میں نے موت کی تیاری کرلی ہے۔‘‘توآپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جاؤ پہلے ان چیزوں کو پختہ کرو پھر آنا میں تمہیں نادر علوم سکھادو ں گا۔‘‘

10/05/2026

دعوتِ اسلام کے لئے تین دور
پہلا دور
تین برس تک حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم انتہائی پوشیدہ طور پر نہایت رازداری کے ساتھ تبلیغ اسلام کا فرض ادا فرماتے رہے اور اس درمیان میں عورتوں میں سب سے پہلے حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہااور آزاد مردوں میں سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور لڑکوں میں سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور غلاموں میں سب سے پہلے زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایمان لائے۔ پھر ـحضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دعوت و تبلیغ سے حضرت عثمان، حضرت زبیر بن العوام، حضرت عبدالرحمن بن عوف،حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی جلد ہی دامن اسلام میں آ گئے۔ پھر چند دنوں کے بعد حضرت ابو عبیدہ بن الجراح، حضرت ابو سلمہ عبداللہ بن عبدالاسد، حضرت ارقم بن ابوارقم، حضرت عثمان بن مظعون اور ان کے دونوں بھائی حضرت قدامہ اور حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی اسلام میں داخل ہو گئے۔ پھر کچھ مدت کے بعد حضرت ابو ذر غفاری و حضرت صہیب رومی، حضرت عبیدہ بن الحارث بن عبدالمطلب، سعید بن زید بن عمرو بن نفیل اور ان کی بیوی فاطمہ بنت الخطاب حضرت عمر کی بہن رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی چچی حضرت ام الفضل حضرت عباس بن عبدالمطلب کی بیوی اور حضرت اسماء بنت ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی مسلمان ہو گئیں ۔ان کے علاوہ دوسرے بہت سے مردوں اور عورتوں نے بھی اسلام لانے کا شرف حاصل کر لیا۔ (زرقانی علی المواہب ج1 ص246)
واضح رہے کہ سب سے پہلے اسلام لانے والے جو''سابقین اولین ''کے لقب سے سرفراز ہیں ان خوش نصیبوں کی فہرست پر نظر ڈالنے سے پتا چلتا ہے کہ سب سے پہلے دامن اسلام میں آنے والے وہی لوگ ہیں جو فطرۃً نیک طبع اور پہلے ہی سے دین حق کی تلاش میں سرگرداں تھے اور کفار مکہ کے شرک و بت پرستی اور مشرکانہ رسوم جاہلیت سے متنفر اور بیزار تھے۔ چنانچہ نبی برحق کے دامن میں دین حق کی تجلی دیکھتے ہی یہ نیک بخت لوگ پروانوں کی طرح شمع نبوت پر نثار ہونے لگے اور مشرف بہ اسلام ہوگئے۔
دُوسرا دور
تین برس کی اس خفیہ دعوت اسلام میں مسلمانوں کی ایک جماعت تیار ہوگئی اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر سورۂ ''شعراء'' کی آیت وَ اَنۡذِرْ عَشِیۡرَتَکَ الْاَقْرَبِیۡنَ ﴿۲۱۴﴾ نازل فرمائی اور خداوند تعالیٰ کا حکم ہوا کہ اے محبوب! آپ اپنے قریبی خاندان والوں کو خدا سے ڈرائیے تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک دن کوہ صفا کی چوٹی پر چڑھ کر ''یامعشر قریش'' کہہ کر قبیلہ قریش کو پکارا۔جب سب قریش جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے میری قوم! اگر میں تم لوگوں سے یہ کہہ دوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر چھپا ہوا ہے جو تم پر حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم لوگ میری بات کا یقین کر لو گے؟ تو سب نے ایک زبان ہو کر کہا کہ ہاں! ہاں! ہم یقینا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بات کا یقین کر لیں گے کیونکہ ہم نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ہمیشہ سچا اور امین ہی پایا ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا تو پھر میں یہ کہتا ہوں کہ میں تم لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرا رہا ہوں اور اگر تم لوگ ایمان نہ لاؤ گے تو تم پر عذاب الٰہی اتر پڑے گا۔ یہ سن کر تمام قریش جن میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا چچا ابو لہب بھی تھا، سخت ناراض ہو کر سب کے سب چلے گئے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں اول فول بکنے لگے۔ (بخاری ج2 ص702 و عامہ تفاسیر)

تیسرا دور
اب وہ وقت آگیا کہ اعلان نبوت کے چوتھے سال سورئہ حجر کی آیت فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ(2) نازل فرمائی اور حضرت حق جل شانہ، نے یہ حکم فرمایا کہ اے محبوب! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے اس کو علی الاعلان بیان فرمائیے۔ چنانچہ اس کے بعد آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم علانیہ طور پر دین اسلام کی تبلیغ فرمانے لگے۔ اور شرک و بت پرستی کی کھلم کھلا برائی بیان فرمانے لگے۔ اور تمام قریش بلکہ تمام اہل مکہ بلکہ پورا عرب آپ کی مخالفت پر کمر بستہ ہو گیا۔ اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی ایذارسانیوں کا ایک طولانی سلسلہ شروع ہو گیا۔

Address

Kolkata
700009

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Idara Roohani Imdad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Idara Roohani Imdad:

Share