Moqami Jamiat Ahle Hadith-colootola Lal Masjid

Moqami Jamiat Ahle Hadith-colootola Lal Masjid NON PROFIT ORGANIZATION WORK ACCORDING TO QURAN AND HADITH

27/04/2016
23/10/2015
28/01/2015

💲@ 〽: मत पूछिये मुसलमान का हाल..

मस्ज़िदों के लिए सर कटाने को तैयार है..
मगर मस्ज़िद में सर झुकाने को तैयार नहीं।

कहते है कुछ लोग मेरे रग-रग में है नबी नबी
लेकिन पढ़ते है नमाज हफ्ते में कभी-कभी

नबी का नाम सुनते ही झूम जाते है
नबी का हुक्म सुनते ही घूम जाते है!

〽: ना शिया और न सुन्नी की
तक़सीम से मतलब होता है !

हम लोगों के क़ातिल को
केवल मीम से मतलब होता है !!

हम कभी बरेलवी में उलझे
हम कभी वहाबी में उलझे,

हम एक नबी की उम्मत थे
ये कैसी खराबी में उलझे !!

२४ नंबर २६ नंबर के झगड़ों को
घर पर रखिये ,

ईमान की जो दस्तार है
ये इसको अपने सर पर रखिये !!

जो क़ौम के ठेकेदार हैं
मैं उनसे भी गुज़ारिश करता हूँ ,

अब आप भी अपने लब खोलें
बस इतनी सिफारिश करता हूँ !!

ना शहद से मतलब है मुझको
ना नीम से मतलब होता है,

हम लोगों के क़ातिल को
केवल मीम से मतलब होता है !!

गैरों से भी ज़यादा हम सबको
अपने भाई से नफरत है,

एक साथ नमाज़ भी पढ़ ना सकें
अल्लाह ये कैसी इबादत है !

मसलक कि लड़ाई में यारों
मज़हब का तमाशा मत करिये,

जो छोड़ के आक़ा चले गए
उस सब का तमाशा मत करिये !!

मस्जिद के मज़ारों के झगडे
गर बाज़ारों में लाओगे ,

गुजरात मुज़फ्फरनगर है क्या
हर शहर में मारे जाओगे !!

उनको तो हमारे मिटने कि
स्कीम से मतलब होता है !!

हम लोगों के क़ातिल को
केवल मीम से मतलब होता है !

आप तमाम मुस्लिम भाइयों से गुज़ारिश है ।।आप जब भी अपने हाथ दुआ के लिए उठाए मुस्लिमों के हक़ में दुआ करें।।।।
आप जितने भी मुस्लिम ग्रुप से जुड़े है उसमे भी इस गुज़ारिश को फॉरवर्ड करदें।।

14/01/2015

ماں کا پژمردہ چہرہ

ماں بے مثال قربانیوں کا نام ہے.
ماں ایثار وجذبے کا حسین پیکر ہے.
ماں کی عزیمت
ماں کا استقلال
اور صبر وشکیبائی کے جملہ مترادفات ان کے بے لوث جہد کی ستائش کے لئے ناکافی ہیں.
ماں! الفت و محبت کی گہراہیوں اور خلوص وفاکی سچی تصویر ہے.
ان کی الفت میں حنانیت ہے.
محبت کے رنگ کو نام نہیں دیا جاسکتا.
ان کی شفقت طلوع شفق سے زیادہ گہری ہے.
ان کا لطف بہاروں کے حسیں جھونکوں سے زیادہ لطیف ہے.
ماں کی آغوش انسان کو دنیا بھر کے سارے غموں سے دور لے جاتی ہے.
ان کی شفقت بھری ہتھیلی اور جیسے پہاڑ کا سا بوجھ ٹل گیا ہو.
ان کی عنایتیں کہ انسان اس کا قرض اتار نہیں سکتا.
9 ماں شکم کی صعوبت بے نام ہے.
ڈھائی سال مرحلہ رضاعت اس کا بھی کوئی نام نہیں.
پھر عمر کی ساتویں گنتی
پھر دسویں میں قدم
پھر بھی لمحہ بھر کی جدائی کا قلق برداشت نہیں کرسکتیں.
اب تو ماشاء اللہ سے ان کا بیٹا اپنی عمر کی پندرہویں گنتی گن رہاہے.اور اسی عمر میں ایسا ہو جیسے ایک خوبرو جوان.ابھی ثانویہ کا طالب ہے.آئندہ سال مرحلہ جامعیہ کے لئے کوشش کررہاہے.والدین غریب ہیں.ایک تو لاڈلے کی پرورش پر خرچ اس پر سے اس کی تعلیم. اس قدر بوجھ برداشت نہیں کرسکتے.مگر کیا کریں اگر تعلیم نہ دلوائی تو پھر یہ پودا بے آور ہی رہے گا.اس لئے اپنی خوشیوں کا گلہ گھونٹ چکی ہیں.انہیں اپنے آرام اور آسائش کی پرواہ نہیں.روکھا سوکھا پر گزارہ کرلیتی ہیں.اچھے کپڑوں کا شوق شاید اب بیٹا ہی پورا کرے. سوچا تھا کہ کچھ پیسے جمع کر کے ہاتھ میں بالا"لے لوں گی.مگر چھوڑو! میرا بیٹا جب بڑا ہوکر کمائے گا تو بہت سے بالا،کنگن اور بالیاں ہوجائیں گی.
بیمار ہیں. ان کا ناتواں جسم بہت سی بیماریوں کو ٹھکانا دیتاہے.کیا کریں!اپنی صحت کو دیکھیں اپنے بڑھے ہوئے شوگر اور پریشر کا خیال کریں یا اس جان کی تعلیم وتربیت کا جو میرا سکون ہے.میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے.میرا دل اس میں بستا ہے.اس کی خوشی میرے لئے عید کا تحفہ ہے.اور اس کا غم برداشت نہیں کرسکتی.

ماں تو خوشی سے آج پاگل ہوئی جاتی ہے.
پڑوسن پوچھتی ہے کیا بات ہے" رحیمن آپا "لگتا ہے کوئی" سونے کا ٹکڑا"ہاتھ لگ گیا ہے!
ماں جواب میں کہتی ہے.ان کا چہرہ لائق دید ہے."میرا لعل دسویں کتھا میں اول نمبر لایاہے"
زندگی کس مپرسی میں ہے.اور قرض لے کر شیرینی تقسیم ہورہی ہے کہ "میرا بابو"ثانویہ میں فرسٹ پوزیشن لایا ہے.
اب جامعہ کے لئے فیس کا بندوبست.نیا ڈریس بھی تو ہونا چاہئے.کتابیں بھی خریدنی ہوں گی.پرانی کتابیں بھی اسٹالوں سے خریدی جاسکتی ہیں.مگر نہیں. ان کا بیٹا کیسے پرانی کتابوں میں پڑھے گا. جب کہ دوسروں کے پاس نئی کتابیں ہوں گی.بیٹا کہتاہے"ماں!ایک جوتا چمڑے کا ہوتا تو..."ابھی الفاظ پورے بھی نہیں ہوئے کہ اپنی مسکنت کے کرب کومسکراہٹ میں چھپا کر کہتی ہے"کوئی بات نہیں میرے لعل میں لادوں گی".

گھر سے کالج روانگی کا وقت آن پڑا. ماں نہیں چاہتی کہ اس کے جگر کا ٹکڑا اس سے جدا ہو.مگر کیا کرے! یہ تعلیم و تعلم ضروریات ہیں.واجبات ہیں. زندگی کے تجربات ہیں. جنہیں گھر بیٹھے حاصل نہیں کیا جاسکتا.اس لئے وہ اپنے لاڈلے کی دوری کے الم کو برداشت کرنے پر مجبور ہے.
وہ صبر کرتی ہے.سلامتی کی دعائیں کرتی ہے.
اور اس وقت کا انتظار کرتی ہے جب وہ اس کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک ہوگا.اس کے کمزور بازؤوں کو سہارا دے گا.اس کے لاغر جسم کو قوت بخشے گا.اس کی کمزور بینائی کا بینا بنے گا.اس کاسکھ بنے گا،سکون بنے گا.مشفق ہوگا. لطیف ہوگا.مہربان ہوگا.

آج ماں کا حال یہ ہے کہ وہ خوشی سے دوہری ہوئی جاتی ہے کہ اس کی محنت بے رنگ نہ ہوئی. ان کا بیٹا اب پڑھائی مکمل کرچکا ہے. ماشاءاللہ قسمت سے اچھی ملازمت بھی پائی ہے.اور اب ساری فکر اسی بات پر آ ٹکی ہے کہ کوئی پری پیکر اس کے گھر آنگن کی تقدیر بن جائے.رشتوں کا تانتا ہے.اور یہ تو ہونا ہی ہے جب لڑکا ہونہار ہو.وجیہ شخصیت کا مالک ہو. اور سونے پر سہاگہ اس وقت جب کسی اچھی فرم میں ملازم ہو تو ہر لڑکی والا چاہتا ہے کہ اس کی بیٹی کا رشتہ قبول کیا جائے جس کے لئے وہ دعائیں بھی کرتا ہے.سفارشیں بھی لگتی ہیں.ایسا ہی کچھ آج ماں کے اس فرزند کا بھی ہے.
خیر سے رشتہ ہو چکا. اب چند روز میں شادی کی ساری رسمیں ادا ہو جائیں گی.تیاریاں جاری ہیں.آج دعوت نامے تو کل کپڑے کی خریداری. حلوائی کوگلاب جامن اور بالو شاہی کا آرڈر. ماں کے مائکہ والے بھی آئے ہیں.لڑکا کے ماموں زادوں اور خالہ زادوں کی بھیڑ ہے. سبھوں پر ذمہ داریاں تقسیم ہیں جسے وہ اچھے انداز میں نباہنے میں مصروف ہیں.شادی کو مثالی بنادینا چاہتے ہیں.ادھر ماں خوش تو ہے پر تھوڑا کھوئی-کھوئی سی ہے.رہ رہ کر بسااوقات وہ کسی انجانے خوف سے ڈر بھی جاتی ہے.مگر کسی کو اس کا احساس نہیں ہونے دیتی.بلکہ مستعدی سے سارے کام انجام دے رہی ہے.جملہ ذمہ داریوں کی نگراں بھی ہے.اور آج چوں کہ بارات کی روانگی ہے.اس لئے لمحہ بھر کو ان کے جسم میں سکون نہیں. کھانا تو دور کی بات شاید چائے پانی بھی پیا ہو.بس وہ لاڈلا کو سہرا میں سجا دیکھنا چاہتی ہے. ادھر لڑکی والوں نے بھی کسی اچھے ہوٹل کا انتظام کیا ہے جہاں نکاح کے بعد کھانے کی رسم ادا ہوگی اور لڑکی وہیں سے رخصت کردی جائے گی.
اور یہ شادی کی رسمیں بھی عجیب ہیں.ابتداء تا انتہا خرافات ہی خرافات.بہت سے افراد اسے اچھا نہیں مانتے تاہم وہ ان رسوم سے آزاد بھی نہیں ہونا چاہتے.نتیجہ سامنے ہے.یہ بارات.یہ لاکھوں کا جہیز.کھانے میں فضول خرچیاں تو اس قدر کے کسی غریب کے گھر اس اخراجات سے مہینوں کا راشن پانی ہو جائے.
بہر کیف!اب دلہن گھر آچکی ہے.گاؤں سماج سے دیکھنے والیوں کا تانتا ہے.کچھ تبصرے جہیز پر ہیں تو کچھ لڑکی والوں کے انتظام وانصرام پر.کوئی تعریف کے کلمے پڑھ رہا ہے تو کسی کی عادت ہی صرف نقص نکالنا ہے.اور ابھی یہ سارے ہنگامے ہفتہ دن تو چلیں گے ہی.پھر سارا کچھ معمول پر ہوگا.

ماں کی طبیعت آج ناساز ہے مگر وہ اس کا اظہار نہیں کرتی.کہیں دور سوچوں.میں گم ہے. خود سے باتیں کر رہی ہیں:
" میں دیکھ رہی ہوں جب سے دلہن گھر میں آئی ہے بیٹا آفس بہت زیادہ ناغہ کرنے لگا ہے.ایسا ہوا تو ملازمت سے بھی ہاتھ دھونی پڑے گی...اور ہاں!پہلے سے رویے میں بھی بہت تبدیلی آئی ہے.پہلے آفس کے لئے گھر چھوڑتا تو سلام اور دعائیں لیتا..آتا تو ماں!ماں!کی پکار لگاتا گھر میں داخل ہوتا.اب تو جیسے ہفتوں کانیں "ماں"جیسے میٹھے اور انمول شَبد (بول)سننے کو ترس جاتی ہیں..مجھے تو کچھ اچھا نہیں لگتا.بس کبھی کبھار اگر اس کے من میں آیا تو رسمی مسکراہٹ لئے سامنے آجاتا ہے اور پھر چلاجاتا ہے.یہی تقریبا 6 ماہ سے شب و روز کا معمول ہے.میں کچھ کہہ بھی نہیں سکتی.ایک دن تو اس وقت حد ہوگئی جب آفس سے گھر پہنچتے ہی بَرَس پڑا.اور نہ جانے کن باتوں کو لے کر پورے گھر کو سر پر اٹھا لیا.میں خاموش رہی.چوں کہ میں جانتی ہوں. بچپن سے یہ تھوڑا سخت مزاج ہے اور کچھ میرے لاڈ نے بھی اسے بگاڑ دیا. اس لئے وہ جب اپنی ننھی زندگی میں بھی کسی ضد اور غصہ کا اظہار کرتا تو میں پیار سے سن لیتی. مگر وہ تو اس کا بچپنا تھا .اب تو وہ شعور والا ہے.کم سنی میں باتوں کی گرفت نہیں ہوتی.
بڑا ہونے کے بعد تو ایک-ایک نقل وحرکت کی نگرانی ہوتی ہے.اللہ بھی انسان کی طفولت کا خیال کرتے ہوئے اسے مرفوع القلم (یعنی اس کی غلطیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھی نہیں جاتیں)سمجھتا ہے.لیکن اب اس کے لفظ پر پہرہ ہے.اللہ کا رقیب مقرر ہے.وہ لکھتاہے.پھر کیوں اس نے ایسا کیا.خیر کیا کروں.اب تو صبر کے علاوہ کوئی دوسری راہ نہیں.اللہ سے اس کی سلامتی کی دعاء کرتی ہوں".

اس کے علاوہ بیچاری ماں کربھی کیا سکتی ہے.رو رہی ہے ،بلک رہی ہے،آنکھیں پتھرائی ہوئی ہیں.چہرہ پژمردہ ہے. تنہا سسکیوں میں زندگی کے بچے ایام گزر رہے ہیں.اور لاڈلے صاحب ہیں کہ ان کو فرصت ہی نہیں.طبیعت کی ناسازی کا حال کون دریافت کرے.بہت ہوا تو سامنے سے مسکرا کر گزر گئے جیسے ماں کے احسان کا بوجھ اتار رہے ہوں.صبح ہوئی تو آفس چل دئے.شام گھر لوٹے تو بیوی بچوں میں مصروف ہیں.ہفتے کو چھٹی ملی تو دوست احباب کی آمد یا ان سے ملاقات کی رسم ادائیگی یا شادی بیاہ کی بناؤٹی رسمیں.ماں کی کون خیریت لیتا ہے.کھایا نہیں کھایا.عید کو ایک "ساٹن" کی ساری بابو صاحب نے لاکر دی تھی وہ سال بھر سے چل رہی ہے.بیوی بچوں کے پوشاک جیسے کپڑوں کا گودام ہو.شاید سال میں ایک بار بھی کسی کپڑے کی دوبارہ باری آتی ہوگی.موسم کافی سرد ہے.یوں بھی اس جاڑے میں اچھے اچھوں کی گرمی غبارہ ہوجاتی ہے اور وہ تو بوڑھی ہڈی ہے ٹھنڈک کا کپکپی والا احساس تو اسے اور بھی پریشان کرتا ہوگا.مگر کیا کرے! بس کسی طرح زندگی کاٹ لینا چاہتی ہے.وہی ایک 10 سال پرانی شال ہے جو شوہر صاحب نے اپنی حیات میں لاکر دی تھی اب تو ان کی وفات کو 2 سال گزر چکے ہیں.اور ایک سویٹر جو ان کا لاڈلا والد کی وفات کے بعد لایا تھا. بس!گُدریوں کا اوڑھنا ہے اور چارپائی پر پُوال ڈال کر اناج کی بوریاں بچھا لیتی ہیں.کھانے میں کبھی شاید ہی پہلے کھا لیا ہو.بھوک بھی لگی ہو تو مَن مارے بیٹھی ہیں کہ سب کھالے اور رُوکھا سُوکھا کچھ بچے تو ماں بھی کھالے.
وہ اس دن کے بعد سے اور بھی ڈرنے لگی کہ ایک دن بہو کے مائیکہ سے کچھ مہمان آنے والے تھے اور اس موقع پر بہت سے پکوان کے ساتھ "شامی کباب" بھی تیار ہوا تھا.بہو نے اپنے ہاتھوں سے پکایا تھا.یوں عام دنوں میں وہ بہت کم ہی کھانا بنانے کا جوکھم اٹھاتی تھی.مگر آج اس نے بھائی اور بھابھی کی آمد پر کھانا تیار کیا تھا.شوہر نام دار کو سامان کی لمبی چوڑی فہرست تھمائی کے وہ نوکر کے معرفت یہ سامان بھیجوادیں.شوہر تابع دار نے بھی ویسا ہی کیا.اب لذیذ اور مُرَغَّن کھانا تیار تھا.اماں بیچاری کو کیا سوجھی.حالاں کہ اس سے قبل انہوں نے بہو کی آمد کے بعد ایسی جرأت نہیں دکھلائی تھی.تو ہو یوں کہ اماں نے شامی کباب میں سے تھوڑا چَکھ لیا کہ دیکھوں بہو نے کیسا بنایا ہے اور مہمان کی بھی آمد ہے.اب کیا تھا! ایک پوتا کی نظر اس چکھنے پر پڑ گئی .وہ بچہ ذات اسے کیا معلوم کہ نتیجہ کیا ہوگا.وہ ممی سے کہتا ہے:"مَمّی!مَمّی!میں نے ڈیکھا ڈاڈی ڈان ماموں ڈان کا کپاپ کھا لہی تھیں".ان باتوں کا سننا تھا کہ بہو پھٹ پڑیں: "کیا؟ان کو ذرا بھی صبر نہیں ہوتا.انہیں معلوم ہے کہ آج مائکے سے مہمان آنے والے ہیں.ایک تو پہلے ہی سے تھوڑا تھا.اور چھوٹا "احمد"بھی بہت پسند کرتا ہے.اور اس پر سے انہوں نے کھالیا.اب کتنا بچا ہی ہوگا.سارا کام بگاڑ دیا.اس عمر میں آکر لوگ نہ جانے کیوں بے صبر ہوجاتے ہیں".
سو اب ماں اسی وقت کھاتی ہے جب سارے لوگ کھالئے ہوں.پھر ماں برتن دھل کر رکھ دیتی ہے. اور بستر پر کروٹیں بدلتے ان کے شب وروز کٹ جاتے ہیں.یہی روزانہ کا معمول ہے.نماز کا وقت ہوا نماز ادا کی. بہو کو تو ڈر سے جگاتی ہی نہیں کہ ان پر برس پڑے گی.صبح اٹھیں. نماز کی ادائیگی کے بعد تلاوت کیا.اور یہ بھی کھٹکا لگا ہے کہ بہو کے بیدار ہونے سے پہلے بچوں کے اسکول کا ٹفن تیار کرنا ہے.ورنہ بہو کی روز روز کی بڑبڑاہٹ:"ایک تو سارے دن بستر پر پڑے رہنا ہے. اتنا بھی نہیں ہوتا کہ بچوں کو اسکول کے لئے تیار کر دوں".
اس طرح گھر کی "مالکن" ماں اپنے ہی گھر میں اب بہو کی"نوکرانی" ہے.

اور ماں کا لاڈلا جیسے اس کو سانپ سونگھ گیا ہو.اطاعت و فرماں برداری کے سارے جذبے اب کتابوں کی لکھاوٹ ہیں.ماں کو ماضی کی یادیں ڈستی ہیں کہ بیٹا کے بڑے بڑے دعوے تھے:"ماں میں پڑھ لکھ کر جب بڑا ہو جاؤں گا تو یہ کروں گا اور وہ کروں گا".اب جب کہ وہ اچھی تنخواہ دار ہے تو ماں کا کچھ بھی خیال نہیں.وہ ساری صعوبتوں کو بھول چکا جو اس کی ماں نے اس کی پرورش اور تعلیم وتربیت میں اٹھائیں.اب بس ایک ہی دھن ہے.دولت جمع کرنی ہے ،بچوں کی تعلیم ہے اور بیوی کی نازبرداریاں.
یہ تعلیم یافتہ،اشراف اور مہذب ومثقف لوگوں کے سماج کا نقشہ ہے.جن کی اونچی دیواریں بظاہر بلند ہونے کا پتا دیتی ہیں مگر وہ حقیقت میں پست لوگ ہیں.

جاری...

Address

SASCO/-33 HARIN BARI LANE-KOLKATA
Kolkata
700073

Telephone

8820064133

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Moqami Jamiat Ahle Hadith-colootola Lal Masjid posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category