18/12/2025
*شہری جمعیت اہل حدیث کولکاتا و مضافات کے بینر تلے عظمت قرآن کانفرنس*
شہری جمعیت اہل حدیث کولکاتا و مضافات کی زیر نگرانی اور مقامی جمعیت اہل حدیث کولوٹولہ کے زیر اہتمام لال مسجد اہل حدیث میں بتاریخ 14 دسمبر 2025 بروز اتوار امیر شہری جمعیت اہل حدیث کولکاتا و مضافات مولانا ذکی احمد مدنی /حفظہ اللہ کی زیر صدارت ایک نہایت عظیم الشان پروگرام بنام"عظمت قرآن کانفرنس" نہایت تزک و احتشام کے ساتھ منعقد ہوا جس کا آغاز بعد نماز مغرب جامعہ الہدی الاسلامیہ کے طالب محبوب عالم کی تلاوت سے ہوا جبکہ طالب شباب انور نے نعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیش کیا، پھر کانفرنس کے پہلے مقرر جامعہ الہدی الاسلامیہ کے پرنسپل مولانا اعزاز الرحمن تیمی مدنی نے "مراحل جمع قرآں کریم" کے موضوع پر روشنی ڈالی جس میں انہوں نے بتایا کہ ہمارے پاس قرآن پاک اسی صورت میں موجود ہے جس صورت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل علیہ السلام کے ذریعہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب اطہر پر تیئیس سال کی مدت میں نازل کیا، اور ابتدائے نزول سے ہی قرآن کو جمع کیا گیا، پہلے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینے میں محفوظ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےصحابہ کرام کو سیکھایا، ساتھ ہی انھیں ان آیتوں کو لکھنے کا بھی حکم دیا، اور کاتبین وحی جن میں زید بن ثابت، ابی بن کعب، عبد الرحمن بن عوف اور معاویہ بن ابو سفیان رضوان اللہ علیہم اجمعین وغیرہ تھے، نے ساری آیتوں اور سورتوں کو ویسے ہی مرتب کیا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ترتیب کے ساتھ لکھنے کا حکم دیا، پھر جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا زمانہ خلافت آیا اور قاریوں کی شہادت ہونے لگی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ضیاع قرآن کا خدشہ ہوا، انھوں نے خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو جمع قرآن کا مشورہ دیا، سارے کاتبین وحی کو انھوں نے بلا کر قرآن کی آیتیں جو پتھروں، درخت کی چھالوں اور چمڑوں پر لکھی ہوئی تھیں،ان سب کو جمع کرایا پھر جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے اور اسلامی فتوحات کا سلسلہ بڑھا، توقرآن کریم جو سات لہجوں میں نازل ہوا اس میں عجمیت داخل ہونے لگی تو انھوں نے لوگوں قرآن میں اختلاف سے بچانے کے لیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا جمع کیا ہوا قرآن حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس سےمنگایا اور اس کے مخلف نسخے تیار کروائے اور جہاں اختلاف تھا وہاں قریش کے لہجے کو ترجیح دی گئی اور مصحف عثمانی تیار ہوئی پھر اسے سارے ممالک میں بھیج دیا گیا. اس طرح قرآن کریم رسم عثمانی کی شکل میں رائج ہوئی،
پھر کانفرنس کے دوسرے مقرر جامعہ الہدی الاسلامیہ کے ناظم تعلیمات مولانا محمد محمد عالمگیر تابش تیمی نے "مقاصد نزول قرآن کریم" کے موضوع پر خطاب کیا جس میں انھوں نے قرآن کریم کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے بتایا کہ قرآن کے نزول کے مقاصد عظیم ہیں،جن میں اہم مقاصد توحید کی دعوت، باطل عقائد کی تردید، صحیح راستے کی رہنمائی ،اخلاقیات کہ تعلیم، آیتوں کی تلاوت،ان میں تدبر اور عمل ہے. ان تمام باتوں کو بڑی شرح وبسط کے ساتھ دلائل کی روشنی میں انھوں نے واضح کیا.
پھر صدر کانفرنس مولانا ذکی احمد مدنی حفظہ اللہ نے "انسانی زندگی پر قرآن کریم کے اثرات" کے موضوع پر پر مغز اور موثر خطاب کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ قرآن کریم ایک زندہ وجاوید معجزہ ہے، جو قیامت تک باقی رہے گا، جس نے جاہلی معاشرے کی کایا پلٹ دی، ان میں سماجی تدیلی،اخلاقی تبدیلی اور روحانی تبدیلی پیدا ہوئی، قرآن کی تاثیر اتنی گہری مرتب ہوئی کہ جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تلاوت کرتے تھے تو مشرکین مکہ کی عورتیں اور بچے ازدحام لگا کر سنتے تھے، عرب کے بڑے بڑے ادباء اور بلغاء نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی قرآن کریم کی آیتیں سنی تو یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ یہ نہ تو جادو ہے نہ کہانت، یہ تو کلام ہی عجیب ہے، یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہوسکتا، یہی نہیں بلکہ وہ مستشرقین جو قرآن میں خامی اور نقص نکالنے کے لیے دن رات قرآن پر ریسرچ کرتے ہیں وہ بھی اس سے متاثر ہوکر اسلام قبول کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں. یہ کتاب پر اثر اور سحر انگیز کتاب ہے جس کو پڑھ کر آج بھی ہزاروں لوگ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں.
عشاء کی نماز کے بعد کانفرنس کے خصوصی مقرر، اسلامک انفارمیشن سینٹر ممبئی کے باحث و محقق اور آئی پلس ٹی-وی کے داعی و مبلغ مولانا کفایت اللہ سنابلی/ حفظہ اللہ نے "قرآن فہمی کے صحیح اصول و ضوابط" پر اپنے خاص اسلوب اور اچھوتے انداز میں اپنی قیمتی باتیں رکھی، جس میں انھوں نے بتایا کہ قرآن کریم سمجھ کر پڑھنے اور عمل کرنے کے لیے نازل ہوا ہے، لیکن اس کو سمجھنے کے کچھ بنیادی اصول و ضوابط ہیں جن کے بغیر قرآن کو صحیح طریقے سے نہیں سمجھا جاسکتا، ان میں سے اہم اصول یہ ہیں کہ قرآن پڑھنے والے کی نیت صاف ہو، کسی استاد کی موجودگی میں قرآن پڑھے اور سمجھے، قرآن کو سمجھانے کے لیے اللہ تعالی نے معلم انسانیت کو بھیجا، صحابہ کرام عربی زبان کے ماہر ہونے کے باوجود قرآن سمجھنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرتے تھے، قرآں فہمی کے لیے عربی زبان سے واقفیت کے ساتھ سبب نزول اور ناسخ و منسوخ کا علم بھی ضروری ہے، کیوں کہ کئی ایسی آیتیں ہیں جن کے سبب نزول اور قراءت سے مختلف مسائل ثابت ہوتے ہیں، نیز قرآن فہمی کے اہم اصولوں میں سے یہ بھی ہے کہ قرآن کی تفسیر قران سے ہو، قرآن کی تفسیر حدیثوں کے ذریعہ ہو،کیوں کہ قرآن میں کہیں اجمال ہے تو کہیں تفصیل، کہیں اطلاق ہے تو کہیں تقیید، جیسے نماز،روزہ، زکات اورحج وغیرہ کے مسائل بلکہ وراثت کا مسئلہ کو اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے، ان کی توضیح و بیان کے لیے احادیث کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے، اس کے بغیر دین کی بنیادی آیتوں کو بھی سمجھنا ناممکن ہے، نیز صحابہ کی تفسیر کی طرف رجوع کرنا بھی ضروری ہے کیوں کہ انھوں نے قرآن کا معنی و مفہوم ڈائریکٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا، بلکہ انھوں نے عربی زبان جاننے کے باوجود ایک سورت کو سمجھ کر یاد کرنے میں کئی سال لگائے. چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سورہ بقرہ آٹھ سالوں میں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دس سال میں اسی سورت کو سمجھ کر یاد کیا، قران فہمی کے یہ چند رہنما اصول ہیں جن کی پیروی کر کے ہم قرآن کا صحیح معنی سمجھ سکتے ہیں ورنہ صرف ترجمہ کے ذریعہ اپنی عقلی فہم کی بنیاد پر قرآن سمجھنے کی کوشش کریں گے تو آپ صحیح راستے سے بھٹک جائیں گے، عصر حاضر کے منکرین حدیث اور گمراہ فرقوں کا یہی حال ہے جو فہم سلف کے بغیر اپنی من مانی اور عقلی تفسیر کرتے ہیں اور خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں. لہذا قرآن فہمی کے صحیح اصول اختیار کیجیے تب آپ کی زندگی میں انقلاب آئے گا. اخیر میں تمام حاضرین، شرکاء کانفرنس اور اراکین جمعیت کے شکریہ کے ساتھ کانفرنس کے اختتام کا اعلان ہوا ،اس کانفرنس میں قرب وجوار اور دور دراز علاقوں سے ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی. الحمد للہ یہ کانفرنس بہت کامیاب رہی.