Darul Uloom Deoband

Directions

Darul Uloom Deoband Allah knows exactly what you need. Who you need. How much you need. When you need it. Trust him. All

یہ خبر انتہائی افسوس کے ساتھ دی جا رہی ہے کہ ہم سب کے محترم بزرگ پرانے زمانے کی یادگار اور محبوب الاولیاء حضرت کامل چائل...
05/10/2026

یہ خبر انتہائی افسوس کے ساتھ دی جا رہی ہے کہ ہم سب کے محترم بزرگ پرانے زمانے کی یادگار اور محبوب الاولیاء حضرت کامل چائلی الہ ابادی خلیفہ حضرت شاہ ہردوئی رحمتہ اللہ علیہ و خادم خاص حضرت اقدس پرتاپگڈھی رحمتہ اللہ علیہ 98 برس کی عمر میں انتقال فرما گئے انا للہ وانا الیہ راجعون آپ شہر ممبئی کے دورے پر تھے اج صبح 10 بجے اچانک طبیعت بگڑی اور سانس لینے میں دشواری پیش آگئ اور 10 سے 15 منٹ میں انتقال فرما گئے.
آپ ممبئی میں مفتی سعید الرحمن صاحب دار العلوم امدادیہ چونا بھٹّی کے یہاں قیام پزیر تھے . حضرت رحمۃ اللہ علیہ اسی جمعرات ( 1 اکتوبر 2026) کو خانقاہ رحمانیہ نقشبندیہ اندھیری ایسٹ ممبئی میں بھی تشریف لائے تھے.
حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے جسد خاکی کو ممبئی شہر سے ان کے وطن ان کے بچوں کی تقاضہ کے مطابق چائل الہ اباد لے جانے کی تیاری کی جا رہی ہے.
پیر طریقت حضرت مولانا محمد یحییٰ صاحب قاسمی نقشبندی مجددی دامت برکاتہم العالیہ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے آخری دیدار کو تشریف لے گئے ۔ وہاں جاکر اُنکے میزبانوں خصوصاً مولانا رشید ندوی ۔قاضی طلحہ صاحب وغیرہ کو تعزیت پیش کی ۔
تمام متعلقین و محبین سے اور ملنے والوں سے ان کے لیے دعائے مغفرت اور ایصال ثواب کی درخواست ہے.
محمّد یحییٰ قاسمی نقشبندی
خانقاہ رحمانیہ نقشبندیہ،اندھیری ایسٹ ممبئی.

حضرت مولانا علامہ احمد شفیع صاحب نور اللہ مرقدہ شاگرد رشید و خلیفہ أجل شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی علیہ الرحم...
05/10/2026

حضرت مولانا علامہ احمد شفیع صاحب نور اللہ مرقدہ شاگرد رشید و خلیفہ أجل شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی علیہ الرحمہ
اور
امیر الھند و جانشین شیخ حضرتِ اقدس مولانا سیّد محمد ارشد مدنی صاحب دامت برکاتھم العالیہ صدر المدرسین و استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند و صدر جمعیتہ علماء ھند

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَنہایت رنج و الم کے ساتھ یہ خبر دی جاتی ہے کہ حضرت شیخ اسامہ نقشبندی مجددی رحم...
04/10/2026

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

نہایت رنج و الم کے ساتھ یہ خبر دی جاتی ہے کہ حضرت شیخ اسامہ نقشبندی مجددی رحمہ اللہ تعالیٰ
خلیفہ و مجاز حضرت سید محمد طلحہ صاحب نقشبندی مجددی دامت برکاتہم
اب ہمارے درمیان نہیں رہے، آپ اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے۔

اللہ تعالیٰ حضرت رحمہ اللہ کے درجاتِ عالیہ بلند فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے، انہیں اپنی رحمتِ خاصہ میں جگہ عطا فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔

اللہ تعالیٰ ان کے اہل و عیال، متعلقین، اور تمام محبین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور اس عظیم صدمے کو برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

تمام سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ سے وابستہ حضرات اور تمام معززین و متعلقین سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ حضرت شیخ اسامہ نقشبندی مجددی رحمہ اللہ کے لیے ایصالِ ثواب، دعائے مغفرت اور بلندیِ درجات کا اہتمام فرمائیں۔

اللہ تعالیٰ حضرت رحمہ اللہ کی تمام دینی و اصلاحی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے اور ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے اور جملہ پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

المعلن
محمد صہیب عثمانی
بحکم مرشدی و مولائ
حضرت مولانا سید محمد طلحہ صاحب قاسمی نقشبندی مجددی دامت برکاتھم

مفتی محمد ثمین اشرف قاسمیؒ : وہ عالم جن کی باتیں سیدھے دل میں اترتی تھیں (کچھ یادیں کچھ باتیں)از : ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب...
03/10/2026

مفتی محمد ثمین اشرف قاسمیؒ :
وہ عالم جن کی باتیں سیدھے دل میں اترتی تھیں (کچھ یادیں کچھ باتیں)
از : ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب قاسمی
معروف عالم دین، داعی، مصلح اور صاحبِ نسبت بزرگ حضرت مولانا مفتی محمد ثمین اشرف قاسمیؒ ، خلیفہ و مجاز حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی اور حضرت مولانا حکیم محمد اخترؒ کے انتقال کی خبر نے دینی ، علمی اور اصلاحی حلقوں کو سوگوار کردیا ۔ حضرت مفتی صاحبؒ نے طویل علالت کے بعد آج بروز ہفتہ 3 اکتوبر 2026ء کو بعد نمازِ مغرب علی گڑھ میں داعیٔ اجل کو لبیک کہا ۔
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔
حضرت مفتی محمد ثمین اشرف قاسمیؒ کی زندگی کئی دہائیوں پر محیط ایک ایسی علمی و اصلاحی جدوجہد کا نام تھی جس میں دعوت ، اصلاح ، تدریس، تصنیف ، خطابت اور حدیثِ رسول ﷺ سے گہری وابستگی نمایاں نظر آتی ہے ۔ ان کی زندگی کے بیشتر ایام دین کی خدمت ، لوگوں کی اصلاح اور امت کی رہنمائی میں صرف ہوئے ۔
گزشتہ ماہ ہی حضرت ہندوستان تشریف لائے تھے ۔ ہندوستان آمد کے بعد طبیعت مسلسل ناساز رہی ۔ ملک و بیرون ملک ان کے متعلقین ، تلامذہ ، محبین اور عقیدت مند ان کی صحت یابی کے لیے دعا گو رہے ، مگر مشیتِ الٰہی کچھ اور تھی ۔ بالآخر ہفتہ کی شام علی گڑھ میں ان کے انتقال کی خبر سامنے آگئی ۔
ان کے فرزند محمد صہیب نے سوشل میڈیا کے ذریعے انتہائی رنج و الم کے ساتھ والد محترم کے انتقال کی اطلاع دی اور لوگوں سے دعائے مغفرت کی درخواست کی ۔ خبر عام ہوتے ہی ان سے وابستہ بے شمار افراد ، شاگردوں ، متعلقین اور محبین کے درمیان غم و اندوہ کی کیفیت پیدا ہوگئی ۔
دبئی میں کئی دہائیوں کی دینی و اصلاحی خدمات :
حضرت مفتی ثمین اشرف قاسمیؒ کئی دہائیوں سے دبئی ، متحدہ عرب امارات میں مقیم تھے ۔ مسجد الحبتور میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ وہ دعوت و اصلاح ، تزکیۂ نفس اور اصلاحِ معاشرہ کے کاموں میں مسلسل مصروف رہے ۔
ہندوستان ہو یا متحدہ عرب امارات ، ان کے معتقدین ، مریدین ، متعلمین ، محبین اور چاہنے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے ۔ ان کی گفتگو میں ایک خاص مٹھاس تھی اور بیان کا اسلوب دل نشیں تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ لوگ ان کی محفلوں میں کھنچے چلے آتے تھے ۔ وہ جتنا اچھا بولتے تھے ، اتنا ہی اچھا لکھتے بھی تھے ۔ ان کی تحریریں صاف ، شستہ ، مدلل اور عام فہم ہوتی تھیں ۔
وہ متعدد علوم و فنون سے شغف رکھتے تھے ، تاہم علمِ حدیث ان کے خاص اور پسندیدہ موضوعات میں شامل تھا ۔ احادیثِ نبویہ سے ان کی گہری محبت اور وابستگی ان کی گفتگو ، تحریروں اور تصانیف میں نمایاں ہوتی تھی ۔
تصنیف و تحقیق سے گہری وابستگی :
حضرت مفتی محمد ثمین اشرف قاسمیؒ دو درجن سے زائد کتابوں کے مصنف تھے ۔ ان کی تصنیفی خدمات کا دائرہ مختلف دینی ، علمی اور اصلاحی موضوعات تک پھیلا ہوا تھا ۔ بالخصوص تحفظِ ختمِ نبوت کے موضوع پر انہوں نے گزشتہ کئی برسوں میں قابلِ ذکر علمی و تحقیقی کام کیا ۔
ان کی معروف تصانیف میں ’’تجلیاتِ قدسیہ‘‘، ’’وصایا انبیاء و اولیاء انسائیکلوپیڈیا‘‘ کی متعدد جلدیں ، ’’سچے اور جھوٹے مسیح میں فرق‘‘، ’’احادیثِ عقیدۂ ختمِ نبوت‘‘، ’’رحمتِ دو عالم ﷺ کی برزخی حیات‘‘، ’’عقیدۂ ختمِ نبوت‘‘ اور ’’امام مہدی احادیث کی روشنی میں‘‘ جیسی کتابیں قابلِ ذکر ہیں ۔
ان تصانیف سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت مفتی صاحبؒ محض خطیب یا واعظ نہیں تھے بلکہ ایک سنجیدہ مصنف ، صاحبِ مطالعہ عالم اور علمی موضوعات پر غور و تحقیق کرنے والی شخصیت تھے ۔
نوجوانوں کی اصلاح سے خصوصی دلچسپی :
حضرت مفتی صاحبؒ نوجوانوں کی اصلاح پر خصوصی توجہ فرماتے تھے ۔ ان کی گفتگو میں اصلاحِ نفس ، تعلق مع اللہ ، سنتِ رسول ﷺ سے وابستگی اور دینی شعور پیدا کرنے کا جذبہ نمایاں ہوتا تھا ۔
تحفظِ ختمِ نبوت کے موضوع پر بھی وہ خاص اہتمام کے ساتھ گفتگو فرماتے اور لوگوں کو اس عقیدے کی اہمیت سے آگاہ کرتے تھے ۔ ان کی یہ بھی تلقین ہوتی کہ درودِ پاک کا ورد کرتے وقت خاتم النبیین ﷺ کے ذکر اور آپ ﷺ کی ختمِ نبوت کی عظمت کو بھی پیش نظر رکھا جائے ۔
حدیثِ پاک سے ان کی غیر معمولی انسیت کا اندازہ ان کی تصنیف ’’تجلیاتِ قدسیہ‘‘ سے بھی ہوتا ہے ، جسے اہلِ علم و مطالعہ میں خاصی پذیرائی حاصل ہوئی ۔
حضرت مفتی صاحبؒ سے میرا تعلق :
حضرت مفتی صاحبؒ سے میرا تعلق خالصتاً دینی اور علمی نوعیت کا تھا ، لیکن بعض شخصیات سے تعلق کی نوعیت الفاظ کی محتاج نہیں ہوتی ۔ ان کے بیانات میں ایسی تاثیر محسوس ہوتی تھی کہ آدمی صرف سنتا نہیں ، بلکہ بات دل میں اترتی محسوس کرتا تھا ۔میں ان کے بیانات کو اس لیے بھی بغور سنتا تھا کہ ان کی گفتگو میں ایک خاص اخلاص اور دل نشینی تھی ۔ وہ محبت ، شفقت اور اپنائیت کے ساتھ پیش آتے تھے ۔ ان کے مزاج میں تکلف کم اور خلوص زیادہ تھا ۔
برادرمحترم محمد صہیب اور مولانا حسان جامی ، جو دبئی میں حضرت مفتی صاحبؒ کے بہت قریب رہے ، ان سے جب بھی گفتگو ہوتی ، کسی نہ کسی موقع پر حضرت کا ذکر ضرور آجاتا ۔ پھر حضرت کی شخصیت ، ان کی گفتگو ، ان کی مجالس اور ان کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات کا تذکرہ دیر تک جاری رہتا ۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت کو بہت سی خوبیوں سے نوازا تھا ۔ ان کی سب سے نمایاں خصوصیات میں اخلاص، سادگی ، علمی ذوق ، حدیث سے محبت ، اصلاحِ نوجواناں کا جذبہ اور دین کی خدمت کا عزم شامل تھا ۔
’’سچے اور جھوٹے مسیح میں فرق‘‘ اور ایک یادگار علمی تعلق :
حضرت مفتی محمد ثمین اشرف قاسمیؒ نے اپنی اہم تصنیف ’’سچے اور جھوٹے مسیح میں فرق‘‘ مجھے بھی عنایت فرمائی اور اس پر تبصرہ کرنے کا حکم دیا ۔ میں نے اسے اپنے لیے اعزاز سمجھا اور حکم کی تعمیل میں کتاب کا تفصیلی تبصرہ تحریر کیا ، جو روزنامہ انقلاب کے ادب ایڈیشن میں شائع ہوا ۔
یہ کتاب الامداد چیری ٹیبل اینڈ ویلفئر ٹرسٹ ، مادھوپور سلطان پور، ضلع سیتامڑھی ، بہار کے زیر اہتمام شائع ہوئی تھی ۔ تقریباً ساڑھے پانچ سو صفحات پر مشتمل اس کتاب میں عقیدۂ ختمِ نبوت کے مختلف پہلوؤں کو قرآنِ کریم ، احادیث ، آثار اور اکابر و مشائخ کے اقوال کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے ۔
میں نے اپنے تبصرے میں لکھا تھا کہ عقیدۂ ختمِ نبوت ایک ایسا موضوع ہے جس پر اردو زبان میں پہلے ہی خاصا علمی سرمایہ موجود ہے اور برصغیر کے علمائے کرام نے تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ کے لیے بڑی علمی و عملی جدوجہد کی ہے ۔ حضرت مفتی ثمین اشرف قاسمیؒ کی یہ کتاب اسی علمی سلسلے میں ایک اہم کاوش ہے ۔ کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ مصنف نے ایک نہایت سنجیدہ اور حساس موضوع کو نسبتاً آسان اور عام فہم انداز میں پیش کیا ہے ۔ مختلف ابواب اور ذیلی عناوین کے ذریعے عقیدۂ ختمِ نبوت کے قرآنی ، حدیثی اور علمی پہلوؤں کو واضح کیا گیا ہے ۔
کتاب میں عقیدۂ ختمِ نبوت قرآنِ مجید کی روشنی میں ، خاتم النبیین ﷺ کے تصور کے لیے لازمی امور ، میرے بعد نبی نہیں ، خاتمِ نبوت کی خصوصیات ، عقیدۂ ختمِ نبوت اور فقہائے کرام اور دیگر متعدد موضوعات شامل ہیں ۔ اس کتاب پر حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی ، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ، مولانا محمد الیاس گھمن اور مفتی محمد عارف باللہ قاسمی جیسے اہلِ علم کے تاثرات بھی موجود ہیں ، جو کتاب کی علمی کاوش کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں ۔
حضرت کا ایک خوبصورت علمی مشورہ :
کتاب کے ’’عرضِ مؤلف‘‘ میں حضرت مفتی ثمین اشرف قاسمیؒ نے علماء ، ائمہ ، خطباء ، دعاۃ اور مصلحین سے ایک نہایت خوبصورت درخواست کی تھی ۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ جب احادیثِ مبارکہ بیان کی جائیں تو خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی نسبت اور ختمِ نبوت کے مفہوم کو بھی عوام کے سامنے اجاگر کیا جائے ، تاکہ نئی نسل اور عام مسلمانوں میں اس عظیم عقیدے کا شعور مضبوط ہو ۔
یہ بات حضرت کی مجموعی فکری ترجیحات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ وہ دین کی تعلیم کو محض معلومات تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ایمان ، محبتِ رسول ﷺ اور عملی زندگی سے جوڑنے کے قائل تھے ۔
ایک علمی و روحانی خلا :
حضرت مفتی محمد ثمین اشرف قاسمیؒ کا انتقال محض ایک عالمِ دین کی وفات نہیں بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے جو ان کی علمی مجالس ، اصلاحی بیانات ، تحریروں اور دینی رہنمائی سے وابستہ رہے ۔ ان کی زبان کی شیرینی ، بیان کی دل نشینی ، تحریر کی سلاست ، حدیث سے محبت ، تصنیف و تحقیق کا ذوق اور نوجوانوں کی اصلاح کا جذبہ ان کی شخصیت کے ایسے نقوش ہیں جو ان سے وابستہ لوگوں کے دلوں میں دیر تک زندہ رہیں گے ۔ دنیا میں بعض لوگ اپنے پیچھے صرف یادیں چھوڑ جاتے ہیں، مگر بعض شخصیات اپنی تحریروں ، شاگردوں ، افکار ، اصلاحی مجالس اور علمی آثار کی صورت میں ایک ایسا سرمایہ چھوڑ جاتی ہیں جو ان کے بعد بھی لوگوں کی رہنمائی کرتا رہتا ہے ۔ حضرت مفتی محمد ثمین اشرف قاسمیؒ بھی انہی خوش نصیب شخصیات میں شمار ہوں گے۔آج جب حضرت ہم میں نہیں ہیں تو ان کی کتابیں ، ان کی تحریریں ، ان کے بیانات اور ان سے وابستہ یادیں ان کے علمی و اصلاحی سفر کی گواہی دے رہی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ حضرت مفتی محمد ثمین اشرف قاسمیؒ کی دینی ، علمی ، دعوتی اور اصلاحی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے ، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے ، ان کے درجات بلند فرمائے ، انہیں اپنے مقبول بندوں اور صالحین کے ساتھ جگہ عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ ، تلامذہ ، متعلقین ، محبین اور تمام سوگواروں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے ۔
اللّٰهم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه، وأكرم نزله ووسع مدخله ۔
اللہ تعالیٰ حضرت کی علمی و اصلاحی کاوشوں کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے اور ان کے چھوڑے ہوئے علمی و روحانی ورثے کو آنے والی نسلوں کے لیے نفع بخش بنائے ۔ آمین ۔

افسوسناک خبر!انتھاںٔی رنج وافسوس کیساتھ یہ اطلاع دی جاتی ھے کہ شمالی بھار کی معروف صاحب نسبت بزرگ شخصیت مشھور باوقار عال...
03/10/2026

افسوسناک خبر!
انتھاںٔی رنج وافسوس کیساتھ یہ اطلاع دی جاتی ھے کہ شمالی بھار کی معروف صاحب نسبت بزرگ شخصیت مشھور باوقار عالم دین حضرتِ اقدس مولانا مفتی محمد ثمین اشرف صاحب قاسمی رحمۃ اللہ علیہ ادارہ دعوۃ الحق ، مادھوپور ، سلطان پور ، ضلع سیتامڑھی (خلیفہ ومجاز عارف باللہ حضرتِ اقدس مولانا حکیم محمد اختر صاحب قدس سرہ ٬ حضرتِ اقدس مولانا قمرالزماں صاحب الٰہ آبادی قدس سرہ ٬ حضرتِ اقدس مولانا پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندی مجددی قدس سرہ) دارِ فانی سے رحلت فرماگئے۔ اِنَّاللہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ۔اَللّٰھم اغفرلہ وارحمہ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ حضرت مولانا مرحوم کی مغفرت فرمائے ٬ درجات بلند فرمائے ٬ غریقِ رحمت فرمائے ٬ قبر کو نور سے منور فرمائے پسماندگان و متعلقین و ومُحبّین وشاگردانِ رشید وجملہ اھل خانہ کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین یاربّ العالمین

دسوں کتابوں کے مصنف  تین بڑے بڑے مشائخ شیخ العرب والعجم حکیم اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ و محبوب العلماء والصلحاء حافظ پیر ...
03/10/2026

دسوں کتابوں کے مصنف تین بڑے بڑے مشائخ شیخ العرب والعجم حکیم اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ
و محبوب العلماء والصلحاء حافظ پیر ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی نور اللہ مرقدہ
اور حضرت مولانا قمر الزمان الہ آبادی دامت برکاتہم العالیہ کے
أجل خلیفہ حضرت مولانا ثمین اشرف صاحب قاسمی نقشبندی مجددی نور اللہ مرقدہ
آج اس دار فانی سے دار بقاء کے جانب کوچ فرما گۓ
انا للہ و انا الیہ رجعون جعل اللہ الجنت مثواہ
اللّٰہ تعالیٰ حضرت کی بال بال مغفرت فرمائے جنت الفردوس میں جگہ عطاء فرماۓ اور تمام خدمات کو قبول فرمائے متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین یارب العالمین
✍️ از : حسین احمد گنگوھی

مدینہ منوّرہ میں عالمِ اسلام کی دو عظیم شخصیات کی ملاقاتشیخ الاسلام والمُسلمین حضرتِ اقدس مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صا...
01/10/2026

مدینہ منوّرہ میں عالمِ اسلام کی دو عظیم شخصیات کی ملاقات
شیخ الاسلام والمُسلمین حضرتِ اقدس مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتھم العالیہ ٬ نوجوان عالم دین حضرت مولانا مفتی شمائل عبداللہ صاحب ندوی دامت برکاتھم العالیہ
اللہ تبارک وتعالیٰ ھمارے ان اکابرین کا سایہ صحت و عافیت وسلامتی کیساتھ اُمّتِ مُسلمہ پر تادیر قائم و دائم رکّھے ۔
آمین ثمّ آمین یا ربّ العالمین

خادم القرآن و المساجد حضرتِ اقدس مولانا غلام محمد صاحب وستانوی قدس سرہ العزیز سابق مھتمم دارالعلوم دیوبند و بانی و مھتمم...
28/09/2026

خادم القرآن و المساجد حضرتِ اقدس مولانا غلام محمد صاحب وستانوی قدس سرہ العزیز سابق مھتمم دارالعلوم دیوبند و بانی و مھتمم اول جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کواں مہاراشٹر الھند اللہ تبارک وتعالیٰ حضرت مولانا غلام محمد صاحب وستانوی علیہ الرحمہ کی قبر کو نور سے منور فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین ❤️

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَنہایت ہی افسوس اور رنج کے ساتھ یہ اطلاع دی جاتی ہے کہجناب حضرت مولانا مجاہد ا...
23/09/2026

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
نہایت ہی افسوس اور رنج کے ساتھ یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ
جناب حضرت مولانا مجاہد الاسلام صاحب، جو شیرنیا جامع مسجد کے امام و خطیب تھے اور سمستی پور کے رہنے والے تھے، آج فجر کی نماز کے بعد دربھنگہ جاتے ہوئے راستے میں واٹر بانڈ کے قریب اچانک قلبی عارضہ لاحق ہونے کے باعث گاڑی سے گر گئے، اور اسی حالت میں انتقال فرما گئے۔
حضرت مولانا مجاہد الاسلام صاحب کی وفات کی خبر سے اہلِ خانہ، متعلقین، شاگردوں اور تمام احباب میں غم و افسوس کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ان کی دینی خدمات اور علمی و اصلاحی کوششوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
مرحوم حضرت مولانا مجاہد الاسلام صاحب کی میت کو ان کے آبائی گھر، صلحابزرگ سمستی پور لے جایا گیا ہے۔ ان شاء اللہ آج عصر کی نماز کے بعد ان کی نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجاتِ عالیہ بلند فرمائے، قبر کو نور سے منور فرمائے، تمام لغزشوں کو معاف فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
اللہ رب العزت تمام پسماندگان، اہلِ خانہ، متعلقین اور چاہنے والوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور اس عظیم صدمے کو برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
🤲 تمام احباب سے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت اور نمازِ جنازہ میں شرکت کی درخواست ہے۔

صاحب ملفوظات نمونۂ اسلاف عارف باللہ حضرت مولانا علامہ قمر الدین صاحب گورکھپوری قدس سرہٗ العزیز سابق شیخ الحدیث ثانی دار ...
18/09/2026

صاحب ملفوظات نمونۂ اسلاف عارف باللہ حضرت مولانا علامہ قمر الدین صاحب گورکھپوری قدس سرہٗ العزیز
سابق شیخ الحدیث ثانی دار العلوم دیوبند و خلیفہ أجل محی السنہ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب ہردوئی رحمۃ اللہ علیہ

نام - قمر الدین
لقب - علامہ
منصب - شیخ الحدیث
والد کا نام حاجی بشیر الدین مرحوم

پیدائش - مشرقی یو پی کے ضلع گورکھپور قصبہ بڑہل گنج میں 2 فروری 1938 ء میں ہوئی ۔

ابتدائی تعلیم - آپ نے ابتدائی تعلیم حضرت مولانا صفی اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کی ، بعدہ مدرسہ احیاء العلوم مبارک پور میں ایک سال زیر تعلیم رہنے کے بعد مزید تعلیمی مراحل طۓ کرنے کے لئے مشرقی یو پی کے مشہور و معروف دینی درسگاہ دار العلوم موؤ میں داخلہ لیا وہاں ایک حد تک درس نظامی کے مراحل طۓ کۓ ۔

دار العلوم دیوبند میں داخلہ -
درس نظامی کے باقی ماندہ نصابوں کی تکمیل کے لئے 1954 ء میں ایشیاء کی عظیم دینی درسگاہ دار العلوم دیوبند میں داخلہ لیا اور اس وقت کے مقتدر و مشاہیر اساتذہ کرام سے اکتساب فیض کرتے ہوئے 1957ء میں سند فضیلت حاصل کرکے مزید دو سال علوم و فنون کی تکمیل کی۔

اساتذہ کرام - موصوف جس سال شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی علیہ الرحمہ سے بخاری شریف پڑھ رہے تھے تو سال کے درمیان ہی حضرت مدنی علیہ الرحمہ کا انتقال ہو گیا تھا ، جس کی بنا پر بقیہ حصہ حضرت مولانا فخر الدین صاحب مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ نے پڑھایا،

حضرت مولانا علامہ ابراہیم بلیاوی سے صحیح مسلم و جامع ترمذی ،

حضرت مولانا بشیر احمد خان بلند شہری سے سنن نسائی،

حضرت مولانا فخر الحسن مرادآبادی سے سنن أبی داؤد

حضرت مولانا عبد الاحد دیوبندی سے شمائل ترمذی،

حضرت مولانا سید حسن دیوبندی سے شرح معانی الآثار،

حضرت مولانا ظہور احمد دیوبندی سے سنن ابن ماجہ و مؤطا امام مالک ،

اور حضرت مولانا جلیل احمد کیرانوی سے مؤطا امام محمد پڑھیں رحمھم اللہ تعالیٰ ۔

دار العلوم دیوبند میں خدمات کا آغاز -
دوران تعلیم آپ اپنے نیک و صالح طبیعت کی بنا پر اپنے اساتذہ کے نور نظر رہے خصوصاً اپنے مخدوم و مکرم حضرت مولانا علامہ ابراہیم بلیاوی علیہ الرحمہ کے خادم خاص رہے، لہذا فراغت کے بعد حضرت ہی کے حکم سے مدرسہ عبدالرب دہلی میں تدریسی خدمت کا آغاز فرمایا، اور کم و بیش آٹھ سال وہاں تدریسی خدمات انجام دیں،
1966 ء میں حضرت مولانا علامہ ابراہیم صاحب رحمت اللہ علیہ ہی کی توسط سے دار العلوم دیوبند میں آپ کا تقرر ہوا، جہاں آپ سے فن حدیث کی مشہور کتابیں مسلم شریف، نسائی شریف وغیرہ اور فن تفسیر میں بیضاوی جیسی عظیم کتابیں متعلق رہیں ۔

بیعت و سلوک -
بیعت و ارشاد میں آپ کا تعلق اؤلا حضرت مولانا شاہ وصی اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے رہا بعدہ آپ محی السنہ شاہ ابرار الحق صاحب ہردوئی رحمۃ اللہ علیہ کے حلقۂ ارادت میں شامل ہوۓ،اور بہت جلد منازل سلوک طۓ فرما کر اجازت و خلافت سے مشرف ہوئے ، نیز آپ کو حضرت مولانا ابراہیم بلیاوی حضرت مولانا قاری صدیق باندوی اور خلیفہ مدنی حضرت مولانا محمود صاحب رحمہمُ اللہ سے بھی اجازت و خلافت حاصل ہے ۔

آپ کے مشہور تلامذہ -
حضرت مولانا سید طاہر حسین گویاوی،

حضرت مولانا مفتی امین صاحب پالن پوری شیخ الحدیث ثانی دار العلوم دیوبند ۔

حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی

حضرت مولانا محمد یامین صاحب،

حضرت مولانا محمد نسیم صاحب بارہ بنکی استاذ حدیث دار العلوم دیوبند،

حضرت مولانا مفتی محمد راشد صاحب اعظمی استاذ حدیث دار العلوم دیوبند،

حضرت مولانا شوکت علی قاسمی بستوی استاذ حدیث دار العلوم دیوبند،

حضرت مولانا خورشید انور گویاوی استاذ حدیث دار العلوم دیوبند،

حضرت مولانا مفتی سلمان صاحب منصورپوری استاذ حدیث دار العلوم دیوبند،

حضرت مولانا سلمان صاحب بجنوری نقشبندی استاذ حدیث دار العلوم دیوبند،

حضرت مولانا شاہ عالم گورکھپوری استاذ دارالعلوم دیوبند،

حضرت مولانا اشتیاق صاحب دربھنگہ استاذ دارالعلوم دیوبند،

حضرت مولانا عارف جمیل صاحب مبارکپوری استاذ حدیث دار العلوم دیوبند،

حضرت مولانا یاسر ندیم الواجدی،

حضرت مولانا ساجد صاحب ہردوئی استاذ حدیث دار العلوم دیوبند،

حضرت مولانا خلیل الرحمٰن قاسمی برنی جیسے بڑے بڑے علماء شامل ہیں ۔

وفات - 22 ستمبر 2024 ء میں آپ دار فانی سے دار بقاء کی جانب کوچ فرما گۓ، اور مقبرہ قاسمی میں آپ مدفون ہوئے ۔

اللہ تعالی حضرت کی خدمات کو قبول فرمائے درجات کو بلند فرمائے جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین

Address

Kolkata
700011

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Darul Uloom Deoband posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share