18/05/2023
عیسائی دنیا میں
چرچ ملکی سیاسی معاملات میں
اس قدر دخل اندازی کرتا تھا کہ بادشاہ تک پوپ کے ماتحت تھے۔
کسی بادشاہ کی بادشاہت اس وقت تک درست تصور نہ کی جاتی تھی جب تک پوپ اس کی توثیق نہ کر دے ۔ پوپ کے پاس بادشاہ سے بھی زیادہ اختیارات تھے ۔ وہ کسی کو جوابدہ نہ تھے۔ چرچ زندگی کے ہر شعبے میں دخل اندازی کرتا تھا۔ان لوگوں نے بائبل میں بھی اپنی مرضی سے تحریف کر رکھی تھی تاکہ ان کی بالادستی ہمیشہ قائم رہے۔ اس مقصد کے لیے عام آدمی کا ڈائریکٹ بائبل کا مطالعہ کرنے کی سخت ممانعت تھی ۔ کسی نے اگر بائبل کا مطالعہ کرنا ہو تو وہ پادریوں کا محتاج تھا ۔
اسی طرح جب جدید سائنسی تحقیقات سامنے آئیں تو ان کی سب سے زیادہ مخالفت چرچ نے کی۔ اس مخالفت کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں سائنس دانوں کو زندہ جلا دیا گیا اور لاکھوں کو جلاوطنی کی سزا برداشت کرنا پڑی
(تفصیلات کے لیے ملاحظہ فرمائیں "معرکہ مذہب و سائنس" اردو تردجمہ "History of conflict between religion and science by draper")
چرچ کی اس بالادستی سے نجات کے لیے "سیکولرازم" کی اصطلاح متعارف کروائی گئی۔ بحوالہ "سیکولرازم:ایک تعارف" انسائیکلو پیڈیا آف ریلیجس اینڈ ایتھکس میں ہے کہ سب سے پہلے اس اصطلاح کا استعمال ایک برطانوی مصنف جارج ہولیوک نے 1851ء میں کیا ۔
اس تحریک کا بنیادی مقصد ریاست کو مذہب سے جدا کرنا تھا۔ یعنی دوسرے لفظوں میں چرچ کی بالادستی کا خاتمہ کرنا تھا ۔
اس تحریک کے نتیجے میں چرچ کی بالادستی کا خاتمہ ہوا اور ان کے مذہبی طبقے کی حثیت علامتی رہ گئی اصل اختیارات بادشاہوں یا حکمرانوں کو منتقل ہوئے۔
اس تحریک کا یہ مخصوص پس منظر تھا ۔ اس کے برعکس بلاد اسلامیہ میں کبھی بھی مذہبی طبقہ اتنا طاقتور یا بااثر نہیں رہا کہ وہ ریاستی انتظامی امور میں مداخلت کر سکے کجا کہ انہیں اپنے انداز میں چلا سکے۔ اس کے علاوہ اسلام محض ایک علامتی مذہب نہیں بلکہ ایک آفاقی ، کثیرالجہتی نظام ہے جو انفرادی و اجتماعی سطح تک ریاستی، معاشرتی، اقتصادی، تجارتی اور دیگر امور ہائے زندگی سے متعلق جامع قسم کی راہنمائی کرتا ہے۔
اس میں بین المذاہب رواداری، اقلیتوں کے حقوق، ان کے جان و مال کی حفاظت، ان کی مذہبی آزادی وغیرہ وغیرہ کے متعلق مکمل ہدایات موجود ہیں ۔
مغربی مذاہب اور نظام ہائے حکومت کی طرح اس میں ایسا کوئی سقم موجود نہیں کہ اسے ترک کر کے کسی نئے نظام اور طرز حکومت کی ضرورت محسوس کی جائے۔ کیونکہ ہر قسم کی راہنمائی اس میں پہلے سے ہی موجود ہے۔
سیکولرازم کی گنجائش مغرب میں نکل سکتی ہے جہاں کے پاس الہامی راہنمائی کا فقدان ہے۔ لیکن بلاد اسلامیہ میں اسلام کے بطور نظام ہوتے ہوئے ایسے کسی فکری نظام کی کوئی حاجت نہیں ۔
وہ لوگ جنہیں ہر معاملے میں مغرب کی نقالی کرنے کی عادت سی بن گئی ہے ان کا ایسے نظام کی حمایت کرنا ہی غیرفطری اور غیر عقلی ہے جو ایک مخصوص پس منظر میں ، مخصوص حالات کے نتیجے میں ایک مخصوص خطے میں معرض وجود میں آیا ۔
محمد إسحٰق قریشي ألسلطاني