23/03/2019
🌺مختصر سوانح حیات قطب الاقطاب
سعید الدین رفاعیؓ سرور مخدوم قندھاری🌺
👈حضرت حاجی سیاح سرور مخدوم سید سعید الدین رفاعیؓ حسینی سادات سے ہیں آپ کا سلسلہ پدری چھ واسطوں سے ایک روایت کے مطابق سات واسطوں سے برہان العارفین سلطان سید احمد کبیر رفاعیؓ تک پپہنچتا ہے۔نسب مادر ۱۲ واسطوں سے امیرالمومنین عمر بن خطابؓ تک پہنچتا ہے۔
آپکے والد کا نام سید ابراہیم نجم الدینؓ تھا۔آپکی والدہ کا نام بی بی فاطمہ تھا آپ شیخ الاسلام با با فرید الدین گنج شکرؓ کی لخت جگر تھی۔اس لحاظ سے آپ بابا فرید گنج شکرؓ کے نواسے ہوتے ہے۔
🌷شکر گنجؓ آپ کے نانا,رفاعیؓ آپکے دادا,
علیؑ کے لعل, آل مصطفیٰ ﷺ مخدوم قندھار ی🌷
👈سرور مخدومؒ کے آباء و اجداد عراق کے رہنے والے تھے۔سرور مخدومؒ نے مختلف ممالک کی سیر کی مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں عرصہ تک قیام کیا,پھر ہندوستان تشریف لائے اور دہلی میں اقامت اختیار کرلی۔آپؒ عرصہ دراز تک محبوب الہیٰؓ کی خدمت میں رہے اور نظام الدین اولیاء کے فیض صحبت میں علوم ظاہر کے علاوہ علوم باطن سے بھی بہرہ ور ہوئے ۔
🔰بیعت و خلافت:-
آپؒ اپنے والدؒ کے مرید اور خلیفہ تھے۔جیسا کہ "مشاہیر قندہار" (مولفہ محمد اکبر الدین صدیقی ) میں اسکا ذکر ہے۔آپؒ کو بارگاہ محبوب الہیٰ سے بھی اجازت و خلافت حاصل تھی۔
❇️مجدد و مجتہد آئین حزب اللّٰہ حضرت سید اسمعیل عرف ذبیح اللّٰہ شاہ حسنی الحسینیؒ نے اپنی تصنیف لطیف "آئین حزب اللّٰہ " میں حضرت سرکار سرور مخدوم ؒ کا فیضان محبوب الہٰی سے مستفیض ہونے کا ذکر کیا ہے۔
👈ایک روز سلطآن المشائخ محبوب الہٰی قدس اللّٰہ سرہ مجلس میں وعظ فرما رہے تھے کہ آپکی محفل منزل فیض میں سخاوت کا اسطرح ذکر آیا کہ حضور غوث اعظمؓ ایک روز یاد الہٰی میں بیٹھے تھے کسی نے کہا کہ حاتم طائی بڑا سخی تھا۔حضور غوث الاعظمؓ نے خلیفہ سے ارشاد فرمایا کہ شہر بغداد میں جتنے فاسق و بدکار ہوں حاضر کرو۔صبح خلیفہ وقت نے یہ سب لوگوں کو حاضر کیا۔وہ سب قطار سے حسب فرمان کھڑے کئے گئے آپؓ گھوڑے پر سوار ہوکر ما بین صف ہائے ایستادہ گھوڑا چلائے اور فرمایا کہ ادہر کے ابدال ادہر کے قطب(سبحان اللّٰہ ) یہ سخاوت ہے۔یہ تذکرہ سن کر محبوب الہیٰ چپ ہو رہے۔اور وعظ میں مشغول ہوئے۔اتنے میں جناب باری تعالی سے حضرت کو خطاب ہوا اے محبوب الہٰی آپ بھی کچھ مانگو چنانچہ تین مرتبہ ایسا ہی خطاب ہوا۔آپ بدستور وعظ میں شامل رہے چوتھی مرتبہ غور فرمایا کہ جناب باری تعالیٰ مجھے خطاب فرماتا ہےاور میں چپ رہو یہ سوء ادبی ہے پس حسب الارشاد باری تعالٰی عرض کیا میں جس کو غوثیت,قطبیت,کرامت,ولایت عطا کروں اگرچہ وہ کیسا ہی ہو تا قیامت اسکے خاندان میں امانتا جاری رہے۔جناب باری سے ارشاد ہوا اے محبوب جو مانگو منظور ہے۔آپ نے ارشاد فرمایا اس محفل میں جتنے بیٹھے ہیں کھڑے ہوجائیں۔حضرت امیر خسرو ؒ,حضرت خواجہ نصیر الدین چراغ دہلویؒ اور کئی بیٹھے رہے باقی 1400 حضرات جو کھڑے تھے ان سے فرمایا کہ اس دروازہ کی کمان سے بے گمان نکل جاؤ۔جو جائیگا غوث و قطب,ولی اور ابدال ہوگا۔حسب الارشاد گذرے اور نعمتیں حاصل کیں۔ایسے لاکھوں ولی اللّٰہ آپ کی خانقاہ مبارک سے مامور بخدمت نکلے۔"از آنجملہ حاجی سیاح سرور مخدوم سید سعید الدین الملقب بہ خلیل اللّٰہ رفاعی چشتی کفار بہنجن قدس اللّٰہ سرہ، بھی اسی دارالعلوم مدرسہ صوفیہ کے ایک جلیل القدر ومنتہی کامل اولیاء( میں سے) ہیں۔" (آئینِ حزبُ اللّٰہ ص ۱۱۱,۱۱۲)
🔰سفردکن اور توطن قندھار:-
725ھ میں محبؤب الہیٰ کا وصال ھوا اور اسکے بعد محمد تغلق نے دہلی خالی کرکے دولت آباد کو پایہ تخت قرار دیا اس وقت جن اولیاء نے دکن کی طرف رخ کیا ان میں حاجی سیاح سرور مخدوم ؒ کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔آپ شیخ ابراہیم سپہ سالار کیساتھ دکن تشریف لائے اور متعدد معرکوں میں شرکت کی جسمیں آپ نے مخالفین کے کئی سرداروں کو قتل کیا جس کی وجہ سے کفار بہنجن مشہور ہو گئے۔
دکن آنے کے بعد آپ نے قندھار کو اپنی اقامت کے لیے پسند کیا۔اس وقت قندھار ہندؤں کا متبرک مقام تھا رآمائن اور مہا بھارت کے ہیرؤں کا مسکن رہ چکا تھا۔اس وجہ سے یہاں مندروں کی کافی تعداد تھی۔کفر کا بول بالا تھا مخلوق خدا شرک پرستی میں مست خالق حقیقی سے نا آشنا جہالتوں کے اندھیروں میں زندگی گذار رہی تھیں۔ایسے پر فتن ماحول میں آپ نے شمع حق جلائی اور لوگوں کو دعوت اسلام دی۔آپکے اخلاق کریمہ اور کرامات نے لوگوں کو گرویدہ کرلیا۔بہتوں نے آپکے دستِ حق پر اسلام قبول کیا ۔
👈آپکے مریدین و معتقدین کی تعداد بہت زیادہ تھی نہ صرف مسلمان بلکہ ہندو بھی آپکی بزرگی کے قائل تھے۔
آپ اپنا بیشتر وقت تنہائی میں گذارتے آپ نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ یاد الہیٰ میں گذارا شہر سے دور ایک پہاڑ پر موجود تسبیح خانہ میں آپ اپنے مالک حقیقی کے ذکر میں مشغول رہتے تھے۔وہ جگہ گول ٹیکڑی کے نام سے آج بھی مشہور ہے۔
آپ نے اپنے مریدین کی ہدایت و تربیت کی خاطر انکے نام مکتوبات تحریر کئے جو "مکتوبات سروری" کے نام سے مشہور ہے جس میں آپنے مسائل تصوف اس خوبی سے بیان کئے ھیں کہ انکا مطالعہ علم تصوف کے مبتدی اور منتہی کے لئے یکساں فائدہ پہنچا سکتا ہے۔
🔰وصال:-
حضرت حاجی سیاح سرور مخدوم ؒ نے 16 رجب 736ھ کو وصال فرمایا آپکے فرزند نے جسم مبارک کو غسل دیا اور مریدین و معتقدین کی جماعت کثیر کے ساتھ نماز جنازہ ادا کی گئی۔مسکن سے کچھ فاصلے پر مدفن تیار کیا گیا جس پر نہایت شاندار گنبد کی تعمیر ہوئی۔روضہ آج تک مرجع خاص و عام ہے۔905 ھ میں خواجۂ دکن بندہ نواز گیسو درازؒ نے بارگاہ سرور مخدوم میں حاضری دی اورآپ کے فیض سے مستفیض ہوئے۔
اولاد:-
سرور مخدوم ؒ کے دو فرزند تھے۔
پہلے فرزند زین الحقؒ جنکا کمسنی میں ہی وصال ہوگیا تھا۔
دوسرے فرزند شاہ عزالحق عزیز الدين ؒ جن کے تین صاحبزادے تہے۔1)زین الدینؒ 2)سراج الدینؒ,3)نجم الدين ؒ ۔
آپؒ نے اپنی وفات سے پہلے اپنے چہوٹے پوتے نجم الدینؒ کو اپنے پاس بلایا اور انکے سر پر عمامہ رکھا اور تسبیح,مسواک,مصلی,اور عصا بھی مرحمت کیا۔جسکی بنیاد پر انھیں کی اولآد میں سجادگی کا سلسلہ جاری ہو گیا۔
❇️ارشادات سرورمخدوم:-
👈شریعت کے مطالعہ سے نفس پاک ہوتا ہے اور سچائی کے نور سے خدا کے بھید اس پر کھلتے ہیں اور مخلوق کے مرتبہ کے حجابات درمیان سے اٹھ جاتے ہیں۔اسکی اتباع سے جسم اطاعت اور خدمت میں آتا ہے۔
👈طریقت کے مجاہدہ سے دل صاف ہوتا ہے اور نور عصمت سے مصفی ہوتا ہے,خدائے تعالی کے احکام کی باریکیاں اس پر کھل جاتی ہیں اور دنیا کے حجابات درمیان سے اٹھ جاتے ہیں,دل شہوات کے چھوڑنے سے حضوری میں آتا ہے۔
👈حقیقت کے مراقبہ سے روح روشن ہوتی ہے تجلی کے نور سے خدائے تعالی کی وحدانیت کے بھید اس پر کھل جاتے ہیں اور نفسانی مرادات کے حجابات درمیان سے اٹھ جاتے ہیں۔
مآخذ و مراجع :-
1)مکتوبات سروری -----قطب الاقطاب سرور مخدومؓ
2)آئن حزب اللّٰہ ۔۔۔۔۔۔۔۔مجدد آئین حزب اللّٰہ سید اسمعیل ذبیح اللّٰہ شاہؒ
3)مشاھیر قندھار۔۔۔۔۔۔۔۔محمد اکبر الدین صدیقی
4)مرقع انوار۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فصیح الدین نظامی۔
🖋مرتب کردہ:
خاک پائے اولیاءاللہ
سید شجاعت علی نوری
کلم نوری شریف، مہاراشٹرا