Masjid E Muhammadi Kadiri

Masjid E Muhammadi Kadiri Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Masjid E Muhammadi Kadiri, Religious organisation, Kadiri.

06/08/2018
02/08/2018

*مناسک حج سے متعلق 50 اہم سوالوں کے جواب*
____________________
*جوابات از مقبول احمدسلفی*
اسلامک دعوۃ سنٹرطائف

سن 2016 میں حاجیوں کی طرف سے بذریعہ فون بہت سے سوالات کئےگئے ان میں سے بعض اہم سوالات اور ان کے جوابات آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہے تاکہ دوسروں کو بھی اس سے واقفیت ہو اور بطورخاص جنہیں ان مسائل سے واسطہ پڑے ان کے لئے آسانی ہوسکے ۔

*(1)سوال : میقات سے احرام نہیں باندھ سکے اندر داخل ہوکر باندھے اس کا کیا حکم ہے ؟*
جواب : میقات سے احرام باندھنا حج کے واجبات میں سے ہے جنہوں نے میقات سے اندر جاکر احرام باندھا ان کے اوپر دم کے طور پر ایک بکرا ذبح کرکے مکہ کے فقراء ومساکین پر تقسیم کرنا ہے ۔
*(2)سوال : ہم لوگ منی میں کام کرتے ہیں اگر حج کرنا چاہیں تو کہاں سے احرام باندھیں گے ؟*
جواب : آپ منی سے ہی حج کا احرام باندھیں گے لیکن عمرہ کے لئے منی سے باہر جانا ہوگا کیونکہ منی حدود حرم میں شامل ہے ، یاد رہے مزدلفہ بھی حرم کا حصہ ہے لیکن عرفات حرم میں سے نہیں ہےاس لئے منی والے عمرہ کا احرام باندھنے کے لئے عرفات جائیں گے ۔
*(3)سوال: جدہ والے کہاں سے حج کا احرام باندھیں گے؟*
جواب : جدہ والے عمرہ یا حج کے لئے اپنی رہائش ہی سے احرام باندھیں گے کیونکہ یہ لوگ میقات کے اندر ہیں ۔
*(4)سوال : ہم جدہ میں رہتے ہیں عمرہ کے لئے مسجدعائشہ سےاحرام باندھ سکتے ہیں؟*
جواب : آپ کو مسجد عائشہ آنے کی ضرورت نہیں ہے ، اپنی رہائش سے ہی عمرہ کے لئے احرام باندھ سکتے ہیں۔
*(5)سوال : باہر سے آنے والے بہت سے حجاج جدہ ایرپورٹ پر اترتے ہیں او ر وہیں سے احرام باندھ لیتے ہیں میں نے سنا ہے کہ ایسا کرنا صحیح نہیں ہے ؟*
جواب : ہاں آپ نے ٹھیک ہی سنا ہے ، جدہ میقات نہیں ہے اس لئے باہر سے آنے والوں کے لئے جس میقات سے ان کا گزرہو وہیں پر احرام باندھیں گے ، اگر ہوائی سفر ہواور میقات کے اوپر سے گزرہو تو گزرتے وقت ٹھیک میقات کے اوپر احرام باندھیں گے اس کی اطلاع جہاز والے دیتے ہیں ۔جس نے جدہ ایرپورٹ پر اتر کر وہاں سے احرام باندھا اسے کسی قریبی میقات پر جاکر پھر سے احرام باندھنا چاہئے اگر ایسا نہیں کیا تو دم دینا ہوگا۔
*(6)سوال : میں نے میقات پہ حج تمتع کی نیت کرلی اور مسجد عائشہ سے احرام کا لباس لگایا،اس کی وجہ سے حج میں تین روزے رکھے کیا میرا حج صحیح ہے ؟*
جواب : ہاں حج صحیح ہے ، احرام اصل حج وعمرہ کی نیت کو کہتے ہیں تو جس نے میقات پہ نیت کرلی اور احرام کا کپڑا نہیں لگایا ،آگے جاکر کسی جگہ سے لگایا تو اس نےمحظورات احرام کا ارتکاب کیاکیونکہ جس وقت اس نے نیت کی اس وقت سلاہواکپڑا پہنا تھا ۔ ایسے شخص کوفدیہ دینا ہوگا۔ فدیہ میں یا تو تین روزہ رکھنا ہے ، یا ایک جانور ذبح کرنا ہے یا چھ مسکینوں کوکھانا کھلانا ہے۔
*(7)سوال : اہل مکہ کیا صرف افراد ہی کرسکتے ہیں؟*
جواب : یہ خیال غلط ہے کہ مکہ والے صرف حج افراد ہی کرسکتے ہیں ، صحیح یہ ہے کہ مکہ والے تمتع اور قران بھی کرسکتے ہیں ۔
*(8)سوال : میں نے سنا ہے کہ پہلی مرتبہ حج کرنے کے لئے تمتع یا قران کی نیت ضروری ہے افراد کی نیت نہیں کر سکتے۔ کیا ایسا خیال درست ہے ؟*
جواب : ایسا خیال درست نہیں ہے ، پہلی دفعہ ہو یا دوسری اور تیسری دفعہ اقسام حج میں سے کوئی بھی اختیار کرسکتے ہیں ۔ ہاں حج تمتع افضل ہے ۔
*(9)سوال: میں ہندوستان کا رہنے والا ہوں ، مجھے حج تمتع کرنا ہے ، میں نے ابھی ابھی حج تمتع کا عمرہ کرلیا ہے ، ابھی حج کے کئی دن باقی ہیں تو اس دوران اپنے لئے یا میت کے نام سے عمرہ سکتا ہوں ؟*
جواب : حج تمتع میں پہلے عمرہ کرنا ہے پھر حج کا انتظار کرنا ہے ، جب حج کے ایام آجائے تو مناسک حج ادا کرنا ہے ، آپ کا سفر، حج تمتع کے لئے ہے اور آپ نے حج تمتع کا عمرہ کرلیا ہے لہذا اب آپ کے لئے کوئی دوسرا عمرہ نہیں ہے ،حج کے دنوں کا انتطار کریں اور نفلی طواف ، حرم میں نمازودعااور تلاوت وذکر میں اپنے اوقات گزاریں ۔
*(10)سوال : کیا حاجی یکم ذی الحجہ کو اپنے بال وناخن نہیں کاٹ سکتے ہیں ؟*
جواب :عیدالاضحی کی مناسب سے ناخن وبال کی پابندی اصل میں ان لوگوں کے لئے ہےجو عید کی قربانی دینا چاہتے ہیں اس لئے حاجی ناخن وبال کاٹ سکتے ہیں ، ہاں حالت احرام میں بال اور ناخن کاٹنا منع ہے ۔نیز اگر حاجی عید کی قربانی دینا چاہئے تو دے سکتا ہے اس صورت میں انہیں بھی بال وناخن کی پابندی کرنی چاہئے ۔
*(11)سوال : احرام کی حالت میں کنگھی کرتے ہوئے کچھ بال ٹوٹ گئے کیا اس پہ کفارہ دیناہے ؟*
جواب : جسے اس بات کا یقین ہوتو کہ اس کے کنگھی کرنے سے بال ٹوٹے ہیں تو فدیہ دنیا ہوگا لیکن اگر شک ہے کہ یہ بال پہلے سے ٹوٹے ہوں تو پھر اس پہ فدیہ نہیں ہے ۔
*(12)سوال : حالت احرام میں چوٹ لگنے سے خون بہنے لگا کیا اس پر دم پڑجاتا ہے؟*
جواب : نہیں اس پر کوئی دم نہیں ہے ۔
*(13)سوال : حالت احرام میں نہانے کے بعد کنگھی کرنے کا کیا حکم ہے ؟*
جواب : حالت احرام میں کنگھی کرنے کی ممانعت نہیں آئی ہے لیکن چونکہ بال کاٹنا یا توڑنا احرام کی حالت میں منع ہے اس وجہ سے کنگھی نہیں کرنا چاہئے اور جسے کنگھی کرنے سے بال ٹوٹنے کا یقین ہو تو اس کو ہرحال میں کنگھی نہیں کرنا چاہئے ۔سر کھجلانے سے بال ٹوٹ جانے پر کوئی فدیہ نہیں ہے ۔
*(14)سوال : کچھ لوگ منی ، مزدلفہ وغیرہ میں مکمل نماز پڑھتے ہیں؟*
جواب : منی ، عرفات اور مزدلفہ میں نمازیں قصر کرکے پڑھنی ہیں جو مکمل نمازیں پڑھتے ہیں وہ مناسک حج کی مخالفت کرتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کو چھوڑکر کسی امتی کے قول پر چلتے ہیں ۔
*(15)سوال : منی میں آٹھ ذی الحجہ کا دن نہ گزانا کیسا ہے کیونکہ بہت سے لوگ ایسا کرتے ہیں اور ڈائرکٹ عرفات چلے جاتے ہیں ؟*
جواب : یہ لوگوں کی کوتا ہی کہ منی میں یوم الترویہ کے قیام کو سنت سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں ، اعمال حج ویسے ہی انجام دینا چاہئے جیساکہ رسول اللہ ﷺ نے تعلیم دی ہے ۔ اگر کوئی مجبوری کی بناپر یوم الترویہ کو منی میں قیام نہ کرسکے تو یہ بات اور ہے ۔
*(16)سوال : آدھی رات کو عرفات کے لئے نکل پڑے، اس میں ہم مجبور تھے کیونکہ ہم لوگ کسی کمپنی کے ساتھ تھے اور اس کا یہی شیڈول تھا؟*
جواب : منی میں آٹھ ذی الحجہ کا قیام مسنون ہے اور یہ قیام نوذی الحجہ کو فجر کے بعد سورج نکلنے کے وقت تک ہے لہذا حجاج کوسنت کی پیروی کرنی چاہئے اور جو کمپنی کے ذمہ دار ہیں ان کو اس بات کا پابندبنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ بسااوقات حجاج کی کثرت کی وجہ سے کمپنیوں کے لئے سواری کے انتظام میں دشواری ہوتی ہے اس وجہ سے آدھی رات سے ہی تیاری میں لگ جاتے ہیں ۔ عرفات میں نو ذی الحجہ کو زوال شمس سے غروب آفتاب کے درمیان تک قیام مطلوب ہے۔ بہر کیف!کوئی مجبوری میں رات میں ہی عرفات کے لئے نکل پڑا اور وہ فجر سے پہلے یا بعد میں عرفات پہنچ گیا اس کا حج صحیح ہے ۔
*(17)سوال : کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پندرہ دن قیام کرنے سے آدمی مقیم ہوجاتا ہے اس لئے منی ،عرفات اور مزدلفہ میں قصر نہیں پڑھنی ہے؟*
جواب : حج کے دوران نمازوں کے لئے سفر کا حکم نہیں ہے بلکہ یہ سنت رسول اللہ ﷺ ہے کہ انہوں نے اپنی امت کو منی، عرفات اور مزدلفہ میں قصر کرکے نمازپڑھنے کا حکم دیا۔ اگر یہاں سفر کے احکام ہوتے تو مکہ والے جو آپ کے ساتھ حج میں شریک تھے وہ نمازیں قصر نہیں کرتے۔
*(18)سوال : ہم لوگ عرفات سے مغرب کے وقت نکلنے لگے مگر بھیڑ کی وجہ سے عرفات میں ہی کافی تاخیرہوگئی اس وجہ سے حج پہ کوئی اثر تو نہیں پڑا؟*
جواب : نہیں کوئی اثر نہیں پڑا، عرفات میں غروب آفتاب تک قیام کرنا ہے اس سے پہلے عرفات چھوڑنا ترک واجب ہے مگر سورج ڈوبنے کے بعد نکلنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
*(19)سوال : سواری کی دقت اور اس کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے عرفات پہنچتے پہنچتے مغرب کا وقت ہوگیا یعنی ہمیں عرفات میں مغرب کے بعد قیام کرنے کا موقع ملا تو عرفہ کا وقوف حاصل ہوگیا؟*
جواب : ائمہ کے صحیح قول کے مطابق عرفات میں دس الحجہ کے فجر تک بھی کوئی قیام کا حصہ پالیا تو اس کا وقوف مانا جائے گا۔
*(20)سوال : دس ذی الحجہ کو میں نے کنکری ماری اور سیدھے حرم شریف جاکر طواف کیاپھرسعی کی ،اس کے بعد بال کٹایا ، کیا یہ عمل صحیح ہے ؟*
جواب : یوم النحر کو پہلے رمی جمرہ کرنا چاہئے ، پھر قربانی کرنی چاہئے(متمعے وقارن کے لئے)، اس کے بعد بال منڈانا چاہئے ، پھر طواف افاضہ اور حج کی سعی کرنی چاہئے ۔ یہ ترتیب قائم رکھنا افضل ہے لیکن اگر ترتیب بدل گئی تواس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :افعل ولاحرج یعنی پہلے جو سہولت ہو کرلو کوئی حرج نہیں ہے۔
*(21)سوال : دس ذی الحجہ کو کنکری مار کے خیمہ میں واپس آگیااور بال کٹالیا، طواف نہیں کرسکے کیا کریں ؟*
جواب : سبھی حاجیوں پریوم النحر کو طواف افاضہ اور سعی کرنی ہے ، مفرد وقارن نے طواف قدوم کے ساتھ سعی کرلی تھی تو آج صرف طواف افاضہ کرنا ہے ۔ اگر کوئی دقت کی وجہ سے آج طواف افاضہ اور سعی نہیں کرسکے تو ایام تشریق میں بھی طواف افاضہ اور سعی کرسکتے ہیں ۔
*(22)سوال : یوم النحر کو بیمارہوگیا ،میری طرف سے کوئی دوسرا کنکری ماردیااور میں نے بال کٹالیاتو میں نے ٹھیک کیا؟*
جواب : بیماری کی وجہ سے کوئی دوسرا آدمی کنکری مارنے میں نیابت کرسکتا ہے ،اس لئے آپ کا یہ عمل درست ہے ۔
*(23)سوال : ایام تشریق میں منی میں قیام کرنےاور رمی جمرات کرنے کی طاقت نہیں ہے تو کیا کریں؟*
جواب : میرے خیال سے قیام کرنے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اگر بیمار ہو تو کہیں نہ کہیں قیام کرنا ہی پڑے گا اور منی میں طبی سہولیات بھی میسر ہیں اس لئے ایسے آدمی کو میں مشورہ دوں گا کہ ایام تشریق کی راتوں میں منی ہی میں قیام کریں لیکن واقعی کسی عذر کے تحت منی چھوڑنا پڑے تو پھر کوئی حرج نہیں ہے ، اس وقت اپنی جانب سے کسی دوسرے کو رمی جمرات کے لئے نائب بنادیں ۔
*(24)سوال : کچھ ساتھی یوم النحرکو رمی کرکے قربانی کا کافی دیر تک انتظار کررہے تھے ان کا کہنا تھا کہ بغیر قربانی کے بال نہیں کٹاسکتے ،کیا یہ صحیح بات ہے ؟*
جواب : آپ کے ساتھیوں کا ایسا کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے یوم النحر کے اعمال کی ترتیب میں تقدیم وتاخیر کی رخصت دی ہے ، اس لئے قربانی کا انتظار کئے بغیر بال منڈالینا چاہئے ۔
*(25)سوال : آدھی رات کو یوم النحر کی کنکری مارناکیسا ہے؟*
جواب : آدھی رات کے بعد مجبور وں اور کمزوروں کے لئے یوم النحر کی کنکری مارنا جائز ہے لیکن جو تندرست ہو ں ان کے لئے جائز نہیں ہے ان کے حق میں سورج نکلنے کے بعد کنکری مارنا ہے۔
*(26)سوال : کنکری مارنے میں کسی کووکیل بنانے کا کیا عذرہے ؟*
جواب :ایسا کوئی بھی عذر جس سے کنکری مارنے سے عاجز ہو اس بناپر نیابت جائز ہے مثلاکمزوری ، بیماری، بچپنا ،شدت زحام کا خوف، حاملہ کے لئےسقط حمل کا خطرہ وغیرہ۔
*(27)سوال :منطقہ شرائع جو مکہ میں ہے وہاں حج کی قربانی دینی کیسی ہے ؟*
جواب : حج کی قربانی حدود حرم میں دینا ضروری ہے اور شرا ئع کا کچھ حصہ حدود حرم میں ہے اور کچھ حصہ حدود حرم سے باہر ہے اس کے درمیان علامت کے ذریعہ تفریق کی گئی ہے لہذ ا شرائع کے اس حصے میں ہدی ذبح کرناصحیح ہے جو حدود حر م میں داخل ہے ۔
*(28)سوال : حج کی قربانی اپنے ملک میں دینی کیسی ہے ؟*
جواب : حج کی قربانی اپنے ملک میں نہیں دے سکتے ، یہ حدود حرم میں ہی دینا لازم ہے۔
*(29)سوال : کیا حاجی حج کی قربانی کے ساتھ عید الاضحی کی قربانی دے سکتے ہیں ؟*
جواب : حج کرنے والوں پر عید کی قربانی کرنا ضروری نہیں ہے اگر چہ اس کی طاقت رکھتے ہوں لیکن اگر دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں۔
*(30)سوال : دم مکہ سے باہر دینا کیساہے ؟*
جواب : دم مکہ میں ہی دینا ہے اور اس کا گوشت مکہ کے مساکین پرتقسیم کرنا ہے۔
*(31)سوال : دس ذی الحجہ کومیں نے کنکر ی ماری ، تھکا ہواتھا اس لئے خیمہ واپس آکر بنیان اور شلوار پہن لیا اور بعد میں حلق کیا؟*
جواب : اگر سلا ہوا کپڑا بنیان اور شلوار بغیر علم کے بھول کر پہن لیا تو اس پر کوئی فدیہ وغیرہ نہیں ہے۔
*(32)سوال : ایک آدمی نے یوم النحر کو طواف افاضہ کرلیا مگر تھکان کی وجہ سے سعی نہیں کرسکا ، حج کی سعی تیرہ تاریخ کو کی کیا اس کے اوپر کچھ ہے ؟*
جواب : اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور اس شخص کے اوپر کچھ بھی نہیں ہے۔
*(33)سوال : عورت نے حیض کی حالت میں طواف کرلیا کیا اس کے اوپر دم دینا ہے ؟*
جواب : طواف پاکی کی حالت میں باوضو کرنا ہے اس لئے حیض کی حالت میں کیا ہوا طواف صحیح نہیں پھر سے پاک ہونے پر اس کا اعادہ کرے گی اور ساتھ ہی اللہ تعالی سے توبہ کرے گی ۔
*(34)سوال : ایک عورت رمی کی طاقت رکھنے کے باوجود یوم النحر کو کنکری مارنے میں دوسرے کو وکیل بناکر بیمار شوہر کے ساتھ جدہ چلی گئی اس عورت پر کیا حکم ہے جبکہ اس کے پاس فجر تک رمی کرنے کا وقت ہے ؟*
جواب : صرف سفر کی بنیاد پر ایسی عورت کا کسی کو کنکری مارنے میں وکیل بنانا صحیح نہیں ہے اس کے اوپر واجب ہے کہ وہ جدہ سے لوٹ کر فجر سے پہلے پہلے اس دن کی رمی کرلے ، اگر ایسا نہیں کرتی تو اس کے اوپر دم دینا ہے ۔
*(35)سوال:اگر حاجی نے دس اور گیارہ ذ ی الحجہ کو طواف افاضہ نیںا کیا تو اس کے طواف کرنے کی کیا شکل ہو گی؟*
جواب: اگر حاجی نے دس یا گیارہ کو طواف افاضہ نہیں کیا تو بارہ کو کرلے ، اس دن بھی نہیں کرسکا تو تیرہ کوکر لے ۔ اگر تیرہ کو ہی واپسی ہو اور طواف افاضہ اب تک نہ کرسکا ہو تو ایک ہی نیت سے طواف افاضہ اور طواف وداع کرلے اور نماز طواف پڑھ کر سعی کرلے ۔ حج میں آخری کام طواف وداع ہوتا ہے اس حال میں آخری کام سعی ہوگا ، اس میں کوئی حرج نہیں ۔
*(36)سوال : ایام تشریق میں منی کے بجائے مزدلفہ میں قیام کرنا؟*
جواب : ایام تشریق کی راتیں منی میں گزارنا واجب ہے جو یہ راتیں بلاعذریہاں نہ گزارکر مزدلفہ یا عزیزیہ میں گزارے اس کے اوپر دم لازم ہوجاتا ہے لیکن جسے منی میں جگہ نہ ملی وہ منی سے قریب ترقیام کرے ،اس صورت میں کوئی حرج نہیں ان شاء اللہ ۔
*(37)سوال : ایام تشریق میں قصر ہے یا مکمل ؟*
جواب : ایام تشریق میں نمازیں اپنے اپنے اوقات میں قصر کے ساتھ پڑھنی ہے ۔
*(38)سوال : گیارہ تاریخ کو میں نےصبح 6 بجے رمی کیا اس کا حکم کیا ہے ؟*
جواب : ایام تشریق میں کنکری مارنے کا وقت زوال کے بعد شروع ہوتا ہے اس لئے جس نے اس سے پہلے کنکری ماری اس کی رمی شمار نہیں ہوگی اور وہ واجب کا تارک ہوگا ۔ اس بناپر اس کے اوپر دم واجب ہوجاتا ہے ۔
*(39)سوال : ایام تشریق میں ظہر سے پہلے بے شمار لوگ رمی جمرات کرتے ہیں کیا ایسا کرنا غلط ہے ،اگر غلط ہے تو حکومت کی طرف سے کوئی پابندی کیوں نہیں ؟*
جواب : ایام تشریق میں رمی کی ابتداء زوال کے بعد ہوتی ہے جو لوگ وقت سے پہلے رمی کرتے ہیں اس کی رمی نہیں ہوگی خواہ حکومت اس جانب توجہ دے یا نہ دے ۔ حج میں حکومت کی اہم توجہ جانی اور مالی نقصان سے بچانے کی طرف زیادہ ہوتی ہے ۔
*(40)سوال : اکثر حاجی بارہ کی کنکری مارکے چلے جاتے ہیں کیا اس طرح سے کرنا حاجی کے حق میں کوتاہی کا سبب ہے ؟*
جواب : اس میں کوئی حرج نہیں ہے جو چاہے بارہ ذی الحجہ کی کنکری مار کر جائے اور جو چاہے تیسرہ ذی الحجہ کی بھی کنکری مارے ۔
*(41)سوال : بہت حاجیوں کو تعجیل کرنے کی صورت میں بارہ ذی الحجہ کی کنکری زوال سے پہلے مارتے ہوئے دیکھتا ہوں، ان سب کا کہنا ہے کہ آج کے دن زوال سے پہلے کنکری مارنا جائز ہے اس کی کیا حقیقت ہے ؟*
جواب : تعجیل کی صورت میں بھی بارہ ذی الحجہ کو زوال کے بعد ہی کنکری مارنا ہے جنہوں نے زوال سے پہلے کنکری مارلی اور واپس چلے گئے ان کے اوپر دم دینا واجب ہے کیونکہ ان کی رمی ہوئی ہی نہیں ، وہ واجب کا تارک ہوگیا۔
*(42)سوال : بارہ ذی الحجہ کو منی سے واپس آجانا کیساہے ؟*
جواب : بارہ ذی الحجہ کو رمی جمرات کے بعد منی سے واپس آجانے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ سورج ڈوبنے سے پہلے پہلے منی چھوڑنا ہوگا۔
*(43)سوال : میری گاڑی بارہ ذی الحجہ کو شام چھ بجے منی لینے آئے گی ، اگر گاڑی نکلتے نکلتے سورج ڈوب گیا تو کیا تیرہ کو بھی کنکری مارنی ہے ؟*
جواب : جب آپ کی نیت تعجیل کرنے کی ہے اوربھیڑ کی وجہ سے گاڑی آنے یا گاڑی نکلنے میں یا سامان وغیرہ کی ترتیب میں معمولی تاخیر ہوگئی اس حال میں کہ سورج منی میں ہی ڈوب گیا تو اس میں کوئی حرج نہیں ، آپ سورج ڈوبنے سے پہلے سے ہی تیاری کررہے تھے ۔
*(44)سوال : جدہ والے کے اوپر طواف دواع ہے کہ نہیں؟*
جواب : اہل جدہ کے اوپر بھی طواف وداع ہے اس لئے بغیر طواف کئے جدہ والے حج سے واپس نہ جائیں ورنہ ترک واجب لازم آئے گا اور اس کے بدلے میں دم دینا پڑے گا۔
*(45)سوال : حاجی کے پاؤں میں چھالے پڑگئے وہ طواف دواع کی استطاعت نہیں رکھتے انہیں کیا کرنا چاہئے ؟*
جواب : طواف وداع واجب ہے اور یہ اس وقت کرنا ہے جب حج سے واپسی ہورہی ہے ، اس لئے پاؤں ٹھیک ہونے کا انتظار کریں یا ایسے وقت میں واپسی ہوتو عربیہ (سواری) کے ذریعہ طواف وداع کرلیں ۔
*(46)سوال : میں نے سنا ہے کہ حج کا بدلہ جنت ہے ، تو کیا حقوق العباد بھی معاف کردئے جاتے ہیں ؟*
جواب : علماء کے راحج قول کی روشنی میں حج سے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں خواہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ البتہ حقوق العباد نہیں معاف ہوتے ۔
*(47)سوال : ہم خاتون کی ایک جماعت کے ساتھ حج پہ آرہے ہیں ، ہمارے ساتھ کوئی محرم نہیں ہے ساری خواتین ہیں ایسے میں ہمارے حج کا کیا حکم ہے ؟*
جواب : کوئی خاتون کسی خاتون کے لئے محرم نہیں اس لئے بغیر محرم کے سفر کرنا خواہ عورتوں کی جماعت کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو جائز نہیں ہے ایسی عورتوں کا حج تو صحیح ہے مگر بلامحرم سفر کرنے سے گنہگار ہوئی ہیں اللہ سے توبہ کرنا چاہئے ۔
*(48)سوال : کچھ لوگ یونہی بغیر علم کے دم دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ممکن ہے حج میں کوئی غلطی ہوگئی ہو اس لئے دم دینا بہتر ہے ، اس کا کیا حکم ہے ؟*
جواب : جسے معلوم ہو کہ حالت احرام میں محظورات احرام کا ارتکاب کیا ہے یا حج کی واجبات میں سے کوئی واجب اس سےچھوٹ گیا ہے تواس کو دم دینا چاہئے لیکن جسے یقین کے ساتھ معلوم نہ ہو اسے احتیاط کے طور پر دم دینا صحیح نہیں ہے ۔
*(49)سوال : کیا حج کرنےکے بعد میت کی طرف سے عمرہ کرسکتے ہیں ؟*
جواب : ایک سفر میں ایک ہی عمرہ کیا جاتا ہے یہی سنت رسول اللہ ﷺ اور طریقہ سلف رہاہے لیکن جو آفاقی لوگ ہیں جنہیں دوبارہ مکہ آنے کی امید نہ ہو ایسے آدمیوں کے لئے حج کے بعد میت کی طرف سے عمرہ کرنے کو بعض علماء نے جائز کہا ہے ۔ میں تو کہوں گا کہ ایسے لوگ اللہ سے حرم شریف میں خوب خوب دعاکریں کہ اللہ مجھے دوبارہ یہاں آنے کی توفیق دے ، اگر اللہ کی طرف سے توفیق مل گئی تو میت کی طرف سے عمرہ کرلیں گے ۔ یہ زیادہ بہتر ہے۔
*(50) سوال : ہم کیا ایسا کریں کہ ہمارا حج مبرور ہوجائے ؟*
جواب : احادیث میں حج مبرور وحج مقبول کی بڑی فضیلت ہے ،اس حج کا بدلہ سوائے جنت کے کچھ نہیں ہے ۔ حج مبرور یہ ہے کہ آدمی حلال کمائی سے مسنون طریقے پر حج کرے ، وہ پہلے سے ہی گناہوں سے تائب ہوچکا ہواور دوران حج فحش وبےحیائی ، لغو بات اور جھگڑاولڑائی سے بچے ، اس میں ریاونمود نہ ہو، یہ حج خالص اللہ کی رضا کے لئے ہو۔ حج مبرور کی علامت ہے حج کے بعد نیکیوں کی طرف واپسی اور آخرت کی فکر۔ لہذا حج کرنے والوں کو حج سے پہلے ہی اللہ کی طرف لوٹ جانا چاہئے ،دوران حج سارا کام سنت کے مطابق اللہ کی رضا کے لئے انجام دنیاچاہئے اور حج کے بعد کی زندگی آخرت کی تیاری میں گزارنی چاہئے ۔
________________________
*نوٹ : حج سے متعلق کسی قسم کے سوالات کے لئے رابطہ کریں ، واٹس ایپ نمبر: 00966531437827*

02/08/2018

*گائے اور اونٹ کی قربانی میں اشتراک کا جواز*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*مقبول احمدسلفی*
اسلامک دعوۃ سنٹر، شمالی طائف(مسرہ)

پچھلے سال سے میرے پاس بنگال سے تعلق رکھنے والے عام آدمی ، طلباء اور اہل علم کابکثرت میسج آرہا ہے کہ یہاں کے بعض علماء بڑے جانور یعنی گائے اور اونٹ میں سات آدمی کاحصہ نہیں مانتے ہیں، قربانی میں اشتراک نہیں مانتے اس لئے اس مسئلہ کی وضاحت فرمائیں ۔ میں رابطہ کرنے والوں کو ایک حدیث پیش کرکے مختصرالفاظ میں جواب دے دیا کرتا مگرجیسےلگتا اطمینان نہیں ہورہاہےاور وقت کی قلت کی وجہ سے مفصل وضاحت نہیں کرسکتا تھا۔ اس وجہ سے آج قدرے وضاحت مگرباختصار یہ مضمون لکھ رہاہوں امید کرتے ہوئے کہ عام وخاص پر مسئلہ واضح ہوسکے اور متنازعہ منطقہ میں اختلاف رفع ہونے میں معاون بن سکے ۔
صحیح مسلم میں کتاب الحج کے تحت ایک باب " "بَابُ الِاشْتِرَاكِ فِي الْهَدْيِ وَإِجْزَاءِ الْبَقَرَةِ وَالْبَدَنَةِ كُلٍّ مِنْهُمَا عَنْ سَبْعَةٍ"(باب: قربانی میں شراکت جائز ہے ‘اونٹ اور گائے میں سے ہر ایک سات افراد کی طرف سے کافی ہے) ہے ۔ اس میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جوکہ صحیح مسلم سمیت ابوداؤد، نسائی، ترمذی، ابن ماجہ ، سنن دارقطنی،سنن دارمی، مسند احمد، موطا امام مالک، مصنف ابن ابی شیبہ، معجم کبیر، معجم صغیر، معجم اوسط، سنن کبری، مستدرک حاکم وغیرہ متعدد کتب حدیث میں ہے ۔ روایت اس طرح سے ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ:نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ(صحيح مسلم:1318)
ترجمہ: امام لک نے ابو زبیر سے اور انھوں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا حدیبیہ کے سال رسول اللہ ﷺ کی معیت میں ہم نے ساتھ افراد کی طرف سے ایک اونٹ سات کی طرف سے اور ایک گا ئے سات کی طرف سے قربانی دیں ۔
ذوالقعدہ 6 ہجری کو صلح حدیبیہ ہوئی ، اس سال نبی ﷺ اور صحابہ کرام کو عمرہ کی ادائیگی کرنے سے حدیبیہ کے مقام پر روک دیا گیا تو آپ ﷺاور صحابہ کرام قربانی کر کے اوربال منڈاکر حلال ہوگئے ۔ اس موقعہ پر گائے اور اونٹ سات سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کیے گئے۔
*چونکہ یہ حدیث متعدد کتب احادیث میں آئی ہے اب ہم یہاں محدثین کے اس حدیث کے تحت کتاب اور باب دیکھتے ہیں تاکہ ہمیں معلو م ہوسکے کہ حدیث جمع کرنے اور اس کا علم رکھنے والوں نے اس سے سمجھا ہے ؟۔*
(1)امام ابوداؤد نے کتاب الاضاحی کے تحت باب باندھا ہے " باب في البقر والجزور عن كم تجزئ" یعنی کتاب: قربانی کے احکام و مسائل (باب: گائے اور اونٹ کتنے افراد سے کفایت کرتے ہیں ؟)
(2)امام نسائی نے کتاب الضحایا کے تحت باب باندھا ہے"باب ما تجزئ عنه البقرة في الضحايا" یعنی قربانی سے متعلق احکام و مسائل(قربانی میں گائے کتنے افراد کی طرف سے کفایت کر سکتی ہے؟)
(3)امام ترمذی نے کہا ہے "كتاب الأضاحي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم » باب ما جاء في الاشتراك في الأضحية یعنی كتاب: قربانی کے احکام ومسائل(باب: قربانی میں اشتراک کا بیان)
(4)ابن ماجہ نے کتاب الاضاحی کے تحت باب باندھا ہے"باب عن كم تجزئ البدنة والبقرةیعنی کتاب: قربانی سے متعلق احکام ومسائل(باب: اونٹ اور گائے( کی قربانی) کتنے افراد کی طرف سے کفایت کرسکتی ہے؟)
(5)امام مالک نے کتاب الضحایا کے تحت باب باندھا ہے "باب الشركة في الضحايا وعن كم تذبح البقرة والبدنة یعنی قربانی کی کتاب ، (قربانی میں اشتراک اور گائے و اونٹ کتنے افراد کی طرف سے کفایت کریں گے اس کا باب)
(6)سنن دارمی میں ہے "كتاب الأضاحي» باب البدنة عن سبعة والبقرة عن سبعة یعنی قربانی کی کتاب ( گائے سات اور اونٹ سات افراد کی طرف سے ہونے کا باب)
(7)امام بیہقی نے ذکر کیا ہے"كتاب الضحايا » باب الاشتراك في الهدي والأضحية یعنی قربانی کی کتاب( حج کی قربانی اور عید کی قربانی میں اشتراک کا باب )
ھدی کا اطلاق خاص حج کی قربانی پر ہوتا ہے لیکن "اضحیۃ"بھیمۃ الانعام (بھیڑ بکری، اونٹ گائے) میں سے جو جانور عیدالاضحی کی مناسبت سے اللہ کے تقرب کے لئے ذبح کیا جائے اس پر اطلاق ہوتا ہے۔
اس طرح ھدی اور اضحیۃ کے دونوں الفاظ کا استعمال کرکے امام بیہقی نے اپنے باب سے یہ بات بالکل ہی واضح کردی کہ جس طرح حج کی قربانی میں اونٹ اور گائے میں سات افراد شامل ہوسکتے ہیں اسی طرح عید کی قربانی میں بھی سات افراد شامل ہوسکتے ہیں ۔
اوپر بعض محدث نے کتاب الاضاحی اور بعض نے کتاب الضحایا سے قربانی کا ذکر کیا ہے ۔ اضاحی اور ضحایا دونوں الفاظ عید کی قربانی کے لئے مستعمل ہیں ۔
حدیث سے اضاحی کی دلیل جوکہ اضحیۃ کی جمع ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے:إذا دخل العَشْرُ ، وعندَهُ أضحيةٌ ، يريدُ أن يُضحِّي ، فلا يأخذَنَّ شعرًا ولا يُقَلِّمَنَّ ظفرًا(صحيح مسلم:1977)
ترجمہ: جب عشرہ(ذوالحجہ) شروع ہوجائے اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتاہو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو نہ کاٹے۔
اور ضحایا کی دلیل :حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
أن رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم أعطاه غنَمًا يقسِمُها على صحابتِه ضحايا، فبقِي عَتودٌ، فذكَره لرسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم فقال : ضحِّ به أنت .(صحيح البخاري:2500)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے انھیں بکریاں دیں تاکہ وہ قربانی کے طور پر صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں تقسیم کردیں۔ تقسیم کرتے کرتے صرف بکری کاایک سالہ بچہ باقی رہ گیا جس کاانھوں نے رسول اللہ ﷺ سے ذ کر کیا تو آپ نے فرمایا:صرف تمھیں اس کو بطور قربانی ذبح کرنے کی اجازت ہے۔
یہ حدیث مسلم شریف میں بھی ہے اسے " كتاب الأضاحي » باب سن الأضحية کے تحت ذکر کیا گیا ہے۔
مذکورہ بالا پہلی حدیث جس سے بڑے جانور میں سات افراد خواہ ایک گھر کے ہوں یا متعدد گھر کے شامل ہوسکتے ہیں کا ثبوت ملتا ہے اور یہ موقع عمرہ کا تھا۔
اعتراض کرنے والوں کا اعتراض یہ ہے کہ مقیم حضرات بڑے جانور میں شریک نہیں ہوسکتے ہیں اگر الگ الگ گھرانے کے افراد ہوں کیونکہ اشتراک والی حدیث مسافر کے لئے ہے ۔
*اس اعتراض کے کئی جوابات ہیں ۔*
پہلا جواب یہ ہے کہ ہمیں کتاب وسنت کے دلائل کو فہم سلف کی روشنی میں سمجھنا ہے وگرنہ کوئی کچھ بھی معنی مراد لے سکتا ہے اور جس طرح چاہے مفہوم کو اپنے مقاصد کی طرف پھیر سکتا ہے ۔ اس لحاظ سے فہم سلف کی روشنی میں اوپر ہم نے جابر بن عبداللہ کی حدیث کا مفہوم یہ جانا کہ گائے اور اونٹ کی قربانی میں سات افراد شریک ہوسکتے ہیں خواہ حج کے لئے ذبح کئے جائیں یا عیدالاضحی کی مناسبت سے ۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ دوران حج، حجاج کرام سفر کا اعتبار نہیں کرتے بلکہ حج سے متعلق سنت رسول اللہ ﷺ کا اعتبار کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اہل مکہ جو کہ مقیم ہوتے ہیں مگر منی، مزدلفہ اورعرفات میں قصر سے نمازیں ادا کرتے ہیں ۔ اس سے یہ دلیل ملتی ہے کہ قربانی کا تعلق سفر سے نہیں ہے حج وعمرہ اور عیدالاضحی سے ہے۔
تیسرا جواب یہ ہے کہ اگر کوئی حدیبیہ والی قربانی یا حاجی کی قربانی کو صرف حج کے ساتھ خاص کرتا ہے تو پھر نبی ﷺ کا فرمان : كلُّ أيامِ التشريقِ ذَبحٌ ( السلسلة الصحيحة: 2476)ترجمہ:تشریق کے سارے دن ذبح(قربانی) کے دن ہیں۔
اس حدیث سے چار دن کی قربانی کا استدلال کرنا لغو ٹھہرے گا کیونکہ یہ تو حج سے متعلق اس کے ایام ہیں ۔ گویا ہمیں یہ اشارہ ملتا ہے کہ حج سے متعلق بعض کام خاص نہیں عام ہیں ۔
چوتھا جواب یہ ہے کہ عمومی الفاظ کے ساتھ بھی بڑے جانور میں اشتراک کا ثبوت ملتا ہے چنانچہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:البَقرةُ عن سَبعةٍ، والجَزورُ عن سَبعةٍ(صحيح أبي داود:2808)
ترجمہ: گائے سات افراد کی طرف سے ہے اور اونٹ بھی سات افراد کی طرف سے ہے۔
اس حدیث کے عام الفاظ مزید واضح کرتےہیں کہ رسول اللہ ﷺکا فرمان حج وعمرہ اور عیدالاضحی کی دونوں قسم کی قربانی کو شامل ہے ۔اگر اس حدیث سے کسی کی آنکھیں نہیں کھلتی ہیں تو اس سے زیادہ واضح اور دوٹوک حدیث موجود ہے اس کے بعد کسی کلام کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی ہے ۔
امام طبرانی نے معجم اوسط (ح :6128) اور معجم کبیر(ح:10026) میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ، انہوں نے بیان کیا کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے : البقرةُ عن سبعةٍ ، والجزُورُ عن سبعةٍ في الأَضاحِي.
ترجمہ: گائے سات آدمی کی جانب سے اور اونٹ سات آدمی کی جانب سے قربانی میں کفایت کرنے والا ہے۔
اس حدیث کو علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے ۔(صحیح الجامع : 2890)۔اس حدیث میں واضح طور پر اضاحی کا لفظ آگیا جو کہ عید الاضحی کی قربانی کے لئے بولا جاتا ہے۔
*ایک اہم بات کی وضاحت :*
ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام حالت سفر میں تھے کہ قربانی کا وقت آگیا ، اس موقع سے نبی ﷺ نے مال غنیمت کی تقسیم کی ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:
كنَّا معَ رسولِ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ في سفَرٍ، فحضرَ الأضحى، فاشترَكْنا في البقرةِ سبعةً، وفي البعيرِ عشرةً(صحيح الترمذي:1501)
ترجمہ: ہم لو گ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفرمیں تھے کہ قربانی کا دن آگیا ،چنانچہ ہم نے گائے کی قربانی میں سات آدمیوں اور اونٹ کی قربانی میں دس آدمیوں کوشریک کیا ۔
یہ روایت مختلف کتب حدیث میں مروی ہے ، جاننے کی خاص بات یہ ہے کہ یہ روایت جس میں بطور خاص سفر کا لفظ آیا ہے جہاں جہاں بھی یہ روایت سفر کے لفظ کے ساتھ آئی ہے ہرجگہ اونٹ دس آدمیوں کی طرف سے اشتراک کا ذکر ہے جبکہ اس مضمون کے شروع میں حدیبیہ کے سال اونٹ کی قربانی کا ذکر ہے ، یہ روایت بھی مختلف کتب حدیث میں آئی مگر ہرجگہ اونٹ سات آدمی کی طرف سے کفایت کرنا ذکر ہے ۔ امام شوکانی نے ان دونوں احادیث میں تطبیق کی یہ صورت دی ہے کہ سفر کے موقع سے نبی ﷺ نے مال غنیمت تقسیم کی اور ایک اونٹ کے بدلے دس بکریاں تقسیم کیں یعنی ایک اونٹ دس بکریوں کے برابر گردانا۔صحیح بخاری کی 2500 رقم والی حدیث اسی بات کی تائید کرتی ہے۔ گویا سفر سے متعلق اس حدیث کا تعلق مال غنیمت کی تقسیم سے ہے ۔
*موضوع سے متعلق چند مسائل کی وضاحت :*
٭ بڑے جانور اونٹ اور گائے میں سات سے کم افراد بھی شریک ہوسکتے ہیں کیونکہ اشتراک کا اعلی معیار جب سات ہے تو ادنی معیار جو اس سے کم ہے ضرور قابل قبول ہوگابلکہ بدرجہ اولی صحیح ہوگا۔
٭ گائے اور اونٹ میں سات افراد خواہ ایک گھر کے ہوں یا متعدد گھر کے شامل ہوسکتے ہیں جیساکہ حدیبیہ کے سال صحابہ کرام اونٹ اور گائے میں سات افراد شریک ہوئے ۔
٭جس طرح مسافر کے لئے بڑے جانور میں سات حصہ ہے اسی طرح مقیم کے لئے بھی ہے کیونکہ حدیث عام ہے اس میں مسافر اور مقیم دونوں شامل ہیں۔
٭ بعض اہل علم نے ھدی (حج کی قربانی) میں اشتراک سے منع کیا ہے جبکہ صحیح بات یہ ہے کہ اونٹ اور گائے میں سات سات افراد کا اشتراک جائز ہے اور نص سے ثابت ہے ۔
٭ عقیقہ میں بڑے جانور کا ثبوت نہیں ہے اس وجہ سے چھوٹا جانور ہی عقیقہ دیناچاہئے ، جب بڑے جانور کا عقیقہ میں ثبوت نہیں ملتا تو پھر اس میں اشتراک کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
٭ ایک آدمی قربانی کے طور پر اکیلے بڑا جانور گائے یا اونٹ دینا چاہئے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے جیساکہ اوپر ذکر کیا گیا کہ سات سے کم افراد بھی بڑے جانور میں شامل ہوسکتے ہیں ۔
___________________
*کتاب و سنت کی روشنی میں اپنے مسائل کی جانکاری کے لئے تشریف لائیں مقبول احمد ڈاٹ بلاگ اسپاٹ ڈاٹ کام ۔*

30/07/2018

إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ ۖ فَعَسَىٰ أُولَٰئِكَ أَنْ يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ

اللہ کی مسجدوں کی رونق وآبادی تو ان کے حصے میں ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں، نمازوں کے پابند ہوں، زکوٰة دیتے ہوں، اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ہوں، توقع ہے کہ یہی لوگ یقیناً ہدایت یافتہ ہیں

The mosques of Allah should only be maintained by those who believe in Allah and the Last Day, establish prayer, pay alms-tax, and fear none but Allah. It is right to hope that they will be among the ˹truly˺ guided.

-Sura At-Tawbah, Ayah 18

Address

Kadiri
515591

Telephone

00918886971429

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Masjid E Muhammadi Kadiri posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share