انجمن خاکپائے اصدق Anjuman khak paye Asdaque

انجمن خاکپائے اصدق Anjuman khak paye Asdaque کسی شکستہ دل کو شاد کر دینا رات بھر کی شب بیداری سے بہت?

27/10/2021
02/06/2018

در جان چو کرد منزل جانان ما محمد ﷺ
صد در کشا در دل از جان ما محمد ﷺ

جب سے میرے محبوب حضرت محمد ﷺ نے میرے دل میں گھر کیا ہے
میری جان و دل میں سینکڑوں دروازے محبوب کی وجہ سے کھل گئے ہیں

ما بلبلیم بالاں در گلستان احمد ﷺ
ما لولوئیم و مرجاں عمان ما محمد ﷺ

ہم گلستان احمد کی بلند مرتبت بلبلیں ہیں
ہم لولو اور مرجان کے موتی ہیں اور آپﷺ دریا ہیں

مستغرق گناہیم ہر چند عذر خواہیم
پژ مردہ چوں گیاہیم باران ما محمدﷺ

ہم گناہوں میں غرق ہیں اور عذر خواہ ہیں
ہم خشک گھاس کی مانند ہیں اور آپ ہمارے لئے باران رحمت ہیں

از درد زخم عصیاں مارا چہ غم چو سازد
از مرہم شفاعت درمان ما محمد ﷺ

ہم گناہوں کے زخموں سے چور ہیں ، لیکن یہ فکر نہیں کہ کیوں ہوا کیسے ہوا
کیونکہ ہمیں شفاعت کا مرہم ملے گا اور حضور ہمارا مداوا کریں گے

امروز خون عاشق در عشق اگر ہدر شد
فردا ز دوست خواہم تاوان ما محمدﷺ

آج اگر عاشق کا خون عشق کی راہ میں ہوا ہے
تو کل قیامت میں حضور اس کا بدلہ تاوان دلوا دیں گے

ما طالب خدایئم بر دین مصطفائیم
بر در گہش گدائیم سلطان ما محمد

ہم طالب باری تعالیٰ ہیں اور دین مصطفیٰ پر قائم ہیں
انہیں کے در پر پڑے ہیں اور حضور ہمارے سلطان ہیں

از امتاں دیگر ما آمدیم برسر
واں را کہ نیست یاور برہان ما محمد ﷺ

حضور کی بدولت دوسری امتوں سے افضل ہیں
اُن کے پاس کوئی مددگار نہیں اور حضور ﷺ ہماری روشن دلیل ہیں

اے آب و گل سرودے وی جان و دل درودے
تا بشنود بہ یژب افغان ما محمدﷺ

اے پانی و مٹی کے پتلے نغمے گا اور دل و جان سے حضور پر درود بھیج
تا کہ مدینے میں حضور ﷺ سنیں اور ہماری آہ و زاری کو

در باغ و بوستانم دیگر مخواں معینے
باغم بشست قرآں بستان ما محمد

اے معین ہمارے باغ و بوستاں میں کچھ اور نہ پڑھ
حضور ﷺ کی طفیل قرآن ہمارا باغ بن چکا ہے

حضرت خواجہ معین الدین چشتی علیہ رحمہ
Hazrat Khwaja Moinuddin Chishti Alaihi Rahma

13/12/2017
02/04/2017

सखी का से कहूं मोहे लाज लगे
मोहे पी की नजरिया मार गई
मैंने लाज की घूंघट खोल दियो
पीया जीत गए मैं हार गई
दिन रात तोरा देखूं सपना
मोरे प्रीत की लाज पिया रखना
मोरा दीन धर्म तुम हो सजना
मैं तो सब कुछ तुम पे वार गई
इन चूड़ीयों की लाज पिया रखना
ये तो पहन गई अब उतरत ना
मोरा भाग्य सुहाग तुम्हीं से है
मैं तो तुम्हीं पे जुगना लुटा बैठी

( अमीर ख़ुसरू )

02/04/2017

" सुफी गीत "
तुम से है तबस्सुम कलियों का
गुलशन में बहार तुम्हीं से है
ये चमक ये दमक फुलवन मा महक
सबकुछ सरकार तुम्हीं से है ।।

कजरा गजरा चुड़ी कंगना
झुमका बिंदिया झूमर गहना
तुमहीं हो मेरे सब कुछ सजना
मोरा हार सिंगार तुम्हीं से है।।

है तुम पे निछावर मोरा जिया
बस प्यार किया तो तुम्हीं से किया
मोरे नयन का चैन तुम्हीं हो पिया
मेरे दिल को क़रार तुम्हीं से है ।।

मोरे सुख दुःख की रखते हो ख़बर
मेरे सर पे साया तुम्हारा है
मोरी नय्या के खेवनहार हो तुम
मेरा बेड़ा पार तुम्हीं से है ।।

मोरा तन लेलो मोरा मन लेलो
मेरा दिल लेलो मेरी जां लेलो
मैं और कहां सौदा बेचूं
मेरा सब व्योपार तुम्हीं से है ।।

मैं तो छोड़ के सारी दुनिया को
बस तुम्हरे द्वार पे आन पड़ी
तुम स्वामी हो मैं दासी हूं
मेरा घर संसार तुम्हीं से है ।।

मैं सपना हूं तुम सचमुच हो
मैं कुछ भी नहीं तुम सब कुछ हो
जीवन का मेरे लेना देना
जो कुछ भी है यार तुम्हीं से है ।।

माख़ुज़

06/02/2017
04/02/2017

😰 ایک عالمِ دین کا سچا واقعہ.

مجھے کرناٹکا مسلم متحدہ محاذ کی میٹنگ میں جانا تھا۔ایک آٹو میرے قریب آکر رک گیا میں نے کہا ابراہیم اسٹریٹ جانا ہے۔آٹو میں سوار ہو گیا۔ڈرائیور شکل و صورت سے اچھے، بھلے اور مہذب معلوم ہورہے تھے۔نام پوچھا تو کہا حافظ عقیل احمد پھر انہوں نےکہا میں عالم دین بھی ہوں۔18 سالوں سے امامت و خطبات کے بعد 6 مہینوں سے اطمینان و سکون کی سانس کے رہا ہوں اور زندگی آٹو چلا کر بسر کر رہا ہوں۔میں نے کہا آپ کا منصب
ومقام تو بہت بلند ہے۔قوم کی اصلاح کر سکتے ہیں تعلیم و تر بیت کا اچھا موقعہ ہے آپ نے اچانک روٹ تبدیل کیوں کیا؟ مولانا نے فرمایا برداشت کی ایک حد ہوتی ہے۔ہر کام کے لئے مسجد کے صدر سے رجوع ہونا ،ذمہ داران کو خوش رکھنا، ان کے پسند کے آدمی کی تعریف کرنا، اور نا پسند کی غیبت کرنا، ان کے مرضی کے خلاف کوئی کام نہیں کر سکتے کسی اجتماع اور پروگرام میں جا نہیں سکتے ۔میں نے کئی مرتبہ ان کی ڈانٹ سنا ہے۔ان کی انفرادی زندگی بے عملی کا شکار ہے۔چھوٹ غیبت، دھوکا ،گالیاں، دھمکی عام سی بات ہے رشوت لیتے اور دیتے ہیں یہاں تک کہ سودی کاروبار کرتے ہوے میں نے دیکھا ہے۔امامت کی زندگی سے تنگ آگیا تھا اللہ نے حلال روزی کا موقع عنایت کیا اس میں بہت سکون ہے۔میں نے کہا ہر مسجد کے ذمہ داران ایسے نہیں ہوتے۔ متقی اور پرہیزگاروں کی بڑی تعداد ہے۔مولانا نے فرمایا جس مسجد کا امام ان کے بارے میں گواہی دے کہ ہمارے صدر سیکریٹری متقی و پرہیز گار ہیں تو ہیں ور نہ نہیں انہوں نےکہا ایک بڑی اکثریت اس سے خالی ہے۔مولانا نے فرمایا مسجد کے صدر کا انتخاب مالدار، سیاست کی بنیاد پر ہوتا ہے،حیثیت و مقام کا خیال رکھا جاتا ہے اور ڈرانے دھمکانے والوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔میں نے کہا آٹو ڈرائیور کے تجربات بتایئں تو کہا فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد ظہر تک گھومتا ہوں اللہ کا شکر ہے کہ مسجدسے ماہانہ جورقم ملتی تھی اس سے زیادہ آدھے دن کی محنت میں مل جاتی ہے۔نماز عصر کے بعد بچوں کو تعلیم دیتا ہوں۔لوگوں سے ملاقاتیں کرتا ہوں۔بیوی بچوں کے ساتھ سکون سے ہوں۔
(محمد یوسف کنی )
😇🙄😇

04/02/2017

*بزرگوں کے ہاتھ پاؤں چومنا*
======================
*پاؤں‌ کو بوسہ دینے کے لئے کسی کے سامنے جھکنا کیسا ہے؟*

*کیا قدم بوسی سجدہ ہے؟ کیا قدم بوسی شرک ہے؟*

*🌍 پیش کش : مجلس دعوت 🌍*

تقبیلِ رِجلین یعنی بزرگ اور صالح شخصیات کے پاؤں چومنا نہ صرف ثابت شدہ شرعی اَمر ہے، بلکہ براہِ راست صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے عمل سے ثابت ہے کہ وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست اَقدس کو بوسہ دیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں مبارک چومتے۔
اس سے متعلقہ چند احادیث و آثار درج ذیل ہیں:
1۔ زارع بن عامر – جو وفدِ عبد القیس کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تھے ،سے مروی ہے:
لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِيْنَةَ فَجَعَلْنَا نَتَبَادَرُ مِنْ رَوَاحِلِنَا، فَنُقَبِّلُ يَدَ رَسُولِ اﷲِصلی الله عليه وآله وسلم وَرِجْلَهُ.
جب ہم مدینہ منورہ حاضر ہوئے تو اپنی سواریوں سے کود کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستِ اقدس اور پاؤں مبارک کو چومنے لگے۔
اس حدیث کو صحاح ستہ میں سے سنن ابی داود (کتاب الادب، باب قبلۃ الجسد، 4: 357، رقم: 5225) میں روایت کیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں اسے امام بیہقی نے السنن الکبری (7: 102) میں
اور امام طبرانی نے اپنی دو کتب المعجم الکبیر (5 : 275، رقم : 5313)
اور المعجم الاوسط (1 : 133، رقم : 418) میں روایت کیا ہے۔
2۔ امام بخاری نے ”الادب المفرد” میں باب تقبيل الرِّجل قائم کیا ہے یعنی ”پاؤں کو بوسہ دینے کا بیان۔ ” اس باب کے اندر صفحہ نمبر 339 پر حدیث نمبر 975 کے تحت انہوں نے مذکورہ بالا حدیث کو حضرت وازع بن عامر رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ میں روایت کیا ہے، وہ فرماتے ہیں:
قَدِمْنَا, فَقِيْلَ: ذَاکَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم. فَأَخَذْنَا بِيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ نُقَبِّلُهَا.
ہم مدینہ حاضر ہوئے تو (ہمیں) کہا گیا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ پس ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک ہاتھوں اور قدموں سے لپٹ گئے اور اُنہیں بوسہ دینے لگے۔
یہ الفاظ خاص مفہوم کے حامل ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم نے صرف ہاتھ مبارک پکڑنے پر ہی اکتفا نہ کیا بلکہ ہاتھوں کے علاوہ پاؤں مبارک کو بھی بوسہ دینے کا عمل جاری رکھا درآں حالیکہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ اور پاؤں مبارک پکڑ رکھے تھے۔
3۔ امام ترمذی نے اس مضمون پر ایک حدیث حضرت صفوان بن عسّال رضی اللہ عنہ سے بیان کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ قومِ یہود کے بعض افراد حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سوال کرنے کے بعد اعلانیہ گواہی دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں:
فَقَبَّلُوْا يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ. وَقَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّکَ نَبِيٌّ.
انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ اور پاؤں مبارک کو بوسہ دیا، اور کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نبی ہیں۔
اس حدیث مبارکہ کو امام نسائی نے السنن (کتاب تحریم الدم، 7 : 111، رقم : 4078) میں
اور امام ابن ماجہ نے السنن (کتاب الادب، باب الرجل یقبّل ید الرجل، 2: 1221، رقم: 3705) میں روایت کیا ہے۔
امام ترمذی نے اس حدیث کو الجامع میں دو جگہ روایت کیا ہے: پہلی بار ابواب الاستئذان والآداب میں باب فی قبلۃ الید والرجل (5: 77، رقم: 2733) میں اور دوسری بار ابواب التفسیر کے باب ومن سورۃ بنی اسرائیل
(5: 305، رقم: 3144) میں۔
امام احمد بن حنبل نے المسند (4: 239، 240) میں،
امام حاکم نے المستدرک (1: 52، رقم: 20) میں،
امام طیالسی نے المسند (ص: 160، رقم: 1164) میں
اور امام مقدسی نے الاحادیث المختارہ (8: 29، رقم: 18) میں روایت کیا ہے۔
اتنے اجل محدثین کے اس حدیث کو روایت کرنے اور اس سے استشہاد کرنے کے باوجود بھی کوئی متعصب کہہ سکتا ہے کہ یہ ایک یہودی کا فعل تھا، ہم اسے کس طرح لازمی شہادت کا درجہ دے سکتے ہیں۔ اس سوچ پر سوائے افسوس کے کیا کہا جا سکتا ہے کہ معترض کو یہودی کا عمل تو نظر آگیا مگر جس کے ساتھ کیا جا رہا ہے وہ بابرکت ہستی نظر نہیں آئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہود کو تقبیل سے منع نہیں فرمایا تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتِ تقریری ہوا۔
4۔ علامہ ابن تیمیہ کے جلیل القدر شاگرد حافظ ابن کثیر سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 101 کی تفسیر میں ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایک بار حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی بات پر خفا ہو کر جلال میں آگئے تو:
فَقَامَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضي الله عنه فَقَبَّلَ رِجْلَهُ وَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اﷲِ، رَضِيْنَا بِاﷲِ رَبًّا وَبِکَ نَبِيًّا وَبِالإِْسْلَامِ دِيْنًا وَبِالْقُرْآنِ إِمَامًا فَاعْفُ عَنَّا عَفَا اﷲُ عَنْکَ فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّی رَضِيَ.
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم مبارک چوم کر عرض کیا: یا رسول اﷲ! ہم اﷲ تعالیٰ کے رب ہونے، آپ کے نبی ہونے اور اسلام کے دین ہونے اور قرآن کے امام و راہنما ہونے پر راضی ہیں، ہمیں معاف فرما دیجئے۔ اﷲ تعالیٰ آپ سے مزید راضی ہو گا۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسلسل عرض کرتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم راضی ہو گئے۔
اس روایت کو دیگر مفسرین نے بھی متعلقہ آیت کی تفسیر میں بیان کیا ہے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے اجل صحابی کا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم مبارک چومنا اور خود تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انہیں منع نہ فرمانا کیا (معاذ اللہ) عقیدہ توحید کی خلاف ورزی تھا۔
5۔ امام مقری (م 381ھ) اپنی کتاب تقبیل الید (ص: 64، رقم: 5) میں حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے ایک واقعہ نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک اعرابی بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوا اور اس نے آکر عرض کیا: میں نے اسلام قبول کر لیا ہے لیکن میں کچھ مزید چاہتا ہوں تاکہ میرے یقین میں اضافہ ہوجائے۔ پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت دی تو اعرابی کے بلاوے پر ایک درخت اس کے پاس آیا اور اس نے کہا: یا رسول اللہ! آپ پر سلام ہو۔ اس کے بعد طویل روایت ہے اور آخر میں اعرابی نے تمام نشانیاں دیکھنے کے بعد عرض کیا:
يا رسول الله! أئذن لي أن أقبل رأسك ورجلك.
اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجیے کہ میں آپ کاسر اقدس اور قدم مبارک چوم لوں۔
اس کے بعد روایت میں ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس اعرابی کو اجازت مرحمت فرمائی۔ اور پھر اس اعرابی نے سجدہ کرنے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت نہ دی۔
امام مقری کی روایت کردہ اس حدیث کو حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری (11: 57) میں نقل کیا ہے۔
نیز علامہ مبارک پوری نے بھی تحفۃ الاحوذی (7: 437) میں اس روایت کو نقل کیا ہے۔
یہ روایت بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کر رہی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قدم چومنے کی اجازت تو دی لیکن سجدہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اگر قدم چومنا اور سجدہ کرنا برابر ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی ان کے مابین فرق نہ فرماتے اور دونوں سے منع فرما دیتے۔
یہاں تک آقائے نام دار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں مبارک چومے جانے پر چند احادیث کا حوالہ دیا گیا، جس سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ قدم بوسی ہرگز کوئی شرکیہ عمل نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود اپنی ذات اقدس کے لیے بھی کبھی اس کی اجازت نہ دیتے۔
کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اُنہیں اِس عمل سے نہ روکنا اور سکوت فرمانا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے اس کی اجازت نہ تھی؟ کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا یہ عمل سنتِ تقریری نہ قرار پایا؟ اگر پاؤں چومنا نعوذ باﷲ سجدہ ہے تو کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنھم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سجدہ کر رہے تھے؟ کیا (معاذ اﷲ) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم – جو توحید کا پیغام عام کرنے اور شرک کے خاتمے کے لیے مبعوث ہوئے – خود شرک کے عمل کی اجازت دے رہے تھے؟
کاش! قدم بوسی یا دست بوسی پر اعتراض کرنے والے پہلےقرآن و حدیث کا اچھی طرح مطالعہ ہی کر لیں۔
مشائخ عظام اور اکابر اسلام کی دست بوسی و قدم بوسی کی کیا حقیقت ہے؟
کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ قدم بوسی صرف حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے مخصوص ہے۔ لہٰذا ذیل میں ہم اِس اَمر کا جائزہ لیتے ہیں کہ غیر انبیاء صالحین اور مشائخ عظام اور اکابر اسلام کی دست بوسی و قدم بوسی کی کیا حقیقت ہے؟
یہ ایک حقیقت ہے کہ علمائے کرام اور مشائخ عظام کی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کی خدمت کی نسبت سے تعظیم و احترام بجا لانا منشاء اِسلام ہے۔ اِن کی تعظیم کو شرک کہنا باطل اور ان سے بغض رکھنا نفاق کی علامت ہے۔ کتب سیر و احادیث کا مطالعہ کرنے والا ہر شخص یہ بات جانتا ہے کہ اکابرین کی قدم بوسی ہمیشہ اہل محبت و ادب کا معمول رہی ہے۔ اِس سلسلے میں چند نظائر پیش خدمت ہیں:
1۔ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے غلام تھے، وہ بیان کرتے ہیں:
رَأَيْتُ عَلِيًّا يُقَبِّلُ يَدَ الْعَبَّاسِ وَرِجْلَيْهِ وَيَقُوْلُ: يَا عَمِّ ارْضَ عَنِّي.
میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ہاتھ اور پاؤں چومتے دیکھا اور آپ ساتھ ساتھ کہتے جاتے تھے: اے چچا! مجھ سے راضی ہوجائیں۔
اسے امام بخاری نے الادب المفرد (ص: 339، رقم: 976) میں،
امام ذہبی نے سیر اعلام النبلاء (2: 94) میں،
امام مزی نے تہذیب الکمال (13: 240، رقم: 2905) میں
اور امام مقری نے تقبیل الید (ص: 76، رقم: 15) میں روایت کیا ہے۔
2۔ آسمان علم کے روشن ستارے اور ہر مسلک و مکتبہ فکر کے متفقہ محدث امام بخاری نے بھی اپنی کتاب الادب المفرد میں ہاتھ چومنے پر ایک پورا باب (نمبر 444) قائم کیا ہے۔ امام بخاری نے باب تقبيل اليد میں ”ہاتھ چومنے” کے حوالے سے تین احادیث بیان کی ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ اس سے مراد یہی ہے کہ صحابہ کرام، حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارکہ کو چوما کرتے تھے؛ اور جس طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنھم، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ چومتے تو اسی طرح تابعین، صحابہ کرام کے ہاتھ چومتے۔ ان احادیث کو ذکر کر کے امام بخاری آدابِ زندگی بتارہے ہیں کہ بزرگوں کی سنت یہ تھی کہ شیوخ اور اکابر کا ہاتھ چوما کرتے تھے۔ یہاں تک کہ امام بخاری نے دین میں اس کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس کا الگ باب قائم کیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ امام بخاری اِس باب کے فوری بعد پاؤں چومنے کا باب – بَابُ تَقْبِيْلِ الرِّجْل – لائے ہیں۔
ظاہر ہے کہ امام بخاری نے کتاب الادب میں ان ابواب کو ترتیب دے کر یہ واضح کیا ہے کہ ان کے نزدیک ہاتھ چومنا اور قدم چومنا آداب میں سے ہے۔ اگر وہ اس عمل کو شرک یا سجدہ سمجھتے تو کبھی بھی آداب زندگی کے بیان پر مشتمل اپنی کتاب میں یہ ابواب قائم نہ کرتے اور نہ ہی ایسی احادیث لاتے۔
3۔ اسی طرح امام بخاری کے بعد امت مسلمہ کے نزدیک ثقہ ترین محدث امام مسلم کے شہر نیشاپور میں جب امام بخاری تشریف لائے اور امام مسلم ان کے پاس حاضر ہوئے تو اَئمہ کے اَحوال پر مبنی تمام کتب میں درج ہے کہ امام مسلم نے امام بخاری کا ماتھا چوما اور پھر ان سے اجازت مانگی کہ:
دعني حتی أقبّل رجليک، يا أستاذ الأستاذين وسيد المحدّثين وطبيب الحديث في علله.
اے استاذوں کے استاذ، سید المحدّثین اور عللِ حدیث کے طبیب! آپ مجھے اجازت دیں تو میں آپ کے پاؤں کا بوسہ لے لوں۔
اِمام بخاری اور امام مسلم کا یہ واقعہ ابن نقطہ نے ‘التقیید لمعرفۃ رواۃ السنن والمسانید (1: 33)’میں،
امام ذہبی نے ‘سیر اعلام النبلاء (12: 432، 436)’ میں،
امام نووی نے ‘تہذیب الاسماء واللغات (1: 88)’ میں،
حافظ ابن حجر عسقلانی نے مقدمۃ فتح الباری (ص: 488)’ میں
اور برصغیر کے نام ور غیر مقلد نواب صدیق حسن قنوجی نے ‘الحطۃ فی ذکر الصحاح الستۃ (ص: 339)’ میں روایت کیا ہے۔
4۔ علامہ شروانی شافعی ‘حواشی (4: 84)’ میں لکھتے ہیں:
قد تقرّر أنه يسنّ تقبيل يد الصالح بل ورجله.
یہ بات پایہ تحقیق کو پہنچ چکی ہے کہ صالح شخص کے ہاتھ اور پاؤں چومنا مسنون عمل ہے۔
5۔ مسلک دیوبند کے نام ور عالم اور جامع الترمذی کے شارح علامہ ابو العلاء عبد الرحمان بن عبد الرحیم مبارک پوری کا علم الحدیث میں ایک نمایاں مقام ہے۔ انہوں نے تحفۃ الاحوذی شرح جامع الترمذی کی جلد سات کے صفحہ نمبر 437 پر ہاتھ اور پاؤں چومنے پر مذکورہ بالا تمام روایات بطور استشہاد درج کی ہیں، جس کے ان کے مسلک و مشرب کا واضح پتا چلتا ہے۔
اِس طرح کی بے شمار روایات بطور حوالہ پیش کی جاسکتی ہیں، جوکہ اِس بات کا بین ثبوت ہے کہ صلحاء اور اَتقیاء کی دست بوسی و قدم بوسی کرنا جائز اور پسندیدہ عمل ہے۔ اہل تصوف و روحانیت مانتے ہیں کہ قدم بوسی معمول کا عمل نہیں ہے، بلکہ ایسا کرنے والا عقیدت و محبت سے کرتا ہے۔ اور ایسا عمل بالخصوص قدم بوسی کا عمل ایسی شخصیت کے لیے بجا لایا جاتا جو علم و عمل میں اپنے دور کے امام کی حیثیت رکھتی ہو۔ لہٰذا ہمیں مسلک و جانب داریت کی عینک اُتار کر قرآن و سُنّت، عمل صحابہ اور عمل سلف صالحین کا مطالعہ کرنا چاہیے ۔

Address

Gareriya Khand
Jehanabad
804408

Telephone

+919430625786

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when انجمن خاکپائے اصدق Anjuman khak paye Asdaque posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share