13/09/2024
تقریب تکمیل حفظ مختصر البخاری شریف
٨/ربیع الأول/١٤٤٦ھ
12/ستمبر/2024ء
اللہ تعالی نے یوں تو انسان کو بےشمار نعمتیں عطاء کی ہیں، لیکن قوت حافظہ ان میں اہم ترین نعمت ہے ، اللہ تعالی کی اس خاص نعمت سے انسان مشاہدات و تجربات اور حالات و واقعات کو اپنے ذہن میں محفوظ رکھتا ہے اور ضرورت کے وقت انہیں مستحضر کر کے کام میں لاتا ہے، مشہور جملہ ہے "العلم في الصدور لا في السطور“ کہ در حقیقت علم وہی ہے جو انسان کو مستحضر ہو نہ کہ وہ جو صرف کتابوں میں لکھا ہو اس استحضار کے لیے حافظہ کے سوا اور کوئی شے نہیں ہے ، متقدمین علماء سے لے کر متاخرین تک ہر دور میں بڑے بڑے حفاظ پیدا ہوئے ہیں جن کو حفظ قران کے ساتھ ساتھ ہزاروں احادیث اور اشعار ازبر ہوتے تھے
صحابہؓ زیادہ تر حفاظت حدیث کے سلسلے میں سفینہ کے بجائے سینہ پر اعتماد کرتے تھے _
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ جو آپ ﷺ کے خادم خاص تھے کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس ہوتے اور حدیث سنتے جب ہم اٹھتے تو ایک دوسرے سے دہراتے حتی کہ ہم اس کو ازبر کر لیتے، ترمذی شریف اور دیگر کتب حدیث میں حضرت زید بن ثابت ،عبداللہ بن مسعود اور جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین حضور اکرم ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں : نَضَّرَ اللّٰهُ إمْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيْثاً فَحَفِظَهٗ حَتّٰى يُبَلِّغَهٗ غَيْرَهٗ، فَرُبّ حَامِلِ فِقْهٍ إلٰى مَنْ هُوَ أفْقَهُ مِنْهُ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيْهٍ .
کہ اللہ اس شخص کو خوش و خرم رکھے جو ہم سے کوئی بات سنے اس کو یاد کرے اور پھر دوسروں تک پہنچا دے_ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص سمجھ کی بات کسی ایسے شخص کو پہنچا دیتا ہے جو اس سے زیادہ فقیہ ہو اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص جو خود فقیہ نہیں ہوتا مگر وہ فقہ اٹھائے ہوتا ہے _
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالی دنیا میں احادیث نبوی کے حافظ کو خصوصی طور پر خوشیاں اور مسرتیں عطا فرمائے گا اور آخرت میں اسے نعمتوں سے نوازے گا حتی کہ اس پر خوشحالی اور نعمتوں کے اثرات نمایاں ہو جائیں گے
چناں چہ
جامعہ مظاہر علوم سہارنپور میں شعبہ تخصص فی الحدیث کے ایک ہونہار اور باکمال طالب علم مولوی مسیح اللہ صاحب شاہجہاں پوری ایم پی نے تقریباً تین سال کی قلیل مدت میں حضرت الاستاذ مفتی اسرار صاحب کی زیر نگرانی مکمل بخاری شریف حفظ کرکے اپنا نام حفاظ حدیث میں لکھوایا ہے
ہم مولانا کو اور مولانا کے استاد حضرت مولانا مفتی اسرار صاحب مدظلہ العالی کو مبارکبادی پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے یہ عظیم الشان کارنامہ انجام دے کر دیگر طلباء کے لئے حفظ حدیث کی راہیں ہموار کیں اور جامعہ اور اساتذۂ جامعہ کا نام روشن کیا
واقعی قابل مبارکباد ہیں وہ والدین جن کا یہ فرزند آج اپنے آپ کو موجودہ وقت کے طلباء سے ممتاز کرگیا ہے اور ان کی محنتیں رنگ لائی ہیں
حافظ بخاری کی حوصلہ افزائی کے لیے اور بقیہ طلباء کو اس جانب شوق دلانے کے لئے جامعہ کی مسجد میں تقریب تکمیل حفظ بخاری شریف کے نام سے آج بروز جمعرات بعد نماز مغرب بتاریخ 8ربیع الاول سن 1446ء کو ایک پروگرام منعقد کیا گیا جس میں نمونہ اسلاف حضرت مولانا سید محمد عاقل صاحب شیخ الحدیث و ناظم اعلیٰ جامعہ مظاہر علوم سہارنپور نے عزیزم مولوی محمد مسیح اللہ کا آخری سبق سنا اور عزیز موصوف کو دعاؤں سے نوازا اور دعاء
اس تقریب میں امین عام حضرت مفتی صالح صاحب نے مولوی موصوف اور استاذ محترم و والدین کو مبارک باد پیش کی اور حاضرین کو قیمتی نصیحتوں سے مستفیض فرمایا اور حضرت اقدس مفتی مقصود صاحب استاذ حدیث و صدر مفتی جامعہ ہٰذا کی دعا پر پروگرام کا اختتام ہوا
باری تعالٰی موصوف کی محنت و کاوش کو قبول فرمائے اور اور معاونین کو اجر عظیم سے نوازے اور جامعہ کی ہر طرح کے شرور و فتن سے حفاظت فرماکر اس کے فیض کو عام و تام فرمائے۔۔ آمین یا ربّ العالمین..
از محمد امجد گنگوہی
https://youtu.be/zfNo6UhEYsA?si=ZXH0UpdFYxDos2P0