Tehreeq -Ahle sunnat

Tehreeq -Ahle sunnat تحریک اہل سنت والجماعت مسلک حنفی جموں وکشمیر، کا مقصد عقائد ونظریات اہل سنت اور مسلک حنفی کاتحفظ ھے

تقریب تکمیل حفظ مختصر البخاری شریف ٨/ربیع الأول/١٤٤٦ھ12/ستمبر/2024ءاللہ تعالی نے یوں تو انسان کو بےشمار نعمتیں عطاء کی ہ...
13/09/2024

تقریب تکمیل حفظ مختصر البخاری شریف
٨/ربیع الأول/١٤٤٦ھ
12/ستمبر/2024ء

اللہ تعالی نے یوں تو انسان کو بےشمار نعمتیں عطاء کی ہیں، لیکن قوت حافظہ ان میں اہم ترین نعمت ہے ، اللہ تعالی کی اس خاص نعمت سے انسان مشاہدات و تجربات اور حالات و واقعات کو اپنے ذہن میں محفوظ رکھتا ہے اور ضرورت کے وقت انہیں مستحضر کر کے کام میں لاتا ہے، مشہور جملہ ہے "العلم في الصدور لا في السطور“ کہ در حقیقت علم وہی ہے جو انسان کو مستحضر ہو نہ کہ وہ جو صرف کتابوں میں لکھا ہو اس استحضار کے لیے حافظہ کے سوا اور کوئی شے نہیں ہے ، متقدمین علماء سے لے کر متاخرین تک ہر دور میں بڑے بڑے حفاظ پیدا ہوئے ہیں جن کو حفظ قران کے ساتھ ساتھ ہزاروں احادیث اور اشعار ازبر ہوتے تھے

صحابہؓ زیادہ تر حفاظت حدیث کے سلسلے میں سفینہ کے بجائے سینہ پر اعتماد کرتے تھے _
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ جو آپ ﷺ کے خادم خاص تھے کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس ہوتے اور حدیث سنتے جب ہم اٹھتے تو ایک دوسرے سے دہراتے حتی کہ ہم اس کو ازبر کر لیتے، ترمذی شریف اور دیگر کتب حدیث میں حضرت زید بن ثابت ،عبداللہ بن مسعود اور جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین حضور اکرم ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں : نَضَّرَ اللّٰهُ إمْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيْثاً فَحَفِظَهٗ حَتّٰى يُبَلِّغَهٗ غَيْرَهٗ، فَرُبّ حَامِلِ فِقْهٍ إلٰى مَنْ هُوَ أفْقَهُ مِنْهُ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيْهٍ .
کہ اللہ اس شخص کو خوش و خرم رکھے جو ہم سے کوئی بات سنے اس کو یاد کرے اور پھر دوسروں تک پہنچا دے_ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص سمجھ کی بات کسی ایسے شخص کو پہنچا دیتا ہے جو اس سے زیادہ فقیہ ہو اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص جو خود فقیہ نہیں ہوتا مگر وہ فقہ اٹھائے ہوتا ہے _
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالی دنیا میں احادیث نبوی کے حافظ کو خصوصی طور پر خوشیاں اور مسرتیں عطا فرمائے گا اور آخرت میں اسے نعمتوں سے نوازے گا حتی کہ اس پر خوشحالی اور نعمتوں کے اثرات نمایاں ہو جائیں گے

چناں چہ
جامعہ مظاہر علوم سہارنپور میں شعبہ تخصص فی الحدیث کے ایک ہونہار اور باکمال طالب علم مولوی مسیح اللہ صاحب شاہجہاں پوری ایم پی نے تقریباً تین سال کی قلیل مدت میں حضرت الاستاذ مفتی اسرار صاحب کی زیر نگرانی مکمل بخاری شریف حفظ کرکے اپنا نام حفاظ حدیث میں لکھوایا ہے
ہم مولانا کو اور مولانا کے استاد حضرت مولانا مفتی اسرار صاحب مدظلہ العالی کو مبارکبادی پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے یہ عظیم الشان کارنامہ انجام دے کر دیگر طلباء کے لئے حفظ حدیث کی راہیں ہموار کیں اور جامعہ اور اساتذۂ جامعہ کا نام روشن کیا
واقعی قابل مبارکباد ہیں وہ والدین جن کا یہ فرزند آج اپنے آپ کو موجودہ وقت کے طلباء سے ممتاز کرگیا ہے اور ان کی محنتیں رنگ لائی ہیں
حافظ بخاری کی حوصلہ افزائی کے لیے اور بقیہ طلباء کو اس جانب شوق دلانے کے لئے جامعہ کی مسجد میں تقریب تکمیل حفظ بخاری شریف کے نام سے آج بروز جمعرات بعد نماز مغرب بتاریخ 8ربیع الاول سن 1446ء کو ایک پروگرام منعقد کیا گیا جس میں نمونہ اسلاف حضرت مولانا سید محمد عاقل صاحب شیخ الحدیث و ناظم اعلیٰ جامعہ مظاہر علوم سہارنپور نے عزیزم مولوی محمد مسیح اللہ کا آخری سبق سنا اور عزیز موصوف کو دعاؤں سے نوازا اور دعاء
اس تقریب میں امین عام حضرت مفتی صالح صاحب نے مولوی موصوف اور استاذ محترم و والدین کو مبارک باد پیش کی اور حاضرین کو قیمتی نصیحتوں سے مستفیض فرمایا اور حضرت اقدس مفتی مقصود صاحب استاذ حدیث و صدر مفتی جامعہ ہٰذا کی دعا پر پروگرام کا اختتام ہوا
باری تعالٰی موصوف کی محنت و کاوش کو قبول فرمائے اور اور معاونین کو اجر عظیم سے نوازے اور جامعہ کی ہر طرح کے شرور و فتن سے حفاظت فرماکر اس کے فیض کو عام و تام فرمائے۔۔ آمین یا ربّ العالمین..

از محمد امجد گنگوہی

https://youtu.be/zfNo6UhEYsA?si=ZXH0UpdFYxDos2P0

19/04/2024

حسام الحرمین پہ اجماع قطعی کا قول حقیت یا ایک دھوکہ. تاریخ کی روشنی میں.

اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں یہ ملتا ہے کہ بے شمار شخصیتوں پہ کفر کے فتوے لگے لیکن انفرادی فتوی ہونے کی وجہ سے اور اجماعی نہ ہونے کی وجہ سے امت نے انھیں تسلیم نہیں کیا
چند مثالیں آپ کے حوالے کرتاہوں.

امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ پہ بھی گستاخی رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا الزام ٹھونک کر آپ پہ کفر کا فتوی لگا یا گیا . اور یہ فتوی لگانے والی شخصیت بھی کوئی چھوٹی موٹی شخصیت نہیں ہے بلکہ جلیل القدر محدث حضرت خطیب بغدادی ہیں انھوں نے امام اعظم رضی اللہ عنہ پہ گستاخی رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا الزام ٹھونک کر کفر کا فتوی ٹھونک دیا. جس کے رد میں احناف نے " السهم المصيب على كيد الخطيب " لکھا. اور امام اعظم کی طرف سے صفائی دی.

خطیب بغدادی کے فتوے کو امت نے ٹھکرادیا.
امام غزالی علیہ الرحمہ کو امام قاضی عیاض نے اپنی کتاب الشفاء میں معتزلی شمار کیا.
امام بقائی نے ان کی کچھ باتوں پہ گرفت کرتے ہوئے ان کی تکفیر تک کرڈالی.
لیکن امت اسلامیہ نے ان کے اس فتوے کو رد کردیا.

امام ابوالحسن اشعری اور امام قشیری علیھما الرحمہ پہ ایک جماعت نے کفر کا فتوی لگا. کفر کا فتوی لگائے جانے کی وجہ امام شہاب الدین خفاجی شرح شفاء، نسیم الریاض جلد دوم میں بیان کرتے ہیں:
واعلم أنه حكي عن الأشعري والقشيري وأصحابه أنهم قالوا عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه ليس بنبي في قبره، ورسالته صلى الله عليه وسلم انقطعت بموته،
وقد شنع به عليهما بذلك جماعة ، وقالوا بتكفيره.
علماء کی ایک جماعت ان دونوں شخصیتوں پہ کفر کا فتوی لگایا لیکن امت نے قطعی طور پہ اس کفر کے فتوے کو مسترد کردیا.

شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رضی اللہ عنہ کی کتاب فصوص الحکم کی عبارتوں کو لے کر توہین الہی اور توہین رسالت کا مجرم مان کر ان کی بھی تکفیر کی گئی .
لیکن امت نے اس تکفیر کو بھی یکسر مسترد کردیا.
حضرت منصور حلاج علیہ الرحمہ پہ بغداد کے ساڑھے چار سو علماء نے بشمول سید الطائفہ جنید بغدادی کے کفر کا فتوی لگایا.
لیکن امت اسلامیہ نے اس فتوے کو بھی رد کردیا اور یکسر مسترد کردیا.

یزید پلید پہ بے شمار علماء اسلام نے کفر کا فتوی لگایا لیکن. آج بھی مسلمانوں کی ایک لمبی جماعت اسے مسلمان مانتی ہے کافر نہیں مانتی. ورنہ کم از کم سکوت ضرور کرتی ہے.

بانی وہابیہ فی الھند قتیل اسماعیل دہلوی پہ اس زمانے کے جمھور فقہاء اکرام نے کفر کا فتوی لگایا حتی علامہ فضل حق خیر آبادی نے اس کی تکفیر کلامی اور من شك في كفره وعذابه فقد كفر " کہا.
لیکن جب اعلی حضرت علیہ الرحمہ کا دور آیا تو اپ نے جمھور کی رائے سے مخالفت کرلی. اور ستر ستر کفریات گنانے کے باوجود بھی. کافر ماننے سے انکر کردیا.

اب سوال یہ ہے کہ حسام الحرمین کے فتوے تکفیر کی کیا خصوصیت ہے کہ اس کتاب کے ہر ہر حرف پر ایمان لانا اور اس کی تصدیق کرنا ہر مسلمان پر فرض ہوگیا؟
ورنہ جو اس کی تصدیق نہیں کرے گا کافر ہوگا ؟
اس خصوصیت کو بیان کردیا جائے. ؟
کیا حسام الحرمین قرآن ہے ؟
کیا حسام الحرمین حدیث متواتر ہے ؟
جس کے ہر ہر حرف کی تصدیق فرض و واجب ہو گئی ؟
جو اس کی تصدیق نہ کرے وہ کافر ہوجائے گا. .
امید کرتا ہوں کہ سلجھے ہوئے اور علمی اسلوب میں جواب دینے کی زحمت گوارہ کریں گے ؟

اس فتوے پہ ایک مغالطہ یہ دیا جاتا ہے کہ یہ اجماع عرب و عجم کا فتوی ہے لہذا یہ اجماعی اور قطعی مسئلہ اس لیئے اس کی تصدیق ضروری ہے.
لگے ہاتھوں آئیئے اس کی اجماعیت کی حقیقت بھی دیکھتے چلتے ہیں.
جس وقت یہ فتوی لگا تھا اس وقت ہندوستان میں اہلسنت کا علمی سب سے بڑا مرکز فرنگی محل تھا. فرنگی محل میں اس وقت حضرت مولانا عبدالباری فرنگی محلی علیہ الرحمہ اس علمی خانوادے کے جانشین تھے . اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے ان سے بھی اس فتوی پہ سائن کرانے کی کوشس لیکن انھوں نے صراحتا انکار کردیا ان کے انکار کا نتیجہ یہ نکلا کہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے ان کے خلاف ہی پوری کتاب لکھ ماری جس کا نام رکھا. " الطاری الداری على هفوات عبدالباري " . جس میں سو کفریہ خود عبدالباری علیہ الرحمہ کے بھی آپ نے گنا دیئے.
فرنگی محل کے خلاف ایک اور کتاب آپ نے " السفيه الواهم " کے نام سے لکھا. ( نام ہی بتا رہے ہیں کہ کتنا احترام کیا گیا ہے ان شخصیتوں ) .
اسی طرح اس وقت کا علمی ایک مرکز کاکوری شریف تھا جس نے اس فتوے کی موافقت نہیں کی.
اسی زمانے میں حیدر آباد کی بڑی عظیم شخصیت شیخ

الاسلام علامہ انوار اللہ فاروقی علیہ الرحمہ بانی جامعہ نظامیہ کی تھی جن کو اعلی حضرت علیہ الرحمہ بہت بڑے بڑے القابات سے یاد فرمایا کرتے تھے ( یہ الگ سی بات ہے کہ اختلاف کے بعد سفیہ کے خطاب سے بھی آپ نے انھیں نواز دیا. لیٹر بدایوں میں ہے .
خیر شیخ الاسلام نے بھی دیابنہ کی تکفیر نہیں کی یہی وجہ ہے کہ جامعہ نظامیہ آج بھی دیابنہ کی تکفیر کا فتوی نہیں دیتا. اور اسی جرم کی پاداش میں بریلوی حضرات نے انھیں صلح کلیت کے زریں خطاب سے بھی نواز دیا.

اسی زمانے کی بڑی مشہورو معروف اور بڑی علمی شخصیت حضرت علامہ معین جمیری صدرالمدرسین مدرسہ معینہ علیہ الرحمہ بھی تھے. آپ نے بھی اس فتوے کی تصدیق نہیں کی. بلکہ تجلیا ت انوار معین میں انھوں نے ایسی ایسی باتیں کی ہیں جن سے ہوش اڑ جاتے ہیں

بس ایک اقتباس ان کی کتاب کا نقل کرتاہوں کتاب پی ڈی ایف کی صورت میں میرے پاس موجود ہے جس کو ضرورت ہوگی وہ لے سکتا ہے. اجمیری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :
اعلی حضرت نے ایک دنیا کو وہابی بناڈالا ایسا بد نصیب وہ کون ہے جس پر آپ کا خنجر وہابیت نہ چلا ہو، وہ اعلی حضرت جو بات بات میں وہابی بنانے کے عادی ہوں وہ اعلی حضرت جن کی تصانیف کی علت غائیہ وہابیت جنھوں نے اکثر علماء اہلسنت کو وہابی بناکر عوام کالانعام کو ان سے بد ظن کردیا. جن کے اتباع کی پہچان یہ ہے کہ وہ وعظ میں اہل حق سنیوں کو وہابی کہہ کر گالی کا مینہہ برساتے ہیں. ( تجلیات انوار معین ص. 42 ) .
ایک جگہ لکھتے ہیں : خلقت آپ کی فضیلت سے بے حد نالاں ہے. وہ کہتی ہے دنیا میں شاید کسی نے اس قدر کافروں کو مسلمان بنایا ہو جس قدر اعلی حضرت نے مسلمانوں کو کافر بنایا. مگر در حقیقت یہ وہ فضیلت ہے جو سوائے اعلی حضرت کے کسی کے حصہ میں نہیں آئی. ( تجلیات انوار معین ص 37 )
تو اس طرح سے علامہ معین الدین اجمیری علیہ الرحمہ نے بھی اس فتوے کی تصدیق نہیں کی. ‎

اسی زمانے میں اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے اہل بدایوں کے خلاف اذان ثانی کے مسئلے پہ سد الفرار لکھی اور اس میں بھی اہل بدایوں پہ سیکڑوں طریقے سے کفر ثابت کردیا. چونکہ اذان ثانی کے مسئلے میں علماء رامپور اہل بدایوں کے ساتھ تھے اس لیئے اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے سدالفرار میں انھیں بھی آڑے ہاتھوں لیا.
اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی اس تصنیف کے رد میں علماء رامپور نے 1332 ھجری میں آپ کے خلاف ایک رسالہ نکالا جس کا نام رکھا " رزم شیریں چاہ شور " یہ رسالہ انجمن اختر الاسلام پیلی بھیت کی جانب سے شائع ہو ا. اس رسالہ میں انھوں نے حسام الحرمین کی کھل کر مخالفت کی ہے یہ رسالہ میرے پاس نہیں ہے . اس میں ان لوگوں نے اذان ثانی کے مسئلے پر یہ کہا کہ : جب آپ ایسے صاف کلام میں ایسی شرح نکال لیتے ہیں تو خداجانے کتنے مسلمانوں کو ایسی شرح کرکے بے دین اور کافر بنا چکے ہوں گے چنانچہ آپ نے علماء حرمین شریفین کو دھوکہ دے کر حسام الحرمین میں فتوی اسی طرح مطلب بدل کر حاصل کرلیا.
توعلماء کانپور نے مکمل طریقے سے حسام الحرمین کے فتوے کا انکار کردیا.

اسی زمانے میں پھلواری شریف کی خانقاہ تھی جس نے اس فتوے سے موافقت نہیں کیا.
تو یہ حال ہے حسام الحرمین پہ اجماع کے حقیقت کی . اب اجماع کی تعریف جاننے والے حضرات خود سمجھ سکتے ہیں کہ اس کو اجماع کہا جا سکتا ہے یا نہیں ؟
ہندوستانی سنی علماء خود اس فتوے پہ متفق نہیں ہیں اور اس پہ طرہ یہ کہ اس پہ عرب و عجم کا اجماع ہے. جو نام ہم نے شمار کرائے ہیں سب علماء اہلسنت ہیں وہابی یا دیو بندی نہیں ہیں.
ہاں یہ کہیئے کہ مؤیدین اعلی حضرت علیہ الرحمہ کا اجماع ہے تو یہ انصاف کی بات ہو گی. لیکن یہ بات آپ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے موقف کے مؤیدین علماء کا اگر اجماع ہوجائے تو اسے اجماع نہیں کہتے.

اب مسئلہ رہ گیا دیابنہ کا تو میں بھی یہ کہتا ہوں کہ اگر کوئی دیوبندی یہ کہہ دے کہ معاذ اللہ. رسول اللہ صلی علیہ وسلم کا علم جانور جیسا ہے تو سب سے پہلے اس کی تکفیر میں کروں گا.
اگر کوئی دیوبندی یہ کہہ دے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی نہیں ہیں تو سب سے پہلے اس کی تکفیر میں کروں گا.

ان کی عبارتوں پہ صغری کبری فٹ کر کے جو نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ وہ منکر ختم نبوت ہیں. یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کو معاذ اللہ جانور جیسا کہتے ہیں.
جب ہم ان نتائج پہ دیابنہ سے بات کرتے ہیں تو وہ اس بات سے سوبار توبہ کرتا ہے . اور ایسی عبارت مرکر بھی بولنے کو تیار نہیں . تو جب وہ یہ بات مانتا ہی نہیں کہ تو پھر کافر کیسے ؟
مسئلہ ختم نبوت پہ سیکڑوں کتابیں دیابنہ لکھے پڑے ہیں اور پوری مستعدی کے ساتھ قادیانیت کا رد کر رہے ہیں اور ہم انھیں منکر ختم نبوت مان کر کافر بنا رہے ہیں.

ہاں البتہ اس بات کا اعتراف ہے کہ وہ

میلاد سے منع کرتاہے فاتحہ سے منع کرتا ہے. کھڑے ہوکر سلام پڑھنے سے منع کرتا ہے. استغاثہ یا توسل سے منع کرتا ہے.
لیکن ان سب کا انکار کفر نہیں ہے .

ایک بات خیال رکھیں کہ اجماعی تکفیر قادیانیت کی ہے دنیا کے کسی بھی گوشے سے آپ ان کے تعلق سے فتوی لے لیں کفر کا ہی فتوی آئے گا. جب کہ دیابنہ کا یہ مسئلہ نہیں ہے..
‎اور جن علماء حرمین نے کفر کے فتوے دیئے جب دیابنہ نے ان کی طرف رجوع کیا تو ان سب نے کفر سے رجوع کرلیا جس کو دیو بندیوں نے المھند کےنام سے شائع کیا ہے. ں

کون سا ایسا ادارہ یا خانقاہ ہے جو بریلویت کے ظلم کا شکار نہیں ہوئی ؟. چاہے مداری ہوں، چاہے جامعہ نظامیہ ہو، چاہے خانقاہ بدایوں ہو چاہے کچھو چھہ ہو، چاہے چاہے دعوت اسلامی ہو چاہے سنی دعوت اسلامی ہو، چاہے منھاج القرآن ہو. چاہے غلام رسول سعیدی صاحب علیہ الرحمہ ہوں، چاہے ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب ہوں. چاہے اور جو بھی ہو ہر ایک کا پنگہ بریلویت سے.
یہ برادری اپنی سینگھ ہر ایک پہ مارنے کے لیئے کھڑی کیئے ہوئے رہتی ہے.
بھائی قرآن و حدیث کیا بس یہی جماعت پڑھتی ہے کیا؟ کیا اس جماعت نے جو سمجھا ہے وہ وحی الہی ہے کیا ؟
کہ آپ کے اعتبار سے ایک طرف سے سارے لوگ گمراہ کافر بدعتی ہوگئے بس اپ ہی ایک ایسے ہو جو راہ یاب ہو.
بھائی ہر شخص کو اپنی رائے کے تعلق سے یہی خیال رکھنا چاہیئے کہ میری رای حق پہ ہے خطاء کے احتمال کے ساتھ. اور میرے مد مقابل کی رائے خطا پہ ہے حق کے احتمال کے ساتھ.
اپنی ہی رائے کو وحی الہی سمجھنے کی نادانی نہیں کرنی چاہیئے . دوسروں کا احترام کریں خود کو احترام ملے گا، آپ دوسروں کو اپنے جوتوں کی نوک پہ رکھیں اور ان سے امید رکھیں کہ وہ آپ کا احترام کریں یہ حماقت ہے. ہر ایک کی ناک میں آپ چونا کیئے پڑے ہیں.
سب کو کافر گمراہ صلح کلی بد مذھب بنائے پڑے ہیں اور ان سے یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ آپ کا احترام کرے. بھائی جیئیں اور جینے دیں پہ عمل کریں تو بہتر ہو گا. کون ایسا شخص ہے جو بے چارہ بریلوی حضرات کے تشدد کا شکار نہ ہوا ہو. جس نے بھی تھوڑی سی ترقی کی اور آگے بڑھنے کی کوشس کی اسے ان حضرات گمراہ صلح کلی یا کافر بناکر ان کی عزتیں اتارنے کی کوشس کی.
ہاں ان کے تشدد سے وہی شخص بچاہے جو اعلی حضرت مفتی اعظم علیھا الرحمہ اور ازہری میاں صاحب قبلہ کا گن گاتا ہو بقیہ جس نے ان کا گن نہیں گایا وہ کافر یا بد دین، یا صلح کلی. ہوگیا.

ہم شکر گزار ہیں مفتی نطام الدین صاحب کے جنہوں نے اس مسلے میں تخفیف فرما دی اور منکرین حسام کو کافر نہ کہ کر صرف اہل سنت سے خارج کیا.موصوف کے بیان پر تبصرہ اگلی قسط میں.

ابو عمر قادری

ہر مسجد میں تین چار ایسے بندے لازمی ہوتے ہیں جو امام کے ساتھ مفت کی دشمنی پالتے ہیںمسجد کا امام ہونا بھی عجیب منصب ہےکوئ...
20/03/2024

ہر مسجد میں تین چار ایسے بندے لازمی ہوتے ہیں جو
امام کے ساتھ مفت کی دشمنی پالتے ہیں

مسجد کا امام ہونا بھی عجیب منصب ہے
کوئی بھی شخص امام پر اعتراض کر سکتا ہے
اور کوئی بھی ڈانٹ ڈپٹ کا حق رکھتا ہے
امام کیسا بھی عالی مرتبہ اور عظیم کردار کا مالک کیوں نہ ہو مقتدیوں کی جلی کٹی باتوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو دیکھیےجلیل القدر صحابی ہیں پہلے پہلے اسلام لانے والوں میں سے ہیں
اور عشرہ مبشّرہ میں سے ہیں رسول اللّٰہ ﷺ جنہیں اپنا ماموں فرما رہے ہیں
ان کے حق میں قرآن کی آیتیں نازل ہو رہی ہیں واحد ایسے صحابی ہیں جن کے لئے رسول اللّٰہ ﷺ نے اپنے والد اور والدہ کو جمع کرتے ہوئے فرمایا: فِدَاكَ اَبِیْ وَاُمِّی
تجھ پہ میرے ماں اور باپ قربان
جن کے دل میں کسی مسلمان کے لئے بغض وحسد نہ تھا مستجاب الدّعوات تھے
رسول اللّٰہ ﷺ کی معیت میں تمام تر غزوات میں شریک ہوتے ہیں راہِ خُدا کے پہلے تیر انداز ہیں خود رسول اللّٰہ ﷺ آپ کو سالارِ لشکر مقرر فرما کر خرار کی جانب روانہ فرماتے ہیں آپ کے ہاتھ پر بہت سی فتوحات ہوئیں لیکن جب امارتِ کوفہ کے دوران مصلائے امامت پہ کھڑے ہوتے ہیں
تو کوفہ والوں کے اعتراضات کا محور بن جاتے ہیں
کوفہ والے حضرت عمر فاروقؓ کو شکایات بھجواتے ہیں اور ان میں ایک شکایت یہ بھی ہوتی ہے کہ سعد بن ابی وقاصؓ نماز ٹھیک نہیں پڑھاتے
وہ شخص جس نےنماز اللّٰہ کے نبی ﷺ سے سیکھی
اس شخص کی نماز پر دیہاتیوں کا اعتراض......

بالکل آج کل جیسے حالات کا منظر پیش کر رہا ہے آج کے آئمہ نے نماز اگرچہ براہ راست رسول اللّٰہ ﷺ سے نہیں سیکھی مگر رسول اللّٰہ ﷺ کے اقوال سے سیکھی ہے ان علماء کو نشانۂ تنقید بنایا جاتا ہے
بہر حال! جب حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی شکایت حضرت عمر فاروقؓ تک پہنچتی ہے تو عمر فاروقؓ تحقیقِ احوال کے لیے کوفہ والوں کی طرف محمد بن مسلمہؓ اور عبد اللّٰہ بن ارقمؓ کو بھیجتے ہیں جو ایک ایک مسجد میں جا کرحضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے بارے میں پوچھتے ہیں
حیرت کی بات ہے
کہ شکایات کوفہ سے چل کر مدینہ پہنچیں
لیکن محمد بن مسلمہؓ اور عبد اللّٰہ بن ارقمؓ جس سے بھی سوال کرتے ہیں تو جواب میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی تعریف ہی سننے کو ملتی ہے ایک ایک مسجد میں جا کر پوچھا لیکن کسی کی طرف سے کوئی اعتراض موصول نہیں ہوا البتہ جب پوچھتے پوچھتے سلسلہ بنو عبس کی مسجد تک پہنچا تو صرف ایک شخص "اسامہ بن قتادۃ" نامی اٹھ کر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی شکایت کرتا ھے کہ آپ کی نماز ٹھیک نہیں.
یہ جہاد کے سلسلے میں کوتاھی کرتے ہیں اور فیصلے میں عدل وانصاف سے کام نہیں لیتے.
اعتراض کچھ بھی تھا لیکن یہاں انتہائی قابلِ توجہ بات یہ ھے کہ شکایات کوفہ سے مدینہ بھیجی گئیں لیکن کوفہ کی کسی مسجد میں ایک شخص کے علاوہ کوئی اعتراض کرنے والا نہیں ملتا یہ حقیقت تاریخ کا حصہ اور لائقِ اعتماد کتب میں موجود ہے کہ جانچ پڑتال کے دوران صرف ایک ہی ایسا آدمی ملا جسے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ پر اعتراض تھا
لیکن شکایات مدینہ بھجوائی گئیں اور یہ تاثر دیا گیا کہ اگر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو معزول نہ کیا گیا تو فتنہ وفساد کا اندیشہ ہے اور پھر عمر فاروقؓ نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو معزول کر بھی دیا
اس حقیقت کے پشِ نظر یہ کہنا ہرگز بے جا نہ ہو گا کہ
بعض اوقات صرف ایک دو افراد یا مقتدیوں کو امام سے شکایت ہوتی ہے لیکن ان کا پروپیگنڈہ اتنا شدید ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ "یہ شخص اس منصب کے لائق نہیں"
میں اس مقام پر پروپیگنڈہ کرنے والوں کو دل کے کانوں سے متوجہ ھونے کی دعوت دوں گا اس میں شک نہیں کہ مجھ جیسے ائمہ مساجد لائقِ تعریف نہیں
لیکن میرے بھائیو!
کبھی آپ کی مسجد کا امام بے قصور بھی ہوتا ھے
اور آپ کے اعتراضات بے جا بھی ھوتے ہیں
ایسی حالت میں اپنی "انا" کی تسکین کے بجائے اللّٰہ تعالٰی کی پکڑ سے ڈریے اور ذہن میں رکھیے کہ:
جب حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نےمعترض کی ناحق باتیں سنی تھیں تو اپنے ہاتھ اللّٰہ جلّ جلالہٗ کے دربار میں اُٹھا کر یہ دعا کی:
اَللّٰهُمَّ إِنْ كَانَ عَبْدُكَ هٰذَا كَاذِبًا قَامَ رِيَاءً وَسُمْعَةً فَأَطِلْ عُمْرَهٗ وَأَطِلْ فَقْرَهٗ وَعَرِّضْهٗ بِالْفِتَنِ
اے اللّٰہ! اگر تیرا یہ بندہ جھوٹا ہے اور نام ونمود کی خواہش میں اٹھا ہے تو اس کی عمر کو لمبا کر اس کی محتاجی میں اضافہ کر اور اسے فتنوں میں مبتلا کر۔
وقت گزر گیا حضرت سعد بن ابی وقاصؓ معزول بھی ہو گئے پروپیگنڈہ جیت گیا
لیکن سعد بن ابی وقاصؓ کی دُعا اللّٰہ جلّ جلالہٗ کے ہاں محفوظ رہی اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ وہ شخص انتہائی بڑھاپے کو پہنچا اس کی بھنویں آنکھوں پر گر چکی تھیں راستے میں کھڑے ہو کر بھیک مانگتا اور جب کوئی عورت سامنے سے گزرتی تو اس کے ساتھ چھیڑخانی کرتا۔
لوگ کہتے: اے بوڑھے! تمہیں عورتوں کو چھیڑتے ہوئے حیاء نہیں آتی؟
جواب میں کہتا: میں کیا کروں؟ مجھ بڈھے کو سعد بن ابی وقاصؓ کی بد دعا لگ گئی ہے
(صحيح البخاري كتاب الأذان باب وجوب القراءة للإمام والمأموم : 755)

آج کے دور کا کوئی امام حضرت سعد بن ابی وقاصؓ جیسا تو نہیں لیکن کسی بھی مسلمان پر ناحق اعتراضات کرتے وقت اللّٰہ تعالٰی کی پکڑ کو بھول جانا انتہائی بد نصیبی کی علامت ہے
ہم اپنے پروپیگنڈہ میں جیت سکتے ہیں
لیکن اللّٰہ جلّ جلالہٗ کے ہاں فیصلے حقائق کی بنیاد پر ہوتے ہیں ان فیصلوں سے بے خوف نہیں ہونا چاہیے۔
اللّٰہ تعالٰی ہمیں مسجدوں کے نظام میں بہتری لانے کی توفیق بخشے اور مسجد کے امام، خطیب اور انتظامیہ میں سے ہر ایک کو اپنی ذمہ داری سمجھنے اور اسے حتٰی المقدور نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین۔

29/11/2023
28/11/2023

رضی اللہ عنہ کے بارے میں اقا کا یہ فرمان بالکل بجا ہے کہ کچھ لوگ بغض علی میں اور کچھ حب علی میں دونوں گمراہ ہو جائیں گے تو اگر کچھ لوگوں پہ بغض کا الزام لگایا جا رہا ہے تو دوسری طرف کچھ لوگ علی میں یا اہل بیت میں صحابہ کی وہ تنقیص نہیں کر رہے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث موجود نہیں ہے بخاری اور مسلم میں کہ لا تو ابھی میرے صحابہ کو تم اذیت نہ دو اور تمہارا احد پہاڑ جتنا سونا خرچ کرنا اس کی دی ہوئی نصف مد یا کھجور کے برابر نہیں ہو سکتا کیا یہ ترمذی میں نہیں ہے اللہ اللہ فی اصحابی میرے صحابہ سے ڈرو ان کو نشان تنقید اور ہدف نہ بناؤ لوگ ان سے محبت کرتے ہیں میری وجہ سے لوگ ان سے بغض کرتے ہیں میری وجہ سے قران کریم میں یہ جو سورہ فتح کے اخری رکوع ہے اگے کیا ہے کان کھول کر سنیں یہ قران سرٹیفائیڈ گارنٹڈ بات نہیں کرتا رک کان سجدہ یہ گارنٹڈ بات نہیں ہے یہ گارنٹڈ باتیں نہیں ہیں تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت حسن اور حسین اہل بیت ان کے فضائل ہمارے ممبروں سے بیان ہوتے ہیں اب کوئی وہاں اتا ہی نہیں ہے اور اس کو سننے کے لیے تیار ہی نہیں ہے تو وہ ایک الگ بات ہے عظمت صحابہ کی بات اگر کسی کو بری لگتی ہے تو یہ ڈنکے بچتے رہیں گے اہل بیت کی ڈنکے بھی بجیں گے عظمت صحابہ کے ڈنکے بھی بچے جو امیر معاویہ کا نام لیا گیا یہ میرے اقا کی لسان نبوت کی دعا نہیں ہے اللہ میرے اقا نے نہیں کہا اس کے سینے کو علم سے میرے اقا نے نہیں کہا پہلا حضرت معاویہ تیار کریں گے یہ کاتبین وحی کے سردار ہیں 50 لوگ کاتبین وہی تھے اللہ کی وحی کو لکھنے والے ان کے سردار امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ تھے ان کو کریٹیسائز کر کے ہم غیر محسوس طریقے پر وحی کو موری نے الزام نہیں دیا کریں تو یہاں محبت کی بات ہو رہی تھی خواہ مخواہ اس کو ڈائورٹ چیکی کی موجود ہے گی ختم نہیں ہوئے اسلام قیامت تک صلح کا درس دیتا ہے یہ قران کا حکم کوئی اس پر اس دور تک تھی بحران ویلڈ ہے اور قیامت کی صورت تک میں نے بہت خوب بہت شکریہ

06/11/2023

بحمداللہ تعالی
آج کا دن جامعہ محمدیہ قاسم العلوم کے لیۓ بڑا ہی خوشی کا دن ہےکہ جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کوا کی طرف سے ہونے والےکل ہند مسابقۃ القرآن والکریم کی ایک جھلک جوریاستی سطح پر ریاست جموں وکشمیر میں منعقد ہوئ. اس ریاستی سطح پر ہونے والے مسابقۃ القرآن والکریم میں جامعہ کی طرف سے فرع اول دوم اور سوم میں شرکت کرنے والے تینوں طلباء میں سے فرع اول کےطالب علم نے ( پورے قرآن پاک میں اول پوزیشن حاصل کی اور فرع ثالث کے طالب علم نے(حفظ احادیث میں دوسری پوزیشن حاصل کی پوری ریاست جموں وکشمیر میں ) یہ جامعہ اور اہل جامعہ اور معاون جامعہ کے لیے مبارکبادی کی بات ہے. ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں.
اور مبارک بادی پیش کرتے ہیں ان تمام طلباء کرام کو جنہوں نے دن ورات کو محنت کی اور حفظ قرآن. تفسیر قرآن.حفظ احادیث کو اپنے سینوں میں محفوظ کیا . اللہ تعالی ان تمام کو طلباء کو مزید ترقیات سے نوازے .آمین

01/11/2023

بھارت میں شائع ہونے والی کتاب ”کالکی اوتار“ نے دنیا بھر ہلچل مچا دی ہے۔ اس کتاب میں يہ بتایا گیا ہے کہ ہندووں کی مذہبی کتابوں میں جس "کالکی اوتار" کا تذکرہ ملتا ہے، وہ آخری رسول محمد صلی اﷲ علیہ وسلم بن عبداﷲ ہی ہیں۔
اس کتاب کا مصنف اگر کوئی مسلمان ہوتا، تو وہ اب تک جیل میں ہوتا اور اس کتاب پر پابندی لگ چکی ہوتی، مگر اس کے مصنف "پنڈت وید پرکاش" برہمن ہندو ہیں۔ اور وہ الہ آباد یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔ وہ سنسکرت زبان کے ماھر اور معروف محقق اسکالر ہیں۔
پنڈت وید پرکاش نے کالکی اوتار کی بابت اپنی اس تحقیق کو ملک کے آٹھ مشہور ومعروف محقق پنڈتوں کے سامنے پیش کیا تھا، جو اپنے شعبے میں مستند گرادنے جاتے ہیں۔ ان پنڈتوں نے کتاب کے بغور مطالعے اور تحقیق کے بعد يہ تسلیم کیا ہے کہ کتاب میں پیش کيے گئے حوالے جات مستند اور درست ہیں۔
برھمن پنڈت وید پرکاش نے اپنی اس تحقیق کا نام ”کالکی اوتار“ یعنی تمام کائنات کے رہنما رکھا ہے۔ہندووں کی اہم مذہبی کتب میں دراصل ايک عظیم رہنما کا ذکر ملتا ہے۔ جسے ”کالکی اوتار“ کا نام دیا جاتا ہے، سو پنڈت وید پرکاش گہری تحقیق کے بعد یہ دعویٰ کیا ھے کہ اس کالکی اوتار سے مراد حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ہیں، جو مکہ میں پیدا ہوئے۔ چنانچہ ان کا کہنا ہے کہ تمام ہندو جہاں کہیں بھی ہوں، ان کو اب کسی اور کالکی اوتار کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اس کیلئے انہیں محض اسلام قبول کرنا ہے، اور آخری رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنا ہے، جو بہت پہلے اپنے مشن کی تکمیل کے بعد اس دنیا سے تشریف لے جا چکے ہیں۔
اپنے اس دعوے کی دليل میں پنڈت وید پرکاش نے ہندووں کی مقدس مذہبی کتاب”وید“ سے مندرجہ ذیل حوالے دلیل کے ساتھ پیش کیئے ہیں۔

1۔ ”وید" کتاب میں لکھا ہے کہ
(( کالکی اوتار بھگوان کاآخری اوتار ہوگا، جو پوری دنیا کو راستہ دکھائے گا۔ ))
ان کلمات کا حوالہ دينے کے بعد پنڈت وید پرکاش لکھتے ہیں کہ اس پیش گوئی کا اطلاق صرف حضرت محمد صلی ﷲ علیہ وسلم کے معاملے میں درست ہو سکتا ہے۔

2۔”ویدوں“ کی پیش گوئی کے مطابق (( کالکی اوتار ايک جزیرے میں پیدا ہوں گے))
اور يہ عرب علاقہ ھی ہے، جسے جزیرة العرب کہا جاتا ہے۔

3۔ مقدس کتاب وید میں لکھا ہے کہ (( ”کالکی اوتار“ کے والد کا نام ’‘وشنو بھگت“ اور والدہ کا نام ”سومانب“ ہوگا۔))
جبکہ سنسکرت زبان میں ”وشنو“ ﷲ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور” بھگت“ کے معنی غلام اور بندے کے ہیں۔ چنانچہ عربی زبان میں ”وشنو بھگت“ کا مطلب ﷲ کا بندہ یعنی ”عبد ﷲ“ ہوا۔
اور سنسکرت میں ”سومانب“ کا مطلب "امن" ہے, جو کہ عربی زبان میں ”آمنہ“ ہو گا، اور آخری رسول (صلی اﷲ علیہ وسلم) کے والد کا نام عبد ﷲ اور والدہ کا نام آمنہ ہی ہے۔

4۔وید کتاب میں لکھا ہے کہ
((”کالکی اوتار“ زیتون اور کھجور استعمال کرے گا۔ اور وہ اپنے قول وقرار میں سچا اور دیانتدار ہو گا۔ ))
اور يہ دونوں پھل حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم کو مرغوب تھے۔ جبکہ آپ سچائی اور دیانتداری میں تو اس حد تک معروف تھے کہ مکہ میں محمد صلی ﷲ علیہ وسلم کے لئے صادق اور امین کے لقب استعمال کيے جاتے تھے۔

5۔ ”وید “ کے مطابق ((”کالکی اوتار“ اپنی سر زمین کے معزز خاندان میں سے ہوگا))
اور يہ بھی محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے بارے میں سچ ثابت ہوتا ہے کہ آپ قریش کے معزز قبیلے میں سے تھے، جس کی پورے عرب میں عزت اور شام وعراق میں پہچان تھی۔

6۔ہماری کتاب کہتی ہے کہ ((بھگوان ”کالکی اوتار“ کو اپنے خصوصی قاصد کے ذريعے ايک غار میں پڑھائے گا۔))
اس معاملے میں يہ بھی درست ہے کہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم مکہ کی وہ واحد شخصیت تھے، جنہیں ﷲ تعالی نے غار حراء میں اپنے خاص فرشتے حضرت جبرائیل کے ذريعے تعلیم دی۔

7۔ ہمارے بنیادی عقیدے کے مطابق ((بھگوان ”کالکی اوتار“ کو ايک تیز ترین گھوڑا عطا فرمائے گا، جس پر سوار ہو کر وہ زمین اور سات آسمانوں کی سیر کر آئے گا۔))
اور محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کا ”براق پر معراج کا سفر“ اس پیش گوئی کا مصداق بن کر اسے آپ کی بابت ھی درست ثابت کرتا ہے؟

8۔ نیز لکھا ھے کہ
((ہمیں یقین ہے کہ بھگوان ”کالکی اوتار“ کی بہت مدد کرے گا اور اسے بہت قوت عطا فرمائے گا۔))
اور ہم یہ جانتے ہیں کہ جنگ بدر میں ﷲ نے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی فرشتوں سے مدد فرمائی۔

9۔ ہماری ساری مذہبی کتابوں کے مطابق یہ پیش گوئی ملتی ھے کہ
((” کالکی اوتار“ گھڑ سواری، تیز اندازی اور تلوار زنی میں ماہر ہوگاپنڈت وید پرکاش نے اس پیش گوئی پر بڑا خوبصورت تبصرہ کیا ہے۔ جو بڑا اہم اور قابل غور ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
"گھوڑوں،تلواروں اور نیزوں کا زمانہ بہت پہلے گزر چکاہے۔اب تو ٹینک، توپ اور میزائل جیسے ہتھیار استعمال میں ہیں۔ لہذا يہ عقل مندی نہیں ہے کہ ہم اس دور جدید میں تلواروں، نیروں اور برچھیوں سے مسلح”کالکی اوتار“ کا انتظار کرتے رہ جائیں۔ حالانکہ حقیقت يہ ہے کہ مقدس کتابوں میں ”کالکی اوتار“ کے واضح اشارے حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے بارے میں ہیں جو ان تمام حربی فنون میں کامل مہارت رکھتے تھے۔ ٹینک، توپ اور مزائل کے اس دور میں گھڑ سوار، تیغ زن اور تیر انداز کالکی اوتار کا انتظار نری حماقت ھے۔

نقل وچسپاں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

29/10/2023

-
*اجتماعی اجتہاد اور ندوة العلماء کا منہج

مجلس تحقیقات شرعیہ ندوة العلماء،لکھنؤ کے تحت حال ہی میں تین روزہ فقہی سیمینار کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، سیمینار میں تین اہم موضوعات زیر بحث آئے۔(1)مساجد میں خواتین کی آمد (2)عوامی مقامات پر نماز (3)سونے اور چاندی کا معیار نصاب اور ضم نصاب کا مسئلہ ۔سیمینار کی مختلف نشستوں میں مذکورہ موضوعات پر بڑی مفید بحثیں ہوئیں اور اتفاق رائے سے اہم تجاویز منظور کی گئیں ،سیمینار خوشگوار ماحول میں منعقد ہوا، مختلف مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے ملک بھر کے علماء کرام اور اصحاب افتاء نے شرکت کی،آپس میں سر جوڑ کر بیٹھے اور نہایت غوروخوض کے بعد تجاویز کو مرتب کیا،یہ بجائے خود ایک قابل ستائش اور لائق تحسین عمل ہے،اس کیلئے ندوة العلماء کے ذمہ داران ملت کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہیں۔

سیمینار کے بعد لوگوں کے تاثرات بھی سامنے آئے،اکثر لوگوں نے اسے وقت کی ضرورت قرار دیا اور جدید مسائل کے حوالہ سے مجلس تحقیقات شرعیہ کی کاوشوں پر پسندیدگی کا اظہار کیا،بعض لوگوں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ ندوہ کے پلیٹ فارم سے یہ کوئی نیا کام نہیں ہے،بلکہ اس میدان میں پہلے سے کام کرنے والوں کی پیروی ہے ،اور اس آواز کی صدائے باز گشت ہے،جو ماضی قریب میں بلند ہوئی ہے۔

اولا تو یہ تسلیم ہی نہیں،اگر بالفرض تھوڑی دیر کیلئے مان بھی لیا جائے تو حقیقت اس کے برعکس ہے،دراصل ندوہ نہیں،اجتماعی اجتہاد کے میدان میں سرگرم دیگر اداروں کا طرز عمل،ندوہ کے تحت قائم مجلس تحقیقات شرعیہ کا عکس ہے،واضح ہو کہ مجلس کی داغ بیل مفکر اسلام مولانا علی میاں نے 1963 میں ڈالی،اور تین اہم موضوعات پر بہت ہی وقیع سیمنار منعقد کئے،جس میں ملک بھر سے چوٹی کے منتخب علماء شریک ہوئے اور اہم تجاویز منظور کی گئیں،یہ ہندوستان میں اجتماعی اجتہاد کی پہلی آواز تھی،جس کی باز گشت بہت دور تک پہنچی،مجلس نے جو طرز عمل اختیار کیا،آگے چل کر ادارہ مباحث فقہیہ نے اسی کو اختیار کیا،اور پھر اس کے بعد فقہ اکیڈمی انڈیا کیلئے وہی رول ماڈل بنا،گویا اس منہج کی بنا ہندوستان میں سب سے پہلے مجلس تحقیقات شرعیہ نے رکھی،جو آگے چل کر دوسروں کیلئے قابل نمونہ قرار پایا۔

1961 کا سال عالم اسلام کیلئے بہت اہم تھا،اسی سال اجتماعی اجتہاد کیلئے جامعة القاہرة کے تحت مجمع البحوث الاسلامیہ کی تاسیس ہوئی،یہ عالم اسلام میں اجتماعی مشاورت کی پہلی آواز تھی،جس کی صدا ہندوستان تک پہنچی،مفکر اسلام مولانا علی میاں اپنے دور کے نہایت دور اندیش اور باتوفیق عالم دین تھے،عالم اسلام میں چوٹی کے علماء اور فقہاء سے ان کے گہرے مراسم تھے،جن میں شیخ مصطفی سباعی،شیخ ابوزہرہ،شیخ مصطفی احمد زرقاء قابل ذکر ہیں،دنیا کے نقشہ پر ابھرنے والے مسائل اور عالم اسلام کی فقہی سرگرمیوں پر مولانا کی گہری نظر تھی،انہیں اس بات کا بخوبی احساس تھا کہ اس وقت دنیا میں اور بالخصوص بر صغیر میں کس طرح کے علمی،تحقیقی اور فقہی کاموں کی ضرورت ہے،اسی احساس کے تحت انہوں نے 1963 میں مجلس تحقیقات شرعیہ کی بنیاد رکھی اور علماء ہندو پاک کو اجتماعی غووخوض کا ایک منہج دیا،جو آگے چل کر فقہی مجامع اور اکیڈمیوں کیلئے نمونہ ثابت ہوا۔

دراصل نئے پیش آمدہ مسائل کے حل کرنے کے دو طریقے ہیں،ایک انفرادی اور دوسرا اجتماعی،آخر الذکر صحابہ،تابعین اور سلف صالحین کا وطیرہ رہا ہے،حضرت ابوبکر ،حضرت عمر فاروق رضی الله عنہما نئے مسائل میں منتخب صحابہ سے مشاورت کرتے تھے،حضرت علی رض کا بھی یہی طریقہ تھا،بعد میں امام ابو حنیفہ رح نے اسی طرز کو اختیار کیا،ان کی شوری میں مختلف علوم کے ماہرین موجود تھے،جن سے وہ مشورہ کرتے،ہر ایک کے دلائل کو سنتے اور سب کو اظہار خیال کی مکمل آزادی دیتے۔

بیسویں صدی میں سائنسی ،صنعتی اور معاشی انقلابات کے نتیجہ میں بے شمار پیچدہ مسائل وجود میں آئے،جن کو حل کرنے کیلئے عالم اسلام کے علماء نے سلف صالحین کے طرز پر فقہی مجامع اور ادارے قائم کئے،اور فقہی مسائل کے حل کیلئے باہمی مشارت کی روش اختیار کی،نئے پیش آمدہ مسائل میں یہی طریقہ سب سے بہتر ہے،اس میں غلطی کا امکان کم ہوتا ہے نیز مختلف مکاتب فکر سے استفادہ کی نئی راہیں کھلتی ہیں،جو امت کے حق میں رحمت ثابت ہوتی ہیں اور اس کیلئے آسانی کا سبب بنتی ہیں نیز فکر ونظر میں وسعت پیدا ہوتی ہے،آپس کی دوریاں کم ہوتی ہیں ،اور بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوتا ہے۔

مفکر اسلام مولانا علی میاں رح نے اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مجلس تحقیقات شرعیہ کی بنا رکھی اور ہندوستان میں نئے مسائل کے حل کیلئے اجتماعی اجتہاد کی راہ دکھائی،جو فقہی اداروں کیلئے سنگ میل ثابت ہوئی اور جس پر چل کر وہ آج ملت کیلئے مفید خدمات انجام دے رہے ہیں،اور شرعی مسائل کا حل پیش کرنے کے سلسلہ میں دن بدن نئی منزلوں سے آشنا ہو رہے ہیں،رب کریم ان کی خدمات کو دوام عطا کرے اور تا قیامت ان سے دین متین کا کام لیتا رہے۔

29/10/2023

اصل جنگ کیا ہے؟
بیت المقدس تین مذاہب کی مقدس جگہ۔۔۔۔
مسلمانوں کا قبلہ دوئم
عیسائیوں کے لئے یسوع کی جائے ولادت
یہودیوں کے لئے ہیکل سلیمان

شروع کرتے ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے۔ جن کے دو بیٹے تھے اسماعیل اور اسحاق۔
اسحاق علیہ السلام کے بیٹے تھے حضرت یعقوب۔
یہیں سے کہانی شروع ہوتی ہے اسرائیل کی۔ اسرائیل یعنی اللہ کا بندہ۔ اور یہ لقب حضرت یعقوب علیہ السلام کو دیا گیا۔
حضرت یوسف علیہ السلام نے جب کفیل مصر بنے تو آپ کو حکم ہوا کہ اپنے تمام خاندان یعنی آل یعقوب کو مصر بلایا جائے۔ اور مصر کی سرزمین کا ایک مخصوص حصہ ان کے لئے مختص کیا گیا۔ اور اللہ کی طرف سے کہا گیا کہ اے آل یعقوب اس سرزمین میں تمھارے لئے برکتیں ہیں۔
حضرت یوسف علیہ السلام بارہ بھائی تھے اسی لئے اللہ تعالی نے ان کے لئے بارہ چشمے جاری کیے۔ اور یوں اس سرزمین کا نام حضرت یعقوب کے لقب سے اسرائیل پڑگیا۔ جسے آج یروشلم بھی کہا جاتا ہے۔
آپ کی نسل سے کم و بیش ستر ہزار انبیائے کرام آئے۔
حضرت یوسف کے بھائی یہودا کی نسل آگے بڑھی تو اس میں سے آنے والے تمام بنی اسرائیلی یہودی کہلائے۔
وقت گزرتا گیا اور حضرت موسی علیہ السلام کا دور آیا۔ جب فرعون نے مصر کی آپ پر تنگ کی تو بنو اسرائیل کے ساتھ آپکو مصر سے نکلنا پڑا۔
اس دوران بنی اسرائیل پر اللہ تعالی کی بہت سے کرم نوازیاں بھی ہوئیں، جس میں من و سلوی، چشموں کی بہتات، مچھلیوں کے شکار کا ذکر قرآن پاک سے بھی ملتا ہے۔ اور وہیں ہمیں ایک گائے کا ذکر بھی ملتا ہے، جس کے لوتھڑے سے مردے نے اللہ کے حکم سے زندہ ہوکر اپنے قاتل کا بتایا۔ اس گائے کی نشانیاں اللہ تعالی نے قرآن پاک میں بیان فرمائیں۔ جوکہ ایک سرخ مائل رنگت کی گائے تھی اور ایسی گائے آج بھی یہودیوں کے نزدیک مقدس مانی جاتی ہے۔
حضرت موسی علیہ السلام کے بعد دیگر نبی آئے۔ اس دوران میں حضرت موسی علیہ السلام اور ان کے دور کی کچھ باقیات، تورات، من و سلوی کا کچھ حصہ بنی اسرائیل نے ایک صندوق میں محفوظ کرلیا۔ یہ اللہ کی طرف حضرت آدم کو دیا گیا ایک خاص صندوق تھا جو نسل در نسل نبیوں کے پاس رہا۔ جسے قرآن میں تابوت سکینہ کے نام پکارا گیا ہے۔ اور یہ یہودیوں کو اپنی جان سے ذیادہ عزیز ہے۔
حضرت داؤد نے جب جالوت کو ہرا کر اس سے تابوت سکینہ حاصل کیا تو یوں بنی اسرائیل نے انہیں نبی تسلیم کرلیا۔ اور حضرت داؤد علیہ السلام نے اس صندوق کی حفاظت کے لئے ایک ہیکل تعمیر کروانا شروع کیا جو کہ انکی زندگی میں مکمل نہ ہوسکا۔ ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنوں کی مدد سے اس کو مکمل کروایا اور اسی دوران میں آپکی بھی وفات ہوگئی۔
اسی وجہ سے اسے ہیکل سلیمانی کہا جاتا ہے۔
بعد ازاں بابل کے باشاہ بخت نصر نے اسرائیل پر حملہ کیا اور ہیکل سلیمانی کو بھی گرا دیا۔ اور تابوت سکینہ بھی اپنے ساتھ لے گیا۔
سیپرس دی گریٹ نے دوبارہ یہ شہر حاصل کیا۔ یہودیوں کو دوبارہ یہاں آباد کیا اور تابوت سکینہ کو بھی واپس لایا گیا۔ ہیکل سلیمانی ایک دفعہ پھر تعمیر کیا گیا۔
پھر وقت گزرا اور حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد ہوئی۔ جنہیں نعوذبااللہ یہودیوں نے دجال، ناجائز اور کیا کیا لقب دیئے۔ یہاں سے یہودیوں میں سے دو الگ قومیں ہوگئیں ایک یہودی اور دوسرے عیسائی۔
یہودیوں نے سازش کرکے حصرت عیسی علیہ السلام کو صلیب پر چڑھانا چاہا اور اللہ تعالی نے انہیں اپنے پاس اٹھالیا۔
اس کے بعد یہودیوں اور عیسائیوں میں کئی چھوٹی موٹی جنگیں ہوئیں۔ پھر عیسائی رومی بادشاہ ٹائیٹس نے اس شدت سے یروشلم پر حملہ کیا کہ اس پورے علاقے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ ہیکل سلیمانی کو گرادیا۔ جس کی صرف ایک دیوار اس وقت اپنی اصلی حالت میں موجود ہے جسے دیوار گریہ کہاجاتا ہے۔ جہاں یہودی جاکر تورات کی تلاوت کرتے ہیں اور گریہ و زارہ کرتے ہیں۔ تابوت سکینہ بھی نہ جانے کہاں غائب ہوگیا۔
ٹائٹس کے حملے کے بعد یہودی آخری نبی کے انتظار میں تھے۔ کیونکہ اللہ پاک کا ان سے وعدہ تھا کہ انہیں پھر عروج بخشا جائے گا۔
اس وعدہ کا ذکر سورہ البقرہ میں بھی موجود ہے کہ

"اے بنی اسرائیل، ان نعمتوں کو یاد کرو جو تم پر کی گئیں، اور اپنا وعدہ پورا کرو (ایمان لاو) تاکہ ہم بھی اپنا وعدہ پورا کریں۔"

قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ ہیکل سلیمانی کی تین دفعہ تعمیر ہوگی۔ جوکہ دو دفعہ ہوچکی ہے۔
یہودی اپنے مسیحا اور آخری نبی کے انتظار میں تھے کہ ٹائیٹس کے حملے کے پانچ سو سال بعد نبی آخرالزمان کی ولادت ہوئی۔ یہاں یہودیوں کو یہ جھٹکا لگا کہ سارے نبی حضرت اسحاق کی نسل سے ہیں تو آخری نبی حضرت اسماعیل کی نسل سے کیونکر آگئے۔۔۔ اور انہوں نے ایمان لانے سے انکار کردیا۔
مسلمانوں کے لئے بھی وہ انبیاء کی ہی نشانی تھی اسی لئے ہیکل سلیمانی کو بیت المقدس کا نام دیا گیا۔
اسلام کے آغاز میں یہودیوں کو قائل کروانے کی خاطر ہی بیت المقدس کی جانب منہ کرکے نماز ادا کرنے کا حکم ہوا۔ کیونکہ یہودی اسی طرف منہ کرکے عبادت کیا کرتے تھے۔
سترہ ماہ بعد ہماری عبادت کا رخ بیت المقدس سے بیت اللہ کی جانب موڑ دیا گیا۔ کیونکہ مسلمانوں کا شروع سے قبلہ اول وہی رہا۔ جسے پہلے حضرت آدم اور پھر حضرت ابراہیم نے تعمیر کیا۔
حضرت عمر رض کے دور حکومت میں اسرائیل یعنی یروشلم پر عیسائیوں کا قبضہ تھا۔ بیت المقدس کے ہی احاطے میں انہوں نے گرجا گھر تعمیر کیا ہوا تھا۔ اور عین تابوت سکینہ والی جگہ وہ گند پھینکا کرتے تھے یہودیوں کی نفرت میں۔ یروشلم کی فتح کے وقت جب حضرت عمر وہاں گئے تو عیسائیوں پر برہم ہوئے۔ وہاں صفائی کروا کر مسجد تعمیر کروائی، اور قرآن میں موجود معراج والے واقعے کی نسبت سے اس مسجد کو اقصی کا نام دیا۔
یہودیوں کی دیوار گریہ بھی اسی احاطے میں موجود تھی تو زائرین کی حثیت سے انہیں بھی وہاں آنے کی اجازت دے دی گئی۔
خلافت عباسیہ تک یروشلم ایک مسلم شہر رہا۔
اس کے بعد عسائیوں نے دوبارہ یروشلم پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کرلیا۔ صلاح الدین ایوبی نے عیسائیوں کے خلاف پچاس سے زائد جنگیں کرکے بیت المقدس دوبارہ حاصل کیا۔ اور پھر سات سو سالوں تک یہ خلافت عثمانیہ کے زیر سلطنت رہا۔ یہودیوں کو بھی دیوار گریہ تک اپنے مذہبی اقدامات کی آزادی رہی۔ اور یہودی آہستہ آہستہ پھر یروشلم میں آباد ہونا شروع ہوگئے۔ اس دوران میں کئی بار انہوں نے خلافت عثمانیہ کے سلطان کو پیسوں کے عوض یروشلم انہیں سونپنے کا لالچ دیا لیکن ناکام رہے۔
اور پھر دوسری جنگ عظیم میں عیسائی سپاہی ہٹلر نے چن چن کر یہودیوں مارا۔ قریبا ساٹھ لاکھ کے قریب یہودیوں کا قتل عام کیا گیا اور یہ دربدر بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔ اس دوران میں انہیں یہ اندازہ ہوچکا تھا کہ انہیں اب خود اپنی پہچان بنانی ہے۔ اور بائبل میں موجود یہودیوں کے آخری عروج سے قبل والی کئی نشانیاں بھی ظاہر ہوچکی تھیں۔ اور وہ یہ تسلیم کرچکے تھے کہ انکا آخری مسیحا اب دجال ہوگا جس کی بدولت پوری دنیا میں انکا دوبارہ بول بالا ہوگا۔
انہوں نے برطانیہ سے ساز باز کرکے خود کو الگ ریاست تسلیم کروالیا۔ یوں اسرائیل باقاعدہ ایک ملک کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ پھر آہستہ آہستہ انہوں نے فلسطین اور دیگر مصری علاقوں پر بھی قبضہ کرلیا۔ عرب ممالک اسرائیل کے خلاف جنگ پر آئے لیکن اس وقت تک یہ خود کو اتنا مضبوط کرچکے تھے عرب ممالک کو اس ایک چھوٹے سے ملک سے منہ کی کھانی پڑی۔ عسائیوں نے بھی دیکھ لیا کہ اب ان سے لڑ کر کچھ وصول نہیں ہونا تو باقاعدہ گرجا گھروں میں پادریوں نے تقریبات منعقد کیں اور یہودیوں کے لئے معافی کا اعلان کیا گیا۔ یوں سیاسی اور اقتصادی مفاد پرستی نے دو ہزار سالوں سے ایک دوسرے کے ازلی و جانی دشمنوں کو ایک صف پر لا کھڑا کیا۔ اور قرآن کی بات بھی سچ ہوگئی کہ
یہود و نصری ایک دوسرے کے دوست ہیں۔
یہودیوں کے عقائد کے مطابق وہ ہیکل سلیمانی کی حفاظت نہیں کرپائے تو خود کو قصوروار کہتے ہیں۔ خود کو سزا دینے کے لئے زنجیروں اور چمڑے سے پیٹتے ہیں۔ اور دیوار گریہ کے پاس آہ و زاری کرتے ہیں۔
وہ ایمان رکھتے ہیں تیسری بار انہیں پوری دنیا پر حکمرانی حاصل ہوگی۔ اس کے لئے انہیں مسجد اقصی کو گرانا ہوگا۔ جس کی تیارہ وہ کرچکے ہیں۔ کب سے مسجد اقصی کے نیچے بارودی سرنگیں بچھا دی گئی ہیں۔ اس کے بعد ہیکل سلیمانی تعمیر کرکے تابوت سکینہ وہاں رکھنا ہے۔ تابوت سکینہ بھی وہ دوبارہ حاصل کرچکے ہیں۔
لیکن مسئلہ تھا سرخ گائے۔۔۔ کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق وہ ناپاک ہیں اور جب تک پاک نہیں ہوجاتے ہیکل سلیمانی تعمیر نہیں کرسکتے۔ اور پاک ہونے کے لئے سرخ گائے کی قربانی دینا ہوگی۔
وہ گائے جس کی نشانیاں قرآن پاک میں بیان کی گئیں۔ جو اسوقت بھی انہیں ڈھونڈنے میں مشکل ہوئی تھی۔ اب بھی ایک سو سال تک وہ ویسی گائے کی تلاش کرتے رہے۔ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بچے پیدا کرنے کا کامیاب تجربہ کیا انہوں نے۔ پھر اس تجربے کی بدولت ویسی نشانیوں والی گائے پیدا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ناکام رہے۔ دوہزار انیس میں ایک امریکی ریاست سے پانچ عدد ویسی گائیں انہیں مل گئیں۔ جن کے جسم پر سرخ رنگ کے علاوہ اور کوئی بال نہیں تھا۔ انہیں کبھی کام کے لئے استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ اگلی نشانی کہ ان پر کسی بیماری کا اثر نہیں ہونا چاہیے، پوری دنیا میں کووڈ پھیلا کر مختلف جانوروں کے ساتھ انہیں بھی ٹیسٹ کیا گیا اور ان پر اس بیماری کا کوئی اثر نہ ہوا۔

Red heifer found
Mastery of Red heifer

یہ گوگل میں سرچ کرکے آپ اس متعلق تفصیل سے پڑھ سکتے ہیں۔
الغرض قرب قیامت اور دجال کے ظہور والی تمام تر تیاریاں وہ مکمل کرچکے ہیں۔
اپنی مرضی کے ڈاکٹر، انجینئر بچے پیدا کرنا، نائن ڈی ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک جگہ ہوتے ہوئے کئی جگہ موجود رہنا، اپنی مرضی کے موسم بنانا، جب چاہو بارش برسا دینا، چند دنوں میں پوری دنیا گھوم لینا یہ سب دجالی نشانیاں ہیں جو آج کے دور میں کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ ہمارے اسلام میں بتائی گئی قیامت کی نشانیوں کی انہوں نے اتنے اچھے سے تیاری کرلی ہے کہ غرقد کے درخت لگا دیے۔ جو انہیں پناہ دیں گے۔ باب لد جس جگہ احادیث کے مطابق دجال کا حضرت عیسی ع کے ہاتھوں قتل ہونے کا ذکر موجود ہے اس جگہ وہ دجال کے فرار کے لئے ایئر پورٹ بنا چکے ہیں۔
یہ سب تو قربت قیامت کی نشانیاں ہیں اور ہیکل سلیمانی نے بھی بن کر رہنا ہے۔ پھر اصل جنگ کیا ہے؟
اصل جنگ عقائد کی ہے۔ ہم اپنے عقائد میں اس قدر کمزور ہوچکے ہیں کہ نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں ہمیں فرق نہیں پڑتا۔ اپنے بہن بھائیوں کا حق کھا کر خوشی محسوس کرتے ہیں اور فرقوں کے خرافات میں الجھے ہوئے ہیں۔
فلسطینوں کے لئے سوائے دعا اور احتجاج کے ہم کیا کرسکتے ہیں؟
کیا ہم اپنے عقائد کے اتنے مضبوط ہیں کہ ڈالر کہ بہکاوے میں نہ آئیں؟
کیا ہم یہودیوں کے مقابلے میں نکلنے والے خراسان مجاہدین کی لسٹ میں آتے ہیں یا بس سوشل میڈیا کے تماشائی ہیں؟
اگر آج دجال ظاہر ہوجائے اور توبہ کا دروازہ بند ہوجائے تو ہماری آخرت کے لئے کیا تیاری ہے؟
سوچ کر جواب ضرور دیجئے گا۔۔۔

Address

Jammu
HTTP://WWW.CITYPINCODE.IN/JAMMU AND KASHMIR/JAMMU/JAMMU PINCODE

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tehreeq -Ahle sunnat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share