Islam way peace & paradise IWPP

Islam way peace & paradise IWPP Islam way peace and paradise

جلدی کیجئے گا
06/01/2026

جلدی کیجئے گا

24/10/2024

*کہیں ہم حقائق اور حقیقتوں سے دور تو نہیں ہو رہے ہیں؟*

مسائل کا علم ہونا اور جاننا ضروری ہے چاہے مسائل کسی بھی میدان سے متعلق ہوں جیسے عقیدہ ، عبادات، معاملات، سماجیات، معاشیات ، سیاسیات، اخلاقیات، دعوت، مہاجرین کے مسائل، وغیرہ وغیرہ ۔اس کے ساتھ ساتھ ان تمام عناوین کے اصولیات اور جزئیات کا پختہ علم حاصل کرنا ہم طلباء پر ضروری ہے۔

حصول علم میں پختگی کی بہت ساری راہیں ہیں، جیسے مستند علماء کے پاس زانوئے تلمذ ،مطالعہ، سوال وجواب، بحث ومذاکرہ، ایک دوسرے کی تحقیقات پر غور وفکر۔ اس سے رفتہ رفتہ علم کی پختگی پیدا ہوتی ہے، اس لئے ضروری ہے کہ ہم کتب بینی کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کی تحریر وتحقيق کا بھی خوب مطالعہ کرتے ہوئے حقائق کو قبول کرنے یا نہ کرنے کی وجوہات مع دلائل پیش کریں تاکہ ہم کو آپسی استفادہ کا موقع مل سکے۔

جزئیات کے بغیر اصولیات کی تکمیل مشکل ہے ہر اصل کے ساتھ بعض جزئیات جڑی ہوتی ہیں، چاہے وہ ابواب کسی بھی اسلامی تعلیمات سے تعلق رکھتے ہوں۔

عقائد اس اصل میں کئی طرح کے جزئیات ہیں جن پر ایمان نہ صرف ضروری ہے بلکہ بعض جزئیات کا انکار دائرہ اسلام سے خارج ہی کر دیتا ہے، الغرض ہمیں ان جزئیات کا علم ہونا بھی ضروری ہے اور ساتھ ہی ساتھ ماضی اور حال میں ان جزئیات کا انکار کرنے والے افراد اور فرقوں کی پہچان اور اس کے منفی مثبت نتائج پر نظر رکھنا بھی ضروری ہی نہیں بلکہ امت کو آگاہ کرنا بھی بے حد ضروری ہے۔

اسی طرح عبادات کا معاملہ ہے ہر عبادت کی اصل اس کے اجزاء کے ساتھ منسلک ہے چاہیے نماز ہو کہ روزہ، عمرہ ہوکہ حج، زکات یہاں تک طہارت کے مسائل بھی بغیر جزء کے کوئی اصل نہیں ہے تو پھر کیسے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جزئیات پر بحث نہ کریں، ساری کتب فقہ انہیں جزئیات پر مشتمل ہیں، کتب احادیث کی شرحیں، تفسیریں، تجارت، سیاست، معاشرت ایسا کونسا باب ہے جس میں جزء کی ضرورت نہیں ہے اور بغیر جزء کے اصل مکمل ہوتی ہوں، گویا تفہیم، تشریح، تفسیر، توضیح، تفصیل، یہ سب تو عملی میدان کے لئے کس قدر ضروری ہے ہر صاحب علم، طالب علم، اور اساتذۂ ومحققین پر عیاں ہے. مگر کہیں نہ کہیں ہم ان مسائل سے اپنے آپ کو الگ تھلگ رکھنا چاہتے ہیں۔

اس کا نقصان یہ ہوا کہ ہم میں کی اکثریت علمی تحقیقات سے دور ہوگئی، اور تحقیق وتفہیم کے راستے بھی بند کرنا چاہتے ہیں، اس تسلی کے ساتھ کہ ہم کو مسائل میں الجھنا نہیں ہے، رفتہ رفتہ ہماری یہ سوچ ہمیں عقائد کے باب میں بھی بے کمزور کررہی ہے۔ نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ فقہی جزئیات پر بحث مباحثے کو معیوب سمجھتے تھے مگر عقائد میں بھی اب کسی بھی قسم کی گمراہی پر گفتگو کرنا اس گمراہی پر رد کرنے کو معیوب سمجھا جا رہا ہے ۔ گویا عقائد کے باب میں گمراہیوں پر رد کرنے کو بھی فقہی جزئیات کا درجہ دے کر اسلام کے ستون پر ہونے والے حملوں کو بھی برداشت کرنے کی تعلیم دی جارہی ہے۔

جبکہ امت کا ایک بڑا طبقہ ان گمراہیوں سے نہ صرف متاثر ہو رہا ہے بلکہ ان گمراہ کن عقائد کو اپنا رہا ہے، جیسے
عقیدہ وحدت الوجود، وحدت الشہود، وحدت الادیان، توحید اسماء وصفات میں بے جائے تاویلات وغیرہ ۔

اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس نزاکت کو سمجھیں اور عقائد کے باب میں مداھنت نہ دکھائیں اور اس میدان میں در آئی گمراہیوں پر رد کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ نہ بنائیں ۔ کیوں کہ رد کرنے والے ہی در اصل صحیح عقائد کو باطل کی ملاوٹ سے محفوظ رکھتے ہیں ۔

حافظ عبد الغنی عمری
ابن کثیر فاؤنڈیشن ،حیدرباد

ماشاء اللہ بہترین، انداز میں شخصیت کے ارتقاء اور خصوصیات پر مشتمل خالص کتاب و سنت کی روشنی میں، لی گئی کلاسس ہیں، خود بھ...
10/10/2024

ماشاء اللہ بہترین، انداز میں شخصیت کے ارتقاء اور خصوصیات پر مشتمل خالص کتاب و سنت کی روشنی میں، لی گئی کلاسس ہیں، خود بھی اور دوسروں کو مستفید ہونے کا موقع عنایت فرمائیں ،
مزید ویڈیو اسی چینل پر موجود ہیں، ہمارے فاؤنڈیشن کے چینل میں شرکت کو لازم کرنے کی کوشش کیجئے،، ،

Islamic Psychology and Personality DevelopmentTopic: Time Management : An Islamic PerspectiveBy Shaikh Nisar Ahmed Omeri.12th Lecture : Session-13: -26Da...

24/09/2024
ابھی سے تیاری کیجئے
18/09/2024

ابھی سے تیاری کیجئے

12/07/2024

*☘️مولانا عبدالباسط جامعی ریاضی اب اس دنیا میں نہ رہے.☘️*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
انا لله وانا اليه راجعون اللهم اغفر له وارحمه واسكنه فسيح جناته يارب العالمين

مولانا محترم، بڑی خوبیوں کے مالک تھے. خوش مزاج، سادگی پسند، لباس، رہنے، سہن، سفر، کھانا پینا، سب میں بڑی سادگی اختیار کرتے تھے، ہر ملنے والے سے بڑی گرم جوشی سے ملتے، بغیر کسی تکلف وتصنع کے گفتگو کرتے، سادگی اسقدر کہ سفر میں جو سہولت میسر آجائے جہاں قیام میسر آجائے بس اسی پر اکتفا کر لینا آپ کی عادت رہی کسی سے کسی طرح کوئی شکایت نہیں کرتے تھے۔

آپ جنوب ہند کے عظیم ادارے جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ کے اولین فارغین میں سے شمار کیے جاتے ہیں مزید شوق علم نے آپ کو دہلی کی قدیم اور مشہور درسگاہ جامعہ ریاض العلوم پہنچایا جہاں آپ نے وقت کے اساطین علوم سے فیض یاب ہو کر، تدریس، تعلیم، تبلیغ، تصنیف، تقریر، تحریر، تنظیم سے جو وابستہ ہوئے تو ایسے ہوئے کہ آخری دم تک اسی کو سب کچھ سمجھا اور وفاء کا ثبوت دیتے ہوئے آج رخصت ہو گئے،

جامعہ محمدیہ میں آپ استاذ، شیخ الحدیث، ناظم، مختلف میدانوں میں خدمات انجام دے کر دنیائے سلفیت کو ہزاروں شاگرد عطاء کیے تو دوسری جانب جمعیت اہل حدیث سے آپ کی واہ رفتگی نے اس کو ہر مرحلے میں تقویت پہونچائی ، مقامی، ضلعی، صوبائی، مرکزی، تمام سے آپ کا تعلق خاطر رہا، متحدہ آندھراپردیش کے آپ امیر رہے، اس ناحیہ سے آپ نے جمعیت جماعت اور تنظیم کو مستحکم کرنے میں بڑی قربانیاں دی ہیں، قریہ قریہ کا آپ نے سفر کیا، دعوتی تربیتی، اصلاحی، تنظیمی، کام کو مضبوط کرنے میں خوب سے خوب تر محنتیں کی، نتیجے میں مختلف اضلاع میں جماعتیں وجود میں آئی، خصوصاً اضلاع رایلسیما میں جہاں مسجد اہل حدیث کی تعمیر گویا سب کچھ جھوکم
میں ڈالنے کے برابر ہے مگر آپ نے بڑی ہمت اور جرات کے ساتھ کام کیا، یہاں تک ایک مناظرہ میں آپ پر جان لیوا حملہ کیا گیا، مگر آپ جمے رہے۔

ضلع اننت پور سے آندھراپردیش کی سرحد ضلع سریکا کولم تک شائد کے کوئی ضلع یا قریہ ہوں جہاں آپ نے جمعیت یا جامعہ کے لیے دورہ نہ کیا ہو،

شیخ الحدیث سے میری کئی ملاقاتیں ہوئیں ہیں کئی پروگراموں میں شیخ کے ساتھ شریک رہا ہوں، آج کے پر تکلف دور میں بغیر تکلف والی آپ کی شخصیت رہی ہے۔

خصوصاً آپ تاریخ اہل حدیث پر بہت عبور رکھتے تھے، ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ تاریخ کے موضوع پر طویل اور مختصر دونوں انداز میں خطاب کرنے پر مہارت رکھتے تھے، اگر وقت کم دیا جائے تو بھی تاریخ کے تمام حصوں کو اس انداز سے سمیٹ لیتے کہ سامعین کو کسی کمی کی شکایت نہیں رہتی، ایسا کئی اجلاسوس کی دعوت میں نے خود دی ہے.

ابھی گزشتہ سال ضلع کرنول کے شہر نندی کٹکور میں ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا تھا، جس میں صبح سے شام تک کی نشستیں صرف علماء کرام کے لئے مخصوص تھی، ماشاء اللہ آپ اس میں شروع سے آخر تک موجود رہے جبکہ آپ کا خطاب آخر میں تھا مگر اسٹیج پر پوری مستعدی کے ساتھ جلوہ افروز رہے، اس اجلاس کی اہم خصوصیت یہ تھی کہ اس میں مقررین اور سامعین دونوں بھی تمام مشہور جامعات کے نمائندوں کے طور پر مدعو کیا گیاتھا، آپ نے بہت خوشی کا اظہار فرمایا اور آپ کی خواہش تھی صوبہ آندھراپردیش کے تمام علماء کا خصوصی اجلاس پھر سے منعقد کیا جائے اس کی ذمہ داری أبناء محمدیہ میں سے آپ نے خود لی اور ابناء عمرآباد کی ذمہ داری مجھ ناچیز کو دی، مگر وقت گزرتا چلا گیا،
بہر کیف بہت سی باتیں اور یادیں آپ سے وابستہ ہیں۔

آپ ہمیشہ ہم جیسے طالب علموں کو حوصلہ دیا ہمت افزائی کی آگے بڑھنے کا موقع دیا اور دعاؤں سے نوازا، آپ کی وفات صرف جامعہ محمدیہ عربیہ رائدرگ کے لئے خسارہ نہیں بلکہ جمعیت اہل حدیث آندھراپردیش اور جنوب ہند کا عظیم خسارہ ہے، اللہ تعالیٰ استاذ محترم کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور جملہ لواحقین متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین، آپ کے حسنات کو قبول فرمائے اور بشری لغزشوں کو معاف فرمائے آمین یا رب العالمین،

مولانا کی شخصیت بہت ساری خوبیوں کی حامل تھی، نماز جمعہ سے گھر پہنچتے ہی یہ خبر ہمارے دل ودماغ کو بے چین کردی، حقیقت یہ ہے کہ ان سالوں میں ہندوستان کی بڑی بڑی شخصیات جو اپنے آپ میں ایک ایک انجمن نہیں بلکہ انجمنوں کی حیثیت رکھتے تھے، ہم سے یک بعد دیگرے رخصت ہو رہے ہیں گویا ہر کوئی ایک ایک صدی کا خاتمہ کردیا، ابھی ابھی استاذ الاساتذہ علامہ حافظ حفیظ الرحمن اعظمی عمری مدنی رحمہ اللہ تو استاذ الاساتذہ شاعر اسلام مولانا ابو البیان حماد عمری رحمہ اللہ کی رخصتی ہوہی تھی کہ محسن ملت اسلامیہ ہند حضرت مولانا کاکا سعید احمد عمری معتمد جامعہ دارالسلام عمرآباد کے انتقال نے ہم سب کو زخموں سے چور کردیا تھا ابھی سنبھل بھی نہیں پائے کہ پھر یہ خبر ایک بجلی کی طرح گری جو ہمارے اوسان خطاء کرگئی،

اللہ تعالیٰ تمام علماء کرام کی مغفرت فرمائے اور امت مسلمہ جمعیت جماعت اور ہمارے جامعات کو ان کا نعم البدل عطاء فرمائے آمین یا رب العالمین

اس موقع پر میں جامعہ محمدیہ عربیہ رائدرگ کے تمام ذمہ داران اساتذۂ طلباء اور ابناءے جامعہ کی خدمت تعزیت پیش کرتے ہوئے دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ سب کو صبر جمیل عطا فرمائے اور شیخ الحدیث کا نعم البدل عنایت فرمائے آمین یا رب العالمین
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

شریک غم
*حافظ عبدالغنی عمری سید حسین کرنولی*
سابق ناظم اعلیٰ صوبائی جمعیت اہل حدیث آندھراپردیش

30/06/2024

انا لله وانا اليه راجعون الله يرحمه ويغفر له ويسكنه فسيح جناته يارب العالمين

ہمارے ماموں جان کا انتقال ہوگیا ہے.

اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے کئی سالوں سے فریش تھے کل ہی میں ملاقات کر کے ابھی صبح حیدرآباد پہنچا. مگر یہی ملاقات آخری ہوگی..

دعاؤں کی درخواست ہے

اعلان نماز جنازہ

ان شاء اللہ کل بروز پیر صبح 9:30 بجے مسجد بلال اہل حدیث انچالہ، کرنول میں ہمارے ماموں جناب انور صاحب کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی اور وہی کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئے گی..
مزید تفصیلات کے لیے.. 7396558220

04/06/2024

🌼ایک مثبت اور مفید کوشش کی اپیل 🌼

آندھراپردیش کے باشعور عوام اور بالخصوص علماء قائدین سے درخواست ہے کہ فوری طور پر جناب چندرا بابو نائیڈو صاحب ملاقات کریں اور انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس بات کا احساس دے لائے کہ اس وقت جمہوریت کو بچانے کیلئے انہیں انڈیا کا ساتھ دینا ہوگا، امید ہے کہ بابو عقلمند اور باشعور سیاست دان ہے مثبت قدم آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے،

برائے کرم وقت بہت کم ہے دیر نہ کریں.. اب تو سمجھداری سے کام لینا چاہیے آندھراپردیش کے مسلمانوں کو.. ہم بار بار کہہ رہے تھے جگن غیر مفید ہے اس کو کرسی سے باہر کرنا ضروری ہے. مگر ہمارے تبصرے اور تجزیے اکثر کو غلط لگتتے تھے الحمد للہ اس کا ایسا صفایا ہوا کہ اس کا غور مٹی میں مل گیا.. بعض لوگ بڑی بے وقوفی کے کام کیے انتخابات کے آخری ایام میں جگن کی تائید کرکے اب کیا کرو گے.. بہر حال جو ہوا سو ہوا اب فوراً بابو سے ملنے میں بھلائی ہے..... خیر اندیش
عبدالغنی عمری

Address

Hyderabad

Telephone

+919666111448

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islam way peace & paradise IWPP posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share