AHLE HAQ

AHLE HAQ This page does not belong to any political or any sect or dinomination. This will show you only true masseges of islam

I have reached 100 followers! Thank you for your continued support. I could not have done it without each of you. 🙏🤗🎉
27/07/2023

I have reached 100 followers! Thank you for your continued support. I could not have done it without each of you. 🙏🤗🎉

13/04/2023

*ضروری دینی معلومات*

👇👇👇
*غسل کےفراٸض:*
*غسل کے تین فراٸض ہیں*

1. کلی کرنا
2. ناک میں پانی ڈالنا
3. تمام بدن پر پانی بہانا

👇👇👇
*غسل کی سنتیں*
*غسل کی پانچ سنتیں ہیں*

1. دونوں ہاتھ گٹوں تک دھونا
2. استنجا کرنا
3. نیت کرنا
4. وضو کرنا
5. تمام بدن پر پانی بہانا

👇👇👇
*وضو کے فراٸض*
*وضو کے چار فرض ہیں*

1. منہ دھونا
2. کہنیوں سمیت دونوں ہاتھ دھونا
3. چوتھاٸی سر کا مسح کرنا
4. ٹخنوں سمیت دونوں پاٶں دھونا

👇👇👇
*وضو کی سنتیں*
*وضو کی تیرہ سنتیں ہیں*
1. نیت کرنا
2. بسم اللہ پڑھنا
3. تین بار دونوں ہاتھ گٹوں تک دھونا
4. مسواک کرنا
5. تین بار کلی کرنا
6. تین بار ناک میں پانی ڈالنا
7. ڈاڑھی کا خلال کرنا
8. ہاتھ پاٶں کی انگلیوں کا خلال کرنا
9. ہر عضو کو تین بار دھونا
10. ایک بار تمام سر کا مسح کرنا
11. ترتیب سے وضو کرنا
12. دونوں کانوں کا مسح کرنا
13. پے در پے وضو کرنا

👇👇👇
*نواقض وضو*
*وضو آٹھ چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے*
1. پاخانہ پیشاب کرنا
2. ریح یعنی ہوا کا نکلنا
3. خون یا پیپ کا نکل کر بہہ جانا
4. منہ بھر کے قے کرنا
5. بیہوش ہو جانا
6. لیٹ کر یا ٹیک لگا کر سو جانا
7. دیوانہ ہو جانا
8. نماز میں اونچا ہنسنا

👇👇👇
*تیمم کے فراٸض*
*تیمم کے تین فراٸض ہیں*

1. نیت کرنا
2. کہنیوں سمیت ہاتھوں کا مسح کرنا
3. چہرے کا مسح کرنا

👇👇👇
*نماز کی شرائط*
*نماز کی سات شرائط ہیں*

1. بدن کا پاک ہونا
2. کپڑوں کا پاک ہونا
3. جگہ کا پاک ہونا
4. ستر کا چھپانا
5. قبلہ کی طرف منہ کرنا
6. نماز کا وقت ہونا
7. نماز کی نیت کرنا

👇👇👇
*نماز کے فراٸض*
*نماز کے چھے فرض ہیں*

1. تکبیر تحریمہ کہنا
2. قیام کرنا
3. قرأت کرنا
4. رکوع کرنا
5. سجدہ کرنا
6. آخری قعدہ تشھد کی مقدار بیٹھنا

👇👇👇
*نماز کے واجبات*
*نماز کے چودہ واجبات ہیں*

1. فرض کی پہلی دو رکعتوں کو قرأت کیلۓ متعین کرنا
2. فرض نماز کی آخری دو رکعتوں کے علاوہ باقی ہر رکعت میں سورة الفاتح پڑھنا
3. فرض نماز کی آخری رکعتوں کے علاوہ سورہ الفاتحہ کے بعد کوٸی چھوٹی سورت یا تین آیات پڑھ
4. سورة الفاتحہ کو سورت سے پہلے پڑھنا
5. قومہ کرنا
6. جلسہ کرنا
7. دونوں قعدوں میں تشھد پڑھنا
8. ترتيب قاٸم رکھنا
9. تعدیل ارکان
10. جہری نمازوں میں جہر کرنا اور سری نمازوں میں آہستہ آواز میں پڑھنا
11. قعدہ اولی
12. لفظ سلام سے نماز سے باہر نکلنا
13. وتروں میں دعاۓ قنوت پڑھنا
14. عیدین میں چھ زائد تکبیریں کہنا

👇👇👇
*نماز جنازہ کے فراٸض*
*نماز جنازہ کے دو فرض ہیں*

1. چار تکبیریں کہنا
2. قیام کرنا

👇👇👇
*کھانے کے آداب*
1. ہاتھ دھو کر کھانا
2. کھانے کی دعا پڑھنا یعنی بسم اللہ وعلٰی برکت اللہ پڑھنا
3. اپنے سامنے سے کھانا
4. دسترخوان بچھا کر کھانا
5. برتن پر جھک کر نہ کھانا
6. برتن کو صاف کرنا
7. مسنون طریقہ سے بیٹھ کر کھانا
8. کھانا کھانے کے بعد کی دعا پڑھنا یعنی الحمد للہ الذی اطعمنا و سقانا و جعلنا من المسلمین پڑھنا
9. اکرام مسلم کرنا
10. کھانے کے بعد ہاتھ دھونا

👇👇👇
*پانی پینے کے آداب*

1. بسم اللہ پڑھ کر پینا
2. دیکھ کر پینا
3. بیٹھ کر پینا
4. تین سانسوں میں پینا
5. ہر سانس کے بعد الحمد للہ کہنا
6. پینے کے بعد الحمد للہ پڑھنا

👇👇👇
*سونے کے آداب*
1. باوضو ہو کر سونا
2. مسنون اذکار یعنی سورہ الفاتحہ . آیتہ الکرسی . سورة حم السجدہ . سورة الملک . سورة الاخلاص . سورة الفلق . سورة الناس پڑھنا
3. بستر کو جھاڑ کر بچھانا
4. سونے سے پہلے سونے کی دعا پڑھ کر سونا یعنی اللھم باسمک اموت و احیٰ
5. سونے سے پہلے مسواک کرنا
6. داٸیں کروٹ سونا
7. قبلہ کی طرف منہ کر کے سونا
8. تہجد کی نیت کر کے سونا
9. مسنون طریقہ پر سونا یعنی قبلہ کی طرف منہ کر کے دایاں ہاتھ سر کے نیچے رکھ کر اور بایاں ہاتھ کولہے کے اوپر رکھ کر ٹانگوں میں تھوڑا خم کر کے سونا
10. سو کر اٹھنے کے بعد یہ دعا پڑھنا الحمد للہ الذی احیانا بعد ما اماتنا والیہ النشور.

*یہ تحریر بچوں کے لۓ لکھی گٸ ہے جس سے بڑے بھی فاٸد حاصل کر سکتے ہیں احباب سے گزارش ہے کہ تمام گروپس میں بھی اور اپنے عزیز و اقارب کو بھی بھیجیں اور اگر اللہ پاک نے آپ کو وسعت دی ہے تویہ پرنٹ نکلوا کر مساجد میں آویزا کریں ۔
ان شاء اللہ مستقل صدقہ جاریہ ہوگا*

02/06/2022

سر جس پہ نہ جھک جائے اسے در نہیں کہتے
ہر در پہ جو جھک جائے اسے سر نہیں کہتے

کیا اہلِ جہاں تجھ کو ستم گر نہیں کہتے
کہتے تو ہیں لیکن ترے منہ پر نہیں کہتے

کعبے میں مسلمان کو کہہ دیتے ہیں کافر
بت خانے میں کافر کو بھی کافر نہیں کہتے

رندوں کو ڈرا سکتے ہیں کیا حضرتِ واعظ
جو کہتے ہیں اللہ سے ڈر کر نہیں کہتے

ہر بار نئے شوق سے ہے عرضِ تمنّا
سو بار بھی ہم کہہ کے مکرر نہیں کہتے

مے خانے کے اندر بھی وہ کہتے نہیں مےخوار
جو بات کہ مےخانے کے باہر نہیں کہتے

کہتے ہیں محبت فقط اس حال کو بسمل
جس حال کو ہم ان سے بھی اکثر نہیں کہتے

بسمل سعیدی۔

فیشنکسی دور کے طور طریقے اور رواج اس دور کا فیشن کہلاتے ہیں، مگر بالعموم اسے لباس تک ہی محدود سمجھا جاتا ہے۔ فیشن اچھے ب...
12/05/2022

فیشن
کسی دور کے طور طریقے اور رواج اس دور کا فیشن کہلاتے ہیں، مگر بالعموم اسے لباس تک ہی محدود سمجھا جاتا ہے۔ فیشن اچھے بھی ہوتے ہیں اور برے بھی۔ اگر کوئی لباس ساتر ہے، بدن کو ڈھانپنے والا ہے اور دیکھنے میں خوبصورت بھی ہے تو وہ ایک اچھا فیشن ہے، مگر جب لباس پہننے والا اسے پہن کر بھی نیم عریاں لگے، بدن کے بعض أعضاء ننگے ہوں یا لباس اتنا چست ہو کہ بدن کی ساخت نمایاں ہو رہی ہو، تو ایسی صورتوں میں اسے کسی طرح بھی اچھا فیشن قرارنہیں دیا جا سکتا۔ اسلام کی نظر میں ہر وہ لباس مستحسن ہے جو ساتر ہو، یعنی اس کے پہننے سے بعض أعضاء ننگے نہ ہوں اور جسم کی بناوٹ اس کے اندر سے نمایاں نہ ہو۔ مسلمان ڈیزائنرز کو چاہیئے کہ وہ دوسروں کی تہذیب و تمدن کی نقالی کی بجائے اپنی تہذیبی روایات کے مطابق فیشن ایجاد کر یں، جسے دیکھ کر اسلامی تہذیب کی یاد تازہ ہو۔ اسی طرح ہماری مائیں، بہنیں، بیٹیاں اسلامی لباس کو فیشن کے طور پر لیں، یہ آپ کا اپنا فیشن ہے، آپ شروع کر یں یہی رواج بن جائے گا اور لوگ اسلامی لباس پر فخر کرنے لگیں گے۔

غیروں کی نقالی میں آج ہم جس سمت جا رہے ہیں وہ راستہ ہمیں جہنم کی طرف لے جا رہا ہے۔ اکثر خواتین یہ کہتی ہیں کہ ایسا فیشن ہم نے نہیں کہا تھا، درزی نے ایسے کپڑے کی دیئے ہیں۔ آخرت میں درزی نے بچانے نہیں آنا۔ وہاں سب کو خود اپنا جواب دینا ہوگا۔ دنیا اپنے آپ کو زیب و زینت کے ساتھ نگا کرتی ہے، للچاتی ہے اور یہ شیطان کے حملے سب سے پہلے لباس سے شروع ہوتے ہیں۔ خواتین جب گھر سے باہر نکلتی ہیں تو پہلے میک اپ لازمی کرتی ہیں ۔ میک اپ تو صرف شوہر کے دیکھنے کے لئے جائز ہے، وہ تو گھر میں ہے۔ زیب و آرائش تو صرف شوہر کے لئے جائز ہے۔ چہرہ، ہاتھ اور پاؤں کے علاوہ جسم کے کسی حصے کو بھی ننگا کرنا، خواہ آدھے بازو کی قمیض ہو، خواہ گلا اگر کھلا سلوا لیں تو تھوڑا سینہ ننگا ہو جائے، خواہ قمیض کے چاک ایسے بنوا لیں کہ تھوڑا سا پیٹ یا سائیڈ میں تنگی ہو جائیں ، یا قمیض اتنی تنگ سلوا لیں کہ جسم کے اعضاء نمایاں ہو جائیں ، یہ ساری چیز یں صرف شوہر کے سامنے ہوسکتی ہیں ۔ شوہر کے علاوہ جس کسی کے سامنے ایسا کیا تو وہ حرام ہے اور دوزخ کا راستہ ہے۔ گھر سے باہر بازار میں میک اپ کر کے جانا قطعی درست نہیں کیونکہ زیب و آرائش صرف شوہر تک محدود ہے۔

نفس، شیطان اور دنیا انسان کے ایسے مکار دشمن ہیں کہ آپ کے ذہن میں بھی یہ نہیں آنے دیں گے کہ یہ برا فیشن ہے۔ آپ کے ذہن میں کوئی برائی نہیں ہوگی ، بس یونہی رواج فیشن اور اسٹائل کے طور پر، دنیا کی رواروی اور دیکھا دیکھی کے طور پر ایسا لباس پہن رہی ہیں، ذہن میں کوئی برائی تو نہیں ہے۔ یہی دنیا اور شیطان کا مکر ہے کہ دھیان اس طرف نہ جائے کہ میں برائی کر رہی ہوں ۔ یہی وہ فیشن ہے جو ہلاکت کا باعث ہے ، جدھر آپ کا دھیان بھی نہیں جاتا۔ یہ کام تو صرف شوہر تک کے لئے تھے، یہ تو ماں باپ، بہن بھائی ، کسی کے سامنے بھی جائز نہ تھے۔ باہر والوں کے سامنے تو یہ سراسر دوزخ کا ایندھن اور آگ تھی ۔ میک اپ کرنا، جسم کو ننگا کرنا، کپڑوں کو تنگ کرنا، آپ جب یہ پہن کر نکلیں گی تو کہیں گی کہ ’’ آج کل فیشن یہ چل رہا ہے یہ ایک جملہ ہے، یہ ایک بولی ہے، جونفس، شیطان اور دنیا نے سکھا دی ہے۔ فیشن کیا ہے ، اس فیشن کا نام دوزخ کی تیاری ہے ۔

ذرا سوچیں اور غور وفکر کرنے کے بعد اپنے انداز واطوار تبدیل کر یں ۔ چھوٹے قمیض ترک کر کے لمبے قمیض پہننا شروع کر یں، کھلے اور ڈھیلے لباس پہنیں جو جسم کو نمایاں نہ کریں۔ پھر نفس یہ خیال دے گا کہ لوگ کیا کہیں گے! گولی مار یں انہیں، آخرت میں جب حساب و کتاب ہوگا تو لوگوں نے بچانے کونہیں آنا ،قبر میں جب عذاب آۓ گا تو ان لوگوں میں سے کون ہے جو بچانے آۓ گا! عورت سے سوالات کا آغاز ہی اسی سے ہوتا ہے۔ جو عورتیں صرف فیشن کے نام پر عریانی کو اپناۓ رہیں اور ان کے ذہن میں کوئی برا دھیان تو تھا نہیں، یہ مکر اور چال تھی نفس، دنیا اور شیطان کی کہ اسے پتہ بھی نہ چلے اور برباد بھی ہو جائے ، یہی شیطان کی کامیابی ہے، جس کی اس نے اللہ رب العزت کو چیلنج کرتے ہوۓ قسم کھائی تھی کہ میں انسان کو اپنی چالوں اور حیلوں بہانوں سے بہکا کر چھوڑوں گا۔ اس دن پتہ
چلے گا جب پردہ اٹھے گا، ابھی تو ہماری آنکھوں پر دنیا کے پردے پڑے ہوۓ ہیں ۔

ایسے سارے کپڑے جن میں سلائی کی گنجائش ہے انہیں کھلوا لیں، ورنہ جلا دیں ۔ دوزخ کی آگ میں جلنے سے بہتر ہے کہ دوزخ کا باعث بنانے والے کپڑوں کو جلا دیں، یا غریب گھرانوں کی چھوٹی بچیوں کو دے دیں جن کے ناپ کو پورے ہوں۔ اسی طرح شادیوں میں فیشن صرف مقابلے بازی ہے ۔ اگر آپ دیکھیں کہ ایسی شادی ہے جہاں مقابلہ ہی سارا دنیاداری کا میک اپ کا اور بربادی کا ہے تو مت جائیں وہاں ، صرف نکاح اور ولیمہ میں جائیں جو سنت ہے باقی سب تیل مہندی وغیرہ کی رسموں میں مت جائیں، جہاں شیطان آپ کو بہکانے کو تیار بیٹھا ہے۔ اگر آپ سوچیں کہ برادری والے کیا کہیں گے تو جان لیں کہ برادریاں برباد کرتی ہیں، ان برادریوں نے قبر میں کام نہیں آنا، یہ دین کی بر بادی کا راستہ ہے۔

عورت کی زیب و زینت، خوشبو، بناؤ سنگھار، میک اپ سارا کا سارا صرف شوہر کے لئے ہے۔ اس عورت پر آخرت میں دوزخ کا عذاب ہوگا، جو گھر میں شوہر کے دیکھنے کے لئے تو کپڑے بھی نہ بدلے، پرانے میلے کچیلے کپڑوں کے ساتھ پھرتی رہے کہ میں کچن میں مصروف ہوں، اور جب باہر جانے کا وقت آۓ ، خواہ شادی بیاہ ہے، خواہ شاپنگ ہے، خواہ کسی کے گھر جانا ہے، خواہ کوئی کلچرل فنکشن ہے، تو پھر وہ نہاۓ ھوۓ بھی اور شاندار کپڑے بھی پہنے، پھر میک اپ بھی کرے اور خوشبو بھی لگائے ، اور پھر اس انداز کے ساتھ جاۓ کہ دور دور تک خوشبو بکھیرے۔ اب وہ باہر جاتے ہوۓ کس کے لئے بناؤ سنگھار کر کے جا رہی ہے ! کس کے لئے خوشبو لگا کے جا رہی ہے! جس کے لئے اللہ تعالی نے حلال قرار دیا تھا اسے تو سب کچھ دکھایا نہیں، جس کا دل خوش کرنا تھا ، جس کی محبت کو کھینچنا تھا، جس کے ساتھ آپس میں مؤدت پیدا کرنا تھی ، تو یہ زیب و زینت ، بناؤ سنگھار، خوشبو، کپڑے، فیشن، عورت کے لئے سب کچھ جائز ہے۔ اب اگر شوہر کو وہ عورت یہ چیز یں نہ دے اور جب باہر نکلے جب ہی مہربانی فرماۓ ، تو سوال ہے کہ اب وہ کس پر مہربانی فرما رہی ہے اور یہ سب کچھ کر رہی ہے، یہ حرام ہے۔

باہر کے لئے زیب و زینت اور گھر کے لئے نظرانداز کرنا، ایسا فیشن عذاب آخرت اور ہلاکت کا باعث ہوگا۔ بیوی کا فرض ہے کہ جو اچھے سے اچھے کپڑے ہیں ، وہ جو شادی کے موقع کے بیس تیس سوٹ سنھال کر رکھے ہیں ، وہ کس کے لئے رکھے ہیں! وہ شوہر کے لئے ہیں ۔ ہر روز نئے کپڑے بدلے تو جائز ہے، اس کے لئے حلال ہے، زیورحلال ہے، اس کے لئے بناؤ سنگھار حلال ہے، میک اپ حلال ہے، زیب و زینت حلال ہے، سب کچھ حلال ہے، مگر جس کے لئے حلال کیا گیا ہے اس کا دل خوش کرے ۔ غیروں کے لئے اور باہر کی مجالس کے لئے نہیں، بیٹیوں کو بہوؤں کو اور خواتین کو اس امر کا خیال رکھنا چاہیئے ۔

11/05/2022

پسند کی شادی (Love Marriage)

یہ والدین کا فرض ہے کہ وہ شادی سے قبل لڑکی کی مرضی پوچھیں ۔ اس کی مرضی کے بغیر شادی مسلط کرنا قطعی جائز نہیں ہے۔ اسلام میں پسند کی شادی جائز ہے مگر اس کا طریقہ جائز ہونا چاہیئے کہ والد ین کو شریک کر یں تا کہ کسی قسم کی پیچیدگی پیدا ہونے سے پہلے معاملہ بہتر ہو۔

اکثر اوقات لڑ کے لڑکی کا شادی سے پہلے بہت آگے تک چلے جانا ہی دونوں طرف کے والدین کے لئےعزت اور غیرت کا مسئلہ بن جاتا ہے اور پسند کی شادی میں رکاوٹ آ جاتی ہے۔ اس لئے اگر اعتدال کی راہ اپنائی جائے اور شروع میں ہی والدین کو اعتماد میں لے لیا جائے تو ایسی نوبت نہ آۓ ۔ کامیاب شادی کے لئے ساتھی کی تلاش کے دوران اس حدیث مبارکہ کو مدنظر رکھنا چاہئے ۔
حضور ﷺ نےفرمایا:
تنكح المرأة لأربع، لمالها ولحسبها ولجمالها ولدينها، فاظفر بذات الدين.
(متفق علیه بخاری و مسلم)

کسی عورت سے شادی کرنے کی چار وجوہات ہوتی ہیں۔ اس کے مال و دولت کی بنیاد پر ، اس کے خاندان کی بنیاد پر، اس کی خوبصورتی کی بنیاد پر اور اس کے کردار کی بنیاد پر کی جاتی ہے، جبکہ کامیاب وہ شادی ہے جو کردار کی بنیاد پر ہو ۔‘‘

شادی سے پہلے ایک دوسرے کو دیکھنا جائز ہے۔ لیکن ساتھ میں گھومنا پھرنا جائز نہیں، اس سے کئی قباحتیں پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ منگیتر کے اخلاق و کردار کو جاننے اور معلومات کے دیگر ہزاروں ذرائع ہو سکتے ہیں۔

یاد رکھیں کہ مغربی معاشرہ میں سب سے زیادہ ایک دوسرے کو جاننے کا رواج ہے۔ وہاں لڑکا لڑکی شادی سے پہلے سالہا سال بطور دوست اکٹھے رہتے ہیں اور پھر شادی کرتے ہیں، مگر سب سے زیادہ طلاقیں بھی وہیں ہوتی ہیں ۔

ماخذ: جدید مسائل کا اسلامی حل
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

29/08/2021

جنھیں مَیں ڈھُونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں
وہ نکلے میرے ظلمت خانۂ دل کے مکینوں میں

حقیقت اپنی آنکھوں پر نمایاں جب ہوئی اپنی
مکاں نکلا ہمارے خانۂ دل کے مکینوں میں

اگر کچھ آشنا ہوتا مذاقِ جبَہہ سائی سے
تو سنگِ آستانِ کعبہ جا مِلتا جبینوں میں

کبھی اپنا بھی نظّارہ کِیا ہے تو نے اے مجنوں
کہ لیلیٰ کی طرح تو خود بھی ہے محمل نشینوں میں

مہینے وصل کے گھڑیوں کی صورت اُڑتے جاتے ہیں
مگر گھڑیاں جُدائی کی گزرتی ہیں مہینوں میں

مجھے روکے گا تُو اے ناخدا کیا غرق ہونے سے
کہ جن کو ڈوبنا ہو، ڈوب جاتے ہیں سفینوں میں

چھُپایا حُسن کو اپنے کلیم اللہ سے جس نے
وہی ناز آفریں ہے جلوہ پیرا نازنینوں میں

جلا سکتی ہے شمعِ کشتہ کو موجِ نفَس ان کی
الٰہی! کیا چھُپا ہوتا ہے اہل دل کے سینوں میں

تمنّا دردِ دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی
نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں

نہ پُوچھ ان خرقہ پوشوں کی، ارادت ہو تو دیکھ ان کو
یدِ بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں

ترستی ہے نگاہِ نارسا جس کے نظارے کو
وہ رونق انجمن کی ہے انھی خلوت گزینوں میں

کسی ایسے شرر سے پھُونک اپنے خرمنِ دل کو
کہ خورشیدِ قیامت بھی ہو تیرے خوشہ چینوں میں

محبّت کے لیے دل ڈھُونڈ کوئی ٹُوٹنے والا
یہ وہ مے ہے جسے رکھتے ہیں نازک آبگینوں میں

سراپا حُسن بن جاتا ہے جس کے حُسن کا عاشق
بھلا اے دل حسیں ایسا بھی ہے کوئی حسیِنوں میں

پھڑک اُٹھّا کوئی تیری ادائے ’مَا عَرَفْنا‘ پر
ترا رُتبہ رہا بڑھ چڑھ کے سب ناز آفرینوں میں

نمایاں ہو کے دِکھلا دے کبھی ان کو جمال اپنا
بہت مدّت سے چرچے ہیں ترے باریک بینوں میں

خموش اے دل!، بھری محفل میں چِلّانا نہیں اچھّا
ادب پہلا قرینہ ہے محبّت کے قرینوں میں

بُرا سمجھوں انھیں، مجھ سے تو ایسا ہو نہیں سکتا
کہ میں خود بھی تو ہوں اقبالؔ اپنے نُکتہ چینوں میں

یا رب العالمین رحم و کرم کا معاملہ فرما.
08/03/2021

یا رب العالمین رحم و کرم کا معاملہ فرما.

09/05/2020
حلال و حرام میں فرق. اچھی باتوں کا دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ہوتا ہے. شیئر ضرور کریں
08/05/2020

حلال و حرام میں فرق.
اچھی باتوں کا دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ہوتا ہے. شیئر ضرور کریں

افطار کی دعا شیئر ضرور کریں 🕌
06/05/2020

افطار کی دعا
شیئر ضرور کریں 🕌

Address

Hyderabad
5000058

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AHLE HAQ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share