رد رافضیت / Rad e Rafziyat

رد رافضیت / Rad e Rafziyat Assalamualaikum everyone this is my official page on Facebook please do follow Love you all ♥️😍

غدیرِ خم: اہلِ سنت والجماعت کا موقف اور موجودہ سوشل میڈیا رویہاہلِ سنت والجماعت کے نزدیک غدیرِ خم ایک ثابت شدہ تاریخی وا...
04/06/2026

غدیرِ خم: اہلِ سنت والجماعت کا موقف اور موجودہ سوشل میڈیا رویہ
اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک غدیرِ خم ایک ثابت شدہ تاریخی واقعہ ہے۔ اس واقعہ سے انکار نہیں، لیکن اس کی وہ تفسیر قبول نہیں کی جاتی جو بعض شیعہ مکاتبِ فکر خلافتِ بلا فصل کے طور پر کرتے ہیں۔

اہلِ سنت کے مطابق غدیرِ خم کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے حضرت علیؓ کی عظمت، محبت، فضیلت اور مقام کو واضح فرمایا، مگر انہیں حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ سے پہلے خلیفہ مقرر کرنے کا اعلان نہیں فرمایا۔

حجۃ الوداع سے واپسی پر غدیرِ خم کے مقام پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا:

“مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ”

یعنی:

“جس کا میں مولا ہوں، علی بھی اس کے مولا ہیں۔”

یہ حدیث متعدد کتبِ حدیث میں موجود ہے، جن میں جامع ترمذی، مسند احمد، سنن ابن ماجہ اور المستدرک وغیرہ شامل ہیں۔

اہلِ سنت کے نزدیک یہاں لفظ “مولا” کا معنی دوست، محبوب، مددگار، قریبی اور قابلِ احترام شخصیت کے ہے، نہ کہ لازمی طور پر “خلیفہ” یا “جانشین” کے۔ عربی زبان میں لفظ مولا کے کئی معانی آتے ہیں۔ اگر خلافت مراد ہوتی تو نبی کریم ﷺ واضح الفاظ جیسے خلیفہ، امیر یا امام استعمال فرما سکتے تھے۔

غدیرِ خم کا پس منظر بھی اہم ہے۔ حضرت علیؓ یمن سے واپس آئے تھے، اور بعض لوگوں کو ان کے کچھ انتظامی فیصلوں پر اعتراض ہوا تھا۔ اس موقع پر نبی کریم ﷺ نے حضرت علیؓ کے بارے میں پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو ختم فرمایا اور امت کو ان کی محبت، عزت اور فضیلت کی طرف متوجہ کیا۔

اہلِ سنت یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ اگر غدیرِ خم کا مقصد خلافت کا قطعی اعلان تھا تو پھر صحابہ کرامؓ نے اسے اس معنی میں کیوں نہ سمجھا؟ سقیفہ بنی ساعدہ میں اسے خلافت کی قطعی دلیل کے طور پر کیوں پیش نہ کیا گیا؟ اور بعد کے ادوار میں امت کا عمومی فہم اس کو حضرت علیؓ کی فضیلت اور محبت کے اعلان کے طور پر کیوں لیتا رہا، نہ کہ خلافتِ بلا فصل کے اعلان کے طور پر؟

یہاں ایک بات بالکل واضح رہنی چاہیے کہ اہلِ سنت حضرت علیؓ کی شان کم نہیں کرتے۔ اہلِ سنت کے نزدیک حضرت علیؓ چوتھے خلیفۂ راشد، عشرہ مبشرہ میں شامل، اہلِ بیتِ نبوی ﷺ کے عظیم فرد، علم و شجاعت کے پیکر اور امت کے نہایت بلند مرتبہ صحابی ہیں۔ حضرت علیؓ سے محبت اہلِ سنت کے ایمان اور عقیدت کا حصہ ہے۔

نبی کریم ﷺ سے حضرت علیؓ کے بارے میں یہ مضمون بھی ثابت ہے کہ:

“علی سے محبت مومن ہی کرے گا، اور علی سے بغض منافق ہی رکھے گا۔”

لہٰذا اہلِ سنت کا موقف متوازن ہے:

حضرت علیؓ سے محبت بھی ایمان کا حصہ ہے، اہلِ بیتؓ کا احترام بھی لازم ہے، اور تمام صحابہ کرامؓ کا ادب بھی ضروری ہے۔

اصل مسئلہ غدیرِ خم کے واقعہ سے نہیں، بلکہ اس کو آج کل سوشل میڈیا پر جس انداز میں “عیدِ غدیر” کے نام سے ایک عوامی مہم یا تہوار بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، اس سے ہے۔ یہ امتِ مسلمہ کا مشترکہ تہوار نہیں ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں غالب اکثریت اہلِ سنت کی ہے، ایسے اختلافی ایام کو اس انداز میں نمایاں کرنا اہلِ سنت کے اعتقادات اور جذبات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے مترادف ہے، اور معاشرے میں فکری انتشار اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو دعوت دے سکتا ہے۔

اگر مقصد اہلِ بیتؓ کی محبت ہے تو اس میں کوئی مسلمان اختلاف نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر اسی محبت کے عنوان سے خلافت، صحابہ کرامؓ اور امت کے حساس تاریخی اختلافات کو دوبارہ زندہ کیا جائے، تو یہ محبت نہیں بلکہ فرقہ وارانہ تقسیم کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

اہلِ تشیع کے باشعور اور سنجیدہ لوگوں کو بھی سوچنا چاہیے کہ ایسے اختلافی عنوانات کو عوامی تہوار بنا کر پیش کرنے سے امت میں خیر پیدا ہوتی ہے یا نفرت؟ محبتِ اہلِ بیتؓ بڑھتی ہے یا صحابہ کرامؓ کے بارے میں شکوک و اعتراضات کو ہوا ملتی ہے؟

اسی طرح اہلِ سنت کو بھی ردعمل میں گالی، طعنہ یا اشتعال سے بچنا چاہیے۔ بات دلیل، علم، وقار اور دینی سنجیدگی کے ساتھ ہونی چاہیے۔ لیکن یہ بات بھی صاف ہے کہ اختلافی معاملات کو بار بار عوامی سطح پر نمایاں کرنا حکمت نہیں، بلکہ امت کو مزید تقسیم کرنے کا سبب بنتا ہے۔

آج سوشل میڈیا نے دینی گفتگو کو علم، اصلاح اور عمل کے بجائے جذبات، طنز، نفرت اور گروہ بندی کا میدان بنا دیا ہے۔ دین کا اصل مقصد قرآن، سنت، عبادت، اخلاق، حقوق العباد اور آخرت کی تیاری ہے، نہ کہ ہر وقت تاریخی اختلافات کو زندہ رکھنا۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ایسے رویے سمجھ سے بالاتر ہیں۔ کبھی ایامِ فاطمیہ کو اس انداز میں نمایاں کیا جاتا ہے کہ امت میں نیا اختلاف جنم لیتا ہے، اور اب عیدِ غدیر کو اس طرح پیش کیا جا رہا ہے جیسے یہ پوری امت کا مشترکہ تہوار ہو، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ دین کو اختلافی نعروں اور سوشل میڈیا کی جذباتی مہمات تک محدود کرنے کے بجائے قرآن، سنت، اخلاق، عمل اور امت کے مشترکات کی طرف واپس آنا وقت کی اصل ضرورت ہے۔

04/06/2026

Address

Handwara
193221

Telephone

+917051535219

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when رد رافضیت / Rad e Rafziyat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to رد رافضیت / Rad e Rafziyat:

Shortcuts

Share